LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) خودکش حملہ تشویشناک ; اسلام آباد سیف سٹی ,ریاستی سیکورٹی اداروں کے لیے چیلنج

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کیا اسلام آباد سیف سٹی نہیں رہا,خودکش حملہ تشویشناک ;دہشت گرد اسلام آباد تک پہنچ گئے ہیں، اسلام آباد ترلائی میں امام بارگاہ پرخودکش حملہ تشویشناک ہےجبکہ صورتحال چیلنجنگ ہے
یہ خودکش حملہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کو دوبارہ ترتیب دینے کا مطالبہ کرتا ہے اسلام آباد کیمرہ سیف سٹی میں خودکش دھماکہ واقعی بہت تشویشناک ہے،سینئر پاکستانی تجزیہ کار اصغرعلی مبارک پر تحقیق کے مطابق ایسا خودکش حملہ ہونا بہت ہی افسوسناک ہے, پاکستان میں دھماکوں کا یہ سلسلہ عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے دوبارہ سر اٹھانے کا اشارہ ہے، جو ممکنہ طور پر افغانستان میں علاقائی عدم استحکام کی وجہ سے ہوا ہے اسلام آباد میں ہونے والا یہ خودکش حملہ پاکستان کے سیکیورٹی منظرنامے میں کمزوریوں کی نشاندہی کرنے والے خطرناک واقعات کے سلسلے میں تازہ ترین ہےیاد رہے گزشتہ سال 11 نومبر 2025 کو اسلام آباد کورٹ کمپلیکس کے احاطے میں ایک خودکش حملے میں 12 افراد ہلاک اور 21 دیگر زخمی ہوئے تھے۔برطانیہ آسٹریلیااور ایران نے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے جاں بحق اور زخمی افراد سے ہمدردی اور پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے ترلائی میں خودکش دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نمازِ جمعہ میں ہونے والے خوفناک حملے پر شدید غم و غصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد حملے سے دل ٹوٹ گیا ہے اور ان کی دعائیں جاں بحق اور زخمی افراد کے ساتھ ہیں۔
جین میریٹ نے دہشت گردی کے واقعے کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت اور عوام کی جانب سے اسلام آباد میں نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لیے دعائے مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ اس گھناؤنے حملے کے نتیجے میں درجنوں بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے۔ ایرانی سفیر نے حکومتِ پاکستان، عوامِ پاکستان اور بالخصوص سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ہماری دعائیں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا جب کہ زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعاگو ہیں۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہدا کو اپنی رحمتوں میں جگہ دے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر ٹموتھی کین نے بھی اسلام آباد میں خود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
آسٹریلوی ہائی کمشنر نے کہا کہ مسجد پر ہولناک حملے پر شدید صدمہ اور افسوس ہوا، میری ہمدردیاں تمام متاثرین اوران کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں، اس مشکل گھڑی میں آسٹریلیا پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور سوگ میں برابر کا شریک ہےاسی طرح آذربائیجان نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی ہے۔ آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عوام اور حکومت سے اسلام آباد میں ایک مسجد پر ہونے والے المناک دہشت گرد حملے کے بعد دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، جس میں قیمتی جانیں گئیں اور کئی افراد زخمی ہوئے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم عبادت گاہ جیسے مقدس مقام پر عبادت گزاروں کو نشانہ بنانے والے اس گھناؤنے تشدد اور دہشت گردی کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہیں۔‘
افغانستان کی وزرات خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’وزارت خارجہ اسلام آباد کی ایک مسجد میں نمازہ جمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔
پاکستان میں یورپی یونین کے مشن کا بھی ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں آج اسلام آباد میں ہونے والے گھناؤنے خودکش حملے کی خبر سن کر گہرے صدمے کا سامنا کرنا پڑا۔ یورپی یونین دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کی تمام اقسام کی سخت مذمت کرتی ہے۔‘ یورپی یونین پاکستان نے کہا کہ ’ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور مرنے والوں اور زخمیوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔‘دوسری جانب یہ دہشت گردی کی بہت بڑی واردات ہے اور حکومت کو اس کا سختی سے جواب دینا چاہیے پاکستان کی مسلح افواج بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گرد فتنے کے خاتمے میں مصروف ہیں ,
