LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا گود سے گور تک کا سفر

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای ایران کے دوسرے سپریم لیڈر، بلند پایہ شیعہ مرجع تقلید اور عالمِ اسلام کی ایک انتہائی طاقتور و بااثر سیاسی و مذہبی شخصیت تھے، جو 28 فروری 2026ء کو تہران میں ایک فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔ انہوں نے 1989ء سے لے کر اپنی شہادت تک تقریباً 36 برس تک ایران کے رہبرِ اعلیٰ اور مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے طور پر خدمات انجام دیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 19 اپریل 1939 کو ایران کے مقدس شہر مشہد میں ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد آیت اللہ جواد خامنہ ای ایک معروف عالمِ دین تھے انہوں نے اپنی ابتدائی دینی تعلیم مشہد ہی میں حاصل کی اور بعد میں اعلیٰ اسلامی علوم، فقہ اور اصولِ فقہ کی تعلیم کے لیے نجف اشرف (عراق) اور قم (ایران) کے عظیم حوزاتِ علمیہ کا رخ کیا، جہاں انہوں نے آیت اللہ بروجردی اور امام خمینی جیسے جلیل القدر اساتذہ سے فیض حاصل کیا, 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں وہ امام خمینی کی قیادت میں ایران کے ظالم شاہی نظام (رضا شاہ پہلوی) کے خلاف تحریک کے سرگرم رکن رہے، جس کی پاداش میں انہیں متعدد بار گرفتار کیا گیا اور وہ جلاوطن بھی رہے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد وہ انقلابی کونسل کے رکن مقرر ہوئے اور انہوں نے اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔

1981-1989 میں وہ دو مرتبہ بھاری اکثریت سے ایران کے صدر منتخب ہوئے اور ایران عراق جنگ کے انتہائی کٹھن دور میں ملک کی قیادت کی۔ جون 1989 میں بانیِ انقلاب امام خمینی کی رحلت کے بعد، ماہرین کی مجلس (مجلسِ خبرگان) نے انہیں ایران کا دوسرا رہبرِ اعلیٰ (سپریم لیڈر) منتخب کیا۔ وہ تقریباً 37 برس تک اس اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہے اور خطے کی تزویراتی سیاست میں مضبوط ترین شخصیت مانے جاتے رہے۔28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملوں کا آغاز کیا تو پہلے ہی روز تہران میں ہوئے ایک مشترکہ حملے میں علی خامنہ ای دیگر اہلخانہ کے ہمراہ اس کا نشانہ بنے تھے۔ ان کے خاندان کے بعض افراد بھی ان کے ساتھ مارے گئے تھے، جن کے لیے گذشتہ ہفتے تہران میں ایک تقریب منعقد کی گئی۔ جنگ کے دوران کہا گیا تھا کہ علی خامنہ ای کی تدفین کو مناسب وقت تک مؤخر کیا جا رہا ہے، تاہم کوئی تاریخ نہیں دی گئی تھی۔ جنگ بندی کے بعد بھی تقریب کے انعقاد کی تیاری کا ذکر کیا گیا، لیکن بوجوہ ایسا نہیں ہو سکا۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ان کے بڑے بیٹے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہ ای کی امامت میں ادا کی گئی جنازے کی چھ روزہ تقریبات تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں منعقد ہوئیں کربلا میں حضرت امام حسینؑ اور حضرت عباسؑ کے روضوں پر تعزیتی جلوس میں تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد نے شرکت کی جبکہ نجف اشرف میں 70 لاکھ سے زائد سوگوار شریک ہوئے مشہد کی سڑکوں پر لاکھوں افراد جمع ہوئے جنھوں نے انتقام کی علامت سیاہ اور سرخ پرچم اٹھا رکھے تھے اور اسرائیل، امریکا، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ نمازِ جنازہ میں خامنہ ای خاندان کے دیگر افراد سمیت اعلیٰ مذہبی و سیاسی شخصیات شریک تھیں۔ تاہم، موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اس موقع پر مشہد میں موجود نہیں تھے، جو ایک توجہ کا مرکز بنا واضح ر ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکی اور اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ جنگ بندی کے بعد 3 جولائی سے ان کی تجہیز و تکفین کی تقریبات کا آغاز ہوا تھا۔ ان تقریبات میں 45 سے زائد ممالک کے سیاسی رہنماؤں اور نمائندوں نے شرکت کی ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، حرمِ حضرت معصومہؑ (قم) میں نمازِ مغرب و عشاء کے بعد ایک اور تعزیتی اجتماع منعقد ہوا، جس میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے شرکت کی اس کے ساتھ ہی ان کے آخری سفر کا اختتام ہو گیا لیکن ملک بھر میں دعائیہ تقاریب کا سلسلہ جاری ہے انہوں نے مشرقِ وسطیٰ میں لبنانی حزب اللہ، فلسطینی مزاحمتی گروہوں (حماس)، اور یمن کے حوثیوں کی پشت پناہی کر کے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایک مضبوط دفاعی بلاک قائم کیا، جس کے باعث وہ خطے کی سیاست میں سب سے بااثر ترین رہنما کے طور پر ابھرے ان کے 36 سالہ دور میں ایران نے امریکہ اور مغربی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایٹمی ٹیکنالوجی، میزائل پروگرام، اور سائنس کے شعبوں میں غیر معمولی دفاعی و تزویراتی ترقی کی۔: انہوں نے انقلابی دور میں کچھ عرصہ نائب وزیرِ دفاع، سپاہ پاسداران (IRGC) کے نگران اور تہران کے امام جمعہ کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔جون 1981ء میں ایک مسجد میں تقریر کے دوران ان پر بم حملہ ہوا جس میں ان کا دایاں ہاتھ مستقل طور پر معذور ہو گیا، تاہم وہ معجزانہ طور پر محفوظ رہے: وہ اکتوبر 1981ء میں بھاری اکثریت (97% ووٹ) کے ساتھ ایران کے تیسرے صدر منتخب ہوئے۔ انہوں نے ایران عراق جنگ (1980ء-1988ء) کے انتہائی مشکل ترین اور بحرانی دور میں مسلسل دو مدت کے لیے صدارتی منصب کو سنبھالا
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کوشہید کرنے کی غرض سے کیا گیا حملہ رات نصف شب (رات کی تاریکی) نہیں ہوا اندازوں کے برعکس یہ حملہ صبح کی روشنی میں ہوا۔ صبح کی روشنی میں حملے کرنے کی وجہ وہ اہم خفیہ اطلاع تھی جو امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس کو چند گھنٹے قبل ہی موصول ہوئی تھی۔ امریکی اور اسرائیلی انٹیلی جنس نے رات ہونے کا انتظار کیے بغیر اس خفیہ اطلاع کا فوری فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیاامریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ اس موقع کی تلاش میں تھے کہ کب اعلیٰ ایرانی حکام کسی اجلاس میں شرکت کے لیے ایک جگہ اکٹھے ہوں گے۔ خفیہ اطلاع یہ تھی کہ سید علی خامنہ ای تہران کے مرکزی علاقے میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہوں گے۔ خامنہ ای کی کمپاؤنڈ میں موجودگی کی اطلاع کے ساتھ ساتھ اسرائیلی اور امریکی انٹیلیجنس کو اس مقام کا بھی پتہ چل گیا تھا جہاں اُسی وقت دیگر ایرانی اعلیٰ فوجی اور خفیہ اداروں کے افسران کو اجلاس میں شرکت کے لیے جمع ہونا تھا۔امریکہ اور اسرائیل گذشتہ کئی ماہ سے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ اگرچہ یہ بات خفیہ رکھی گئی کہ اُن پر نظر رکھنے کا طریقہ کار کیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اس جانب اشارہ کیا تھا ٹرمپ نے لکھاتھا کہ ’وہ (خامنہ ای) ہماری انٹیلی جنس اور نہایت جدید ٹریکنگ سسٹمز سے بچنے میں ناکام رہے۔