اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان , متحدہ عرب امارات کے درمیان اہم معاشی پیش رفت
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اہم معاشی اور سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جن میں قرضوں کی واپسی میں توسیع اور تجارتی معاہدے کے حتمی مراحل شامل ہیں ,تازہ ترین معاشی پیش رفت میں متحدہ عرب امارات نے پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی واپسی کی مدت میں 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کی توسیع (رول اوور) پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ 6.5 فیصد شرح سود پر کیا گیا ہے جو کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے۔ دونوں ممالک آزادانہ تجارت کے لیے CEPA نامی معاہدے پر دستخط کرنے کے آخری مراحل میں ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد موجودہ 8 سے 10 ارب ڈالر کی باہمی تجارت کو دوگنا کرنا اور کاروباری رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے گزشتہ چھ ماہ کے دوران یو اے ای کو پاکستانی برآمدات میں 22 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ 1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں وزیر اعظم شہباز شریف اور یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہواہے رہنماؤں نے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور انفراسٹرکچر، توانائی، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیاہے یو اے ای پاکستان میں بندرگاہوں، ہوا بازی (ایوی ایشن)، معدنیات اور ریلوے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو وسعت دے رہا ہے، جس میں شمالی علاقوں سے کراچی تک سپلائی چین کے لیے نئے معاہدے بھی شامل ہیں۔ دونوں ممالک نے آن لائن دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے ایک مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے,وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم آفس اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر اور ابوظہبی کے حکمران شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے,خوشگوار اور نہایت گرم جوش ماحول میں ہونے والی اس گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے گزشتہ ماہ اسلام آباد اور رحیم یار خان میں ہونے والی اپنی حالیہ ملاقاتوں کا ذکر کیا، جو متحدہ عرب امارات کے صدر کے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے کے موقع پر ہوئی تھیں۔یاد رکھیں کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اماراتی صدر کے استقبال کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان شیخ محمد بن زید کے لیے دوسرا گھر ہے اور وہ ان کا استقبال کرتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے مشکل حالات میں پاکستان کی مستقل اور غیرمتزلزل حمایت پر متحدہ عرب امارات کا شکریہ ادا کیاتھا جب کہ انہوں نے کہا تھا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ دونوں قائدین نے باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا اور رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں 2 ماہ کی توسیع کر دی ہے۔متحدہ عرب امارات نے اصولی طور پر پاکستان کے2 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں دو ماہ کی مختصر مدت کے لیے توسیع (رول اوور) پر اتفاق کر لیا ہے ,پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین تیسرے جائزہ مذاکرات سے امارات کے اس اقدام کو اہم قراردیا جا رہا ہے, یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک ماہ کی سابقہ توسیع ختم ہونے میں محض چار دن باقی تھے۔ متحدہ عرب امارات کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد اسلام آباد دوبارہ طویل مدتی رول اوور کے لیے رابطہ کرے گا۔ اعلیٰ عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ یو اے ای نے 17 اپریل 2026 تک دو ماہ کے لیے اس رقم کو رول اوور کرنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ یقین دہانی اس وقت کرائی گئی جب نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے رواں ہفتے اعلیٰ اماراتی حکام سے رابطہ کیا۔ متحدہ عرب امارات نے یہ مختصر مدتی توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی ہے، متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری کسی بھی وقت موصول ہونے کی توقع ہے یاد رہے کہ جنوری میں بھی یو اے ای نے رقم کی میعاد ختم ہونے پر ایک ماہ کی توسیع دی تھی جبکہ ایک ارب کی تیسری قسط جولائی 2026 میں واجب الادا ہوگی۔ ترجمان دفترخارجہ طاہرحسین اندرابی نے بتایا ہے کہ اسحاق ڈار اس معاملے کو خود دیکھ رہے ہیں اور وہ اماراتی حکام کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ رول اوور کی مدت کا تعین کرنا قرض دینے والے کا اختیار ہوتا ہے، نائب وزیر اعظم کی کوششوں سے رول اوور یقینی ہو چکا ہے۔ انہوں نے وزیر خزانہ کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان کے بیرونی مالیاتی پروفائل میں کوئی خلا نہیں ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات بھی درست سمت میں جا رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق قرض کی اصل میچورٹی جنوری میں تھی لیکن فروری تک عارضی توسیع دی گئی ہے، جبکہ پاکستان نے ایک سال کے لیے قرض رول اوور کی درخواست دی تھی۔ یو اے ای کے اس فیصلے کے مطابق پاکستان کے 2 ارب ڈالر قرض کی میچورٹی فروری تک موخر کی گئی ہے تاکہ ملک کی مالی صورتحال مستحکم رہے اور بیرونی قرض کی ادائیگی میں وقتی آسانی ہو۔ حکام وزارت خزانہ نے بتایا کہ یو اے ای کے 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں بطور سیف ڈپازٹ موجود ہیں، جنہیں مستقبل میں مزید مالی اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مزید بتایا کہ پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کو قرض پروگرام کے لیے رول اوور کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، جبکہ یو اے ای کی جانب سے قرض پر شرح سود 6.5 فیصد سے زائد ہونے کا امکان ہے اس سے قبل سعودی عرب نے گزشتہ ماہ 3 ارب ڈالر کی مدت ایک سال کے لیے بڑھائی تھی، اور رواں مالی سال کے دوران مجموعی طور پر 12 ارب ڈالر قرض رول اوور کرنے کا ہدف طے کیا گیا ہے وزیراعظم آفس اور وزارت خزانہ کے حکام یو اے ای کے نمائندوں کے ساتھ مسلسل بات چیت میں ہیں تاکہ مالی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے چین، سعودی عرب اور یو اے ای سے سیف ڈپازٹس رول اوور کرنے کا بھی منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایک ارب ڈالر کی تیسری قسط جولائی میں میچور ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے رول اوور متوقع ہے تاکہ بیرونی قرض کی ادائیگی اور ملکی مالی استحکام برقرار رہے, بتایا گیا کہ اماراتی حکام نے مختصر مدت کے لیے اس ڈپازٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، یہ توسیع 6.5 فیصد شرح سود پر دی گئی ہے جب کہ متعلقہ حکام کی جانب سے باقاعدہ منظوری جلد متوقع ہے۔ یاد رکھیں کہ وزیراعظم نے 12اور 13 جنوری کو اماراتی صدر کی دعوت پر 2 روزہ متحدہ عرب امارات کا سرکاری دورہ کیاتھا،عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم کا یہ تیسرا دورہ تھا، وزیراعظم کو صدارتی محل آمد پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیاتھا, وزیراعظم شہباز شریف نے دورے کے دوران اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان سے دوطرفہ ملاقات کی تھی , جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لئے تبادلہ خیال کیاتھا،ملاقات میں سیاسی، دفاعی، اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون