اسلام آباد (اردو ٹائمز) مالی سال 27-2026 کا بجٹ : توقعات , اُمیدیں
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) مالی سال 27-2026 کا وفاقی بجٹ پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس میں حکومت کا بنیادی چیلنج بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت پروگرام کے اہداف کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے مارے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
جون 2026 میں پیش کیے جانے والے اس بجٹ سے مختلف اسٹیک ہولڈرز درج ذیل بڑی توقعات اور امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں:
1۔ عوام اور تنخواہ دار طبقے کی توقعات ;
ٹیکس چھوٹ کی حد میں اضافہ: مہنگائی کی موجودہ لہر کے پیشِ نظر تنخواہ دار طبقے کو امید ہے کہ ٹیکس چھوٹ کی سالانہ حد کو موجودہ 6 لاکھ روپے سے بڑھا کر 8 سے 12 لاکھ روپے کیا جائے گا۔تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ:
سرکاری ملازمین بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناسب سے تنخواہوں اور پنشن میں کم از کم 15 سے 20 فیصد اضافے کی توقع کر رہے ہیں۔امدادی نیٹ ورک (BISP):
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بجٹ میں اضافے کی امید ہے تاکہ غریب ترین خاندانوں کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچایا جا سکے۔2۔ کاروباری طبقے اور صنعت کاروں کی اُمیدیں;
انرجی ٹیرف میں کمی: انڈسٹری کو سب سے بڑی امید بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی یا سبسڈیز کی بحالی سے ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو اور وہ عالمی مارکیٹ کا مقابلہ کر سکیں۔ٹیکس نیٹ کا پھیلاؤ: چیمبرز آف کامرس کا مطالبہ ہے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والی صنعتوں پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے غیر دستاویزی شعبوں، ریٹیلرز اور رئیل اسٹیٹ کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
برآمدات (Exports) کے لیے مراعات:
ٹیکسٹائل اور آئی ٹی سیکٹر کو امید ہے کہ برآمدی مصنوعات پر ڈیوٹی ڈرا بیکس اور سستے قرضوں کی سہولیات برقرار رکھی جائیں گی۔
3۔ حکومت کے بڑے چیلنجز اور اہداف;
آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط: حکومت کو خسارہ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی (GST) کی شرح برقرار رکھنے یا بڑھانے کے دباؤ کا سامنا ہے۔
ٹیکس ہدف میں اضافہ:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے لیے ایک جارحانہ ٹیکس ہدف مقرر کیے جانے کا امکان ہے جس کے لیے ڈیجیٹلائزیشن کا سہارا لیا جائے گا۔
ترقیاتی بجٹ (PSDP):
انفراسٹرکچر، خصوصاً سی پیک (CPEC) کے دوسرے مرحلے اور خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے لیے فنڈز مختص کرنا حکومت کی ترجیح رہے گا۔
4۔ سرمایہ کاری اور SIFC کے منصوبےخصوصی مراعات: خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے تحت زراعت، کان کنی، آئی ٹی اور گرین انرجی کے منصوبوں کے لیے کسٹمز اور انکم ٹیکس میں خصوصی چھوٹ کی توقع ہے۔
پاک چین نجی شعبے کے معاہدے:
مئی 2026 کی ہانگژو کانفرنس میں طے پانے والے 7.54 ارب ڈالر کے نجی شعبے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بجٹ میں قانونی اور مالیاتی تحفظات فراہم کیے جانے کی امید ہے۔
مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر اور فری لانسرز کے لیے سب سے بڑا چیلنج موجودہ رعایتی ٹیکس ڈھانچے (0.25% فکسڈ ریٹ) کو برقرار رکھنا اور مستقل ریموٹ ورکرز پر نئے ٹیکس سلیب کا نفاذ ہے۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) اور پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (P@SHA) نے حکومت کو بجٹ کے لیے اپنی حتمی سفارشات اور تجاویز پیش کر دی ہیں، جن پر وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر غور کر رہے ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر، فری لانسرز اور ڈیجیٹل سروسز پر مجوزہ ٹیکسز اور مراعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ آئی ٹی سیکٹر اور فری لانسرز کے لیے ٹیکس کی شرح0.25% فائنل ٹیکس ریژیم (FTR): موجودہ قانون کے تحت پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) سے رجسٹرڈ آئی ٹی ایکسپورٹرز اور فری لانسرز غیر ملکی آمدن (Remittances) پر صرف 0.25% ٹیکس دیتے ہیں۔
یہ رعایت جون 2026 میں ختم ہو رہی ہے، تاہم ایسوسی ایشنز نے اسے اگلے 5 سے 10 سال کے لیے توسیع دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
غیر رجسٹرڈ افراد پر ٹیکس:
جو فری لانسرز یا یوٹیوبرز PSEB کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں، ان پر بجٹ میں ٹیکس کی شرح موجودہ 1% سے بڑھا کر 3.5% تک کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
مقامی آمدن پر انکم ٹیکس: پاکستان کے اندر کام کرنے والے فری لانسرز کے لیے ٹیکس کی شر
ح عام انکم ٹیکس سلیب کے مطابق ہے، جہاں سالانہ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 0% ٹیکس ہے، جبکہ اس سے زائد آمدن پر 5% سے 35% تک پروگریسو ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔
2۔ “ریموٹ ورکرز” کے لیے نیا ٹیکس کریک ڈاؤنٹیکس آربیٹریج کا خاتمہ:
بجٹ میں تجویز ہے کہ “حقیقی فری لانسرز” (جو مختلف پراجیکٹس کرتے ہیں) اور “اوورسیز سیلریڈ ریموٹ ورکرز” (جو باہر کی کمپنیوں کے مستقل ملازم ہیں) کے درمیان قانونی فرق واضح کیا جائے۔
مجوزہ انکم ٹیکس سلیب: تجویز کے مطابق غیر ملکی کمپنیوں سے ماہانہ مستقل تنخواہ لینے والے ریموٹ ورکرز کو 0.25% کی رعایت سے نکال کر ان پر 5% سے 20% تک باقاعدہ انکم ٹیکس عائد کیا جائے تاکہ مقامی آئی ٹی کمپنیوں کے ملازمین کے ساتھ برابری لائی جا سکے۔
3۔ فری لانسرز کے لیے مجوزہ حکومتی مراعات5 ارب روپے کا فنڈ: ڈیجیٹل اسکلز پروگرام، آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI)، اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی جدید ترین ٹریننگز کے لیے 5 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
فری لانسنگ ہبس کا قیام: ملک کے متعدد شہروں میں مفت انٹرنیٹ اور بجلی سے لیس جدید فری لانسنگ ہبس بنانے اور بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز پر سبسڈیز دینے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
بینکنگ سہولیات:
فری لانسرز کو اپنی غیر ملکی کمائی کا 50% سے زائد حصہ اپنے ڈالر اکاؤنٹس میں رکھنے کی اجازت دینے اور ٹیکنالوجی بزنس برانچز قائم کرنے کی تجویز ہے۔
