LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ہم ہیں پاکستانی، کشمیر بھی ہمارا ہے

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز)  کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ حقیقت بن کر رہے گا، انشاء اللہ… ”ہم ہیں پاکستانی، کشمیر بھی ہمارا ہے”۔ یہ نعرہ پاکستانی صحافی اصغر علی مبارک نے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام، کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی، میڈم شمیم شال اور دیگر کی پریس بریفنگ کے دورا ن لگایا۔پریس کانفرنس کے فوراً بعد پاکستانی صحافی نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورم پر اجاگر کرنے پر پاکستانی حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے حریت قیادت اور وزیر امور کشمیر سے سوال کیا کہ کیا پاکستان آسیہ اندرابی کے اس معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں اٹھاتا ہے اور حریت رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی میڈیا زیادہ ذمہ دار ہے سید علی گیلانی ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے اور میں کہتا ہوں کہ” ہم پاکستانی ہیں اور کشمیر بھی ہمارا ہے” بھارتی عدالتوں کی جانب سے کشمیری رہنماؤں اور شہریوں کے خلاف حالیہ فیصلوں اور اقدامات کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور کشمیری قیادت کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ اہم پیش رفت درج ذیل ہے:
آسیہ اندرابی کو عمر قید: بھارتی عدلیہ نے مارچ 2026 میں کشمیری علیحدگی پسند رہنما اور دختران ملت کی چیئرپرسن آسیہ اندرابی کو “بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے” اور “نفرت انگیز تقاریر” کے الزامات میں عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

دیگر خواتین رہنماؤں کو سزائیں: آسیہ اندرابی کی قریبی ساتھیوں، صوفی فہمیدہ اور ناہید نسرین کو بھی اسی کیس میں 30، 30 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
تنقید اور ردِ عمل: آزاد کشمیر حکومت اور دیگر سیاسی حلقوں نے ان فیصلوں کو “مذموم مقاصد” کے لیے عدلیہ کا استعمال قرار دیتے ہوئے اسے کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں: پاکستان اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے اکثر یہ موقف اپنایا جاتا ہے کہ بھارتی فوج اور عدالتی نظام کشمیریوں کے خلاف “جعلی مقابلوں” اور غیر قانونی اقدامات کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔
نفرت انگیز حملے: بھارت کے مختلف حصوں میں کشمیریوں کے خلاف نفرت انگیز حملوں اور سماجی بائیکاٹ کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے ان کا گزر بسر مشکل ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر برائے امور کشمیر امیر مقام نے کہاہے کہ بھارتی عدالتیں کشمیریوں کے خلاف مذموم مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہیں۔ ، کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی، میڈم شمیم شال اور دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کو جھوٹے مقدمات میں سزائیں دی جا رہی ہیں، بھارتی درندگی کے باوجود کشمیریوں کا جذبۂ آزادی کم نہیں ہوا۔ بھارتی عدالتوں نے آسیہ اندرابی کو عمر قید کی سزا سنائی۔ جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 کی سزا سنائی گئی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے اس فیصلے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ایسے فیصلوں کومسترد کرتے ہیں، اس سے نظر آ رہا ہے کہ بھارتی عدالتیں آزاد نہیں ہیں۔