LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کشمیر بنے گا پاکستان; وزیراعظم پاکستان کادوٹوک اعلان

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان کی اعلیٰ عسکری اور سویلین قیادت نےکشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو خراج تحسین اور غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیاہے,5 فروری کو پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر بھر میں یومِ یکجہتی کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار اور ان کے حقِ خودارادیت کی حمایت کو اجاگر کرنا ہے۔ سینئر تجزیہ کار اصغر علی مبارک کی تحقیق کے مطابق یومِ یکجہتی کشمیر اس عزم کی علامت ہے کہ کشمیر کا مسئلہ آج بھی ریاستی اور عوامی سطح پر اولین ترجیح ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول تک جدوجہد جاری رہے گی۔وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےدوٹوک اور واضح اعلان کیا کہ” کشمیر بنے گا پاکستان”،بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی میں جواب دیا جائے گا، معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت پراکیسز سے دہشت گردی کرا رہا ہے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی۔

 

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کی جانب سے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے حاضر ہوا ہوں، سابق صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی وفات پر غمزدہ ہیں۔اس موقع پر مرحوم بیرسٹر سلطان محمود چودھری کے بلندی درجات کیلئے دعا بھی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جدوجہد آزادی کشمیر کے ہر قائد اور شہری کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں، کشمیری اپنے بچے تک قربان کر سکتے ہیں مگر حق آزادی سے دستبردار نہیں ہوسکتے، بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا، یہ ہماری خارجہ پالیسی کی بنیاد ہے۔مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل کشمیریوں کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی ممکن ہے، کشمیریوں کا حقوق خودارادیت کا مطالبہ پورا ہونے تک پاکستان اپنی حمایت جاری رکھے گا، مقبوضہ وادی کے کونے کونے سے کشمیر بنے گا پاکستان کی آواز گونج رہی ہے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں جلد کشمیر کی آزادی ممکن ہوگی۔ شہباز شریف نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بھارت کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا، اللہ کے کرم، قوم کی دعاؤں اور پاک فوج کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بدولت شاندار فتح نصیب ہوئی، فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کو دی گئی شکست ان کی نسلیں بھی نہیں بھولیں گی، معرکہ حق میں شاندار فتح سے کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں اجاگر ہوا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عسکری اور سفارتی محاذ پر بھارتی جھوٹ کا بیانیہ دفن ہوگیا، بھارت ذلت آمیز شکست کے بعد اپنی پراکسی کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے، خارجہ محاذ پر بھی پاکستان نے زبردست کامیابیاں حاصل کی ہیں، مسئلہ کشمیر کامیابی سے اجاگر کرنے پر نائب وزیراعظم کی کوششیں لائق تحسین ہیں۔ بھارت کے جارحانہ، توسیع و تسلط پسندانہ عزائم ترک کرنے تک خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا، ہماری بہادر افواج بھارتی کٹھ پتلیوں کا وہی حشر کریں گے جو معرکہ حق میں بھارتی طیاروں کا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کو ان کی مرضی کے مطابق جینے کا حق دینا ضروری ہے، پاکستان نے اہم اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر غزہ میں قیام امن کیلئے عملی اقدامات کئے، ہم امن چاہتے ہیں لیکن یہ امن برابری کی سطح پر قائم ہو سکتا ہے، آزاد کشمیر حکومت کے ساتھ مل کر علاقے میں انفراسٹرکچر بہتر بنانے کا عمل جاری رکھیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف نے مہاجرین کا وظیفہ 3500 سے بڑھا کر 6 ہزار روپے ماہانہ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ قائد نوازشریف کے وژن کے مطابق کشمیر کاز اور قومی ترقی کے اہداف حاصل کریں گے، کشمیر نوجوانوں کو تکنیکی تعلیم کیلئے دانش یونیورسٹی کا سب کیمپس مظفرآباد میں قائم کیا جائے گا، مظفر آباد میں اسلام آباد کی طرز کا خدمت سیٹر بھی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 2 ہزار 96 کشمیر طلبہ کو لیپ ٹاپس دیئے گئے، مزید 1700 کشمیری طلبہ کو لیپ ٹاپ فراہم کریں گے، ایجوکیشن بینوولنٹ فنڈ کے ذریعے کشمیری نوجوان دنیا کی بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کریں گے

وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں سکولوں کی چھتوں کی تعمیر ومرمت کیلئے ایک ارب روپے فنڈز دینے کا بھی اعلان کیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ ڈھائی ماہ میں وزیراعظم شہبازشریف کا یہاں تیسرا دورہ ہے، ہندوستان نے جموں وکشمیر کے لوگوں پر 8 لاکھ افواج مسلط کی ہوئی ہے، بھارتی فوج کشمیریوں کی سوچ پر پہرہ نہیں لگا سکتی، کشمیری شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی تمام سیاسی قیادتوں نے کشمیر کے معاملے پر سنجیدگی کا اظہار کیا، سیاسی جماعتوں کا ہمیشہ کشمیریوں پر دستک شفقت رہا، وزیراعظم شہبازشریف کا بھی شکرگزار ہوں، انہوں نے کشمیر کو دانش سکول کا تحفہ دیا۔ فیصل راٹھور نے کہا کہ دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے، ہم پاکستانی ہیں اورپاکستان ہمارا ہے، پاکستان سے ہمارے رشتے کو دنیا کی کوئی سازش کمزور نہیں کر سکتی، تحریک تکمیل کشمیر ہی تحریک تکمیل پاکستان ہے۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر چودھری لطیف اکبر نے کہا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظفرآباد آمد پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مشکور ہیں، تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے، بھارت کے کشمیر کے خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق یکطرفہ اقدامات ناقابل قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں، کشمیریوں کے دل پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وہ دن دور نہیں جب کشمیری بھارتی تسلط سے آزاد ہوں گےاس سے پہلےپاکستان کے صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی اور ان کے حق خودارادیت کا اعادہ کیاہے۔ کشمیر ی عوام کی جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں یومِ یکجہتیٔ کشمیر عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا اس موقع پر پورے ملک میں عام تعطیل رہی مظفرآباد میں صبح 9 بجے سے 10 بجے کے درمیان سائرن بجائے گئے اور کشمیری شہدا کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی ملک میں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تقاریب منعقد ہوئیں،

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے پیغامات میں صدر اور وزیراعظم نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی ثابت قدم اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کی تصدیق کی۔اپنے پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ دنیا بھر میں پاکستانی کشمیری عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔انہوں نے بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو عالمی ضمیر کے لیے انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 سے بھارت نے اپنے قبضے کو مستحکم کرنے اور خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تیز کرنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔صدر پاکستان نے بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بھارتی قابض افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی روشنی ڈالی جو کہ من مانی حراستوں، اجتماعی سزاؤں اور تعزیری گھروں کی مسماری میں اضافے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل آزادیوں کو دبانا، بشمول ہزاروں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کرنا، زمینی حقائق کو چھپانے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں مساجد اور مساجد کی انتظامی کمیٹیوں کی حالیہ پروفائلنگ کا حوالہ دیتے ہوئے، صدر زرداری نے ان کارروائیوں کو دانستہ دھمکی قرار دیا جس کا مقصد مسلم اکثریتی آبادی کی مذہبی آزادی کو محدود کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مذہبی ظلم و ستم کے وسیع نمونے کا حصہ ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ کشمیریوں کو بلا خوف و تفریق اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابل تنسیخ حق حاصل ہے۔انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو جوابدہ بنائے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے پر مجبور کرے۔پاکستان کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ملک کشمیریوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہےصدر زرداری نے یہ بھی یاد کروایا کہ یوم یکجہتی کشمیر منانے کا باقاعدہ آغاز 1989 میں بے نظیر بھٹو نے کیا تھا۔انہوں نے کشمیری عوام کی ہمت، لچک اور ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کیا، جو تقریباً آٹھ دہائیوں سے بھارتی قبضے کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں۔

دریں اثناء وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ یوم یکجہتی کشمیر کشمیریوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کے اعادہ کے لیے منایا جاتا ہے۔ایک پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ تنازعہ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر دیرینہ حل طلب مسائل میں سے ایک ہے اور بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادیں جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جموں و کشمیر جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا مرکز بنا ہوا ہے، اور بھارت کی طرف سے 5 اگست 2019 کو کیے گئے اقدامات کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں اور جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خطے پر اپنے غیر قانونی کنٹرول کو مضبوط کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد میں ان کی بھرپور اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا۔