اسلام آباد (اردو ٹائمز) جنگ کےخطرات میں ایرانی انقلاب کی سالگرہ اور امریکہ, ایران مذاکرات میں پاکستان کی شرکت
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایران کی1979 میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ جنگ کے شدید خطرات میں منائی جارہی ہے ,ایرانی انقلاب 11 فروری 1979 کی سالگرہ علاقائی تناؤ اور جنگی خطرات کے سائے میں اہم ہے، پاکستان نے انقلاب ایران کے بعد نئی ایرانی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کیا تھا توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں پیچیدہ تعلقات کے باوجود دونوں ممالک سرحد، تجارت اور سکیورٹی پر مذاکرات کے ذریعے تعاون بڑھاتے ہیں۔ موجودہ جنگی خطرات اور علاقائی صورتحال میں، دونوں ممالک بلوچستان میں سکیورٹی، سرحدی امور اور منشیات کی روک تھام جیسے مسائل پر مسلسل مذاکرات اور تعاون کرتے رہے ہیں
سینئر پاکستانی سفارتی تجزیہ کار اصغر علی مبارک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کا حصہ نہ ہوتے ہوئے بھی پاکستان وہ واحد ملک ہے جو مذاکرات کا حصہ بنا ہےاور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں ہونے والی پیش رفت میں پاکستان دلچسپی لے رہا ہے ایران اور امریکہ مذاکرات میں پاکستان کو شمولیت کی دعوت دینا یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ امریکہ کی علاقائی پالیسی میں تبدیلی آ رہی ہے پاکستان ان مذاکرات میں شمولیت کی دعوت دینا ’امریکہ کی نئی پالیسی کا حصہ ہے، جس کے تحت وہ اپنا علاقائی بوجھ دوسرے ممالک کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے ایران دنیا میں پہلا ملک تھا جس نے تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کو تسلیم کیا تھا جبکہ پاکستان پہلا ملک تھا جس نے 1979 کے انقلابِ ایران کے بعد وہاں کی حکومت کو تسلیم کیا تھا۔ آج سے ٹھیک 47 سال قبل 16 جنوری 1979 کوشاہ ایران محمد رضا پہلوی اپنی حکومت کے خلاف کئی ماہ سے جاری پُرتشدد مظاہروں کے بعد ایران چھوڑ گئے تھے۔ شاہ ایران اور اُن کی اہلیہ، ملکہ فرح، تہران سے روانہ ہو کر مصر کے شہر اسوان چلے گئے تھے۔ اس شاہی جوڑے نے اپنے تین کم عمر بچے ایک روز قبل ہی 15 جنوری امریکہ منتقل کر دیے تھے۔ شاہ ایران کی روانگی سے قبل سرکاری بیانات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ محمد رضا پہلوی ’چھٹیوں‘ اور علاج کی غرض سے ملک سے گئے ہیں تاہم بعدازاں یہ حقیقت سامنے آئی کہ انھیں جنوری 1979 کے آغاز میں ہی اُن کی جانب سے مقرر کیے گئے وزیرِاعظم نے ایران چھوڑنے کا کہہ دیا تھا۔جنوری 1979 کے وسط تک شاہ ایران کی مخالفت ایک متحدہ تحریک کی شکل اختیار کر چکی تھی جس کی قیادت ایران کے سب سے بڑے مذہبی رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کر رہے تھے۔اسی پس منظر میں جنوری 1979 کے آخری دو ہفتے انتہائی ڈرامہ خیز تھے جہاں صورتحال ہر گزرتے لمحے کے ساتھ تیزی سے بدل رہی تھی۔27 جنوری 1979 کو آیت اللہ روح اللہ خمینی، ایران میں انقلاب کے روح رواں نے امریکہ کو ’شیطان بزرگ‘ قرار دیاتھا،
یہ وہ دور تھا جب خمینی پیرس کے نواح میں جلاوطنی کاٹ رہے تھے۔