4۔ ڈیجیٹل سروسز اور ای کامرس پر ممکنہ ٹیکسزایف بی آر کی جانب سے ریونیو بڑھانے کے لیے ڈیجیٹل ریٹیل سیکٹر پر درج ذیل سخت اقدامات متوقع ہیں:ڈیجیٹل پریزنس پرووسیڈز ٹیکس: پاکستان میں کام کرنے والے غیر ملکی ای کامرس پلیٹ فارمز کی آمدن پر 5% ٹیکس کی تجویز۔سوشل میڈیا ایڈورٹائزنگ ٹیکس: فیس بک، گوگل، یا دیگر بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اشتہارات چلانے پر 5% ٹیکس عائد کرنے پر غور۔ آن لائن شاپنگ پر سیلز ٹیکس: ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے منگوائی جانے والی اشیاء پر 18% جنرل سیلز ٹیکس (GST) اور آن لائن ٹرانزیکشنز پر 2% ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز شامل ہے۔
مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں رئیل اسٹیٹ اور پراپرٹی سیکٹر کے لیے حکومت دوہری حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے،
جس میں ایک طرف مارکیٹ کے جمود کو توڑنے کے لیے فائلرز کو ریلیف دینے اور دوسری طرف سٹے بازی (Speculative Trading) کو روکنے کی تجاویز شامل ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) اور مختلف معاشی اداروں کی جانب سے اس شعبے کو دستاویزی بنانے کے لیے اہم ترین سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
بجٹ 2026-27 کے لیے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں مجوزہ ٹیکسز اور ریلیف کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) میں بڑی کمی کی تجاویزپراپرٹی مارکیٹ میں خریداروں کو واپس لانے کے لیے فائلرز کے لیے ٹیکس ریٹس کو نمایاں حد تک کم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے:
پراپرٹی خریدنے پر (Buyers): فائلرز کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5% سے کم کر کے محض 0.25% کرنے کی تجویز ہے
پراپرٹی بیچنے پر (Sellers):
فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کو 4.5% سے کم کر کے 1.5% کرنے کی سفارش کی گئی ہے نان فائلرز پر سختی:
نان فائلرز کے لیے ٹیکس کی شرح کو انتہائی بلند سطح (10% سے 15% تک) برقرار رکھا جائے گا تاکہ غیر دستاویزی سرمائے کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔
ایف بی آر (FBR) پراپرٹی ویلیو ایشن میں تاریخی ریلیفبجٹ سے قبل ہی حکومت نے ایک بڑا انتظامی اقدام اٹھاتے ہوئے پراپرٹی کی سرکاری قیمتوں کو کم کر دیا ہے:30% سے 35% تک کمی: اسلام آباد، راولپنڈی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں ایف بی آر کے پراپرٹی ویلیو ایشن ٹیبلز میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کر دی گئی ہے
بجٹ پر اثر: یکم جولائی 2026 سے لاگو ہونے والے اس فیصلے کے بعد جائیداد کی رجسٹری اور ٹرانسفر کے وقت مجموعی سرکاری فیسیں اور ٹیکسز خودکار طور پر بہت کم ہو جائیں گے۔3۔ سٹے بازی اور خالی پلاٹس پر نیا ٹیکس (Plot Flipping)سرمائے کو صرف پلاٹوں میں منجمد کرنے کے بجائے تعمیراتی صنعت کی طرف موڑنے کے لیے انسٹی ٹیوٹ آف کاسٹ اینڈ مینجمنٹ اکاؤنٹنٹس (ICMAP) نے ایک اہم لیوی تجویز کی ہے:
2% اضافی ویلتھ ٹیکس: اگر کسی شخص کے پاس 2 کروڑ (20 ملین) روپے سے زائد مالیت کا دوسرا یا اضافی رہائشی پلاٹ یا جائیداد ہے، تو اس کی مارکیٹ ویلیو پر 2% اضافی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے
پہلی رہائش گاہ مستثنیٰ: عام شہریوں اور حقیقی خریداروں کے تحفظ کے لیے پہلی ذاتی رہائش گاہ کو اس ٹیکس سے مکمل مستثنیٰ رکھا جائے گا
سیکشن 7E (فرضی آمدنی پر ٹیکس) کی ری سٹرکچرنگمذاکرات جاری: رئیل اسٹیٹ اسٹیک ہولڈرز اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے وزارتِ خزانہ پر شدید دباؤ ہے کہ سیکشن 7E (جس کے تحت خالی پلاٹوں پر 1% فرضی انکم ٹیکس لیا جاتا ہے) کو مکمل ختم یا نرم کیا جائے۔متوقع نتیجہ: بجٹ میں سمندر پار پاکستانیوں کو اس سیکشن سے بڑی چھوٹ ملنے کی امید ہے تاکہ ملک میں ڈالرز کی آمد (Remittances) بڑھ سکے۔
