LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران امریکہ معاہدہ: امن کی امیدیں روشن، مگر اسرائیل، ہرمز اور وعدوں پر خدشات برقرار

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کی جانب سے 15 جون کی علی الصبح یہ اعلان کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے، دنیا بھر میں محتاط امید کی ایک نئی لہر کا سبب بنا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کو ٹول فری کھول دیا جائے گا اور امریکہ کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔ اگر اس اعلان پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ حالیہ برسوں کی ایک اہم ترین سفارتی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ شدید عسکری، سیاسی اور معاشی کشیدگی سے گزر رہا ہے۔ مجوزہ معاہدے کو علاقائی امن، عالمی توانائی کے استحکام اور امریکہ، ایران، اسرائیل اور خطے کی دیگر اتحادی قوتوں کے درمیان ممکنہ وسیع جنگ کو روکنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس اعلان کے خوش آئند پہلو کے باوجود معاہدے کے مستقبل، اس کے عملی نفاذ، اسرائیل کے کردار اور فریقین کی جانب سے وعدوں کی تکمیل کے حوالے سے سنجیدہ خدشات بدستور موجود ہیں۔ سفارتی مبصرین کے مطابق آنے والے چند دن یہ طے کریں گے کہ یہ معاہدہ واقعی امن کی جانب ایک سنجیدہ قدم بنتا ہے یا دباؤ کے تحت ٹوٹ جانے والی ایک اور نازک مفاہمت ثابت ہوتا ہے۔ اس معاہدے کا پہلا بڑا امتحان آبنائے ہرمز ہو گا، جو دنیا کی تیل اور تجارتی جہاز رانی کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے کہ آبنائے ہرمز کو “ٹول فری” کھولا جائے گا، عالمی سطح پر یہ امید پیدا کی ہے کہ تیل کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہے گی۔ اس تنگ سمندری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ براہِ راست عالمی تیل کی قیمتوں، جہاز رانی کے اخراجات، افراطِ زر اور ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو متاثر کرتی ہے۔ اگر ایران تجارتی اور دیگر جہازوں کو محفوظ اور آزادانہ گزرگاہ فراہم کرتا ہے تو یہ تعاون اور استحکام کا ایک مضبوط پیغام ہو گا۔ اس اقدام سے عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہو سکتا ہے، جنگ کے خدشات کم ہو سکتے ہیں اور تہران و واشنگٹن کے درمیان سفارتی اعتماد کو تقویت مل سکتی ہے۔ تاہم اگر ایران گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹول، خصوصی اجازت، معائنہ نظام یا سیاسی شرط عائد کرتا ہے تو معاہدہ اپنے پہلے ہی مرحلے میں ایک سنگین چیلنج سے دوچار ہو سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدے کی زبان اور تشریح انتہائی اہم ہو گی۔ اگر امریکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھلا اور ٹول فری تصور کرتا ہے، جبکہ ایران سمندری آمد و رفت پر اپنے بعض سکیورٹی یا انتظامی حقوق برقرار رکھنے پر اصرار کرتا ہے تو تشریح کا یہ فرق نئی کشیدگی پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے دونوں فریقوں کو معاہدے کی شرائط کو واضح کرنا ہو گا تاکہ غلط فہمیاں تصادم میں تبدیل نہ ہوں۔ ایک اور بڑا خدشہ اسرائیل کے ممکنہ ردعمل سے متعلق ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ماضی میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک محاذ پر سفارت کاری کو دوسرے محاذ پر فوجی کارروائی نے متاثر کر دیا۔ اگر اسرائیل امریکہ ایران معاہدے کو اپنی سلامتی کے لیے خطرہ یا تہران کی سفارتی کامیابی سمجھتا ہے تو وہ لبنان، شام، عراق یا ایران سے منسلک اہداف کے خلاف زیادہ جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔ ایسی کوئی بھی پیش رفت پورے امن عمل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق واشنگٹن کی ذمہ داری صرف معاہدے پر دستخط یا اس کے اعلان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ کو یہ بھی یقینی بنانا ہو گا کہ معاہدے کو ایسے اقدامات سے محفوظ رکھا جائے جو اسے سبوتاژ کر سکتے ہیں۔ اگر امریکہ نے ایران کو پابندیوں میں نرمی، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، عدم جارحیت یا دیگر سفارتی ضمانتوں کی یقین دہانی کرائی ہے تو ان وعدوں کو دیانت داری اور مقررہ وقت پر پورا کرنا ہو گا۔ دوسری جانب ایران بھی عالمی نگرانی میں ہو گا۔ تہران کو ثابت کرنا ہو گا کہ یہ معاہدہ محض وقت حاصل کرنے کی عارضی حکمت عملی نہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے ایک سنجیدہ عزم ہے۔ ایران سے توقع کی جائے گی کہ وہ اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرے، آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کو یقینی بنائے، خطے میں اپنے اتحادی گروہوں پر ضبط رکھے اور جوہری و سلامتی سے متعلق معاملات پر سنجیدہ مذاکرات جاری رکھے۔ سفارتی حلقوں کا خیال ہے کہ یہ معاہدہ اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے جب دونوں فریق اسے داخلی سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے بجائے عملی نفاذ پر توجہ دیں۔ امریکہ میں صدر ٹرمپ اس معاہدے کو اپنی بڑی خارجہ پالیسی کامیابی کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، جبکہ ایران کی قیادت اسے مزاحمت اور سفارت کاری کی فتح قرار دے سکتی ہے۔ لیکن سیاسی بیانات سے ہٹ کر اصل امتحان عملی اقدامات ہوں گے۔ یہ معاہدہ وسیع تر عالمی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان پرامن مفاہمت خلیج میں تصادم کے خطرات کو کم کر سکتی ہے، عالمی تیل منڈیوں پر دباؤ گھٹا سکتی ہے اور ایک وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ اس فریم ورک میں خلیجی ممالک، عراق، ترکی، پاکستان، چین، روس اور یورپی طاقتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کا امن براہِ راست اہمیت رکھتا ہے۔ خطے میں کسی بھی جنگ یا کشیدگی کے اثرات پاکستان کی توانائی سلامتی، ترسیلاتِ زر، تجارتی راستوں اور بیرون ملک کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کی فلاح و بہبود پر پڑتے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ سفارت کاری، تحمل اور مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان ایران، خلیجی ممالک، مسلم دنیا اور بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان ایک تعمیری رابطہ کار کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔ معاہدے پر متوقع دستخط، جو اطلاعات کے مطابق جمعہ کو ہو سکتے ہیں، حکومتوں، عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی اداروں کی خصوصی توجہ کا مرکز ہوں گے۔ دنیا پابندیوں، سمندری سلامتی، فوجی نقل و حرکت، تیل کی برآمدات، جوہری وعدوں اور مزید کشیدگی روکنے کی ضمانتوں سے متعلق تفصیلات کا انتظار کرے گی۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے کو تین فوری امتحانات کا سامنا ہو گا۔ پہلا، کیا آبنائے ہرمز عملی طور پر کھلی، محفوظ اور ٹول فری رہتی ہے؟ دوسرا، کیا اسرائیل ایسی کسی فوجی کارروائی سے گریز کرتا ہے جو معاہدے کو پٹڑی سے اتار سکتی ہے؟ تیسرا، کیا واشنگٹن اور تہران اپنے وعدے تاخیر، ابہام یا متضاد تشریحات کے بغیر پورے کرتے ہیں؟ اگر یہ امتحانات کامیابی سے عبور ہو جاتے ہیں تو یہ معاہدہ ایسے خطے میں امن کا ایک تاریخی موقع بن سکتا ہے جو طویل عرصے سے جنگوں، پابندیوں، ناکہ بندیوں اور پراکسی تنازعات کا شکار ہے۔ یہ غزہ، لبنان، شام، عراق، یمن اور وسیع تر علاقائی سلامتی جیسے اہم مسائل کے حل کے لیے بھی ماحول سازگار بنا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ معاہدہ ناکام ہوا تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کے خاتمے سے دوبارہ دھمکیوں، فوجی نقل و حرکت، آبنائے ہرمز میں خلل اور مشرقِ وسطیٰ میں مزید عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کو متاثر کرے گی۔ فی الحال دنیا نے امن کے امکان کا خیرمقدم کیا ہے، مگر احتیاط کے ساتھ۔ اس اعلان نے امید ضرور پیدا کی ہے، لیکن اس امید کو ذمہ داری، تحمل اور مخلصانہ عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو جنگ کے کنارے سے پیچھے ہٹنے کا ایک نایاب موقع ملا ہے۔ اب یہ ایران، امریکہ، اسرائیل اور تمام علاقائی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔ آبنائے ہرمز اس نئے مرحلے کی علامت بن سکتی ہے۔ اگر جہاز محفوظ گزرتے ہیں اور تیل کی روانی آزادانہ جاری رہتی ہے تو یہ دنیا کے لیے استحکام کا پیغام ہو گا۔ لیکن اگر یہ گزرگاہ دوبارہ تصادم کا مرکز بنتی ہے تو پورا امن عمل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ تاریخ اس معاہدے کو اس کے اعلان کی شدت سے نہیں بلکہ اس بات سے پرکھے گی کہ آیا اس نے واقعی جنگ کو روکا، اعتماد بحال کیا اور مشرقِ وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں امن کو آگے بڑھنے کا موقع دیا یا نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X