اس وقت ایران کا منظرنامہ شدید انتشار کا شکار تھا۔ مظاہرین اور فوج کے درمیان جھڑپیں جاری تھیں، دکانیں اور مارکیٹیں غیرمعینہ مدت کے لیے بند تھیں جبکہ عوامی خدمات کا سلسلہ معطل تھاایران کے آمر حکمران یا شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی بالآخر ’چھٹیوں‘ کے بہانے ملک چھوڑ گئے۔ اپنے پیچھے ایران میں وہ ایک غیر مقبول وزیرِاعظم اور انتشار کا شکار فوج چھوڑ گئے جنوری 1979 تک آیت اللہ خمینی کے اپنی عوامی تحریک کو بام عروج پر لے جا چکے تھےایران میں صورتحال اس وقت انتہائی کشیدگی کا شکار ہو گئی جب شاہ ایران کی جانب سے چند روز قبل تعینات کیے گئے وزیرِاعظم شاپور بختیار آیت اللہ خمینی کی جنوری کے اختتام پر ایران میں متوقع واپسی کو روکنے کی غرض سے ایئرپورٹ اور اس کے قرب و جوار میں فوج اور ٹینک تعینات کر دیے جبکہ ایئرپورٹ پر تمام فلائیٹ آپریشنز معطل کر دیے۔ایران خانہ جنگی کے دہانے پرتھا: شاہی فوج کے خصوصی دستے اپنے بادشاہ کے لیے جان دینے کو تیار تھے جبکہ امام خمینی کے پرجوش پیروکار مسلح جدوجہد اور ’شہادت‘ کے لیے تیار کھڑے تھے۔یکم فروری کی صبح آیت اللہ خمینی تہران ایئرپورٹ پر پہنچے، جہاں ہزاروں حامیوں نے اُن کا پرجوش استقبال کیا۔ ایران آمد کے چند ہی دنوں میں انھوں نے ایک متوازی وزیرِاعظم مقرر کر دیا۔ پاکستان ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور امریکہ/عرب ممالک کے ساتھ توازن برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے. پاکستان کی شمولیت خاموش بیک چینل سہولت کار سے براہ راست شریک تک پاکستان کے کردار کی بے مثال بلندی کی نمائندگی کرتی ہے،یہ مذاکرات کشیدگی کو سنبھالنے اور ممکنہ طور پر جوہری مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک دباؤ کا حصہ ہیں،علاقائی سفارت کاری کے لیے پاکستان نے امن کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات کی مسلسل حوصلہ افزائی کی ہے ایرانی انقلاب فروری 1979 میں رونما ہوا، جس نے 2500 سالہ بادشاہت کا خاتمہ کیا اور ایک تھیوکریسی قائم کی، اسلامی انقلاب کی سالگرہ پر سال 2026 کے آغاز میں پاکستان کو ایران-امریکہ کشیدگی میں کمی کے مذاکرات کے اجلاس میں شرکت کی دعوت ملی ، مذاکرات کا مقصد کشیدگی کو کم کرنا اور جوہری خدشات کو دور کرنا ہے، جس میں پاکستان ایک اہم سہولت کار کے طور پر کام کر رہا ہے یہ پاکستان کے سفارتی قد میں ایک بڑا اضافہ ہے۔پاکستانی دفتر خارجہ نے فروری 2026 کے اوائل میں اس بات کی تصدیق کی کہ اسلام آباد کو ایران اور امریکہ کے درمیان آئندہ ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے جس کا مقصد علاقائی کشیدگی کو کم کرنا ہے۔
47 ویں سالگرہ 2026 میں تقریبات علاقائی جنگ کے شدید خطرات کے ساتھ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی حملوں کے خلاف خبردار کیا, سالگرہ کی جشن کی نوعیت کے باوجود، موجودہ واقعات ممکنہ امریکی فوجی کارروائی اور مذاکرات کے مطالبات کے زیر سایہ ہیں۔ پچھلے سالوں میں پاکستان نے تنازعات کے باوجود دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سالگرہ منائی لیکن انقلاب کے بعد تعلقات میں اتار چڑھاؤ آیا.