حکومت پاکستان آسیہ اندارابی کو عمر قید جبکہ فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو تیس تیس سال سزائے قید کی بھرپور مذمت اور اسے مسترد کرتی ہے، کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، جبر، گرفتاریوں اور طویل سزائوں سے کشمیری عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، کشمیری عوام نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں کے زیر اہتمام پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انجینئر امیر مقام نے کہا کہ ایک نہایت سنگین اور تشویشناک صورتحال پر بات کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں جو نہ صرف بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینئر حریت رہنما آسیہ اندرابی کو عمر قید اور ان کی ساتھی رہنمائوں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو 30، 30 سال قید کی سزائوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، یہ فیصلے انصاف کے بنیادی تقاضوں، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سزائیں دراصل سیاسی انتقام اور اختلافِ رائے کو دبانے کی ایک ناکام کوشش ہے، بھارت اپنے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں اپنی غیر قانونی پالیسیاں برقرار رکھنے کے لیے عدالتی نظام کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے جس سے وہاں کی عدالتی غیر جانبداری پر سنجیدہ سوالات اٹھ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے، کئی دہائیوں سے کشمیری عوام ظلم و جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ 1989ء سے اب تک کے اعداد و شمار اس ظلم کی شدت کو واضح کرتے ہیں جن میں 96 ہزار سے زائد افراد شہید کیے گئے، 32 ہزار سے زائد افراد زخمی یا تشدد کا شکار ہوئے، 22 ہزار سے زائد خواتین بیوہ ہوئیں، 11 ہزار سے زائد خواتین زیادتی کا شکار ہوئیں، ایک لاکھ سے زائد بچے یتیم ہوئے، لاکھوں افراد کو گرفتار کیا گیا، یہ اعداد و شمار صرف اعداد نہیں بلکہ ہر ایک کے پیچھے ایک انسانی المیہ چھپا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے صورتحال مزید سنگین ہو چکی ہے جب بھارت نے غیر قانونی اقدامات کے ذریعے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی، مواصلاتی نظام بند کیا اور کشمیریوں کی آواز کو دبانے کی ہرممکن کوشش کی، آزادی اظہار، نقل و حرکت اور معلومات تک رسائی جیسے بنیادی حقوق بھی سلب کر لیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کی ، وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ہر عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور اقوام متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کی آواز بن کر دنیا کو اس دیرینہ تنازعے کی سنگینی سے آگاہ کیا ۔

انجینئر امیر مقام نے عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ، او آئی سی، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، جبر، گرفتاریوں اور طویل سزائوں سے کشمیری عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا، کشمیریوں نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف انسانی بحران نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے ایک سنگین خطرہ بھی ہے، دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان یہ تنازعہ کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے جس کے عالمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، بھارت کو واضح پیغام دیتے ہیں کہ وہ اوچھے ہتھکنڈوں سے باز آئے، کشمیری نہ پہلے مرعوب ہوئے ہیں اور نہ آئندہ ہوں گے۔