یاد رہے کہ ورلڈ کپ کے شیڈول میچ میں بھارت کے خلاف پاکستان کے خلاف نہ کھیلنے کے اعلان کے بعد بھارت پاکستانی معیشت کا بدترین دشمن بن چکا ہے، پاکستان پر زخمی سانپ کی طرح حملہ آور ہے
اسلام آباد ترلائی میں خودکش حملہ اس وقت ہوا ہے جب ازبکستان کے صدر پاکستان میں مزید سرمایہ کاری پر دستخط کر رہے
ہیں,
اسلام آباد انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ 31 افراد شہید جبکہ 169 زخمی بھی ہوئے ہیں، جنھیں اسلام آباد کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
دھماکے کے فوری بعد اسلام آباد میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔اسلام آباد کے پمز، پولی کلینک اور دیگر ہسپتالوں میں زخمیوں کو لایا گیا وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ زخمیوں کے علاج معالجے کی خود نگرانی کریں
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ گیٹ پر روکا گیا تو اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا، خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔

ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پولیس، ریسکیو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے موقع پر پہنچ گئے جبکہ آئی جی اسلام آباد کی ہدایت پر شہر بھر میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ اس دھماکے میں ان کے کزن کا بیٹا بھی شہید ہوا جو نماز پڑھنے کے لیے تین منزلہ عمارت میں موجود تھا۔ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
اسلام آباد کی امام بارگاہ میں زخمی ہونے والے زاہد علی نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ امام بارگاہ میں نماز ایک بجے شروع ہوئی تھی۔ زاہد علی کے بقول ’ابھی وہ پہلی رکعت پڑھ کر سجدے میں گے تھے تو دھماکہ ہوا۔ خودکش دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہر طرف چیخ و پکار شروع ہوگی تھی۔ ہر طرف دھواں پھیل گیا تھا۔ یہ صورتحال کافی دیر تک جاری رہی تھی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’میں آخری صفوں میں کونے پر کھڑا تھا۔ میرے ساتھ جو دو لوگ نماز پڑھ رہے تھے وہ شاید نہیں بچ سکے۔ میں بھی بیہوش ہوگیا تھا اور اب مجھے ہوش آیا ہے۔‘ زاہد علی کے حوالے سے بتایا گیا کہ انھیں خوش قسمتی سے شدید چوٹیں نہیں آئی ہیں۔ زاہد علی کے ساتھ موجود ان کے ایک کزن جواد خان کا کہنا تھا کہ وہ بھی موقع پر موجود تھے۔ دونوں اکھٹے نماز پڑھنے گے تھے جبکہ اُنھیں وضو کی وجہ سے دیر ہو گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب میں وضو کرکے آیا تو اس وقت نمازی سجدے میں چلے گے تھے۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ خود کش بمبار نے گیٹ پر موجود گارڈ پر فائرنگ کی اور وہ اندر داخل ہوا اور خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔‘ جواد خان کا کہنا تھا کہ اس موقع پر مزید فائرنگ بھی ہوئی تھی۔ امام بارگاہ میں ایک اور زخمی ظہیر عباس نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ پہلی رکعت میں تھے کہ انھوں نے دو گولیوں کی آواز سنی اس کے بعد ہم لوگ رکوع میں گئے اور پھر سجدے میں گے تو ایک دم خود کش دھماکہ ہو گیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’اس کے بعد ہر طرف زخمی پڑے ہوئے تھے۔ میں اس وقت اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہاں پر پولیس اور ریسکیو اہلکار پہنچ گئے جنھوں نے مجھے باہر نکالا اور ہسپتال پہنچایا ظہیر عباس کا کہنا تھا کہ خود کش دھماکہ انتہائی شدید تھا کہ اس کی آواز کا اب تک مجھ پر اثر ہے
عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ امام بارگاہ میں خودکش حملہ جمعے کی نماز میں دوسری رکعت کے دوران اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے۔حملہ آور نے پہلے فائرنگ کی جس کے بعد سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، خود کش حملہ آور نے اسی دوران خود کو مرکزی دروازے پر اڑا لیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ترلائی میں امام بارگاہ پرخود کش حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہادتوں پرافسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی وزیراعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی سے واقعے کی تحقیقات کرکے فوری طور پر ذمہ داران کے تعین کی ہدایت کی شہباز شریف کا کہنا تھا دھماکے کے ذمےداران کو تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزا دلوائی جائے، ملک میں شرپسندی اور بے امنی پھیلانے کی ہرگزکسی کو اجازت نہیں دیں گے۔ وزیراعظم نے زخمیوں کوبہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے وزیرصحت کو معاملے کی نگرانی کا حکم دیا ہے,وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پمز ہسپتال پہنچے وزیر مملکت طلال چوہدری نے دھماکے کے زخمیوں کیلئے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی, سیف سٹی اسلام آباد میں خودکش دھماکہ واقعی بہت تشویشناک ہے،یاد رہے سیف سٹی اسلام آباد کی سال 2025 کی سالانہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے شہر میں نگرانی، عوامی تحفظ اور فوری رسپانس کے نظام کو مزید مضبوط بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران سیف سٹی اسلام آباد نے 97 ہزار 506 مختلف نوعیت کے سرویلنس آپریشنز انجام دیے، جبکہ 200 کے قریب ملکی و غیر ملکی وفود نے سیف سٹی اسلام آباد کا دورہ کیا۔ رواں سال 696 اے آئی بیسڈ فیشل ریکگنیشن اور جدید اے این پی آر کیمروں کا اضافہ کیا گیا۔ سیف سٹی نے 2025 میں ہنچ لیب اور گولڈن آور سسٹم بھی متعارف کروایا، جس کے ذریعے 326 اہم کیسز میں فوری رسپانس کو یقینی بنایا گیا۔ ہنچ لیب کی مدد سے 101 خطرناک گروہوں کی نشاندہی کی گئی، جبکہ 82 ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔ ہوٹل آئی سسٹم کے تحت 11 لاکھ 45 ہزار افراد کا ڈیٹا ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ڈیجیٹل شناخت کے ذریعے 300 سے زائد اشتہاری ملزمان کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ ڈیجیٹل کنٹرول روم نے سال بھر میں 7 لاکھ 45 ہزار شہریوں کی رہنمائی کی۔ کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم کے ذریعے 78 ہزار شکایات موصول ہوئیں جنہیں میرٹ پر حل کیا گیا۔ آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن ہیلپ لائن 1815 پر 90 ہزار کالز موصول ہوئیں جن پر فوری کارروائی کی گئی۔ مزید بتایا گیا کہ سیف سٹی اسلام آباد میں پہلا کوالٹی اشورنس ڈیسک قائم کیا گیا، جس کا مقصد رسپانس کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ ای چالان سسٹم کے ذریعے سال 2025 میں 11 ہزار 372 ڈیجیٹل چالان جاری کیے گئے۔ سال کے دوران آن لائن ٹیکسی ویری فکیشن ایپ اور ون انفو ایپ بھی متعارف کروائی گئیں۔ ٹیکسی ایپ کے ذریعے 35 ہزار سے زائد مسافر، ڈرائیورز اور ٹیکسیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جبکہ ون انفو ایپ کے ذریعے شہریوں نے 1206 مختلف اقسام کی معلومات پولیس کو فراہم کیں۔ چینی کمیونٹی سے مؤثر رابطے اور فوری مدد کی فراہمی کے لیے وی چیٹ سروس بھی متعارف کروائی گئی، جسے شہریوں کی جانب سے مثبت پذیرائی حاصل ہوئی۔ پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائی کے پیچھے بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ بےنقاب ہواہےحکومتی ذرائع کے مطابق خود کش بمبار نے افغانستان سے تربیت لی، پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آور کو گیٹ پر روکا گیا تواس نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ خارجی خودکش کا تعلق فتنہ الخوارج سے تھا۔خود کش بمبارکچھ عرصہ پہلے افغانستان سے آیا۔ افغانستان میں موجود مختلف دہشگرد گروہ پورے خطےکی سلامتی کیلئے خطرہ ہیں۔پوری قوم ایسی بزدلانہ کاروائیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے، مساجد اور معصوم شہریوں پر بزدلانہ حملے پاکستانی قوم کےعزم کو متزلزل نہیں کرسکتے۔واضح رہے کہ اسلام آباد میں نماز جمعہ کے دوران خود کش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید اور 160 سے زائد زخمی ہو گئے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق دھماکےمیں مجموعی طور پر 31 افراد شہید ہوگئے جبکہ دھماکے کے بعد اسپتال لائے گئے زخمیوں کی تعداد 169ہوگئی سیکیورٹی فورسز نےفتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کاصفایاکرکےریاست کی رٹ بحال کردی، مزیہ کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے صوبہ بلوچستان میں ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے 31 جنوری 2026 کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملے‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا کر 100 سے زائد عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا۔ اس سے قبل پاکستانی فوج نے بتایا تھا کہ صوبے میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے کونسل کے صدر جیمز کیریوکی نے اس حوالے سے بیان جاری کیا، جس میں متاثرین کے خاندانوں، پاکستان کی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا، اور زخمی ہونے والوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا۔سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کی توثیق کی کہ ’دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر میں بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ ’ان قابلِ نفرت دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکبین، منصوبہ سازوں، مالی معاونین اور سرپرستوں کو جواب دہ ٹھہرا کر انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ساتھ ہی کونسل کے ارکان نے تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ ’بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے مطابق اس ضمن میں حکومتِ پاکستان کے ساتھ بھرپور تعاون کریں۔ سلامتی کونسل کے ارکان نے اس امر کا بھی اعادہ کیا کہ ’دہشت گردی کی کوئی بھی کارروائی مجرمانہ اور ناقابلِ جواز ہے، چاہے اس کے محرکات کچھ بھی ہوں، وہ کہیں بھی، کبھی بھی اور کسی کے ہاتھوں بھی انجام دی گئی ہو۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام ریاستیں اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی دیگر ذمہ داریوں، بشمول بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون، بین الاقوامی پناہ گزینوں کے قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کے مطابق ہر ممکن ذرائع سے دہشت گردانہ کارروائیوں کے باعث بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا مقابلہ کریں۔ پاکستان نے حالیہ دنوں میں علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر رکھی ہیں پورے سال میں 1500 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 58 ہزار سے زائد آپریشنز ہوئے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کا کہنا کہ سکیورٹی فورسز نے پچھلے 40 گھنٹوں میں 145 عسکریت پسندوں کو ماراگیا ، جو بقول بگٹی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کے دوران اتنے کم عرصے میں اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان حملوں میں 17 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور 31 شہری بھی جان سے گئے۔ہفتے کو بلوچستان کے 12 مختلف مقامات پر کالعدم علیحدگی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ’آپریشن ہیروف 2.0‘ کے تحت ’مربوط حملوں‘ کیے، جنہیں سکیورٹی فورسز کے مطابق ناکام بنا دیا گیا۔ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو مختلف کارروائیوں میں ’41 انڈین حمایت یافتہ دہشت گرد‘ مارے گئے۔ بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، گذشتہ کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی کا سامنا کر رہا ہے جس میں سکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور شہریوں پر حملے شامل ہیں وزیراعلیٰ نے کہا ’ہمارے پاس انٹیلی جنس رپورٹس تھیں کہ اس طرح کے کسی آپریشن کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے اور اسی انٹیلی جنس رپورٹس کے نتیجے میں پِری آپریشنز ایک دن پہلے شروع کر دیے گئے تھے، جس کے دوران شعبان اور پنجگور میں 40 کے قریب دہشت گرد مارے گئے۔ بلوچستان میں نام نہاد لاپتہ افراد کی آڑ میں فتنہ الہندوستان،بلوچ یکجہتی کمیٹی اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ بے نقاب ہوگیا۔ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن ردالفتنہ ون کے دوران مارے گئے دہشتگردوں میں ایسے کئی لوگوں کی شناخت ہوئی ہے جو لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق 31 جنوری کو بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے بزدلانہ حملوں کو سیکورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائیوں سے ناکام بنایا گیا۔ اس دوران مستونگ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی نام نہاد لاپتہ افرادکی فہرست میں شامل فتنہ الہندوستان کے دہشتگرد برہان بلوچ اور حفیظ بلوچ بھی جہنم واصل ہوئے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی فہرست میں دہشگرد عبدالحمیداور راشد بلوچ بھی شامل تھے جنہیں ہلاک کیا گیا۔ اس سے قبل 2025 کے دوران قلات میں آپریشن کے دوران ہلاک دہشتگردصہیب لانگو اور مارچ 2024 کو گوادر حملے میں مارا جانے والا دہشتگرد کریم جان بھی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی لاپتہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا، اس کے علاوہ نیول بیس حملے میں ہلاک دہشتگرد عبدالودود بھی نام نہاد لاپتہ افراد کی فہرست میں شامل تھا۔