گرین کنسٹرکشن اور SIFC منصوبےتعمیراتی سامان پر ریلیف: اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی سفارش پر ماحول دوست تعمیراتی سامان اور پری فیب (Prefab) مشینری کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کم کیے جانے کا امکان ہے۔
صنعتی پلاٹس پر ہالیڈے: سی پیک کے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) اور گوادر فری زون میں صنعتی و تجارتی پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر 10 سالہ انکم ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی۔
مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کے لیے وزارتِ خزانہ اور ایف بی آر (FBR) کے درمیان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ ورچوئل مذاکرات کا بنیادی مقصد تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اور آخری سلیب کے تھریش ہولڈ میں ردوبدل کرنا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل (PBC) اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے برین ڈرین روکنے کے لیے انکم ٹیکس ریٹس میں 5 فیصد تک کمی کی حتمی سفارشات پیش کی ہیں۔جون 2026 کے بجٹ کے لیے زیرِ غور ممکنہ ٹیکس سلیبز اور تنخواہ کے لحاظ سے کٹوتی کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:1۔ مجوزہ ٹیکس سلیبز اور رعایتیں (بجٹ 2026-27)سرکاری ذرائع کے مطابق، سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے کمانے والے مڈل کلاس طبقے کے لیے ٹیکس ریٹس میں براہِ راست کمی کی جا رہی ہے:ٹیکس فری حد : سالانہ 6 لاکھ روپے (ماہانہ 50,000 روپے) تک کی آمدن پر 0% ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ مختلف الائنسز کی جانب سے اسے 80,000 روپے ماہانہ تک بڑھانے کا مطالبہ بھی زیرِ غور ہے۔کم آمدن والا سلیب (ماہانہ 1 لاکھ تک): ماہانہ 100,000 روپے کمانے والوں پر موجودہ ٹیکس کی شرح کو 5% سے کم کر کے 2.5% کرنے کی تجویز ہے۔درمیانی آمدن والا سلیب (ماہانہ 1.8 لاکھ سے 3.3 لاکھ): اس بریکٹ کے لیے ٹیکس ریٹس میں بتدریج 15% سے 27.5% تک کٹوتی کی تجاویز دی گئی ہیں۔اعلیٰ آمدن والا سلیب (ماہانہ 3.3 لاکھ سے زائد): سب سے اوپر والے ٹیکس سلیب کی شرح کو 35% سے کم کر کے 32.5% کرنے پر بات چیت چل رہی ہے۔2۔ 10 ملین سے زائد آمدن پر سرچارج کا خاتمہبرین ڈرین کا سدباب: پاکستان بزنس کونسل (PBC) نے سفارش کی ہے کہ سالانہ 1 کروڑ (10 ملین) روپے سے زائد کمانے والے اعلیٰ پیشہ ور افراد پر عائد 9% اضافی سرچارج کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس ٹیکس کی وجہ سے ملک کے اعلیٰ مینیجرز اور انجینئرز تیزی سے بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں,آئی ایم ایف کی شرط ہے کہ تنخواہ دار طبقے کو دیے جانے والے اس ریلیف (جو تقریباً 50 ارب روپے بنتا ہے) کا خسارہ دیگر شعبوں سے پورا کیا جائے:تاجروں پر ٹیکس: ریٹیلرز اور دکانداروں کے لیے سخت “فکسڈ ٹیکس اسکیم” کا نفاذ۔لگژری اشیاء پر سیلز ٹیکس: ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر سیلز ٹیکس کی شرح میں اضافہ۔کیش ٹرانزیکشنز پر جرمانہ: نقد رقم پر پیٹرول خریدنے پر 3 روپے فی لیٹر سرچارج اور روزانہ 50,000 روپے سے زائد کیش نکالنے پر نئے ودہولڈنگ ٹیکس کی تجاویز شامل ہیں۔
