اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان فوج غزہ میں امن کیلئے تیار؟
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت اور مؤثر کردار پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے,کیا پاکستان بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب تاحال حکومت پاکستان کی جانب سے نہیں دیا گیا ہے, پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی امن فورس اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے تحت کام کرے، مکمل طور پر جنگ بندی کا احترام کرے اور یہ فورس علاقے میں اسرائیلی افواج کے انخلا کے بعد ہی کام شروع کرے جبکہ اس فورس کی اولین ترجیح غزہ کے عوام کا تحفظ ہے۔غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد پر جہاں روس اور چین نے تنقید کی ہے وہیں پاکستان نے سلامتی کونسل کی قرارداد کی حمایت کی تھی اس منصوبے سے غزہ میں امن کی اُمید پیدا ہوئی ہے, غزہ میں امن کے معاملے پر پاکستان کا موقف، فلسطین اور عرب ممالک کے مطابق ہے جس کے تحت جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ میں عوام کو نقل مکانی کے بغیر تعمیرِ نو اور آزاد فلسطینی ریاست کی جانب آگے بڑھنا ہےاقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل سے خطاب میں کہاتھا کہ قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کا بنیادی مقصد ’غزہ میں فوری طور پر خونریزی روکنا، جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور علاقے سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کو یقینی بنانا ہے۔سلامتی کونسل میں منظور کردہ قرارداد میں غزہ میں مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل ’بین الاقوامی استحکام فورس‘ کا قیام بھی شامل ہے سلامتی کونس میں پیش کردہ اس قرارداد کے حق میں برطانیہ اور فرانس سمیت 13 ممالک نے ووٹ دیا تھاجبکہ روس اور چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیاتھا۔پاکستان نے غزہ کے معاملے پر سلامتی کونسل کی قرارداد حق میں ووٹ دیا تھا اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتھونی گرتیس نے کہاتھا کہ یہ قرارداد جنگ بندی کو برقرار رکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔غزہ میں قیامِ امن کے لیے دیگر مسودوں کے مقابلے میں اقوام متحدہ کی قرارداد میں فلسطین کی ریاستی حیثیت تسلیم کرنے اور حقِ خود ارادیت کے حوالے سے ایک مصدقہ حوالہ ہے۔ کئی اہم عرب ممالک نے قرارداد کے مسودے پر فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کو متن میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اسرائیل فلسطینی ریاست کے قیام کی سختی سے مخالفت کرتا ہے جو فلسطین کی ریاستی حیثیت کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے۔اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس اسرائیل، مصر اور نئی تربیت یافتہ مگر تصدیق شدہ فسلطینی پولیس فورس سرحدی علاقوں کی سکیورٹی اور حماس سمیت ریاست مخالف گروہوں کو غیر مسلح کرنے میں مدد کرے گی یاد رہے کہ اب تک غزہ میں پولیسں حماس کے زیر انتظام کام کرتی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں امریکہ کے سفیر نے سکیورٹی کونسل کو بتایا تھاکہ ’بین الاقوامی فورس کے اہداف یہ ہوں گے کہ وہ علاقے کو محفوظ بنائیں، غزہ میں غیر عسکری کارروائیوں کی حمایت کریں، دہشت گردوں کا نیٹ ورک ختم کریں، اسلحہ ختم کریں اور فلسطینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائے گی سکیورٹی کونسل نے اپنی قرارداد میں غزہ میں ’بورڈ آف پیس‘ (امن) کے نام سے عبوری حکومت کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کا کام فلسطینی ٹیکنوکریٹک پر مشتمل غیر سیاسی کمیٹی کی گورننس کی نگرانی کرنا اور غزہ کی تعمیر نو اور انسانی امداد کی فراہمی پر نظر رکھنا ہے۔ غزہ میں دو سال تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے معالی معاونت، عالمی بینک کی حمایت سے بننے والے ٹرسٹ فنڈ سے کی جائے گی۔ قرارداد میں کہا گیا تھا کہ بین الاقوامی استحکام فورس اور بورڈ آف پیس، فلسطینی کمیٹی اور پولیس فورس کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ حماس نے ٹیلی گرام پر جاری پیغام میں کہا تھاکہ ’غزہ میں بین الاقوامی سرپرستی کا جو نظام مسلط کیا جا رہا ہے اسے ہمارے عوام اور مختلف گروہوں نے مسترد کیا ہے غزہ میں بین الاقوامی فورس کو دیے گئے اہداف اور کردار، جیسے مزاحمت کو غیر مسلح کرنا وغیرہ، یہ فورس کی غیرجانبداری کو ختم کر کے علاقے پر اپنا تسلط جمانے کی اس لڑائی میں فریق بناتی ہےپاکستانی مندوب نے تھا کہ مذاکرات میں پاکستان نے نہ صرف عرب ممالک کی تجاویز کی حمایت کی بلکہ اپنی بھی کچھ تجاویز متعارف کروائیں جن میں کچھ کو مان لیا گیا جیسے جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور کونسل کو رپورٹ کرنا وغیرہ لیکن کچھ تجاویز کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ جن تجاویز کو شامل نہیں کیا گیا اس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے واضح طریقہ کار، فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار اور بین الاقوامی استحکام فورس اور بورڈ آف پیس کے بارے میں مکمل وضاحت شامل ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ فلسطین کے عوام کا خقِ خود ارادیت غیر مشروط ہونا چاہیے اور بورڈ آف پیس کی حیثیت عارضی ہو نہ کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کا متبادل بن جائے۔غزہ میں فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے زیر انتظام سیاسی عمل کے ذریعے ہی مختلف گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا کام شروع کیا جائے پاکستان کا ماننا ہے کہ کسی بھی علاقے کا الحاق یا کسی بھی علاقے سے جبری نقل مکانی نہیں ہونی چاہیے اور ویسٹ بینک یا غربِ اردن اور غزہ کا علاقے آزاد فلسطینی ریاست کا حصہ ہوں۔ پاکستان نے واضح کیاہے کہ پاکستان 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد فلسطین کے لیے اپنی دیرینہ حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام دو ریاستی حل کے تحت آزادی فلسطینی ریاست کے قیام سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے امن معاہدے کے تحت غزہ اور مغربی کنارے میں قیامِ امن کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس تشکیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے اور گذشتہ دنوں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ’رُکن ممالک نے بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا عہد کیا ہے
تاحال اسلامی ممالک کے اتحاد میں شامل واحد ملک انڈونیشیا ہے جس نے اس فورس میں اپنے دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے 24 دسمبر 2025 کو امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے ایک سوال کے جواب میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے استحکام فورس کا حصہ بننے کی آفر کی ہے۔ مارکو روبیو نے اس آفر پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فورس میں پاکستان کا کردار اہم ہو گا۔ تاہم امریکی سیکریٹری خارجہ کے اس بیان پر پاکستان کی جانب سے تصدیق یا تردید نہیں کی گئی تھی۔ متعدد پاکستانی سیاسی رہنماؤں اور سابق سفارتکاروں کہ اس فورس میں شمولیت کا فیصلہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے۔پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کہہ چکے ہیں کہ اُن کے خیال میں غزہ میں تعینات کیے جانے والے دستوں میں پاکستانی افواج کی شمولیت میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے، تاہم، ان کا کہنا تھا، کہ پاکستان کی شمولیت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ غزہ میں کن قواعد و ضوابط یا ٹرمز آف ریفرنس کے تحت استحکام فورس کو تعینات کیا جائے گا۔وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کا حصہ رہا ہے اور اس حوالے سے وسیع تجربہ رکھتا ہے۔پاکستانی افواج کو اُس وقت تک اس فورس کا حصہ نہیں بننا چاہیے جب تک اس کے اہداف اور مقاصد بہت واضح طور سامنے نہ آ جائیں اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل اس فورس کی باقاعدہ ضمانت نہ دے۔
