اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان اپنی فوج غزہ میں امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں: ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر اندرابی
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کرسکتا ، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔ترجمان دفتر خارجہ پاکستان نے سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے ایک سوال پر جواب دیا کہ”انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس ( آئی ایس ایف )کے بھی کچھ ایجنڈے کے نکات ہوں گے، کیا پاکستان نے اس پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے؟ مزید یہ کہ آج بورڈ آف پیس کے سربراہی اجلاس میں کیا غزہ میں فوج بھیجنے کے حوالے سے کوئی بات چیت متوقع ہے؟ اگر ایجنڈے میں ایسا کچھ ہے تو اس پر پاکستان کا موقف کیا ہے؟
ترجمان دفتر خارجہ پاکستان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ وزیر اعظم امریکی صدر کی دعوت پر امریکا میں موجود ہیں، وزیر اعظم بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس میں شرکت کریں گے، بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ وزیراعظم دورہ امریکا کے دوران اعلی امریکی حکام کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے ،وزیراعظم بورڈ آف پیس اجلاس میں شریک دیگر سربراہان مملکت سے بھی ملیں گے۔ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس سے متعلق اپنی ریڈ لائن ظاہر کی ہے، اس کا مینڈیٹ سامنے آنے تک پاکستان فیصلہ نہیں کرسکتا ، پاکستان اپنی فوج امن کیلئے دے سکتا ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے نہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بورڈ آف پیس میں اسرائیل کے ہونے نہ ہونے سے پاکستان کو فرق نہیں پڑتا، سابق اسرائیلی وزیر اعظم نیٹالی بینٹ کا بیان افواہوں پر مبنی ہے، ہم اس کے کسی بیان کا ردعمل نہیں دیتے، ہم اپنے کشمیری بہنوں بھائیوں کی بھرپور سفارتی اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس کے بارے میں ’’ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس کے مینڈیٹ کے حوالے سے فیصلے کا انتظار ہے اور اس وقت تک ہم اس معاملے پر کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہم نے اپنی سرخ لکیر کی واضح طور پر نشاندہی کی ہے۔ پاکستان امن قائم کرنے کے مینڈیٹ کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن ہم کسی غیر مسلح/غیر فوجی مینڈیٹ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ یہ بحث (بورڈ آف پیس) واشنگٹن میں ہو سکتی ہے۔اجلاس میں ایک یا دوسرے ملک کی شرکت براہِ راست تشویش کا باعث نہیں ۔ ہم نے ایک خاص توجہ کے ساتھ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے یعنی غزہ میں تعمیر نو، فلسطینی مسائل کا طویل مدتی تصفیہ۔ لہذا، ہم اس نقطہ نظر کی پیروی جاری رکھیں گے، اور کسی ایک یا دوسرے ملک کی شرکت سے پریشان نہیں ہوں گے۔ ہماری توقع ہے، جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس امید کی کرن ہے۔ لہذا، ہم امید کرتے ہیں کہ بورڈ آف پیس اپنی توقعات پر پورا اترے گا اور فلسطین کے لوگوں، خاص طور پر غزہ میں رہنے والوں کی حالت زار کو کم کرنے میں مدد کرے گا امن، خوشحالی، ترقی اور مسئلہ فلسطین کے دیرپا حل کی طرف راستہ فراہم کرے گا۔میرے خیال میں مغربی کنارے میں پیش رفت کے بارے میں موضوع بورڈ آف پیس کے اجلاس میں بھی آسکتا ہے کہ اسرائیل نہ صرف غزہ بلکہ وسیع تر مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ بورڈ آف پیس کا اجلاس اس اہم مربوط پیشرفت پر بات کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے جس پر ہم نے بھی واضح طور پر کہا ہے بشمول آٹھ عرب اسلامی وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں ان پیش رفت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعظم شہبازشریف آج امریکا کے تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچ گئے۔ واشنگٹن میں شہبازشریف آج بورڈ آف پیس کےافتتاحی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم کے وفد میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈارسمیت دیگروزرا بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم سینئر امریکی قیادت کے ساتھ اجلاس میں شریک ہم منصبوں سے بھی بات کریں گے۔ یہ دورہ پاک امریکا دوطرفہ امور کے ساتھ عالمی مسائل پربات چیت کا موقع فراہم کرے گا۔