بجٹ میں مہنگائی کے تناسب سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک ایڈہاک ریلیف الائونس جبکہ پنشنرز کے لیے 10 فیصد اضافے کی حتمی تجویز تیار کر لی گئی ہے۔ وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ تجاویز آئی ایم ایف کے ساتھ حالیہ ورچوئل مذاکرات میں بجٹ خسارے کی حدود کو مدِ نظر رکھ کر دی گئی ہیں ,
سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لیے بجٹ 2026-27 کی متوقع تفصیلات درج ذیل ہیں:
1۔ تنخواہوں میں متوقع اضافہ (گریڈ 1 سے 22)ایڈہاک ریلیف الاؤنس: گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کے لیے 15 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے افسران کے لیے 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
بنیادی تنخواہ پر اطلاق: یہ اضافہ ملازمین کی موجودہ رننگ بیسک پے پر لاگو ہوگا۔میڈیکل اور کنوینس الاؤنس: پیٹرول اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث میڈیکل الاؤنس اور کنوینس الاؤنس میں بھی 20 فیصد تک نظرِثانی کی سفارش کی گئی ہے۔
2۔ پنشنرز کے لیے مراعات10 فیصد اضافہ: ملک بھر کے لاکھوں ریٹائرڈ وفاقی ملازمین کی نیٹ پنشن پر 10 فیصد ایڈہاک اضافہ متوقع ہے۔
پنشن اصلاحات کا نفاذ: اس بجٹ سے نئی پنشن ترامیم نافذ کی جا رہی ہیں، جس کے تحت مستقبل میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کے لیے آخری تین سال کی اوسط تنخواہ پر پنشن کا حساب لگایا جائے گا۔
3۔ گریڈ کے لحاظ سے متوقع اضافے کا تخمینہ (چارٹ)ملازم کا گریڈاوسط بنیادی تنخواہ (PKR)متوقع اضافہ (فیصد)ماہانہ تنخواہ میں متوقع خالص اضافہ;گریڈ 1 سے 525,000 روپے15%3,750 روپےگریڈ 11 سے 1645,000 روپے15%6,750 روپےگریڈ 17 سے 1990,000 روپے10%9,000 روپےگریڈ 20 سے 22180,000 روپے10%18,000 روپے4۔ وفاق اور صوبوں کا اشتراکصوبائی بجٹ: وفاق کی جانب سے حتمی منظوری کے بعد پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں بھی اپنے بجٹ میں اسی تناسب سے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کریں گی۔
وفاقی بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خواتین کی سہ ماہی قسط کو موجودہ 14,500 روپے سے بڑھا کر 20,000 روپے کرنے کی مضبوط تجویز زیرِ غور ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان کو بجٹ میں نمایاں اضافے اور مستحق خاندانوں کو فوری معاشی ریلیف فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔بجٹ میں BISP کے مختلف اقدامات اور وظائف میں متوقع اضافے کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ بینظیر کفالت پروگرام (سہ ماہی قسط)مجوزہ قسط: رمضان 2026 میں کی جانے والی حالیہ توسیع کے بعد مستحق خواتین کو اس وقت 14,500 روپے مل رہے ہیں۔ نئے بجٹ میں اس رقم کو بڑھا کر 20,000 روپے کرنے کی تجویز ہے، جس میں 5,500 روپے کا یکمشت اضافہ شامل ہے۔اضافے کا اطلاق: بجٹ کی منظوری کے بعد اس نئی اور بڑھی ہوئی قسط کا باقاعدہ آغاز جنوری 2027 سے متوقع ہے۔
2۔ بینظیر تعلیمی وظائف اور نشوونما پروگرام ;سکول جانے والے بچوں اور مائوں کے لیے بھی وظائف کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے:
تعلیمی وظائف : رجسٹرڈ بچوں اور بچیوں کے ماہانہ تعلیمی وظیفے میں مزید 500 روپے کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے تاکہ ڈراپ آؤٹ ریشو کو کم کیا جا سکے۔
نشوونما پروگرام : حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کے لیے غذائی معاونت کے وظیفے میں بھی 500 روپے تک کا اضافی ریلیف بجٹ کا حصہ بنانے کی سفارش ہے۔