انہوں نے اسیر حریت قیادت اور کارکنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق نکالا جائے اور فوری طور پر غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کا انعقاد کیا جائے۔ وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی معرکہ حق میں قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کی دانشمندانہ پالیسیوں کو سراہا۔ کنوینر کل جماعتی حریت کانفرنس غلام محمد صفی نے کہا کہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کا واحد جرم یہ ہے کہ انہوں نے بھارت کے غیر قانونی تسلط کے خلاف آواز اٹھائی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے مسلمہ حقِ خودارادیت کا مطالبہ کیا۔

 

انہوں نے اس امر کی یاد دہانی کرائی کہ یہ حق عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اور بھارت کے پہلے وزیرِاعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بھی کشمیری عوام سے اس کا وعدہ کر چکے تھے جس سے بعدازاں انحراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کو بھارت کا نام نہاد ”اٹوٹ انگ” قرار دینا زمینی حقائق کے منافی ہے اور اس طرح کے بیانیے کشمیری عوام کے بنیادی، سیاسی اور انسانی حقوق سلب کرنے کا جواز نہیں بن سکتے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی جائز اور تاریخی جدوجہد کو ہر قیمت پر جاری رکھیں گے۔ شمیم شال نے آسیہ اندرابی کو سنائی گئی سزا کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک آزادی کشمیر میں ان کا کردار تاریخ کے سنہری اور روشن ابواب میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں ظلم و بربریت اپنی انتہا پر ہیں ،تاہم وہاں آزاد میڈیا کی عدم موجودگی کے باعث حقائق دنیا کے سامنے پوری طرح نہیں آ پا رہے۔ پریس کانفرنس کے شرکا نے آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین سمیت تمام اسیرانِ حریت کی جرات، استقامت اور غیر متزلزل عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش سرمایہ ہیں۔ مقررین نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیں، بھارت پر دبائو بڑھائیں کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کرے اور کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دے۔ رہنمائوں نے اس غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیری عوام اپنی آزادی کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہرممکن قربانی دیں گے اور اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ پریس کانفرنس میں سینئر حریت رہنما محمود احمد ساغر، حاجی محمد سلطان، شیخ یعقوب، حاجی محمد سلطان، زاہد صفی، امتیاز وانی، سید گلشن، عدیل مشتاق، منظور ڈار، محمد شفیع ڈار، محمد اشرف ڈار اور مشتاق احمد بٹ نے بھی شرکت کی۔وفاقی وزیر امیر مقام کا کہنا تھا کہ آسیہ اندرابی کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں صرف انہوں نے آزادی اور حق کی بات کی ہے، بھارت کا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ بھارت کئی دہائیوں سے ظلم و بربریت کر رہا ہے، یہ بھارت کی خام خیالی ہے کہ وہ کشمیریوں کی آواز کو دبا دیں گے۔ان خواتین کو کشمیریوں کی حق خودارادیت کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں یہ سزا سنائی گئی۔ بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان سزاؤں کے ذریعے وہ کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریک کو ختم نہیں کرسکتا یاد رکھیں کہ دِلوں کو گرما دینے والے سید علی گیلانی کہا کرتے تھے… ’’میرا نام علی ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں، میں کشمیر میں پاکستان کا پرچم ہوں، ہاں وہی کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے…‘‘۔ علی گیلانی کو حکومت نے نشانِ امتیاز سے نوازا۔ سید علی گیلانی 50برس وادیٔ کشمیر کی سیاست پر چھائے رہے، وہ خطابت کے جوہر دکھاتے، ان کی شعلہ بیانی روحوں کو تڑپاتی، یوں علی گیلانی پوری وادی کو پُرجوش بنا دیتے، اُنہیں یہ کمال حاصل تھا کہ وہ جب نعرہ بلند کرتے تو ہزاروں، لاکھوں انسان نہ صرف جھومتے بلکہ ایک آواز بن کر پوری وادی میں گونجتے، وہ کہتے … ’’اسلام کی نسبت سے، اسلام کے تعلق سے، اسلام کی محبت سے ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے‘‘۔