اسلام آباد (اردو ٹائمز) وفاقی بجٹ 2026-27 اور اس کے اہداف
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لئے 18 ہزار 771 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس میں ایف بی آر کے لئے 15 ہزار 264 ارب روپے کا بلند ترین ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کے حصول کے لئے 650 ارب روپے اضافی محصولات نئے ٹیکس اقدامات انتظامی اصلاحات اور سخت نفاذی کارروائیوں کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے ایف بی آر حکام کے مطابق 400 ارب روپے اضافی آمدن انفورسٹنٹ اقدامات سے جبکہ 250 ارب روپے نئے ٹیکس اقدامات کے ذریعے حاصل کئے جائیں گے وفاقی بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد جبکہ کم سے کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہاؤسنگ و زراعت سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے دفاعی بجٹ میں 17.6 فیصد اضافہ کرتے ہوئے 3 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے مختص کیا گیا ہے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں پاستا نوڈلز کیچپ خمیر شدہ مشروبات پیٹرولیم جیلی موم کیڑے مار و جراثیم کش ادویات جوتے باتھ روم فٹنگز سینیٹری سامان پیک شدہ دودھ بچوں کی خوراک بالوں کی مصنوعات پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگے گا لگژری الیکٹرک گاڑیاں ای سگریٹس بھی مہنگے 50 کروڑ روپے تک آمدن پر سپر ٹیکس بیرون ملک اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس خواتین کے سینیٹری پیڈز اور خاندانی منصوبہ بندی کی اشیا پر ٹیکس ختم بیرون ملک سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کریڈٹ کارڈز کے بیرون ملک استعمال پر ایڈوانس ٹیکس 5 فیصد کی بجائے 0.5 فیصد چھوٹے دکاندار سالانہ سیلز کا 1 فیصد ٹیکس دیں گے بجٹ میں مجموعی طور پر 6 ہزار 780 ارب کے نے قرضوں کا تخمینہ لگایا گیا ہے جس میں سے بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کے لئے 5 ہزار 836 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں بجٹ میں قرضوں پر سود کی مد میں 8 ہزار 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے بجٹ میں آئندہ مالی سال کے دوران مختصر مدتی غیر ملکی قرضوں کی واپسی کے لئے 130 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی سبسڈیز کا حجم ایک ہزار 91 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے اس ضمن میں پاور سیکٹر کے لیے سبسڈی ایک ہزار 36 ارب روپے سے کم کر کے 830 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے جس کے تحت بجلی شعبے کے لیے مجموعی سبسڈی میں تقریبا 206 ارب روپے کمی کی جائے گی پاور سیکٹر کے گردشی قرض کی ادائیگی کے لیے 252 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ پٹرولیم شعبے کی سبسڈی ختم کر دی گئی ہے پاکستان میں سالانہ میزانیہ اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے یہ صرف اہداف اور ان کے لئے مختص فنڈز کے حجم اور مختلف شعبوں پر عائد ہونے والے ٹیکسز کی شرح پر مشتمل ہوتا ہے سرکاری اخراجات کا تخمینہ اور ارکان پارلیمنٹ کے لئے ترقیاتی فنڈز کا حجم مقرر کیا جاتا ہے سالانہ میزانیے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مقرر نہیں کی جاتیں جو کبھی مقرر ہوا کرتی تھیں اسی طرح بجٹ میں بجلی گیس کی قیمتوں کا تعین بھی نہیں کیا جاتا اور پورا سال عوام پٹرولیم مصنوعات بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خود کش حملے برداشت کرتے اور اس کے نتیجے میں ہونے والی مہنگائی کو جھیلتے رہتے ہیں الغرض بجٹ صرف یہ بتاتا ہے کہ پاکستان کے عوام پر کتنے ارب ڈالر کا قرضہ لیا جاچکا ہے اور مزید کتنا لینا اور اس پر سود کتنا ادا کرنا ہے بعدازاں یہ بتایا جاتا ہے کہ دفاع پر اتنا خرچ ہوگا سرکاری افسروں اعلی عدلیہ خود مختار سرکاری کا رپوریشنز اتھارٹیز اور بورڈز کے سربراہوں اور ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کا خرچ کتنا ہے اور ان خراجات کو پورا کرنے کے لئے عوام کو مزید کتنی قربانی دینی ہے میاں شہباز شریف کی قیادت میں قائم حکومت کے لئے ورثے میں ملنے والے مسائل بالخصوص ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں اور حکومت اس سلسلے میں اقدامات بھی کر رہی