3۔ مستحق خاندانوں کی تعداد میں توسیع نئے خاندانوں کا اندراج: بجٹ تجاویز کے مطابق موجودہ 1 کروڑ (10 ملین) مستحق خاندانوں کے دائرہ کار کو بڑھا کر مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ سے زائد غریب خاندانوں کو اس نیٹ ورک کا حصہ بنایا جائے گا۔
4۔ بجٹ الائوکیشن (کل فنڈز)مجموعی فنڈز میں اضافہ: وزارتِ خزانہ کی جانب سے سماجی تحفظ کے شعبے کے لیے کل بجٹ کو بڑھا کر 592 ارب روپے تک لے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے تاکہ کسی بھی کٹوتی کے بغیر تمام اقساط کی شفاف ادائیگی ممکن ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ہفتہ طویل دورے (13 تا 20 مئی) کے دوران اگلے مالی سال کے لیے پاکستان کے بجٹ پر منظوری کی مہر لگا دی ہے۔ فنڈ نے اپنی پریس ریلیز میں کھل کر مانا ہے کہ اس کے مشن کا پورا زور حالیہ تبدیلیوں، معاشی اصلاحات اور بالخصوص مالی سال 2027ء کی بجٹ حکمت عملی پر تھا۔دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کے بحران جیسے بیرونی دھچکوں کو جنہوں نے دنیا بھر میں تیل، ایل این جی، کھاد، ہیلیم اور دیگر اہم معدنیات کا قحط پیدا کر رکھا ہے حیرت انگیز طور پر پاکستان کے لیے بے اثر اور معمولی قرار دے کر نظرانداز کر دیا گیا۔ اس لیے جمعہ کو پیش کیے جانے والے بجٹ میں دو وجوہات کی بنا پر چند ہی حیران کن چیزیں ہوں گی۔(الف) توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے تیسرے جائزے، لچک اور پائیداری کی سہولت (آرایس ایف) کے دوسرے جائزے کی دستاویزات 15 مئی کو فنڈ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کر دی گئی تھیں یعنی بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے مشن کی آمد کے دو دن بعد ان دستاویزات میں حکام کے ساتھ طے پانے والی وقت کے پابند شرائط اور ڈھانچہ جاتی اہداف کی تفصیلات موجود ہیں جو 15 ستمبر کو ہونے والے اگلے لازمی سہ ماہی جائزے تک نافذ رہیں گی۔ اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں ای ایف ایف کے تحت 760 ملین ایس ڈی آرز اور آر ایس ایف کے تحت 76.9 ملین ایس ڈی آرز کی قسط کی ادائیگی متوقع ہے۔ (ب) بجٹ بنانے والے عام طور پر بجٹ کے تقریباً 75 سے 80 فیصد حصوں کی ذمہ داری لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلے اشرافیہ/بااثر طبقات اور ملک کے فنڈ پروگرام میں ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔بجٹ کے کل اخراجات میں سالانہ اضافے کا پورا دارومدار مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی ترقی کے ان خوابوں پر ہے، جو ضرورت سے زیادہ خوش فہمی پر مبنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کووڈ-19 کے بعد سوائے مالی سال 2021-22 کے ملک کی شرحِ نمو کبھی حکومتی دعووں کے قریب بھی نہ پھٹک سکی۔
چونکہ پاکستان 2019ء سے آئی ایم ایف کی کڑی اور پیشگی شرائط کے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے، اس لیے فنڈ کے طے کردہ خسارے کے اہداف کو پورا کرنے کا سارا غصہ ہمیشہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) پر ہی نکالا جاتا ہے اور اس میں بے دردی سے کٹوتیاں کر دی جاتی ہیں۔افسوسناک بات یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ کاٹے گئے لگ بھگ تمام ہی سیزنز کا یہی چلن رہا ہے، پاکستان اس وقت اپنے 24 ویں پروگرام کی سختیاں جھیل رہا ہے جہاں ترقیاتی بجٹ کا خون کرنا ایک روایت بن چکا ہے۔ نتیجہ بالکل سامنے ہے، بجٹ میں کاغذوں کی حد تک رقم تو مختص کر دی جاتی ہے لیکن اصل ترقیاتی فنڈز کا اجرا مسلسل سکڑ رہا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ جولائی تا اپریل 2026ء کے دوران یہ شرح گر کر محض 51 فیصد کی تشویشناک حد تک کم ترین سطح پر آ لگی ہے۔ترقیاتی فنڈز کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی کی ”منظوری“ اور وزارتِ خزانہ کی طرف سے ”اصل ادائیگی“ کے درمیان یہ کھلا تضاد دو ہی چیزوں کا پتا دیتا ہے، اول یہ کہ وزارتِ منصوبہ بندی سکڑتی ہوئی مالی گنجائش کے باوجود کاغذی بجٹ بنا کر اصل فنڈز نہ ملنے کی ذمہ داری سے صاف بچ نکلنا چاہتی ہے (حالانکہ حقیقت پسندانہ بجٹ بنانا اسی کی ذمہ داری ہے)۔ دوم یہ وزارتِ خزانہ کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی ایک چال بھی ہو سکتی ہے، تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ خزانہ امورِ ترقی کے لیے پیسے روک کر پورا زور صرف روزمرہ کے کرنٹ اخراجات پر لگا رہا ہے۔ حکومتی پالیسی کا سارا محور بھی یہی رہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح کرنٹ اخراجات کا پیٹ بھرا جائے۔ اس پیٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں پر سود (مارک اپ) کی ادائیگی ہے، جسے سال 2025-26 میں کل کرنٹ اخراجات کے آدھے سے بھی زیادہ حصے (50 فیصد پلس) پر بجٹ کیا گیا، یہ وہ مجبوری ہے جسے اگر نہ چکایا جائے تو پوری معیشت دھڑام سے نیچے آ گرے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح سال 2024-25 میں حاصل ہونے والے 54.5 فیصد سے کم ہے، حالانکہ تب اسے کل کرنٹ اخراجات کا 56.8 فیصد بجٹ کیا گیا تھا، جس سے مجموعی طور پر 813 ارب روپے کا ایک بڑا ہیر پھیر یا فرق سامنے آیا۔رواں سال سود (مارک اپ) کے لیے کم رقم رکھنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت نے قرضے لینا کم کر دیے ہیں بلکہ چالاکی یہ ہے کہ اب قرض ملنے کی لاگت سستی پڑ رہی ہے۔ ہوا یوں کہ ماضی کے قرضوں کو ری شیڈول کرا لیا گیا، جس سے ادائیگی کی مدت تو لمبی ہو گئی لیکن فوری سود کا بوجھ وقتی طور پر ہلکا ہو گیا۔ ساتھ ہی گزشتہ سال دسمبر تک پالیسی ریٹ میں کمی کے خواب دیکھے جا رہے تھے، مگر مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا اور شرحِ سود کو مزید بڑھانا پڑ گیا، یہ حقیقت ان دعووں کا منہ چڑاتی ہے کہ اس عالمی تنازع کے اثرات پاکستان کے لیے ”محدود“ رہے۔ یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کمرشل بینکوں سے گردشی قرضے کے خاتمے کے لیے جو 1.25 ٹریلین (سوا دو سو ارب) روپے ادھار لیے گئے تھے انہیں آئی ایم ایف کی آشیرباد سے مارک اپ کے کھاتے میں ڈالا ہی نہیں گیا، بلکہ اسے ”یکدم ہونے والا خرچہ“ کہہ کر الگ کر دیا گیا۔ دیکھا جائے تو سال 25-2024 کا بجٹ کردہ مارک اپ سال کے اختتام پر سامنے آنے والے اصل خرچ سے 829 ارب روپے زیادہ نکلا تھا، جس کا کریڈٹ شرحِ سود میں عارضی کمی اور ری شیڈولنگ کو جاتا ہے۔ اب اگلے مالیاتی سال 27-2026 کی بجٹ دستاویزات ہی یہ بھانڈا پھوڑیں گی کہ اس مد میں اصل خرچہ بجٹ کے تخمینوں سے کتنا اوپر نکل گیا۔ دوسری طرف دفاعی اخراجات جو 25-2024 میں کل کرنٹ اخراجات کا 13.3 فیصد تھے وہ 26-2025 میں چھلانگ لگا کر 15.62 فیصد پر پہنچ گئے۔ اس بھاری اضافے کی وجہ ملک میں جاری دہشت گردی کی حالیہ لہر اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والے آپریشنل اخراجات ہیں، تاہم، یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ پچھلے سال کی سرکاری دستاویزات کے مطابق مجموعی کرنٹ اخراجات میں پھر بھی 813 ارب روپے کی کمی دکھائی گئی تھی۔ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے تنخواہوں میں بڑے اضافے کی وجہ سے سویلین حکومت چلانے کے اخراجات گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 5.4 فیصد کے مقابلے میں رواں سال کے بجٹ میں بڑھ کر کل کرنٹ اخراجات کا 5.9 فیصد ہو گئے۔ پنشن کی رقم گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں میں 1.014 ٹریلین روپے سے بڑھ کر اس سال 1.055 ٹریلین روپے ہو گئی، یہ رقم سرکاری شعبے کے پنشنرز کے لیے مخصوص ہے اور اس میں نجی شعبے سے وابستہ 93 فیصد افراد شامل نہیں ہیں۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو فنڈ کے اصرار پر کرنٹ اخراجات کا 5 فیصد سے بھی کم حصہ ملا، حالانکہ سائنسی طریقہ کار کے ذریعے منتخب کیے گئے یہ مستحقین فنڈ کی شدید سکڑاؤ والی مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے نتیجے میں بڑھنے والے بے روزگاروں کی عکاسی نہیں کرتے اور نہ ہی یہ کیلوری کے طریقہ کار کے ذریعے بڑھتی ہوئی غربت کی سطح کو مدنظر رکھتے ہیں۔
اول تو پورا زور بالواسطہ ٹیکسوں (خصوصاً سیلز ٹیکس) کے بے رحمانہ اضافے پر ہے اور منطق یہ دی جا رہی ہے کہ جی ایس ٹی کی کارکردگی کا گراف (یعنی ممکنہ ٹیکس کے مقابلے میں اصل وصولی) گزشتہ دس سالوں میں 27.4 فیصد سے گر کر 22.8 فیصد رہ گیا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے ان بنیادی اشیاء پر بھی ٹیکس تھوپنے کا مشورہ دیا ہے جو اب تک معاف یا رعایتی لسٹ میں تھیں۔ برآمدی شعبوں کو ماضی میں ملنے والی ’زیرو ریٹنگ‘ نے پہلے ہی ٹیکس کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور رہی سہی کسر اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں جی ایس ٹی کی تقسیم نے پوری کر دی، جس سے چار الگ نظام کھڑے ہو گئے اور انتظامی کھچڑی بن گئی۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے یہ وہ بالواسطہ ٹیکس ہیں جن کا سارا نزلہ امیروں کے بجائے غریبوں پر گرتا ہے۔
دوسرا حربہ سپر ٹیکس ہے، جس کے حق میں آئینی عدالت کا فیصلہ تو آ چکا ہے لیکن معاشی حلقوں میں یہ خوف سر اٹھا رہا ہے کہ اس سے ملک کے بچے کچھے سرمایہ دار بھی اپنا بوریا بستر گول کر کے باہر بھاگ جائیں گے۔
تیسرا نِشانہ صوبائی ٹیکس اور خاص طور پر زرعی انکم ٹیکس ہے، جسے اب تنخواہ دار طبقے کی طرح نچوڑنے کی تیاری ہے۔ ظاہر ہے اگر اس جاگیردارانہ نظام پر ہاتھ ڈالا گیا تو اس کے شدید سیاسی جھٹکے بھی لگیں گے جبکہ اس دلدل سے نکلنے کا ایک بالکل منفرد اور آؤٹ آف دی باکس حل یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت پنشن کے نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بدلے (موجودہ ملازمین کی کٹوتی سے ہی موجودہ پنشنرز کو پیسے دیے جائیں)، اگلے تین سال کے لیے سرکاری تنخواہیں منجمد کر دی جائیں، فضول خرچیاں روک کر صرف انتہائی ناگزیر آپریشنل اخراجات بجٹ کا حصہ بنیں اور سود کی ادائیگی کے ہوائی نہیں بلکہ حقیقت پسندانہ اہداف طے کیے جائیں۔ سب سے بڑھ کر ایک ایسا منصفانہ، شفاف اور خامیوں سے پاک ٹیکس نظام لایا جائے جو چوروں کو پکڑنے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پیدا کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