پاکستان اور ایران نے 1950 میں ’فرینڈشپ ٹریٹی‘ پر دستخط کیے تھے اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 1949 میں تہران جبکہ 1950 میں پاکستان بننے کے بعد شاہ آف ایران نے پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ کیا تھا۔ ایران میں 1979 کے ’انقلاب‘ سے پہلے ماضی میں پاکستان اور ایران کے تعلقات بہت زیادہ دوستانہ تھے۔ اس کی وجہ اس وقت ایران کا امریکہ کا اتحادی ہونا تھا۔امریکہ کا اتحادی ہونے کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے تعلقات اس حد تک بہتر تھے کہ انڈیا کے ساتھ جنگ میں ایران نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹیڈیز میں فاطمہ رضا کے لکھے گئے مقالے کے مطابق 1971 میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد اس وقت ایران کے شاہ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا کہ ’ایران پاکستان کو مزید ٹکڑے ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا اور انڈیا کو بتا دیا گیا تھا کہ اگر انڈیا اور پاکستان کی کشیدگی مزید بڑھ گئی تو وہ پاکستان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں گے۔‘ تاہم یہ تعلقات 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد اس وقت خراب ہوگئے جب آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں ’اسلامی انقلاب‘ کا اعلان کیا مقالے کے مطابق اسی دوران پاکستان میں اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیا الحق نے ’سنی اسلام‘ لانے کی کوششیں شروع کیں، جس کے نتیجے میں پاکستان میں 90 کی دہائی میں شیعہ سنی فسادات شروع ہوئے اور پاکستان اور ایران کے تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہوگئے۔افغانستان میں 90 کی دہائی میں جب افغان طالبان نے حکومت قائم کی تو تب بھی پاکستان اور ایران نے دو راستے اختیار کیے۔ جرنل آف ایشین سٹیڈیز کے مقالے کے مطابق سویت یونین کے خلاف ’افغان جہاد‘ میں ایران اور پاکستان دونوں سویت یونین کے مخالف تھے، تاہم ایران نے ’شمالی اتحاد‘ (جو زیادہ تر شیعہ ہزارہ آبادی ہے) جبکہ پاکستان نے ’مجاہدین‘ کا ساتھ دیا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے مقالے کے مطابق پاکستان پہلا ملک تھا جس نے افغان طالبان کی حکومت تسلیم کی تھی جبکہ ایران نے افغانستان میں موجود شمالی اتحاد کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ بعدازاں 1998 میں افغان صوبے مزار شریف میں ایران کے سفارت کاروں کو مار دیا گیا، جب افغان طالبان نے کابل کے بعد مزار شریف پر قبضہ کیا۔ اس سب کے باوجود بھی پاکستان اور ایران کے تعلقات اس نہج پر نہیں آئے تھے کہ سفارتی تعلقات ہی منقطع ہو جائیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز کے مقالے کے مطابق اس کی بڑی وجہ دونوں ممالک کے وزارت خارجہ کی جانب سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں تھیں۔اس کے بعد نائن الیون کا واقعہ ہوگیا تو پاکستان نے برملا امریکہ کا ساتھ دیا اور اسی مقالے کے مطابق ایران کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ افغان طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیں لیکن اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک بیان میں ایران، عراق اور شمالی کوریا کو ’برائیوں کی جڑ‘ قرار دیا تھا۔ اور یوں ایران اور پاکستان تب بھی ایک پیج پر نہیں آئے جبکہ دوسری جانب افغانستان میں ایران کی جانب سے شمالی اتحاد کی حمایت کا اعلان تھا جبکہ پاکستان اور امریکہ افغان طالبان کے خلاف ایک پیج پر تھے۔ اسی دوران ایران نے انڈیا کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کیے تاہم تب بھی تناؤ اتنا نہیں بڑھا تھا۔ مقالے کے مطابق اس وقت ایران سمجھتا تھا کہ ایران اور انڈیا کا تعلق ایسا ہی ہے، جیسے پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق ہے۔