دریں اثنا، یوم یکجہتی کشمیر کے پروقار موقع پر، پاکستان کی اعلیٰ عسکری قیادت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر ) کے مطابق یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرأت، چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز؛ ایڈمرل نوید اشرف، نشانِ امتیاز، چیف آف نیول اسٹاف؛ اور ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف ایئر اسٹاف نے افواجِ پاکستان کی جانب سے بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور بہادر عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔آئی ایس پی آر کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ افواجِ پاکستان کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گی۔ بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، جن میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، بلاجواز گرفتاریاں اور علاقے کے آبادیاتی و سیاسی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کی منظم کوششیں شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پُرامن حل، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق، جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ افواجِ پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کی مشکلات کم کرنے کے لیے ٹھوس اور بامعنی اقدامات کرے۔آئی ایس پی آر کے مطابق افواجِ پاکستان ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہیں اور کشمیری بھائیوں اور بہنوں کی آزادی اور وقار کی جدوجہد میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہیں۔پاکستان زندہ باد!پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے یومِ یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی غیر قانونی قبضے میں کشمیری عوام بنیادی حقوق سے محروم ہیں، مگر ان کی ثابت قدمی ان کے حقِ خودارادیت کی جوازیت کو ظاہر کرتی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نافذ نہ کرنے کے ساتھ مقبوضہ کشمیر میں قانونی تحفظات ختم کیے اور مقامی اداروں کو کمزور کیا۔ مقبوضہ علاقے میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیاں جاری رہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے قریباً 2,800 افراد کی بلاجواز حراست پر تشویش ظاہر کی ہے۔نائب وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی صورتحال کو بہتر بنانے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا احتساب کرنے اور کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ کشمیری عوام کے ساتھ سیاسی، اخلاقی اور سفارتی طور پر کھڑا رہا اور کشمیری تنازعہ کے پائیدار اور پرامن حل کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔یومِ یکجہتی کشمیر پر اپنے پیغام میں وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کے دل میں کشمیر کی محبتِ لہو بن کر دوڑتی ہے، جانوں کا نذرانہ دے کر حقِ خودارادیت کی شمع روشن رکھنے والے کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ سات دہائیوں سے بھارتی سفاکیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے کشمیریوں کو سلام پیش کرتے ہیں، بھارتی بربریت نے جنت نظیر وادی کو جیل بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ اور دیگر عالمی ادارے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف اپنا قانونی کردار ادا کریں، مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل تک خطے میں پائیدار امن خواب ہی رہے گا،مظلوم کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا، ہر عالمی فورم پر کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے،ان شاءاللہ کشمیری عوام آزادی کا سورج جلد دیکھیں گے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کشمیری عوام کو پاکستان کی جانب سے سلام پیش کیا جاتا ہے اور بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض ہوئے 2 ہزار 375 دن مکمل ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود کشمیری عوام آج بھی ڈٹے ہوئے ہیں، پاکستان ہر فورم پر کشمیریوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ مزید کہا ہے کہ کشمیری قوم جھکنے والی نہیں ہے اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کشمیریوں کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد مقبوضہ کشمیر کو آزاد ہوتا دیکھا جائے گا۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پربلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی بربریت اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں تاہم بھارتی مظالم کشمیری عوام کے ناقابلِ تسخیر حوصلے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو کمزور کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں، اب دنیا کی کوئی طاقت مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ان کی منزل کے حصول سے نہیں روک سکتی۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ قائدِ عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو کے وژن کو شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آگے بڑھایا اور اپنے دورِ حکومت میں 5 فروری