اسلام آباد (اردو ٹائمز) پمز میں کامیاب گردہ ٹرانسپلانٹ، پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی اور ٹیم کی بڑی کامیابی
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پمز میں کامیاب گردہ ٹرانسپلانٹ، پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی اور ٹیم کی بڑی کامیابی
والد نے اکلوتے بیٹے کو گردہ عطیہ کردیا، کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد نوجوان ڈائیلاسز سے آزاد، والد اور بیٹا دونوں صحت مند
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں گردہ ٹرانسپلانٹ کے شعبے میں ایک اور اہم کامیابی حاصل کرلی گئی، جہاں پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک نوجوان کا کامیاب گردہ ٹرانسپلانٹ کیا۔ ٹرانسپلانٹ کے بعد مریض نہ صرف ڈائیلاسز سے آزاد ہوگیا بلکہ تقریباً دو سال بعد بھی مریض اور اس کے والد دونوں صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً دو سال قبل ایک نوجوان کو انتہائی تشویشناک حالت میں پمز لایا گیا تھا۔ نوجوان بے ہوشی کی حالت میں تھا اور اسے سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا، جبکہ طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ اس کے دونوں گردے مکمل طور پر ناکارہ ہوچکے ہیں۔
مریض کے والدین کا یہ اکلوتا بیٹا ہونے کے باعث صورتحال انتہائی جذباتی اور تشویشناک تھی۔ ڈاکٹروں نے فوری طور پر مریض کے ڈائیلاسز کا عمل شروع کیا، جبکہ اس کے ساتھ ہی ٹرانسپلانٹ کے لیے ضروری طبی ورک اپ مکمل کرتے ہوئے گردہ ٹرانسپلانٹ کا منصوبہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق مریض کے والد نے اپنے اکلوتے بیٹے کی زندگی بچانے کے لیے اپنا گردہ عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں پروفیسر ڈاکٹر ساجد رفیق عباسی کی نگرانی میں ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس میں ڈاکٹر خاور سلطان اور ڈاکٹر عبدالقادر سمیت طبی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔
کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد نوجوان کی حالت میں نمایاں بہتری آئی اور وہ ڈائیلاسز سے مکمل طور پر آزاد ہوگیا۔ تقریباً دو سال گزرنے کے بعد بھی نوجوان اور اس کے والد دونوں صحت مند ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
مریض کے اہل خانہ نے کامیاب علاج پر پمز کے ڈاکٹروں اور طبی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے ایک نئی زندگی ملنے کے مترادف قرار دیا۔ کامیاب ٹرانسپلانٹ کو پمز میں ماہر ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور جدید طبی سہولیات کا اہم ثبوت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر اہل خانہ کی جانب سے نوجوان مطیع کو شادی کی بھی مبارکباد پیش کی گئی اور کہا گیا کہ بیماری اور علاج کے مشکل مرحلے سے کامیابی سے گزرنے کے بعد مطیع کی نئی زندگی کا آغاز پورے خاندان کے لیے خوشی کا باعث ہے۔