پاکستان اور ایران کے مابین پاکستانی صوبہ بلوچستان اور ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے ساتھ 909 کلومیٹر پر محیط ایک لمبی سرحد ہے۔ اس سرحد پر ماضی میں مختلف واقعات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ماضی میں ایران پر سرحد پار سے در اندازی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے پاکستان میں جیش العدل نامی شدت پسند تنظیم کی موجودگی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ اسی سرحد پر ایرانی طرف بلوچ سنی اقلیت آباد ہے، جو ایران کی مرکزی حکومت سے ناراض اور مرکزی حکومت پر مسلک کی بنیاد پر امتیازی سکول برتنے کا الزام لگاتی ہے۔ امریکہ کے کاؤنٹر ٹیرارزم ادارے کے مطابق جیش العدل نامی تنظیم ان ہی بلوچوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔ مقالے کے مطابق اس تنظیم نے 2018 میں ایرانی بارڈر گارڈ کے 12 اہلکاروں کو اغوا کیا تھا اور پاکستانی سکیورٹی فورسز کی مدد سے ان اہلکاروں کی بازیابی ممکن بنائی گئی تھی۔ اسی طرح اس سرحد پر ماضی میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے جوانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ ماضی میں تعلقات اس وقت زیادہ تناؤ کا شکار ہوئے تھے جب انڈیا کے جاسوس کلبھوشن یادو ایران سے اسی سرحد کے ذریعے پاکستان کے صوبہ بلوچستان داخل ہوئے اور یہاں انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ماضی میں پاکستان نے انسداد دہشت گردی کے معاملات میں ایران کی مدد بھی کی ہے۔ جرنل آف ساؤتھ ایشین سٹیڈیز کے مطابق پاکستان نے 2007 میں بلوچستان کے ایک پہاڑی علاقے میں جندل اللہ نامی تنظیم کی جانب سے 21 ٹرک ڈرائیوروں کو بازیاب کروایا تھا۔اسی مقالے کے مطابق جند اللہ کے مرکزی رہنما عبدالمالک ریگی کو 2010 میں طیارے میں دبئی سے کرغستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا اور بعد میں مار دیا گیا تھا، جس کے حوالے سے ایران میں اس وقت کے پاکستانی سفیر نے بتایا تھا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر یہ گرفتاری ممکن نہیں تھی۔ تحریر کے مطابق اس وقت جند اللہ کے سربراہ کے بھائی عبدالحامد ریگی کو بھی پاکستان نے گرفتار کر کے ایران کے حوالے کیا تھا۔واضح رہے کہ ایران کی جانب سے بلوچستان کے علاقے پنجگور میں 16 جنوری 2024 کو کیے گئے حملے کے ردعمل میں پاکستان کی جانب سے 18 جنوری 2024 کو ایرانی علاقے میں جوابی حملے کے بعد سے اسلام آباد اور تہران کے سفارتی تعلقات کشیدہ رہےتھےایران کی جانب سے کالعدم جیش العدل کے ٹھکانے پر حملے کے نتیجے میں دو اموات ہوئی تھیں اور تین بچیاں زخمی ہوئیں تھیں جبکہ پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیاتھا۔پاکستانی وزارت خارجہ نے ایرانی حملوں کو اپنی ’فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے اور اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔اس حملے کے رد عمل میں پاکستان نے ایران سے اپنے سفیر کو واپس بلوا لیا تھااور پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر، جو اس وقت تہران میں تھے، کو پاکستان آنے سے روک دیا تھاپاکستان کے علاوہ سعودی عرب، قطر، مصر، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک کو ایران اور امریکہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی تاہم دعوت موصول ہونے کی سرکاری طور پر تصدیق صرف پاکستان کی طرف سے کی گئی ہے۔پاکستان کو ان مذاکرات میں مدعو کیا جانا ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے، چاہے اسے ثالث کا کردار دیا جا رہا ہو یا ایک مبصر کا۔‘پاکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اسے ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی جو کہ اس نے قبول کی ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت میں عمان، ترکی اور دیگر ممالک نے میزبانی کرنے میں دلچسپی ظاہر کی , ٹرمپ انتظامیہ نے مذاکرات ترکی کی بجائے عمان میں منعقد کرنے کی ایرانی درخواست منظور کر لی تھی,امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے اور پچھلے برس امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے قطر میں واقع العدید ایئر بیس پر میزائل حملے کیے تھے
