LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ڈاکٹر مقصود جعفری،آزاد کشمیر حکومت ریاست جموں و کشمیر کی صدارت کے لئے موزوں ترین شخصیت۔

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) تاریخِ اقوام اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر کا دھارا ہمیشہ اُن افراد کے ہاتھوں موڑا جاتا ہے جو علم و دانش، کردار و بصیرت اور فکر و تدبر کے حسین امتزاج سے آراستہ ہوتے ہیں۔ اقتدار محض ایک منصب نہیں بلکہ ایک امانت ہے، اور یہ امانت صرف اُنہی کے سپرد کی جانی چاہیے جو اس کے تقاضوں سے نہ صرف آگاہ ہوں بلکہ اس کے بوجھ کو اپنے شعور، دیانت اور وژن کے ساتھ اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر جیسے حساس اور نظریاتی خطے کے لیے قیادت کا انتخاب محض ایک سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ ایک تاریخی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں اگر کوئی نام علم، فکر، تجربہ اور وقار کے ساتھ اُبھرتا ہے تو وہ یقیناً توجہ کا مستحق ہوتا ہے۔
ڈاکٹر مقصود جعفری کا نام آزاد کشمیر کے علمی، ادبی اور سیاسی افق پر کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ایک ایسے خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں شرافت، علم دوستی اور تہذیبی اقدار نسل در نسل منتقل ہوتی آئی ہیں۔ اُن کے والد مرحوم تحسین جعفری نہ صرف ایک باوقار شخصیت تھے بلکہ شعر و ادب کے میدان میں بھی اپنی ایک پہچان رکھتے تھے۔ یہی علمی وراثت ڈاکٹر مقصود جعفری کی شخصیت میں مزید نکھار کا باعث بنی۔
ریاست آزاد جموں و کشمیر کی صدارت کے لیے ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کی تجویز ایک خوش آئند قدم ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایسے عالی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ جہاں شریفانہ روایات کو برقرار رکھا جاتا ہے۔قبل ازیں ڈاکٹرصاحب کے والد محترم قبلہ تحسین جعفری مرحوم و مغفور پر ایک مضمون لکھ چکا ہوں۔ جو آزاد کشمیر کے مختلف اخبارات میں شائع ہو چکا ہے۔ اور یہ مضمون میرے برادر اکبر خواجہ ذوالفقار جعفری پر لکھی جانے والی کتاب (سجادیہ لیب کے بانی) میں رونق افروز ہے۔ اس کے علاوہ قبلہ تحسین جعفری مرحوم کی علمی ادبی اور فکری کاوشوں پر سرینگر مقبوضہ کشمیر کے مصنف جسٹس حکیم امتیاز حسین سرینگر پبلشنگ ہاوس کی کتاب وایلم نمبر2 میں بھی ان کا ذکر ہے۔ مرحوم تحسین جعفری صاحب بھی ایک مایہ ناز شاعر گزرے ہیں۔
کسی بھی ملک کے ترقی یافتہ ہونے کا دارومدار اس ملک کی شرح خواندگی پرہوتاہے۔ آزاد کشمیر میں شرح خواندگی کا تناسب پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔ ریاستی امور کی انجام دہی کے لئے کسی بھی حکومتی ڈھانچے میں زیادہ سے زیادہ پڑھے لکھے افراد کا ہونا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب جیسی علمی ا ادبی شخصیت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں۔اگر ریاست کی صدارت کے لیے ان جیسی شخصیت کو نامزد کیا جائے توبے جاہ نہ ہو گا۔ موجودہ حالات میں ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب صدرِیاست کے لئے موزوں ترین امیدوارہیں۔ اِن جیسے قیمتی انسان اس دور میں ناپید ہیں۔وہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سکالر، فلسفی، مفکر، کالم نگار اور بہترین شاعر بھی ہیں۔ ان کی بہت سی کتابیں منظرعام پر آچُکی ہیں جو علم و آ گئی کا یک سر چشمہ ہیں۔ وہ ایک مصنف ہی نہیں بلکہ ایک مفکر بھی ہیں۔ علم و تحقیق کے ذریعے وحدت انسانیت کو فروغ دینے میں اُنکا ایک بہت بڑا کردار ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کی انگریزی اور اُردو نثر کی بیش بہاہ تصانیف سے کئی مُلکی و بین الاقوامی ادیب و شعراء کرام رہنمائی و استفادہ حاصل کر رہے ہیں۔ان کی شاعری میں جہاں علمی گہرائی کے خزانے ہیں وہیں ادبی محا سن کے ذریعے ایک جامع اور واضع پیغام بھی پایا جاتاہے۔ ان کی یہ خدمات انسانیت کی تبلیغ اور ادبی فروغ کا انمول خزانہ ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی اب تک اُردو، انگریزی اور فارسی کی تقریبا ٰ35کتابیں شا ئع ہو چکی ہیں۔
ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب کا آزادکشمیر کی سیاست میں بھی ایک نمایاں کردار رہا ہے۔ آپ ماضی میں وزیرآعظم آزا د کشمیر مجاہداول سردارمحمد عبدالقیوم خان صاحب کے مشیر اورسابق وزیرآعظم پاکستان محترمہ بے نظیر بھٹو کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔آزادکشمیر کے سیاسی حلقوں میں ڈاکٹر صاحب ایک منجھے ہوئے لیڈر اور متحرک سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ عالمی سطح پر تحریک کشمیر کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے انتھک محنت کی ہے۔ اسی لیے ان کو آزادی، امن اور انصاف کا علمبردار کہا جاتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا مسئلہ اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر مقصود جعفری صاحب نے انگریزی میں دو تصانیف شائع کیں۔ ادب اور فلسفے میں ڈاکٹر صاحب کی بیش بہاہ خدمات کے اعتراف میں صدرِ آزادکشمیر جناب سردار ابراہیم خان صاحب نے صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازاڈاکٹر صاحب پر سات ایم فل اور دو پی۔ایچ۔ ڈی ہو چکی ہیں -اس کے علاوہ علم و ادب، تاریخ و فلسفہ اور تاریخ کشمیر اور مسئلہ کشمیر کی ترویج کے لیے دینا بھر میں آوار بلند کی اور کئی ممالک کے سیمینارز اور کانفرنسسز میں شرکت کی۔ ڈاکٹر صاحب نقیب انقلاب آزادی اور علم بردار انسانیت و عدل ہیں۔ ظلم سے نفرت اور مظلوم کی حمایت کو اصل مذہب گردانتے ہیں۔
لہذا ملک کی تعمیر و ترقی اور مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل (جو ہماری شہ رگ ہے)کو ڈاکٹر مقصود جعفری کی علمی، ادبی،فکری کاشوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے انہیں ریاست کی صدارت کے اعلیٰ عہدے سے سرفراز کیا جائے۔ تاکہ ملک ترقی کی منازل طے کرے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پیس رفت جاری رہے۔ ریاستی معاملات کی بہتری کے لیے تعلیم یافتہ قیادت کا ہونا ناگزیر ہے، اور خوش آئند امر یہ ہے کہ آزاد کشمیر شرح خواندگی کے اعتبار سے پاکستان کے دیگر خطوں سے بہتر مقام رکھتا ہے۔ ایسے معاشرے میں قیادت بھی اسی معیار کی ہونی چاہیے جو علم و شعور کی نمائندگی کرے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری اس معیار پر پورا اترتے ہیں۔
آج جب ریاستِ آزاد کشمیر کو داخلی استحکام، علمی ترقی اور مسئلہ کشمیر کے مؤثر حل کے لیے ایک ہمہ جہت قیادت کی ضرورت ہے، تو ڈاکٹر مقصود جعفری جیسی شخصیت کا سامنے آنا یقیناً ایک خوش آئند امر ہے۔ وہ نہ صرف ایک مدبر اور دانشور ہیں بلکہ ایک ایسے انسان بھی ہیں جو ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں کھڑے ہونے کو اپنا اصول سمجھتے ہیں۔ایسی قیادت جو علم و عمل، فکر و تدبر اور سیاست و اخلاقیات کا حسین امتزاج ہو، وہی ریاست کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر سکتی ہے۔ ڈاکٹر مقصود جعفری اس امتزاج کی ایک مکمل تصویر نظر آتے ہیں۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقوام کی تاریخ میں کچھ فیصلے محض وقتی نہیں ہوتے بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی تقدیر کا رخ متعین کرتے ہیں۔ ریاستِ آزاد جموں و کشمیر کو آج ایسے ہی ایک فیصلہ کن موڑ کا سامنا ہے۔ اگر قیادت کے منصب کو واقعی ایک امانت سمجھا جائے اور اس کے لیے اہل ترین فرد کا انتخاب کیا جائے تو ڈاکٹر مقصود جعفری کا نام یقیناً صفِ اول میں نظر آتا ہے۔ یہ وقت مصلحتوں سے بالاتر ہو کر بصیرت کا انتخاب کرنے کا ہے، کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں بلکہ نظریات، علم اور دیانتدار قیادت سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ریاست کو ایک روشن، مستحکم اور باوقار مستقبل کی جانب لے جانا مقصود ہے تو ایسے افراد کو آگے لانا ہوگا جو نہ صرف حال کو سنوار سکیں بلکہ مستقبل کی سمت بھی متعین کر سکیں۔
ڈاکٹر مقصود جعفری محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک وژن اور ایک امید کا استعارہ ہیں۔اور شاید یہی وہ خوبی ہے جو انہیں صدارت جیسے اعلیٰ منصب کے لیے موزوں ترین بناتی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X