‘ یہ ممکن ہے کہ ایران میں موجود کوئی انسانی ذریعہ اُن کی نقل و حرکت کی اطلاع دے رہا تھا تاہم زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ اہم ایرانی عہدے داروں کی تکنیکی بنیادوں پر نگرانی کی جا رہی تھی۔گذشتہ سال جون میں ہونے والی ایران، اسرائیل 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک سائنسدانوں اور اعلیٰ حکام کو کامیابی سے نشانہ بنایا تھااور بعدازاں بتایا گیا تھاکہ اِن اہم افراد کی نقل و حرکت جاننے کے لیے ٹیلی کام اور موبائل فون سسٹمز تک رسائی حاصل کی گئی تھی۔اس عمل کے دوران اُن محافظوں یعنی باڈی گارڈز کی نقل و حرکت کو بھی ٹریک کیا گیا جو اہم ایرانی حکام کی سکیورٹی پر معمور تھے۔ یوں طویل عرصے تک کی جانے والی نگرانی اور جانچ کا طریقہ کار اختیار کرنے کی مدد سے اہم شخصیات کی طرزِ زندگی اور روٹین کو جاننے میں مدد ملی اس طریقہ کار کی مدد سے اپنے ہدف کی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی کے ساتھ اُن کی کمزوری کے لمحات بھی ڈھونڈے جا سکے۔ایران کو علم تھا کہ رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای دشمنوں کے نشانے پر ہیں لہٰذا اُن کی حفاظت کو یقینی بنانے کے عمل کے دوران کمزوری کے لمحات کا تعین کر کے اُن سے نمٹنے میں ناکامی ایرانی سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کی ایک بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل اہداف کی نشاندہی ے اپنے طریقے بدلتے رہتے ہیں اور لوگوں کو ٹریک کرنے کے نئے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔ایرانیوں نے شاید یہ بھی اندازہ بھی لگایا تھا کہ اس نوعیت کا اہم حملہ دن کے اوقات میں نہیں ہو سکتا تھا۔نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق رہبر اعلیٰ کی کمپاؤنڈ میں موجودگی پر مبنی خفیہ اطلاع امریکی خفیہ ادارے، سی آئی اے، سے آئی تھی جسے اسرائیل کے ساتھ شیئر کیا گیا تھا کیونکہ حملہ اسرائیل کو کرنا تھا۔ امریکہ اور اسرائیل کے طریقہ کار میں کام کی تقسیم دکھائی دیتی ہے یعنی اسرائیل اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والے حملوں پر توجہ دیتا ہے جبکہ امریکہ زیادہ تر فوجی اہداف کو نشانہ بناتا ہے۔ اہم بات یہ بھی تھی کہ سپریم لیڈر اور دیگر حکام کی نقل و حرکت سے قبل ہی اُن سے متعلق خفیہ اطلاعات ملیں جن کے باعث ایسے حملوں کی منصوبہ بندی ممکن ہو سکی تھی جن میں ایسے جیٹ طیارے استعمال ہوئے جو دور سے میزائل فائر کر سکیں اور اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔ یہ حملہ صرف ایک بڑے رہنما (خامنہ ای) کو نشانہ بنانے کے لیے ترتیب نہیں دیا گیا بلکہ اس کا مقصد (خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے بعد) ایک وسیع مہم کا آغاز تھا، جسے وقت کے ساتھ اور موقع ملنے پر اب آگے بڑھایا جا رہا تھا۔ اسرائیلی جیٹ طیاروں کو تہران پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگتے ہیں لیکن تاحال یہ واضح نہیں کہ انھوں نے کتنی دور سے تہران کی جانب میزائل فائر کیےتھے۔ خامنہ ای کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے کے بعد جب حملے کا فیصلہ ہوا تھا، تب صبح 9:40 بجے کے قریب اسرائیلی طیاروں نے اُن کے کمپاؤنڈ پر 30 بم گرا دیے تھےایک ساتھ 30 بم گرانے کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ رہبر اعلیٰ حفاظت کی غرض سے کمپاؤنڈ کے نیچے موجود زیرِ زمین بنکر استعمال کر رہے تھے اور اس لیے گہرائی تک پہنچ کر ہدف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اور اتنی گہرائی تک پہنچنے کے لیے مختلف قسم کے بم استعمال کیے گئے جو یقینی بنائیں کہ ہدف تک کامیابی سے پہنچا گیا ہے۔ تہران میں رہبر اعلیٰ کے کمپاؤنڈ کے علاوہ صدر مسعود پزشکیان کے دفتر سمیت دیگر مقامات پر بھی حملے ہوئے۔ بعدازاں ایرانی صدر نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ ان حملوں میں محفوظ رہے۔ایران نے تین اعلیٰ دفاعی حکام کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی جن میں دفاعی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی، وزیرِ دفاع بریگیڈیئر جنرل عزیز ناصرزادہ اور پاسدران انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل محمد پاکپور شامل تھے, جب تہران میں یہ حملہ ہوا تھاتو عین اُسی وقت فلوریڈا کے مار-اے-لاگو میں رات کا وقت تھا اور صدر ٹرمپ اپنے اعلیٰ حکام کے ساتھ حالات پر کڑی نظر رکھے ہوئے تھے۔اسرائیلی اور امریکی حکام جانتے تھے کہ حملے کے بعد رہبر اعلیٰ کی ہلاکت کی تصدیق آنے میں کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ ایران اس امکان کے لیے پہلے سے تیار تھا اور اسی لیے نہ صرف خامنہ ای بلکہ دیگر اعلیٰ ایرانی حکام کے جانشینوں کی پیشگی منصوبہ بندی بھی کر لی گئی تھی۔ ان کی وصیت کے مطابق روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا، مشہد اور قُم ایران کے دو ایسے شہر ہیں جنھیں شیعہ مسلک میں مکّہ، مدینہ، نجف اور کربلا کے بعد اہم ترین زیارات تصور کیا جاتا ہے اور یہاں صدیوں سے سال بھر ساری دنیا سے آنے والے زائرین کا ایک تانتا بندھا رہتا ہے۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق سال بھر میں دو کروڑ سے زیادہ زائرین مشہدِ مقدس میں آتے ہیں۔ تہران سے گھنٹے سوا گھنٹے کی پرواز کے بعد آپ مشہد پہنچ جاتے ہیں۔ مشہد میں امام رضا کے روضے کا 50 میٹر قطر کا سنہرا گنبد شہر میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے نظر آ جاتا ہے۔ مشہد کا مطلب ہے جائے مدفن شہید اور اسی مناسبت سے اسے مشہد الرضا کہا جاتا ہے۔

ایرانیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ بارہ سو برس قبل مشہد ایک چھوٹا سا گاؤں تھا اور دراصل یہ امام رضا کی یہاں شہادت اور قبر کی خیر و برکت اور دین ہے کہ اب یہ ایران میں تہران کے بعد دوسرے بڑے شہر بن چکا جو ایران کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔اقتصادیات میں اس کی اہمیت اس رُخ سے اہم ہے کہ زائرین اور سیاحوں کی آمد یہاں کی بہت بڑی صنعت ہے، جس کی وجہ سے ایران کی مجموعی قومی پیداوار میں مشہد کی آمدنی کا دوسرا بڑا حصہ ہے۔ ایران آنے والے نوّے فیصد غیر ملکیوں کی ایران آمد کا مقصد روضہ امام کی زیارت ہوتا ہے۔ مشہد میں حرم کے علاقے میں رات نہیں ہوتی۔ بازار رات بھر کھلے رہتے ہیں اور خریداری کی غرض سے زائرین اور سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ حرم امام کے ارد گرد سینکڑوں کی تعداد میں ہوٹل اور سرائے ہیں جن میں تیس ہزار زائرین بیک وقت ٹھہر سکتے ہیں۔ یہیں دنیا کا وہ قرآن میوزیم ہے جس میں حضرت علی، امام حسین، امام حسن، امام زین العابدین اور امام رضا کے علاوہ اہلِ تشیع کے دیگر آئمہ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے قرآن کے نسخوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے۔ جسے اہل ایران نے بہت ہی حفاظت، محبت اور بڑی عقیدت سے سنوار کر رکھا ہوا ہے۔ حرمِ امامِ رضا میں دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے زائرین اپنے اپنے انداز میں دُعا و مناجات اور ماتم و نوحہ خوانی اور با آواز بلند گریہ و زاری میں مصروف نظر آتے ہیں، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران میں ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کی، پاکستانی وفد نے تعزیت پیش کی اور قوم کے شہید قائد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ نماز جنازہ میں میں متعدد سربراہان مملکت، حکومتی رہنماؤں اور اعلیٰ غیر ملکی معززین نے شرکت کی۔ شہید خامنہ ای ایران جنگ کے پہلے دن، 28 فروری کو امریکی اسرائیل کے فضائی حملے میں مارے گئے تھے، لیکن تنازعے کی وجہ سے جنازے کی تقریبات مہینوں تک ملتوی کر دی گئی تھیں۔پاکستان اس سال کے تنازع کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے مرکزی کردار کے بعد اپنے بڑھتے ہوئے سفارتی پروفائل کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے 8 اپریل کو ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی میں مدد کی تھی ، جس سے ہفتوں کی لڑائی ختم ہوئی تھی اور سفارت کاری کے لیے جگہ پیدا ہوئی تھی۔ اس کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر عارضی جنگ بندی کے دوران کلیدی مکالمہ کار کے طور پر ابھرےتھے جن کی وجہ سے 11-12 اپریل کو اسلام آباد مذاکرات ہوئے تھے ، جس نے 1979 میں واشنگٹن اور تہران کے سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد سے اعلیٰ سطحی آمنے سامنے کے لیے سینئر امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کو اکٹھا کیاتھا۔ اگرچہ مذاکرات نے کوئی جامع معاہدہ نہیں کیاتھا، لیکن انہوں نے سفارت کاری کو جاری رکھنے کی بنیاد رکھی تھی۔ پاکستان کی ثالثی کی کوششوں نے بعد میں اسلام آباد کی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں حصہ ڈالاتھا، ایک عبوری فریم ورک کا مقصد جنگ بندی کے بعد علاقائی سلامتی، پابندیوں میں ریلیف اور سمندری استحکام پر بات چیت کو آگے بڑھانا تھا,آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو شدید کشیدگی کے دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان براہ راست مواصلاتی چینلز کو برقرار رکھنے کا ٹاسک دیا گیاتھا، جب کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف علاقائی رہنماؤں کو سفارتی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مشغول رہے,علاقائی تناؤ اور جنگی صورتحال کے باعث ان کی تدفین میں تاخیر ہوئی۔ تاہم، جولائی کے آغاز میں جنگ بندی کے بعد ان کے جسدِ خاکی کو تہران، قم، نجف اشرف اور کربلائے معلیٰ لے جایا گیا، جہاں کروڑوں سوگواروں نے ان کی آخری رسومات میں تاریخی شرکت کی,مشہد مقدس میں 9 اور 10 جولائی 2026 کو لاکھوں افراد کی موجودگی میں ان کے جسدِ خاکی کو ان کی جائے پیدائش مشہد لایا گیا اور ان کی وصیت کے مطابق روضہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا، جس کے ساتھ ہی ان کا گود سے گور تک کا یہ طویل اور پرمشقت سفر اپنے اختتام کو پہنچا,

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X