LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِاعظم پاکستان, بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم کے ساتھ قریبی تعاون کےخواہشمند

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِاعظم شہباز شریف بنگلہ دیش کے متوقع وزیر اعظم کے ساتھ قریبی تعاون کے خواہشمند ہیں, وزیراعظم شہبازشریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن کو ٹیلیفونک رابطے میں الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی جبکہ بنگلہ دیشی قیادت کےساتھ مل کرکام کرنے کےعزم کا اعادہ کیا اور کہا علاقائی امن و ترقی کیلئے دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کیا جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین طارق رحمٰن سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ شہبازشریف نے عام انتخابات میں تاریخی اورشاندار کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی۔ بنگلہ دیش کےعوام کو بھی انتخابات کےکامیاب انعقاد پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے کہا کہ عام انتخابات کا کامیاب انعقادبنگلہ دیشی قوم کےجمہوری نظریات کی عکاسی کرتا ہے۔ شہبازشریف نےبنگلہ دیشی قیادت کے ساتھ مل کرکام کرنے کے عزم کا اعادہ کیاانہوں نے کہا کہ علاقائی امن اورترقی کیلئےدو طرفہ تعاون کومزید مستحکم کیا جائے۔ شہبازشریف نے بیگم خالدہ ضیا کی نمایاں خدمات اور کلیدی کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ طارق رحمٰن کو جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی۔۔ طارق رحمٰن نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کو بنگلہ دیش کا دورہ کرنےکی دعوت دی۔ دونوں رہنماؤں نے آنےوالےدنوں میں قریبی رابطے میں رہنے پراتفاق کیا۔وزیرِاعظم پاکستان نے طارق رحمان کو انتخابات میں ’بی این پی کو شاندار کامیابی دلانے‘ پر مبارکباد دی ہے,انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا ہےکہ وہ نئی بنگلہ دیش قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں تاکہ تاریخی اور بھائی چارے پر مبنی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا سمیت خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے طارق رحمان کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان “برادرانہ تعلقات” کو ایک نئے دور میں داخل کیا جا سکے۔ دونوں ممالک نے حال ہی میں لاہور میں منعقدہ D-8 کمشنرز کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں معاشی اور انتظامی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیاپاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہ راست پروازوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے جبکہ اب ایک فیری سروس (بحری سروس) اور براہ راست شپنگ لائن کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ تجارت اور سیاحت کو فروغ دیا جا سکے, پاکستان اور بنگلہ دیش نے 2029 تک دو طرفہ تجارت کو 2 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے, بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کے مطابق، ان کا ملک پاکستان کو وسطی ایشیا اور چین تک رسائی کے لیے ایک اہم “گیٹ وے” کے طور پر دیکھتا ہے, شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ گذشتہ ماہ ڈھاکہ سے کراچی کے لیے براہِ راست کمرشل پرواز شروع ہوئی، جو 14 برس بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست پرواز تھی۔اس سے چند ماہ قبل پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے 13 سال بعد پہلی بار ڈھاکہ کا دورہ کیا تھا۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کے درمیان بھی سکیورٹی تعاون پر بات چیت کے لیے دوروں کا تبادلہ ہوا، جبکہ 2024-25 میں باہمی تجارت میں 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جو شیخ حسینہ کے 15 سالہ دورِ حکومت میں سرد مہری کا شکار رہے تھے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات میں تاریخی کامیابی حاصل کی ہےپارٹی کے چیئرمین طارق رحمان بنگلہ دیش کے اگلے وزیر اعظم بننے کے لیے تیار ہیں۔یہ نتیجہ بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کے لیے ایک ڈرامائی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو اب بنگلہ دیش کے اگلے وزیرِاعظم بننے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتے ہیں۔صرف دو سال قبل ہونے والے انتخابات میں طارق رحمان لندن میں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کیے ہوئے تھے، جبکہ بی این پی کے کئی رہنما اور کارکنان شیخ حسینہ کی حکومت کے دوران جیلوں میں قید تھے۔طارق رحمان کا سیاسی کیریئر تنازعات سے گھرا رہا ہے۔ 2007 میں انھیں کرپشن کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور اگلے سال وہ لندن چلے گئے۔ انھیں شیخ حسینہ کے ایک جلسے پر حملے کے مقدمے میں عدم موجودگی میں عمر قید کی سزا سنائی گئی، جسے وہ سیاسی انتقام قرار دیتے رہے۔ تاہم 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ان کے خلاف کئی سزائیں اور مقدمات ختم کر دیے گئے، جس کے بعد ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔
طارق رحمان کے والد ضیاالرحمان بنگلہ دیش کی آزادی کی جدوجہد کے نمایاں رہنماؤں میں شامل تھے اور 1981 میں اپنے قتل تک ملک کے صدر رہےطارق رحمان کی والدہ خالدہ ضیا تین بار وزیرِاعظم رہیں، تاہم انھیں بھی شیخ حسینہ کی عوامی لیگ حکومت کے دوران کئی مرتبہ گرفتار اور قید کیا گیا۔خالدہ ضیا اس انتخاب میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتی تھیں، مگر دسمبر میں رحمان کی لندن سے وطن واپسی کے چند روز بعد ان کی وفات ہو گئی۔ الیکشن کمیشن کے سیکریٹری اختر احمد نے بتایا کہ 297 مجموعی نشستوں میں سے 212 بی این پی جبکہ 77 پر جماعت اسلامی کے اُمیدوار کامیاب ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نیشنل سٹیزن پارٹی این سی پی نے چھ نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ خلافت مجلس پارٹی نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔پانچ جماعتوں اسلامی اندولن، گنا اودھیکار پریشد، بنگلہ دیش جاتیہ پارٹی، گنا سنگھتی آندولن نے ایک ایک سیٹ جیتی۔ سات نشستوں پر آزاد امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی۔ بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کو ’غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد‘ قرار دیا ہے۔

 

چیف الیکشن کمشنر نصیر الدین نے کہا ’میں خود کو مطمئن محسوس کر رہا ہوں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ پُرجوش ماحول میں انتخابات کرائیں گے اور قوم کو مکمل طور پر غیر جانبدار اور قابلِ اعتماد الیکشن دیں گے، اور ہمارا یقین ہے کہ ہم نے یہ ہدف حاصل کر لیا ہے۔ ہر کوئی اس کا اعتراف کر رہا ہےانھوں نے ووٹرز، سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب کے تعاون سے قابلِ قبول انتخابات ممکن ہو سکے۔الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ انتخابات میں تقریباً 60 فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔سیکریٹری الیکشن کمیشن کے مطابق چٹاگانگ کے دو حلقوں کے نتائج اس وقت تک جاری نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ لون کیس میں اپیل ہائی کورٹ میں حل نہیں ہو جاتی۔ بی این پی کے سرور عالمگیر غیر سرکاری طور پر چٹاگانگ-2 (فٹیک چھڑی) سے اور بی این پی کے اسلم چودھری چٹاگانگ-4 (سیتا کنڈا) کے حلقے پر کامیاب ہوئے ہیں۔ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا مزید کہنا تھا کہ ریفرنڈم میں چار کروڑ 80 لاکھ افراد نے ہاں میں ووٹ دیا اور 2 کروڑ 25 لاکھ 65 ہزار 627 افراد نے نفی میں ووٹ دیا۔ چٹاگانگ کے ان دو حلقوں کے ریفرنڈم کے نتائج بھی اس میں شامل کیے گئے ہیں۔
بی این پی نے پارلیمنٹ کی 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت کے ساتھ میدان مار لیا ہے بنگلہ دیش جماعت اسلامی 77 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی جبکہ سابقہ حکمراں جماعت عوامی لیگ ان انتخابات میں شامل نہیں تھی یہ 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ملک کے پہلے عام انتخابات تھے۔بنگلہ دیش کے عام انتخابات سنہ 2024 کی عوامی بغاوت کے بعد ہر لحاظ سے ایک اہم موقع تھا۔ دو اہم جماعتوں بی این پی اور جماعت اسلامی کے رہنما وزارت عظمیٰ کے اُمیدوار کے طور پر آمنے سامنے تھے۔ یہ بھی پہلی بار ہے کہ جماعت اسلامی قومی انتخابات میں بڑی دعویدار کے طور پر سامنے آئی ہے۔ یہ بڑی حد تک ممکن ہوا ہے کیونکہ عوامی لیگ، جو کہ ملک کی سب سے بڑی جماعتوں میں سے ایک ہے، پر سیاست پر پابندی عائد کر دی گئی عوامی لیگ پہلی مرتبہ کسی قومی انتخابات میں حصہ نہیں لے سکی۔ سنہ 1991 کے بعد یہ پہلا الیکشن ہے جب بنگلہ دیش میں پارلیمانی جمہوریت کی واپسی ہوئی ہے۔ یہ پہلا الیکشن تھا جو دو سابق وزرائے اعظم خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے بغیر ہوا۔ اس پارٹی کی بنیاد 1978 میں سابق صدر ضیاء الرحمان نے رکھی تھی, بی این پی کی قیادت طویل عرصے تک سابق وزیر اعظم بیگم خالدہ ضیا کے پاس رہی اور اب ان کے صاحبزادے طارق رحمان اسے چلا رہے ہیں ,بی این پی کی عام انتخابات میں واضح دو تہائی اکثریت کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے عہدے سے ہٹنے کے بعد مہینوں کے انتشار کے بعد ملک میں استحکام آنے کی توقع ہے,گزشتہ برسوں میں بنگلہ دیش کے پہلے حقیقی مسابقتی انتخابات کے طور پر دیکھے جانے والے اس الیکشن میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں نے 299 میں سے 212 نشستیں حاصل کیں , اپوزیشن جماعت جمعیت اسلامی اور اس کے اتحادیوں نے قومی اسمبلی میں 70 نشستیں جیتی ہیں, بی این پی، جو 20 سال بعد دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے، اس نے اکثریت حاصل کرنے کے فوراً بعد عوام کا شکریہ ادا کیا اور جمعہ کو ملک و عوام کے لیے خصوصی دعاؤں کی اپیل کی پارٹی نے اعلان کیا کہ زیادہ ووٹوں کے فرق سے جیت کے باوجود کسی قسم کی جشن یا ریلی منعقد نہیں کی جائے گی اور ملک بھر میں دعا کا اہتمام کیا جائے۔ واضح نتیجہ 1.75 کروڑ آبادی والے مسلم اکثریتی ملک میں استحکام کے لیے کلیدی سمجھا جا رہا تھا، جہاں مہینوں تک حسینہ واجد مخالف ہنگاموں نے روزمرہ زندگی اور برآمدی صنعتیں، خاص طور پر گارمنٹس، متاثر کیں۔ بی این پی کے رہنما طارق رحمان کے وزیراعظم بننے کی توقع ہے۔ پارٹی کے بانی سابق صدر ضیاءالرحمان کے بیٹے طارق رحمان نے دسمبر میں 18 سال بعد بیرون ملک سے دارالحکومت ڈھاکہ واپس آئے۔ نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس، 85 سالہ، نے عبوری سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیں جب حسینہ واجد اگست 2024 میں بھارت پناہ گئیں۔ بی این پی کی 200 سے زیادہ نشستوں کے ساتھ جیت 2001 میں 193 نشستوں کی فتح سے بڑی ہے، اگرچہ حسینہ واجد کی عوامی لیگ، جو پچھلے 15 سال حکومت کر چکی تھی اور اس بار انتخاب میں حصہ نہیں لے سکی، عوامی لیگ نے 2008 میں 230 نشستیں حاصل کی تھیں۔ جماعت اسلامی کے سربراہ نے شکست تسلیم کرلی کہا کہ پارٹی صرف مخالفت کے لیے مخالفت نہیں کرے گی بلکہ مثبت سیاست کرے گی۔ بی این پی کی اہم حریف جماعتِ اسلامی نے ووٹ گننے کے عمل پر دوبارہ سوالات اٹھائے ہیں جماعت اسلامی نے بیان میں کہا کہ ’ہم انتخابات کے نتائج کے عمل سے مطمئن نہیں ہیں ,انتخابی میں شرکت گزشتہ انتخابات کے 42 فیصد کے مقابلے میں بڑھ کر 60 فیصد سے زائد متوقع تھی۔ اس بار ریکارڈ کم از کم 50 جماعتوں کے 2,000 سے زائد امیدواروں نے حصہ لیا۔ ایک حلقے میں امیدوار کی موت کے باعث ووٹنگ ملتوی ہوئی۔ انتخابی اصلاحات پر ریفرنڈم میں 20 لاکھ سے زائد ووٹرز نے ہاں اور 8.5 لاکھ سے زائد نے نہیں کہا، جن میں وزیر اعظم کے لیے دو مدتی حدود، عدلیہ کی مضبوط آزادی، خواتین کی نمائندگی، عبوری حکومتیں اور پارلیمنٹ کے دوسرے ایوان کا قیام شامل ہے۔چین کے سفارتخانے نے بنگلہ دیش میں پارلیمانی انتخابات کو ’کامیاب‘ قرار دیتے ہوئے ڈھاکہ اور بی این پی کو برتری حاصل کرنے پر مبارکباد دی فیس بک پر جاری پیغام میں سفارتخانے نے کہا کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے اور چین-بنگلہ دیش تعلقات کے نئے ابواب رقم کرنے کے منتظر ہیں۔چین نے اگست 2024 میں عبوری حکومت کے قیام کے بعد ڈھاکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھا کر آٹھ کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ دونوں ممالک نے دفاع اور طبی شعبوں میں تعاون کو بھی بڑھایا ہے۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان کو ٹیلی فون کر کے اُنھیں انتخابات میں کامیاب پر مبارکباد دی ہے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کا متوقع وزیر اعظم سمجھا جا رہا ہے۔ ٹیلی فونک رابطے کے بعد اپنے بیان میں بھارتی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ’میں نے طارق رحمان کو فون کیا اور اُنھیں بنگلہ دیش کے انتخابات میں شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔‘ وزیر اعظم مودی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے ٹیلی فونک گفتگو میں بنگلہ دیش اوربھارت میں رہنے والوں کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کے عزم کا اعادہ کیا وزیر اعظم مودی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ انڈیا میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

 