امریکی صدر ٹرمپ ایک بار پھر متعدد مرتبہ ایران پر حملے کی دھمکیاں دیتے ہوئے نظر آئے اور یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن ایران کی طرف بڑھ رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے بار بار ایران کے ساتھ مذاکرات کا بھی عندیہ دیا تھا۔ پاکستان کی وزارتِ خارجہ ن بتایا تھاکہ ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کو کم کرنا ہے۔ تاہم ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات ایک جوہری معاہدے کے حصول کے اردگرد گھومتے رہے ہیں۔ امریکہ کا یہ موقف واضح رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہتا ہے اور اسے ایسے کسی معاہدے کی امید ہوگی جس میں یورینیئم کی افزودگی کا مکمل خاتمہ شامل ہو۔دوسری جانب ایرانی حکام اور خود صدر مسعود پزشکیان متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے ملک نے نہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور نہ کرے گا۔ ایرانی صدر کے مطابق ملک کا جوہری پروگرام پُرامن ہے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ماحول میں دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا معاہدہ ہونا ضروری ہے کیونکہ ایران پر امریکی حملہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے امیدہے کہ ایران اور امریکہ کسی قسم کے معاہدے پر پہنچ جائیں جس سے ایران پر ممکنہ حملے رُک جائیں یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ کو معلوم ہو کہ ایران افغانستان نہیں ہے، نہ ہی زمین کے اعتبار سے، نہ آبادی کے اور نہ وسائل کے اعتبار سے۔ ایران عراق بھی نہیں ہےایران کو یہ اندازہ ہو گیا ہے کہ ملک میں حکومت کو بچانے کے لیے بھی امریکہ کی ساتھ کسی معاہدے پر پہنچنا ضروری ہےخیال رہے حالیہ دنوں میں ایران میں خراب معاشی صورتحال کے سبب تقریباً دو ہفتوں تک پر تشدد مظاہرے ہوتے رہے ۔ بیک ڈور چینلز اور ثالثین کے ذریعے ایران بھی کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، ہم اپنی پراکسیوں کے ساتھ تعلقات پر سمجھوتا نہیں کریں گے، لیکن امریکہ کے جوہری مطالبات پر کچھ سمجھوتہ کر سکتے ہیں یا اس سمجھوتے قریب آسکتے ہیں۔پاکستانی قیادت سمجھتی ہے کہ اس معاملے کا سفارتی حل نکل سکتا ہے اور اس کی جانب سے ایران کو بھی یہی پیغام دیا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات کو نقصان پہنچانا درست نہیں ہوگا اور باقی معاملات سفارتی طور پر حل کیے جا سکتے ہیں۔پاکستانی حکام بتاتے ہیں کہ پاکستان خاموشی سے ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں سہولت فراہم کر رہا ہے مذاکرات میں پاکستان کی شرکت ایک اہم پیش رفت ہے۔پاکستان ایک ایسے معاہدے کے لیے کام کرنا جاری رکھے گا جس سے فوجی کارروائی کا خطرہ ٹل جائے۔ اور وہ اس کے لیے تہران اور واشنگٹن سے اپنے مضبوط تعلقات کے علاوہ دیگر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات سے بھی فائدہ اٹھائے گاپاکستان اور ایران کی سرحدیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پاکستان کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔2024 میں ایران اور پاکستان نے بھی ایک دوسرے کے سرحدی علاقوں میں حملے کیے تھے، لیکن اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور ان مذاکرات میں پاکستان کو مدعو کیے جانا پاکستان کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