غزہ میں فورس کی تعیناتی بھی اس بات سے مشروط ہونی چاہیے کہ اب اسرائیل مزید کوئی حملہ نہیں کرے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دنیا بھر میں مسائل کے خاتمے اور تنازعات روکنے میں اقوام متحدہ فعال کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انھوں نے کئی بار ’بورڈ آف پیس‘ کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک ممکنہ فورم کے طور پھر پیش کیا ہےسابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ ایک متوازی فورم بنانا چاہتے ہیں۔بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے جن ممالک کو دعوت دی گئی تھی اُن میں سے نصف سے زیادہ ممالک ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ انھیں بورڈ کے کردار، قانونی حیثیت اور اس کی افادیت پر تحفظات ہیں۔ بورڈ میں شامل نہ ہونے والے ممالک کو اعتراض ہے کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے طرز پر ایک متوازی ادارہ قائم کر رہے ہیں دوسری جانب یہ تحفظات درست نہیں ہیں کیونکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت ہی بورڈ آف پیس کا قیام ممکن ہوا ہے۔اقوام متحدہ کے موجودگی میں بھی مسائل کے حل کے لیے کئی بین الاقوامی پلیٹ فارمز موجود ہیں اقوام متحدہ کی حمایت کے تحت یہ ایک مشترکہ پلیٹ فورم ہے جس کا اولین مقصد غزہ میں پائیدار امن کا قیام ہے اور پاکستان کی اس میں شمولیت کی وجہ بھی اس فورم کے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد ہےتاحال یہ واضح نہیں کہ واشنگٹن کو ہونے والے امن بورڈ کے اجلاس میں کتنے رُکن ممالک شریک ہیں تاہم اب تک پاکستان اور اسرائیل سمیت تقریباً دو درجن ممالک نے اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے پاکستان کے علاوہ مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر جیسے مسلم ممالک بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہیں یاد رہے کہ امریکہ کے بڑے یورپی اتحادی، بشمول برطانیہ اور فرانس، اس بورڈ میں شامل نہیں ہوئے ہیں جبکہ کئی یورپی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ اقدام (غزہ امن بورڈ کی تشکیل) اقوامِ متحدہ کو پسِ پشت ڈال سکتا ہے۔
جبکہ بہت سے ممالک ایسے بھی ہیں جنھوں نے ابھی تک امریکی صدر کی جانب سے بورڈ میں شامل ہونے کی دعوت سے متعلق کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ ’بورڈ آف پیس‘ کے پہلے باضابطہ اجلاس میں جن نکات پر بات چیت متوقع ہے اُن میں غزہ میں پائیدار جنگ بندی، بورڈ آف پیس کے لیے فنڈنگ کا انتظام اور ایک ایسے عالمی فورم کی تشکیل پر غور شامل ہے جو قیامِ امن کے لیے کام کر سکے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں غزہ میں امن کے لیے بین الاقوامی استحکام فورس کی تشکیل پر بھی غور کیا جا سکتا ہے تاکہ غزہ کو محفوظ خطہ بنایا جا سکے۔پاکستان کی حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہونے کا مقصد غزہ میں مکمل جنگ بندی اور تعمیر نو اور امداد کی فراہمی ہے۔وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت اور مؤثر کردار پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت امریکی صدر کے غزہ منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے اس بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی اور تعمیر نو کے علاوہ بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا جا سکے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق غزہ امن بورڈ کے رُکن ممالک اس فورم (غزہ امن بورڈ) کے لیے مالی معاونت فراہم کریں گے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ’19 فروری کو واشنگٹن میں ہونے والے غزہ امن بورڈ کے اجلاس میں وہ اعلان کریں گے کہ رُکن ممالک نے غزہ میں انسانی امداد اور تعمیر نو کی کوششوں کے لیے پانچ ارب ڈالر سے زیادہ دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ بین الاقوامی استحکام فورس اور مقامی پولیس کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کا بھی عہد کیا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بورڈ میں شمولیت تو اختیار کر لی ہے تاہم بطور رُکن ملک وہ اس فورم کی مالی اعانت کرنے کے قابل نہیں ہے اور ایسے میں پاکستان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام میں اہم کردار ادا کرے۔ تاہم حکومتِ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی اعلان یا تبصرہ نہیں کیا گیا ہے تـجزیہ کاروں کے خیال میں غزہ میں قیامِ امن کے لیے کی گئی اس عالمی کوشش کا حصہ بننا بہتر اقدام ہے لیکن اُن کے خیال میں امریکہ کے زیرِ قیادت بننے والے اس بورڈ کے اغراض و مقاصد تاحال بہت واضح نہیں ہیں۔ تو ایسے میں کیا پاکستان نے اس کا حصہ بننے میں جلدی کی ہے؟ اور پاکستان کی شمولیت کیوں ضروری ہے؟غزہ میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے پاکستان قطر، سعودی عرب، ترکی، مصر اور انڈونیشیا کے ساتھ اُن آٹھ اسلامی ممالک کے اتحاد کا حصہ تھا جنھوں نے امریکہ کے صدر ٹرمپ سے غزہ امن معاہدے پر بات چیت شروع کی تھی اور جس کے بعد امریکی صدر نے گذشتہ سال اکتوبر میں غزہ میں قیام امن کا معاہدہ پیش کیا اور اسرائیل اور حماس کی آمادگی کے بعد غزہ میں طویل جنگ کا خاتمہ ممکن ہوا, پاکستان اُن آٹھ اسلامی ممالک میں شامل تھا جنھوں نے غزہ میں امن کے لیے آواز اُٹھائی اور جنگ بندی کروانے کی بھرپور کوشش کی پاکستان مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کا حامی ہے , صدر ٹرمپ کے متعارف کردہ امن معاہدے میں بھی دو ریاستی حل کی بات کی گئی ہے پاکستان چاہتا ہے کہ غزہ کے معاملے پر اسلامی اتحادی ممالک کے اشتراک سے مشترکہ کوششیں کی جائیں اور امریکہ بھی سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک سے گہرے تعلقات ہیں، اس لیے اُسے دیگر ممالک کے ساتھ بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی گئی ہے ایسے میں پاکستان کی عالمی فورمز میں موجودگی سے غزہ میں پائیدار اور مستحکم امن کے لیے راہ ہموار ہو سکتی ہے۔امریکہ اور اقوام متحدہ میں تعینات رہنے والی پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کے خیال میں پاکستان کو اتنی عجلت میں اس بورڈ میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ پہلے یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ اس بورڈ کے تحت کیا قدامات کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو شدید تنقید کا سامنا ہے اور یہ تنقید اس بورڈ کی تشکیل کے جواز سے لے کر اس میں موجود نمائندگی کے خدشات تک پر مبنی ہے۔ کئی امریکی اتحادیوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ اور اس کی 15 رکنی سلامتی کونسل، کو کمزور کر سکتا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس نے بورڈ آف پیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ تو فلسطینیوں کے سامنے جواب دہ ہے اور نہ اقوامِ متحدہ کے۔ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بورڈ واقعی امن قائم کر سکتا کیونکہ اس بورڈ میں فلسطینی نمائندوں کی براہ راست شمولیت کا نہ ہونا، اس کی سنجیدگی پر سوال اُٹھاتا ہے مسلم ممالک سمجھتے ہیں کہ فی الوقت غزہ میں امن قائم کرنے کا کوئی متبادل فورم موجود نہیں ہے۔ پاکستان نے بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ اپنے مفادات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیا ہے, پاکستان اور امریکہ کی قربت بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے حلیف اسلامی ممالک بھی اس اتحاد میں شامل ہیں ایسے میں پاکستان کے پاس کوئی اور چوائس نہیں تھی بورڈ آف پیس کے معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے، کیونکہ اس معاملے پر پاکستان عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور اُن کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف امریکی صدر ٹرمپ کی میزبانی میں ’بورڈ آف پیس‘ کے عالمی اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن پہنچ گئے ہیں, من بورڈ کے اس اجلاس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے بعد وہاں پائیدار امن اور استحکام لانا اور جنگ زدہ علاقے کی تعمیر نو پر بات کرنا ہے۔ صدر ٹرمپ اس اجلاس کو عالمی امن اور استحکام کی بحالی کے لیے اہم سفارتی اقدام طور پر پیش کر رہے ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ اجلاس میں کتنے ارکان شریک ہوں گے۔ اب تک تقریباً دو درجن ممالک نے ٹرمپ کی قیادت میں اس اقدام میں شامل ہونے پر اتفاق کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کرسکتا ، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے ایک سوال پر جواب دیا کہ”انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس ( آئی ایس ایف )کے بھی کچھ ایجنڈے کے نکات ہوں گے، کیا پاکستان نے اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے؟ مزید یہ کہ آج بورڈ آف پیس کے سربراہی اجلاس میں کیا غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی بات چیت متوقع ہے؟ اگر ایجنڈے میں ایسا کچھ ہے تو اس پر پاکستان کا موقف کیا ہے؟
ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم امریکی صدر کی دعوت پر امریکا میں موجود ہیں، وزیر اعظم بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے، بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ وزیراعظم دورہ امریکا کے دوران اعلی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے ،وزیراعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شریک دیگر سربراہان مملکت سے بھی ملیں گے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کرسکتا ، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، سابق اسرائیلی وزیر اعظم نیٹالی بینٹ کا بیان افواہوں پر مبنی ہے، ہم اس کے کسی بیان کا ردعمل نہیں دیتے، ہم اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں کی بھرپور سفارتی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس کے بارے میں ’’ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس کے مینڈیٹ کے حوالے سے فیصلے کا انتظار ہے اور اس وقت تک ہم اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہم نے اپنی سرخ لکیر کی واضح طور پر نشاندہی کی ہے۔ پاکستان امن قائم کرنے کے مینڈیٹ کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن ہم کسی غیر مسلح/غیر فوجی مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ بحث (بورڈ آف پیس) واشنگٹن میں ہو سکتی ہے۔اجلاس میں ایک یا دوسرے ملک کی شرکت براہِ راست تشویش کا باعث نہیں ۔ ہم نے ایک خاص توجہ کے ساتھ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے یعنی غزہ میں تعمیر نو، فلسطینی مسائل کا طویل مدتی تصفیہ۔ لہذا، ہم اس نقطہ نظر کی پیروی جاری رکھیں گے، اور کسی ایک یا دوسرے ملک کی شرکت سے پریشان نہیں ہوں گے۔ ہماری توقع ہے، جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس امید کی کرن ہے۔ لہذا، ہم امید کرتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اپنی توقعات پر پورا اترے گا اور فلسطین کے لوگوں، خاص طور پر غزہ میں رہنے والوں کی حالت زار کو کم کرنے میں مدد کرے گا امن، خوشحالی، ترقی اور مسئلہ فلسطین کے دیرپا حل کی طرف راستہ فراہم کرے گا۔میرے خیال میں مغربی کنارے میں پیش رفت کے بارے میں موضوع بورڈ آف پیس کے اجلاس میں بھی آسکتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف غزہ بلکہ وسیع تر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بورڈ آف پیس کا اجلاس اس اہم مربوط پیشرفت پر بات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس پر ہم نے بھی واضح طور پر کہا ہے بشمول آٹھ عرب اسلامی وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں ان پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف امریکا کے تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔ واشنگٹن میں شہبازشریف بورڈ آف پیس کےافتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈارسمیت دیگروزرا بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم سینئر امریکی قیادت کے ساتھ اجلاس میں شریک ہم منصبوں سے بھی بات کریں گے۔ یہ دورہ پاک امریکا دوطرفہ امور کے ساتھ عالمی مسائل پربات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔اس سے قبل ۔
غزہ میں قیامِ امن کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں اسرائیل اور حماس کے مابین مغویوں کا تبادلہ 10 اکتوبر سے شروع ہوا تھا۔
امریکی صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے اعلان کے بعد سے حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بند ہوئی تھی۔ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے میں 1200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 اسرائیلیوں کو مغوی بنایا گیا تھا جس کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اسرائیلی افواج کے حملوں میں کم سے کم 69483 فلسطینی شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