بھارت کا الزام رہا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندو کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بنگلہ دیش کی عبوری حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہےدنیا کے کچھ مشہور برانڈز بنگلہ دیش میں اپنے کپڑے بناتے ہیں۔ لیکن امریکی ٹیرف اور سیاسی بدامنی کی وجہ سے مسلسل چھ ماہ کی گرتی ہوئی برآمدات کے بعد یہ صنعت بحران کا شکار ہے۔ ٹیکسٹائل ملک کی معاشی زندگی ہے، جو جی ڈی پی کا 10 فیصد سے زیادہ ہے اور تقریباً 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کرتا ہے جن میں زیادہ تر خواتین ہیں۔ صنعت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک حالیہ امریکی تجارتی معاہدہ کچھ ریلیف اور ممکنہ مواقع فراہم کرتا ہے، لیکن وہ یہ بھی انتباہ کر رہے ہیں کہ اہم تفصیلات پر ابھی بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس دوران، وہ ملک میں استحکام، اجرت کے فریم ورک کو نافذ کرنے، بینکنگ سیکٹر کو بحال کرنے اور توانائی کے اخراجات کنٹرول کرنے کے لیے نئی حکومت سے امیدیں وابستہ کر رہے ہیں۔ بڑی جماعتوں کے سیاست دانوں نے ملبوسات پر معیشت کے بھاری انحصار کو کم کرنے اور دیگر صنعتوں میں تنوع لانے کا وعدہ بھی کیا ہے۔بی این پی کے سیکریٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جماعت نے انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کالعدم عوامی لیگ، جس کی قیادت شیخ حسینہ کر رہی تھیں، بنگلہ دیش کی سیاست میں جماعتِ اسلامی کے ابھرنے کی ذمہ دار ہے۔یاد رہے کہ جماعتِ اسلامی ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت ہے اور ماضی میں بی این پی کی اتحادی رہ چکی ہے۔ اسے پہلے انتخابات میں حصہ لینے سے روکا گیا تھا، تاہم اس بار عوامی لیگ کی پابندی کے بعد یہ بیلٹ پیپر پر واحد بڑی متبادل جماعت کے طور پر سامنے آئی ,مرزا فخرالاسلام عالمگیر کا کہنا تھا، ’جب بھی جمہوریت کو دبایا جاتا ہے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جاتی ہیں تو انتہا پسند قوتیں ابھرنے لگتی ہیں۔ آج جماعتِ اسلامی کا ابھرنا عوامی لیگ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔یاد رہے کہ پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کا خواہشمند ہے، امن اور استحکام کیلئے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانا چاہتے ہیں۔ پاکستان بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں اہم بریک تھرو ہواہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے،پاکستان اور بنگلہ دیش ، دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی مسائل پر بات چیت ہوئی تھی۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان متعدد معاہدوں اور ایم او یوز پر بھی دستخط ہوئے تھے، سفارتی و سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے انٹری ویزا فری کردی گئی ہے تاریخی دورہ بنگلہ دیش میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کانے ڈھاکا میں بنگلادیش کے مشیر تجارت شیخ بشیرالدین سے ملاقات کی تھی، دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی تھی، بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے بھی ملے تھے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کردیا گیا، دونوں ممالک کے درمیان متعدد معاہدوں، ایم او یوز پر دستخط بھی ہوئےتھے رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان 6 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی تھی، جس میں سفارتکاروں اور حکومتی اہلکاروں کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ طے پایاتھا، دونوں ممالک کی فارن سروس اکیڈمیز کے درمیان مفاہمتی یادداشت، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور بنگلادیش سنگباد سنگستھا کے درمیان مفاہمتی یادداشت، آئی ایس ایس آئی اور بنگلہ دیش انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے درمیان ایم او یو پر بھی دستخط ہوئے تھےجبکہ ٹریڈ جوائنٹ ورکنگ گروپ اور ثقافتی تبادلے کے پروگرام (2025–2028) کی مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط کیے گئےتھے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ڈھاکا میں تقریب سے خطاب کیاتھا جہاں انہوں نے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کوششوں پر زور دیاتھا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے وفد سے ملاقات کی تھی اور پاکستان اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے درمیان زیادہ باہمی رابطے کی ضرورت پر زور دیاتھا
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم نے این سی پی کی قیادت کے اصلاحات اور سماجی انصاف کے وژن کی تعریف کی تھی انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں کے درمیان زیادہ باہمی رابطے کی ضرورت پر زور دیا تھا وفد کے اراکین نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو 2024ء میں ملک بھر میں سیاسی تحریک کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیاتھا، دونوں فریقوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیاتھا

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X