یہی نعرہ سید علی گیلانی کو مقبول ترین لیڈر کے طور پر پیش کرتا تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری وادیٔ کشمیر کے نوجوانوں کے سینوں میں پاکستان کی محبت بھرنے میں سید علی گیلانی کا بڑا کردار ہے۔ کشمیری، پاکستانیوں کے ساتھ چودہ اگست کا جشن مناتے ہیں، یہی کشمیری 15اگست کو بھارتی یوم آزادی ’’یومِ سیاہ‘‘ کے طور پر مناتے ہیں۔ 14اگست سے بھی کشمیریوں کی عجیب محبت ہے، کشمیر کے لوگوں نے پہلی مرتبہ کشمیر ڈے 14اگست 1931کو منایا تھا۔برصغیر میں سب سے پرانی آزادی کی تحریک، دراصل تحریک آزادی کشمیر ہے، کشمیر سے بےپناہ محبت رکھنے والے علامہ اقبالؒ نے دورۂ کشمیر کے موقع پر آزادی کے نعرے اُس وقت سنے تھے جب پاکستان کے لئے آزادی کی تحریک نہیں چلی تھی۔ اقبالؒ کی کشمیر سے محبت کی بڑی وجہ یہ تھی کہ ان کے آباؤ اجداد ضلع کولگام کے ایک گائوں ساپر سے ضلع سیالکوٹ آئے تھے۔ پہلے پہل وہ قصبہ جیٹھی کے میں آئے پھر سیالکوٹ شہر منتقل ہو گئے۔ علامہ اقبالؒ کے مداح سید علی گیلانی مقبوضہ کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے قصبے سوپور کے نزدیک جھیل کنارے واقع ایک گاؤں ڈورو میں 29ستمبر 1929کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سوپور سے حاصل کرنے والے سید علی گیلانی نے اعلیٰ تعلیم اوریئنٹل کالج پنجاب یونیورسٹی لاہورسے حاصل کی۔ سید علی گیلانی کو شعر و شاعری اور خطابت سے شغف تھا، اقبالؒ سے محبت کے باعث سید علی گیلانی نے ڈاکٹر اقبالؒ کی فارسی شاعر کے تراجم پر مشتمل تین کتابیں شائع کیں، ایک درجن کے لگ بھگ کتابیں لکھنے والے عظیم حریت رہنما نے اپنی سوانح عمری بھی لکھی۔ایامِ اسیری کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’رودادِ قفس‘‘ بھی لکھی۔ پنجاب یونیورسٹی سے واپس کشمیر جا کر انہوں نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کرلی، سید علی گیلانی نے 1972، 1977اور پھر 1987کا الیکشن جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر جیتا۔ 1987کا الیکشن پاکستان نواز تنظیموں کے اتحاد مسلم متحدہ محاذ کے تحت لڑا، بدترین دھاندلی کے ذریعے فاروق عبداللہ نے یہ الیکشن چرایا۔ اس الیکشن نے آزادیٔ کشمیر کی تحریک میں نئی روح پھونک دی,جس دن مسلم متحدہ محاذ کے کارکن اسمبلی عبدالرزاق بچرو کو ہلاک کیا گیا، علی گیلانی سمیت محاذ کے چاروں ارکان مستعفی ہو گئے، حالات خراب ہوئے تو فاروق عبداللہ، اشرف غنی کی طرح بھاگ گیا، بھارتی حکومت کو کشمیر میں گورنر راج لگانا پڑا۔ اس کے بعد گیلانی نے مسلح تحریک کی کھل کر حمایت کی، انہوں نے یہ حمایت آخری سانس تک جاری رکھی، آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ کے طور پر سید علی گیلانی نے آزادیٔ کشمیر کے لئے سخت گیر موقف اپنائے رکھا، انہیں بھارت سرکار نے لالچ، دھونس، اقتدار، دھمکی اور جبر کے ذریعے رام کرنے کی کوشش کی مگر بھارت کی یہ کوششیں ناکام رہیں۔ یکم ستمبر2021 کو کشمیری قوم کے بے مثل قائد سید علی شاہ گیلانی دوران نظربندی انتقال کر گئے تھے۔ ان کا ناتواں جسم مقبوضہ کشمیر میں متعین دس لاکھ سے زائد بھارتی افواج سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔سید علی گیلانی راہِ حق کے مسافر تھے، قافلۂ حسینؑ کے نقش قدم پر چلتے انہیں کربلا والوں کی طرح موت کے بعد بھی دشمن کے جبر کا سامنا رہا، جس رات ان کا انتقال ہوا، اسی رات کے آخری پہر میں جبر کے اندھیروں میں زبردستی علی گیلانی کی تدفین کردی گئی، انہیں مبینہ طور پر حیدر پورہ کے قبرستان میں دفن کیا گیا مگر عبداللہ گیلانی کے بقول… ’’ پتہ نہیں کہاں تدفین کی گئی ہے…‘‘سید علی گیلانی وفات کے بعد دشمنوں کے لئے خوف کی علامت بنے رہے، بھارتی فوج نے نظر بند علی گیلانی کی شہادت کے بعد حیدر پورہ کے راستوں میں خار دار تاریں بچھائیں، کرفیو لگا دیا۔ دریائے جہلم کے دونوں طرف سری نگر کی آبادیوں میں قابض بھارتی فوج کا گشت بڑھا دیا گیا، سری نگر کا پرانا شہر جسے دو ہزار سال قبل اشوکا نے آباد کیا تھا، وہاں گلیوں میں دکھ پھرتا رہا، سری نگر کے نئے شہر میں بھی فضا سوگوار رہی۔ سید علی گیلانی نے وصیت کی تھی کہ انہیں شہداء کے قبرستان میں دفن کیا جائے مگر ظالم بھارتی فوج نے جسدِ خاکی چھین کر کسی اور گورستان میں تدفین کردی، جنازے میں صرف گھر کے افراد یا چند ہمسایوں کو شریک ہونے دیا۔ اننت ناگ کا نام مغلیہ دور میں اسلام آباد رکھا گیا تھا مگر ہندوئوں نے اس کا نام بدل دیا۔ تمام تر جبر کے باوجود بھارتی فوج کشمیریوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کر سکی کہ وہ اب بھی اپنے شہید نوجوانوں کو پاکستان کے پرچم میں دفن کرتے ہیں، جبر اور ظلم کشمیریوں کی پاکستان سے محبت ختم کر نہیں کر سکا، ان نعروں کو ختم نہیں کیا جا سکا کہ: ہم پاکستان ہیں پاکستان ہمارا ہے

 

بھارتی حکومت عمر بھر سید علی گیلانی کی قائدانہ صلاحیتوں سے خوفزدہ رہی۔ 1981ء میں ان کا پاسپورٹ ضبط کرلیاگیا، کہاگیا کہ وہ بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ تب سے تادم آخر انھیں پاسپورٹ جاری نہ ہوا، سوائے2006ء کے ، جب انھیں حج کے لئے پاسپورٹ جاری کیاگیا اور واپسی پر پھر ضبط کرلیا گیا۔ سید علی گیلانی گردے کے کینسر میں مبتلا تھے۔ 2006ء ہی میں ڈاکٹروں نے ان کے لئے بیرون ملک علاج تجویز کیا۔ اس وقت تک کینسر ابتدائی مرحلے پر تھا۔ تاہم ڈاکٹروں نے اسے خطرناک قرار دیتے ہوئے سرجری کی تجویز دی ۔ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق سرجری امریکا یا پھر برطانیہ میں ہونا تھی، تاہم امریکی حکومت نے انھیں ویزا دینے سے انکار کردیا۔ سبب یہ بتایا گیا کہ سید علی گیلانی مسئلہ کشمیر کے ضمن میں پُرتشدد سوچ کے حامل ہیں۔ گیلانی صاحب کے اہل خانہ اور احباب نے اس فیصلے پر شدید احتجاج کیا ، کیونکہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتے رہنے والی امریکی حکومت کا یہ اقدام انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھا لیکن امریکی حکمران پوری ڈھٹائی سے اپنے فیصلے پر ڈٹے رہے۔ نتیجتاً انھیں ممبئی ( بھارت) سے آپریشن کروانا پڑا۔سید علی گیلانی کی جیل میں قید اور گھر میں نظربندی کی مدت کو جمع کیا جائے تو وہ دنیا میں سب سے زیادہ قید رہنے والے حریت پسند رہنما تھے مودی حکومت نے امن و امان کی صورتحال کا بہانہ بنا کر سید علی گیلانی کی جبری تدفین کے بہیمانہ اقدام کو جواز دینے کی کوشش کی تاہم کشمیری عوام نے اسے انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ سیدعلی گیلانی کے اہل خانہ اور دیگر کشمیری رہنمائوں نے بھارتی حکومت کے اس اقدام کو انتہائی متعصبانہ قرار دیا۔ کشمیری قیادت نے اس اقدام کو کشمیر کی مسلم آبادی کو سزا دینے کی ایک کوشش قرار دیا ۔92 سالہ قائد حریت کی نماز جنازہ کی ادائیگی اور تدفین کے سلسلے میں بھارتی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی او آئی سی نے مذمت کی تھی اور اسے ‘ رائٹرز’ ، ‘ واشنگٹن پوسٹ’ اور ‘ فرانس 24 ‘ جیسے اہم بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور اخبارات نے نمایاں جگہ دی تھی۔ پاکستان نے بھی سید علی گیلانی کی میت چھیننے کے بھارت کے وحشیانہ عمل کی مذمت کی تھی۔ بھارت کا یہ طرز عمل واضح طور پر ظاہر کر رہا تھا کہ وہ تمام تر جبر اور قوت استعمال کرنے کے باوجود کشمیریوں کو خوف زدہ نہ کرسکا ، ان کے دلوں سے سید علی گیلانی کی محبت کم نہ کرسکا ۔ بابائے حریت کشمیر کی تدفین کے بعد بھی بھارت خوف و دہشت میں مبتلا رہا ۔ نتیجتاً سری نگر اوراردگرد کے پورے علاقے کامحاصرہ کر کے لوگوں کی نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ یہ پابندیاں مسلسل جاری ہیں ,بھارتی قیادت کا خیال تھا کہ سید علی شاہ گیلانی کے بعد تحریک آزادی جموں و کشمیر کا رنگ ڈھنگ ماند پڑ جائے گا تاہم ایسا نہیں ہوا۔ سبب یہ ہے کہ بابائے حریت سید علی گیلانی نے ایک ایسی نسل تیار کی ہے جس کی رگوں میں خون کے ساتھ آزادی کے جذبات رواں دواں ہیں۔ سید علی گیلانی اپنے واضح اور مضبوط موقف کی بنیاد پر ریاست جموں و کشمیر کی سیاست میں نمایاں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا : ” میں سر زمین کشمیر پر بھارتی فوج کے قبضے سے کبھی ذہنی مطابقت پیدا کر سکا نہ سمجھوتا کرسکا۔ یہ موقف اور اس پر استقامت میں میری کوئی ذاتی خوبی نہیں بلکہ یہ سب اسلام کی دین ہے۔ میرا پختہ ایمان اور اعتقاد ہے کہ اسلام کامل ضابطہ حیات ہے۔اور یہاں بھارت کا قبضہ جبری اور بلا جواز ہے۔جتنا خدا وند کریم کے وجود پر یقین ہے اتنا ہی ان دو باتوں کی صداقت پر یقین ہے۔” سید علی گیلانی نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو ‘ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے ‘ جیسا عظیم نعرہ دیا جس نے جد وجہد آزادی کے بارے ہر طرح کے ابہام کا خاتمہ کر دیا۔سید علی گیلانی کا کہنا تھا : ” اس سر زمین پر گذشتہ عشروں سے بھارت کا فوجی تسلط ہے۔ اتنے لمبے عرصے میں مفتوحہ عوام کا تقسیم ہونا، یا دیگر طور پر متاثر ہونا،ناممکن نہیں ہے۔ یہ فطری ہے، اور یہ تحریک آزادی کے لیے بالکل مایوس کن نہیں ہے۔
سید علی گیلانی 1972ء سے 1982ء تک ، پھر 1987ء سے 1990ء تک جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے تاہم انھوں نے دیکھا کہ ریاستی اسمبلی کا حصہ بن کر کشمیری قوم کے مفادات کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا، نتیجتاً وہ انتخابی سیاست سے باہر آگئے۔ انھوں نے ایک نئے انداز سے تحریک حریت کشمیر شروع کردی,
سید علی گیلانی 1972ء سے 1982ء تک ، پھر 1987ء سے 1990ء تک جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن رہے تاہم انھوں نے دیکھا کہ ریاستی اسمبلی کا حصہ بن کر کشمیری قوم کے مفادات کو تحفظ نہیں دیا جاسکتا، نتیجتاً وہ انتخابی سیاست سے باہر آگئے۔ انھوں نے ایک نئے انداز سے تحریک حریت کشمیر شروع کردی جس نے اس قدر زور پکڑا کہ بھارتی قیادت سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔ وہ اس تمام تر صورت حال کی ذمہ دار جماعت اسلامی اور اس کے رہنما سید علی گیلانی کو سمجھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ گیلانی صاحب سمیت جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنان ہمیشہ قید و بند کی صعوبتوں سے گزرتے رہے، آنے والے برسوں میں ان سے اس سے بھی زیادہ سخت سلوک روا رکھا گیا حتیٰ کہ انھیں قتل بھی کیا گیا۔ تاہم سید علی گیلانی کی تربیت یافتہ نسل بے خوف ہے، بھارت سے آزادی کے خواب اس کی آنکھوں میں روشنی بن کر چمکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق لاپتہ افراد کے والدین کی ایسوسی ایشن کے مطابق بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے1989 سے اب تک 8ہزار سے زائد کشمیریوں کو دوران حراست لاپتہ کیا ہے۔ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارتی فورسز کے اہلکاروں نے ان لاپتہ افراد کو جعلی مقابلوں میں شہید کرنے کے بعد گمنام اجتماعی قبروں میں دفن کیا۔ مقبوضہ علاقے میں اب تک ہزاروں گمنام اجتماعی قبریں دریافت ہوئی ہیں اور یہ قبریںان لاپتہ کشمیریوں کی ہوسکتی ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X