بڑھانے، مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے اور انسانی وسائل کے شعبے میں تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے مخصوص اقدام پربات چیت کی تھی,وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کے لئے متحدہ عرب امارات کی مدد پراماراتی صدرکا شکریہ ادا کیاتھا،دونوں رہنماؤں نے اسٹریٹجک شراکت داری اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے مشاورت اور تعاون کو تیز کرنے پر اتفاق کیاتھا ملاقات میں انفارمیشن اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں اور ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیاگیاتھا پاکستان اور متحدہ عرب امارات نے اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کیا، دونوں فریقوں نے انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے، معلومات کے تبادلے اور سفارتی اکیڈمیوں کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیےتھے جبکہ وزیراعظم نے اماراتی صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی تھی۔یاد رہے کہ موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے بدل کر مستحکم کردیا جس کے بعد اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ آیا یہ درجہ بندی میں بہتری ہے یا تنزلی۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ آؤٹ لک جاری کرتی ہے جو کہ زمینی حقائق کے جائزے کے ساتھ ساتھ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے اثرات پر مبنی ایک پیشن گوئی ہوتی ہے۔ یہ پیشن گوئی درمیانی مدت میں کریڈٹ ریٹنگ کی ممکنہ سمت کا تعین کرتی ہے۔ یہ آؤٹ لک چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں مثبت ، منفی، مستحکم اور ترقی پذیر یا بدلتا ہوا شامل ہیں۔مستحکم کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہے جبکہ منفی، مثبت یا ترقی پذیراس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان نسبتاً زیادہ ہے۔
اس وضاحت کی موجودگی میں یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت کے حامی آؤٹ لک میں اس تبدیلی کو ایک بہتری (اپ گریڈ) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ متعدد تجزیہ کار اسے ایک تنزلی (ڈاؤن گریڈ) قرار دیتے ہیں کیونکہ اب ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے، وہ تبدیلی جس کے بارے میں امید تو یہ تھی کہ وہ اوپر کی جانب (بہتری کی طرف) ہوگی لیکن اب وہ نیچے کی جانب بھی جاسکتی ہے۔موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مقامی بینکوں کے سرکاری سیکیورٹیز (بانڈز وغیرہ) میں سرمائے کے ارتکاز کو بہت زیادہ قرار دیا ہے، جو کہ بینکنگ اثاثوں کا تقریباً نصف اور ان کی ایکویٹی کا تقریبًا 9.4 گنا ہے۔ یہ صورتحال بینکنگ سسٹم کو سرکاری کریڈٹ (قرضوں کی واپسی کی صلاحیت) کے حوالے سے انتہائی حساس بناتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 26 جنوری 2026 کے فیصلے میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا (جو کہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں دوگنا ہے)، حالانکہ دسمبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کی شرح) سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد تھی۔ اس پالیسی ریٹ کو ایک سکڑتی ہوئی مانیٹری پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ملکی شرحِ نمو پر واضح منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلا شبہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ضروری مشاورت کے بعد لیا گیا جو کہ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت ایک لازمی شرط ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور بالخصوص برآمد کنندگان کے اس پرزور مطالبے کے جواب میں جس میں کہا گیا تھا کہ سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیاں فیکٹریاں بند ہونے کا سبب بن رہی ہیں اور زیادہ تر یونٹس اپنی استعداد سے بہت کم پر کام کررہے ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد اور یومیہ کم از کم ضرورت کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک توسیعی پالیسی ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی گئی کہ اس سے حکومتی قرضوں کے بجائے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سی آر آر میں ان تبدیلیوں سے صنعتی منظرنامے میں بہتری آئے گی یا نہیں، تاہم حکام اور ایل ایس ایم سیکٹر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد حال ہی میں حکومت نے بجٹ سے ہٹ کر کئی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔مئی 2025 کے پہلے جائزے میں آئی ایم ایف کے دستاویزات میں کہا گیا کہ کم سرمایہ والے مالیاتی اداروں کے مسائل حل کرنے کے عمل کو مکمل کرنا ناگزیر ہے جس کیلئے اسٹیٹ بینک اپنے جدید ترین ریزولوشن فریم ورک کے تحت جہاں ضرورت ہو اپنے اختیارات کا استعمال کرے۔
سیف گارڈز اسیسمنٹ کی بقیہ سفارشات بشمول قانون سازی میں نیم مالیاتی سرگرمیوں پر پابندی کی وضاحت اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ انتظامی عہدوں پر تعیناتیاں بھی تیزی سے مکمل کی جانی چاہئیں جبکہ 2027 کے بعد کے ریگولیٹری اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں متوقع تبدیلیوں کے بارے میں وضاحت ایک ہموار منتقلی کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ دسمبر 2025 کی دوسری جائزہ دستاویزات میں اسٹیٹ بینک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مانیٹری پالیسی فریم ورک کی بنیادوں، بشمول مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ردِ عمل کے طریقہ کار اور اپنی ابلاغی و تجزیاتی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرے۔ نیز انتہائی غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر طویل مدتی توقعات کو مستحکم کرنے کے لیے پالیسی موقف کا واضح ترین تخمینہ فراہم کرے۔ یہ مشاہدات بلاشبہ ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ آئی ایم ایف ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مناسب حد تک بلند رکھنے کے حوالے سے کافی مطمئن ہے (کیونکہ یہ مثبت شرحِ سود کی نشاندہی کرتا ہے)، تاہم حکومت کا قرضوں پر انحصار بدستور شدید تشویش کا باعث ہے۔ اس تشویش میں بینکوں کے پاور سیکٹر کو دیے گئے حد سے زیادہ قرضوں نے یقینی طور پر مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بینکوں کو مجبور کیا گیا تھا کہ وہ توانائی شعبے کے گردشی قرضے کا ایک بڑا حصہ ختم کرنے کے لیے 1.25 ٹریلین (1250 ارب) روپے بطور قرض جاری کریں جن کے سود کی ادائیگیوں کا بوجھ صارفین پر منتقل کیا جانا ہے جبکہ اس قرض کی اصل وجہ یعنی پاور سیکٹر کی انتہائی ناقص کارکردگی کو اب تک مؤثر طریقے سے حل نہیں کیا گیا۔
آخر میں پیداواری اکائیاں (صنعتیں) اور عام عوام اپنی رائے قائم کرنے کی فطری صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب ان کا اپنا اندازہ متعلقہ فریقین کے پیش کردہ اعدادوشمار یا دعووں سے یکسر مختلف ہو۔لہٰذا اعتماد کے فقدان کو کم سے کم کرنا ضروری ہے اور اس بات کا خیال رکھا جانا چاہیے کہ مثبت عمومی تاثر پیدا کیا جائے جو جمود کا شکار معیشت کو دوبارہ حرکت میں لا سکے اور یہ تاثر حقیقت پسندی پر مضبوط بنیاد رکھتا ہو۔یاد رہے کہ موڈیز نے پاکستان کے بینکنگ سیکٹر کے آؤٹ لک کو مثبت سے بدل کر مستحکم کردیا جس کے بعد اس بحث نے زور پکڑ لیا ہے کہ آیا یہ درجہ بندی میں بہتری ہے یا تنزلی۔ ریٹنگ ایجنسی کے مطابق وہ آؤٹ لک جاری کرتی ہے جو کہ زمینی حقائق کے جائزے کے ساتھ ساتھ حالیہ پالیسی تبدیلیوں کے اثرات پر مبنی ایک پیشن گوئی ہوتی ہے۔ یہ پیشن گوئی درمیانی مدت میں کریڈٹ ریٹنگ کی ممکنہ سمت کا تعین کرتی ہے۔ یہ آؤٹ لک چار زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں مثبت ، منفی، مستحکم اور ترقی پذیر یا بدلتا ہوا شامل ہیں۔مستحکم کا مطلب یہ ہے کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہے جبکہ منفی، مثبت یا ترقی پذیراس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درمیانی مدت میں ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان نسبتاً زیادہ ہے۔ اس وضاحت کی موجودگی میں یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت کے حامی آؤٹ لک میں اس تبدیلی کو ایک بہتری (اپ گریڈ) کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ متعدد تجزیہ کار اسے ایک تنزلی (ڈاؤن گریڈ) قرار دیتے ہیں کیونکہ اب ریٹنگ میں تبدیلی کا امکان بہت کم رہ گیا ہے، وہ تبدیلی جس کے بارے میں امید تو یہ تھی کہ وہ اوپر کی جانب (بہتری کی طرف) ہوگی لیکن اب وہ نیچے کی جانب بھی جاسکتی ہے۔ موڈیز نے اپنی رپورٹ میں مقامی بینکوں کے سرکاری سیکیورٹیز (بانڈز وغیرہ) میں سرمائے کے ارتکاز کو بہت زیادہ قرار دیا ہے، جو کہ بینکنگ اثاثوں کا تقریباً نصف اور ان کی ایکویٹی کا تقریبًا 9.4 گنا ہے۔ یہ صورتحال بینکنگ سسٹم کو سرکاری کریڈٹ (قرضوں کی واپسی کی صلاحیت) کے حوالے سے انتہائی حساس بناتی ہے۔ یہاں یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 26 جنوری 2026 کے فیصلے میں پالیسی ریٹ کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھا (جو کہ علاقائی حریفوں کے مقابلے میں دوگنا ہے)، حالانکہ دسمبر 2024 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (مہنگائی کی شرح) سالانہ بنیادوں پر 5.6 فیصد تھی۔ اس پالیسی ریٹ کو ایک سکڑتی ہوئی مانیٹری پالیسی کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ملکی شرحِ نمو پر واضح منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بلا شبہ یہ فیصلہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ ضروری مشاورت کے بعد لیا گیا جو کہ جاری 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت ایک لازمی شرط ہے۔
لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اور بالخصوص برآمد کنندگان کے اس پرزور مطالبے کے جواب میں جس میں کہا گیا تھا کہ سکڑتی ہوئی معاشی پالیسیاں فیکٹریاں بند ہونے کا سبب بن رہی ہیں اور زیادہ تر یونٹس اپنی استعداد سے بہت کم پر کام کررہے ہیں، مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اوسط کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) کو 6 سے کم کر کے 5 فیصد اور یومیہ کم از کم ضرورت کو 4 سے کم کرکے 3 فیصد کرنے کا اعلان کیا۔ یہ ایک توسیعی پالیسی ہے جس کے بارے میں امید ظاہر کی گئی کہ اس سے حکومتی قرضوں کے بجائے نجی شعبے کے قرضوں میں اضافہ ہوگا۔ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا سی آر آر میں ان تبدیلیوں سے صنعتی منظرنامے میں بہتری آئے گی یا نہیں، تاہم حکام اور ایل ایس ایم سیکٹر کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے جس کے بعد حال ہی میں حکومت نے بجٹ سے ہٹ کر کئی مراعات دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ پاکستان کے سرکاری بانڈز میں گزشتہ 19 ماہ یعنی جون 2024 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ غیر ملکی سرمایہ کاری دیکھی گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر مستحکم ہونے کے ساتھ ہی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جنوری میں خالص سرمایہ کاری 176 ملین ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ ایک سال قبل اسی عرصے میں 50 ملین ڈالر نکالے گئے تھے۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس سرمایہ کاری کا 85 فیصد حصہ ایک سال یا اس سے کم مدت کے شارٹ ٹرم بانڈز میں لگایا گیا ہے یہ تبدیلی اس وقت آئی جب پاکستانی روپیہ جولائی کی اپنی کم ترین سطح سے بحال ہوا اور اب وہ ڈالر کے مقابلے میں مسلسل آٹھویں ماہ اپنی قدر میں اضافے کی جانب گامزن ہے۔ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ کے سی ای او محمد سہیل نے سرمایہ کاری میں اس اضافے کی وجہ کرنسی کے استحکام کو قرار دیا۔دریں اثنا فچ سلوشنز کے ذیلی ادارے بی ایم آئی نے توقع ظاہر کی ہے کہ پالیسی ساز 2026 میں روپے کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں 280 کے آس پاس برقرار رکھیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کرنسی کے استحکام، بہتر ہوتے ہوئے بیرونی توازن اور پالیسی کے تسلسل کو ان عوامل میں شامل کیا جو اس سرمایہ کاری کی وجہ بنے۔انٹر بینک مارکیٹ میں روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 279.62 پر بند ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 6 فروری 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 21 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 16.18 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ملک کے کل مائع زرمبادلہ ذخائر 6 فروری تک 21.38 ارب ڈالر تھے۔اعداد و شمار کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے پاس موجود خالص زرمبادلہ ذخائر 5.20 ارب ڈالر تھے۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے ساتھ ملا کر کل مائع زرمبادلہ ذخائر 21.38 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔یاد رکھیں کہ وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ عالمی اقتصادی نظم و نسق میں ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر معیشتوں کو زیادہ مضبوط اور نمائندہ کردار ملنا چاہیے، اور عالمی نمو میں ان کی بڑھتی ہوئی شراکت کو فیصلہ سازی کے فورمز میں زیادہ اثر و رسوخ کی صورت میں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ایس پی اے کو العلا کانفرنس برائے ابھرتی ہوئی مارکیٹ اکانومیز کے دوسرے ایڈیشن کے موقع پر دیے گئے انٹرویو میں وزیرِ خزانہ نے بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، تجارتی تقسیم اور تیز رفتار تکنیکی تبدیلی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کے تناظر میں مربوط پالیسی ردعمل کی ضرورت پر زور دیا حکومت برآمدات کی معاونت کے لیے روایتی سوچ سے ہٹ کر اقدامات کا مظاہرہ کررہی ہے۔ ماضی میں بڑے برآمد کنندگان خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے میں کو وسیع پیمانے پر سبسڈیز دی جاتی تھیں جن میں کم قیمت توانائی (کیپٹیو اور گرڈ) اور ورکنگ کیپٹل اور طویل مدتی سرمایہ کاری دونوں کے لیے رعایتی مالیات شامل تھی جبکہ ٹیکس بھی نہ ہونے کے برابر تھا۔ پچھلے چند سالوں کے دوران یہ سبسڈیز ایک ایک کرکے واپس لے لی گئیں اور اب اشیاء کی برآمدات پر عام انکم ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ یہ تبدیلی ایسے وقت میں آئی جب پاکستان میں توانائی کی قیمتیں عالمی نرخوں میں اضافے اور مقامی نظام کی مسلسل نااہلیوں کے باعث غیر معمولی حد تک بڑھ گئیں، اس کے ساتھ سپر ٹیکس سمیت مختلف ٹیکسوں کی شرح میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔ شرح سود بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اس پر کوئی سبسیڈی سپورٹ بھی میسر نہ رہی، حکومت کی اب ایک واضع اور اعلانیہ پالیسی برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔ تاہم حال ہی میں اس کی حمایت کے لیے کوئی معنی خیز اقدامات نہیں کیے گئے اور نتائج نے زمینی حقائق کی عکاسی کی ہے۔ اس دوران ٹیکسٹائل کے بڑے برآمد کنندگان ان مراعات کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے لابنگ جاری رکھے ہوئے ہیں جو وہ کھوچکے ہیں لیکن حکومت کو مالیاتی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور اسے آئی ایم ایف کی شرائط کی تعمیل بھی کرنی ہے۔ ماضی میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے سبسڈائزڈ فنانسنگ (رعایتی قرضے) فراہم کی جاتی تھی جس کا عملی مطلب نئی کرنسی کی تخلیق تھا اور اس سے اسٹیٹ بینک کی بیلنس شیٹ پر خطرات بڑھ جاتے تھے۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کے بعد یہ سہولت ختم کردی گئی، بعد ازاں حکومت نے برآمد کنندگان کے لیے ورکنگ کیپٹل فنانسنگ میں 3 فیصد رعایت کی پیشکش کی جس کے لیے فنڈز مالیاتی سبسیڈی کے ذریعے فراہم کیے گئے تاہم برآمد کنندگان نے اس سے کہیں زیادہ کا مطالبہ کیا۔ اب اسٹیٹ بینک نے کسی سبسڈی کے بغیر فنانسنگ کی شرح میں مزید 3 فیصد کمی لانے کا ایک انوکھا اور غیر روایتی خیال پیش کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسٹیٹ بینک، بینکوں، برآمد کنندگان اور سرکاری حکام کے درمیان ایک خفیہ یا خاموش مفاہمت ہوچکی ہے کہ سبسیڈی دیے بغیر یا آئی ایم ایف کو ناراض کیے بغیر رعایتی فنانسنگ کو کیسے بڑھایا جائے۔ اس طریقہ کار کی تفصیل ہے: سب سے پہلے اپنی مانیٹری پالیسی کے فیصلے میں اسٹیٹ بینک نے کیش ریزرو ریکوائرمنٹ (سی آر آر) میں 100 بیسس پوائنٹس (1 فیصد) کی کمی کی۔ یہ شرط 2021 میں مارکیٹ سے اضافی رقم (لیکوڈٹی) نکالنے کے لیے بڑھائی گئی تھی، اب چونکہ اسٹیٹ بینک خود مسلسل نظام میں رقم فراہم کر رہا ہے، اس لیے سی آر آر کو بلند سطح پر رکھنے کا کوئی خاص جواز باقی نہیں رہا۔ اس کمی سے تقریباً 300 ارب روپے کی لیکویڈیٹی آزاد ہونے کی توقع ہے جس سے بینکوں کو 30 سے 35 ارب روپے کا اضافی منافع کمانے کا موقع ملے گا۔ اس کے بعد حکومت نے ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) کی شرح میں 3 فیصد کمی کا اعلان کردیا اور اس اضافی لاگت کا بوجھ بینک خود برداشت کریں گے۔ تقریباً 10 کھرب (1 ٹریلین) روپے کے موجودہ فنانسنگ اسٹاک پر اس کا اثر تقریباً 30 ارب روپے بنتا ہے جو کہ تقریباً اسی فائدے کے برابر ہے جو بینکوں کو سی آر آر میں کٹوتی سے حاصل ہونا تھا۔ مزید برآں حکومت نے صنعتی ٹیرف اور وہیلنگ چارجزمیں شامل کراس سبسڈیز کے خاتمے کا اعلان کیا جس سے حاصل ہونے والے فائدے کا تخمینہ تقریباً 4 روپے فی یونٹ لگایا گیا ، تاہم ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں بتایا کہ وہ اس کمی کو کیسے پورا کرے گی حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدام ’فسکلی نیوٹرل ہو گا یعنی اس سے قومی خزانے پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ بجلی ٹیرف کی وسیع تر بحث میں پڑے بغیر ایکسپورٹ فنانس اسکیم (ای ایف ایس) میں کمی بظاہر مالی طور پر غیر جانبدار نظر آتی ہے، تاہم یہ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے کیونکہ یہ قرضوں کی تقسیم اور بینکوں کے قرض دینے کے رویوں کو متاثر کرتی ہے سوال جس کا ایک معقول جواب درکار ہے، وہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک یہ کیسے یقینی بنائے گا کہ اس اسکیم میں خورد برد یا غلط استعمال نہ ہو؟ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا جب ایف بی آر کی جانب سے برآمد کنندگان کے لیے دی گئی ایک اور سہولتی اسکیم کا غلط استعمال کیا گیا تھا، جس کے بعد حکومت اسے بند کرنے پر مجبور ہوگئی تھی۔ مزید یہ کہ حکومت عملی طور پر برآمد کنندگان کو سستا ورکنگ کیپٹل فراہم کر رہی ہے جس کا بنیادی فائدہ ان کے منافع میں اضافے کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے بجائے ایک زیادہ مؤثر طریقہ کار یہ ہوسکتا تھا کہ طویل مدتی رعایتی فنانسنگ فراہم کی جاتی تاکہ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں توسیع ہوسکتی۔ بہر حال یہ اشیاء برآمد کرنے والے شعبے کی حمایت میں ایک قدم ضرور ہے جو اس وقت شدید مشکلات کا سامنا کررہا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ تجربہ کتنا کامیاب رہتا ہے