ہے وفاقی حکومت نے نامکمل معاشی اہداف بیرونی ادائیگیوں کے بوجھ تلے دبی معیشت خود ساختی کمزریوں کے سائے میں مالی سال 2026-27 کا جو بجٹ پیش کیا ہے اس پر ہر طبقے کی جانب سے مختلف آراء کا اظہار کیا جارہا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ الحمد اللہ اب خوشحالی کا وقت شروع ہوچکا ہے یہ بجٹ ریلیف عوامی فلاح تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا بجٹ ہے اس سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہوجائے گا عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے بڑے صبر و تحمل سے مہنگائی کو برداشت کیا تمام چیلنجز کے باوجود آج ہماری معیشت بہتر ہورہی ہے ہمیں پانی کے ذخائر اور ڈیمز تعمیر کرنے ہیں دوسری جانب اپوزیشن قومی بجٹ کو اشرافیہ کا بجٹ قرار دیتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دینے پر کاربند ہے لیکن غیر جاندار اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ تو مکمل طور پر زبردست کامیابی یا محض فسانہ اور اعداد و شمار کا گورکھ دھندا قرار دینا قبل از وقت ہوگا اگر آئندہ دنوں میں مہنگائی قابو میں رہتی ہے اور عوام کے لئے کوئی ریلیف کا بندو بست ہوتا ہے تو حکومتی دعوؤں میں وزن ہوگا بصورت دیگر ناقدین کا موقف مضبوط ہو جائے گا کہ بجٹ کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے بجٹ میں سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے7 فیصد اضافے کو ریلیف ضرور قرار دیا جاسکتا ہے لیکن یہ اضافہ بھی مہنگائی کی شرح سے مطابقت نہیں رکھتا کسی بھی بجٹ کی اصل کامیابی کا معیار عوام کی قوت خرید اور روز گار کی فراہمی سرمایہ کاری میں اضافہ اور مالیاتی اہداف کا حصول ہوتا ہے وزیر اعظم شہباز شریف کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے معیشت کو خطرناک زون سے نکالا اور اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن کیا کیا ہے آج عملا دیکھا جائے تو معاشی اعشاریے تو بہتر نظر آتے ہیں لیکن ان کے اثرات عام آدمی کی حالت زار پر نظر نہیں آتے آئی ایم ایف کے پروگرام نے پاکستان کے ڈیفالٹ کے خطرات کم کئے ہیں لیکن اصل سوال وہیں کھڑا ہے کہ اس معاشی استحکام کا عوام کو کتنا فائدہ ملا ہے کیونکہ جب تک عام آدمی کی زندگی میں بہتری نہیں آتی تب تک معاشی صورت حال پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا جاسکتا حکومت نے بجٹ کے اہداف مقرر کرتے ہوئے زمینی حقائق کے برعکس چھلانگ لگانے کی کوشش کی ہے حکومت کا بجٹ کس حد تک حقیقت پسندانہ ہے اس کا پتہ آئندہ ڈیڑھ دو ماہ میں ہوجائے گا ماضی کی طرح آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بھی میں اس طبقے پر مزید ٹیکس عائد کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے جو پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے ایک عام شخص پر کل آمدن کے لگ بھگ 73 فیصد کے مساوی بالواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکس عائد کرنے سے مہنگائی اور غربت کی شرح پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ محتاج بیان نہیں ٹیکس میں اضافے کے لئے ٹیکس چوری کے شعبوں کی نشاندہی کرنے اور انہیں گرفت میں لانے کی ضرورت ہے جس پر اب بھی توجہ نہیں دی جارہی دوسری جانب معیشت کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے زرعی شعبے کے حوالے سے بھی کسی پیکج کا اعلان نہیں کیا گیا توقع تھی کہ زرعی پیدوار میں کمی کے بعد حکومت اب کچھ ازالہ کرنے کی کوشش کرے گی مگر محسوس ہوتا ہے کہ حکومت نے زرعی شعبے کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھالیا ہے حکومت کا یہ طرز عمل اس کے سبز انقلاب برپا کرنے کے دعوؤں کے برعکس اور حیران کن ہے ملک کی مڈل کلاس اور لوئر کلاس کو ترقی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کوئی خوش خبری نہیں اس حوالے سے اقدامات کی ضرورت ہے حکومت سلطانی جمہور پر جمہور کے اعتماد کی راہ ہموار اور غربت بے روز گاری اور توانائی کے بحران سے متعلق مسائل کے حل کے لئے لائحہ عمل طے کرے اور تمام حکومتی وسائل کا رخ عام آدمی کی زندگی بدلنے کی جانب موڑ دے قوموں کی آزادی ان کی معاشی خود مختاری سے جڑی ہوتی ہے سیاسی قیادت اس حقیقت کو تسلیم کرکے ایسے فیصلے کرے جو ہمیں معاشی غلامی سے نجات دلائیں**