کو یومِ یکجہتیِ کشمیر قرار دیا، اس دن کا مقصد مسئلہ کشمیر کو نئی جہت دینا اور آزادی کی جدوجہد میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے کشمیری شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔ بلاول بھٹو زرداری نے عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مسلسل بے حسی نے جمہوری اقدار اور عملی رویّوں کے درمیان واضح خلیج کو بے نقاب کر دیا ہے، عالمی برادری اپنی بے حسی ترک کر کے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے اور بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی غیرمتزلزل عزم کے ساتھ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی آزادی، وقار اور انصاف کے حصول تک ہر فورم پر ان کی آواز بلند کرتی رہے گی۔ نائب صدر مسلم لیگ ن حمزہ شہباز شریف نے یوم یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیر صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ کروڑوں انسانوں کے بنیادی حقِ خودارادیت کا مقدمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے جسموں کو زخمی کر سکتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں آزادی کی تڑپ کو کبھی قید نہیں کیا جا سکتا۔ حمزہ شہباز نے کہا کہ جب تک کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کا حق نہیں ملتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔ انہوں نے دہائیوں سے جاری ظلم و ستم کو انسانی حقوق کے خلاف بدترین جرم قرار دیا اور کہا کہ بھارتی ظلم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے اور استقلال میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر، گلگت بلتستان اور سیفران انجینئر امیر مقام نے یوم یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ آج کا دن کشمیری عوام سے بھرپور اظہار یکجہتی کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا تنازع 1948ء سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں، ہزاروں کشمیری سیاسی کارکنان بلاجواز بھارتی جیلوں میں قید ہیں، اور اظہار رائے اور میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدامات مقبوضہ خطے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر بھارتی جبر کشمیری عوام کے حوصلے اور عزم کو توڑنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان کشمیری عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے یوم یکجہتیٔ کشمیر کے موقع پر کہا کہ کشمیری عوام کا حقِ خودارادیت بنیادی اور تسلیم شدہ حق ہے اور پاکستان اس کے لیے بھرپور موقف رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی موجودگی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور اگست 2019 کے یکطرفہ بھارتی اقدامات نے خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھایا۔ وزیر نے بتایا کہ کشمیری عوام کو طویل عرصے سے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا ہے، جن میں آبادیاتی تبدیلی، مکانات کی مسماری، ڈیجیٹل قدغنیں، مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا اور اداروں کی نگرانی شامل ہیں، جو سب مذہبی تعصب اور حقوق کی پامالی کو ظاہر کرتی ہیں۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام مظفرآباد میں ایک بڑی مرکزی ریلی اور یکجہتی واک نکالی گئی، جس میں شہریوں، سیاسی کارکنوں، حریت رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے حق میں نعرے بلند کیے اور مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کا مطالبہ کیا۔واک کے دوران شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف مذمتی پیغامات درج تھے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کی طویل جدوجہد اور قربانیوں کی یاددہانی کا دن ہے۔ حریت قیادت نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری صورتحال ایک سنگین انسانی المیہ ہے جس پر عالمی برادری کی خاموشی افسوسناک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کی سرگرمیاں محض ایک دن تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ آئندہ دنوں میں بھی مختلف پروگرامز، سیمینارز اور عوامی رابطہ مہم کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھا جائے گا۔ڈھاکہ میں پاکستان ہائی کمیشن میں یومِ یکجہتی کشمیر کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی، بنگلہ دیشی طلبہ، انسانی حقوق کے کارکنوں، وکلا، صحافیوں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی۔ ڈھاکہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر منعقدہ تقریب میں مقررین نے کہا ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔تقریب میں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے، جن میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر پر بھارت کا غیر قانونی قبضہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازع ہے۔مقررین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزاد اور منصفانہ رائے شماری کرائی جائے۔تقریب کے اختتام پر پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مبنی تصویری نمائش بھی منعقد کی گئی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X