ناقابل تردید شواہد سے واضح ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی معصوم بلوچ نوجوانوں کو احساس محرومی کا جعلی بیانیہ بنا کر جذباتی طور پر اپنے جال میں پھنساتی ہے۔ نوجوانوں کو احساس محرومی کے گمراہ کن بیانیہ میں الجھا کر بالآخر فتنہ الہندوستان کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کو’را اور اس کی فنڈڈ نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیموں کی سرپرستی بھی حاصل ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور فتنہ الہندوستان کم عمر بلوچ بچیوں کو بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملہ آور بنانے کے انسانیت سوز فعل میں بھی ملوث ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلوچ یکجہتی کمیٹی کا سافٹ چہرہ فتنہ الہندوستان کی دہشتگرد کارروائیوں کو تحفظ دینے کا فریب ہے۔دوسری طرف بلوچستان میں قیامِ امن کےلیےسیکیورٹی فورسز کی کوششیں کامیاب ہونے لگی ہیں، ،علاقے کے بدنام دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیے ہیں بلوچستان میں دہشتگردی، لوٹ مار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کےگروہ میراک خان چکرانی نے 25 ساتھیوں سمیت ریاست کے سامنے سرینڈر کرکے ہتھیار ڈال دئیے۔ سرنڈرکرنےوالا گروہ ماضی میں ڈکیتی اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں ملوث رہا،سرینڈر کرنے والے عناصر نےبھاری مقدارمیں اسلحہ اورگولہ بارود بھی جمع کرایا، دوسری طرف خیبر پختونخوا میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 24 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 4 اور 5 فروری کو خیبرپختونخوا میں 2 الگ جھڑپیں ہوئیں جس میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 24 خوارج مارے گئے۔ ضلع اورکزئی میں خفیہ اطلاعات پر سکیورٹی فورسز نے آپریشن کیا، آپریشن کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا گیا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14 خوارج ہلاک کر دیے گئے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا بتانا ہے کہ ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر ایک اور آپریشن کیا، ضلع خیبر میں فائرنگ کے تبادلے میں مزید 10 خوارج ہلاک کردیے گئے۔ علاقے میں دیگر بھارتی سرپرست خوارج کے خلاف سرچ آپریشن جاری ہیں، کلیئرنس آپریشنز کا مقصد باقی دہشت گرد عناصر کا مکمل خاتمہ ہے۔ انسداد دہشت گردی مہم وژن عزمِ استحکام کے تحت جاری ہے، بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خلاف فورسز کا فیصلہ کن کریک ڈاؤن جاری ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اسلام آباد خودکش حملے پر ردعمل میں کہا ہے کہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔ اپنی ٹوئٹ میں خواجہ آصف کا کہنا تھاکہ مسجد میں نمازیوں کو شہید کرنے والے دین اور وطن کے دشمن ہیں، حملے میں ملوث دہشت گرد کا افغانستان آنا جانا ثابت ہوا ہے۔ بھارت اورطالبان کے گٹھ جوڑ کے تانے بانے مل رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ سکیورٹی گارڈز نے حملہ آورکو چیلنج کیا جس کے جواب میں اس نے فائرنگ کی، خودکش حملہ آور نے نمازیوں کی آخری قطار میں اپنےآپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔وزیر دفاع کا کہناتھاکہ اس ظلم کا جواب ریاست پوری قوت سے دے گی۔ بھارت عبرت ناک شکست کے بعد اپنی پراکسیوں کے ذریعے جنگ لڑ رہا ہے، بھارت کی اب براہ راست جنگ لڑنے کی ہمت نہیں۔خیال رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے باعث وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کل بسنت کی اپنی تمام مصروفیات منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مریم نواز نے کہا کہ لبرٹی اسکوائر پر میگا بسنت شو بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے میں 31 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X