اسلام آباد (اردو ٹائمز) 27 اگست 2005ء کو ایک پولیس والا مرا نہیں امر ھوا تھا، وہ آج بھی ڈیوٹی پر ہے۔
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) 27 اگست 2005ء کو ایک پولیس والا مرا نہیں امر ھوا تھا، وہ آج بھی ڈیوٹی پر ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ اکیس سال پہلے اس کے ہاتھ میں بندوق تھی، آج اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں۔ اکیس سال پہلے وہ اسلام کوٹ کے محاذ پر دہشت گردوں کے سامنے کھڑا تھا، آج اس کی قبر کے سامنے کھڑے پولیس کے جوان اس کی خاموش گواہی سن رہے ہیں۔
اس کا نام امیر افضل تھا۔
وہ کانسٹیبل تھا۔
نہ اس کے پاس کسی بڑے عہدے کا اختیار تھا، نہ کوئی پروٹوکول، نہ سائرن بجاتی گاڑی۔ اس کے پاس صرف وردی تھی، فرض تھا اور اپنے وطن کے لیے جان دینے کا حوصلہ تھا۔
اور یہی تین چیزیں کافی ثابت ہوئیں۔
اکیس سال بعد جب اٹک پولیس کا چاق و چوبند دستہ اس کی قبر پر پہنچا تو شاید وہاں موجود ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی سوال تھا:
آخر ایک کانسٹیبل کی قبر اکیس سال بعد بھی پولیس کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب پھولوں کی چادر میں نہیں تھا۔
وہ سلامی میں بھی نہیں تھا۔
وہ فاتحہ کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھوں میں بھی نہیں تھا۔
جواب اس خاموش مٹی کے نیچے تھا جس نے اکیس برس پہلے ایک جوان جسم کو اپنے اندر لے لیا، مگر اس کا فرض آج تک واپس نہیں کیا۔
یہی شہادت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں پولیس کی وردی محض کپڑا نہیں رہتی، عہد بن جاتی ہے۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں ایک معمولی سا کانسٹیبل اپنے عہدے سے کہیں بڑا ہوجاتا ہے۔
امیر افضل آج بھی اٹک پولیس کے ایک جوان سے زیادہ بڑا نام ہے، کیونکہ اس نے اپنی آخری ڈیوٹی ایسی جگہ مکمل کی جہاں واپسی کا راستہ موجود نہیں تھا۔
27 اگست 2005ء کو اسلام کوٹ میں دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ گولیاں چلیں۔ ایک طرف دہشت تھی، دوسری طرف وردی۔
اور پھر ایک پولیس اہلکار نے فیصلہ کیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔
امیر افضل شہید ہوگیا۔
پاکستان میں شہادت کی خبریں اکثر چند سطروں میں دفن ہوجاتی ہیں۔ اخبار میں خبر آتی ہے، تصویر چھپتی ہے، افسران تعزیتی بیانات دیتے ہیں اور چند دن بعد نئی خبر پرانی خبر کو دھکیل دیتی ہے۔
لیکن شہید کے گھر میں خبر کبھی پرانی نہیں ہوتی۔
وہاں 27 اگست 2005ء آج بھی موجود ہے۔
وہاں شاید ایک دروازہ آج بھی اسی طرح کھلتا ہوگا۔
ایک آواز آج بھی کسی کو پکارتی ہوگی۔
ایک تصویر آج بھی دیوار پر لٹکی ہوگی۔
اور کسی ماں، باپ، بیوی یا بچے کے لیے اکیس سال بعد بھی سوال وہی ہوگا:
وہ واپس کیوں نہیں آیا؟
یہ وہ سوال ہے جس کا جواب کسی سرکاری فائل میں نہیں ملتا۔
اس کا جواب صرف شہادت دیتی ہے۔
اسی لیے اٹک پولیس کی طرف سے امیر افضل کی قبر پر حاضری ایک رسمی کارروائی نہیں۔ یہ اپنے ماضی کے ساتھ ملاقات ہے۔
ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق جب اپنے جوانوں کے ساتھ شہید کی قبر پر کھڑے ہوتے ہیں تو دراصل وہ پوری فورس کو یہ پیغام دے رہے ہوتے ہیں کہ وردی میں مرنے والا کوئی نام نہیں ہوتا، وہ ادارے کی امانت ہوتا ہے۔
اور ڈی ایس پی فتح جنگ خان شبیر کا وہاں موجود ہونا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
ایک کمانڈر جب اپنے شہید سپاہی کی قبر پر کھڑا ہوتا ہے تو وہ صرف پھول نہیں چڑھاتا؛ وہ اپنی فورس کے زندہ جوانوں سے ایک خاموش وعدہ کرتا ہے:
تم اکیلے نہیں ہو۔
اگر کل فرض نے تمہیں بھی اسی مقام پر لا کھڑا کیا تو تمہارا ادارہ تمہیں یاد رکھے گا۔
تمہارا نام فائل میں بند نہیں ہوگا۔
تمہاری قربانی کو وقت نہیں کھائے گا۔
اور تمہاری قبر پر ایک دن پھر وردی والے کھڑے ہوں گے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ پولیس کی تاریخ میں شہداء صرف ماضی نہیں ہوتے۔
وہ مستقبل کے محافظ ہوتے ہیں۔
امیر افضل کی قبر اکیس سال پرانی ضرور ہے، لیکن اس کا پیغام آج بھی نیا ہے۔
یہ قبر کہتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف آپریشن روم، ناکوں، چھاپوں اور اسلحے سے نہیں لڑی جاتی۔ اس جنگ میں اصل طاقت وہ انسان ہوتا ہے جو جانتا ہے کہ سامنے موت کھڑی ہے، پھر بھی قدم آگے بڑھاتا ہے۔
امیر افضل نے یہی کیا تھا۔
آج اس کی قبر پر کھڑے پولیس اہلکار شاید اسے دیکھ نہیں سکتے، لیکن اس کی قربانی انہیں دیکھ رہی ہے۔
اور شاید یہی شہید اور زندہ کے درمیان سب سے عجیب تعلق ہے۔
زندہ لوگ شہید کو دیکھنے آتے ہیں،
مگر حقیقت میں شہید زندہ لوگوں کا کردار دیکھ رہا ہوتا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ جس امن کے لیے اس نے جان دی، اس امن کی حفاظت کون کر رہا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ وردی کا وقار کہاں کھڑا ہے۔
وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اس کے بعد آنے والے جوانوں میں وہی حوصلہ باقی ہے یا نہیں۔
کیپٹن علی بن طارق اور خان شبیر کی موجودگی میں اٹک پولیس نے اسی عہد کو تازہ کیا ہے کہ شہداء کا مشن ختم نہیں ہوا۔
امن کی جنگ جاری ہے۔
جرائم کے خلاف جنگ جاری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔
اور وردی کا امتحان بھی جاری ہے۔
اکیس سال پہلے امیر افضل نے اپنی باری پوری کردی تھی۔
اب باری ان لوگوں کی ہے جو اس کی قبر پر کھڑے ہیں۔
اس لیے آج اگر کوئی پوچھے کہ اکیس سال پرانی قبر میں کیا رکھا ہے تو جواب بہت سادہ ہے:
اس میں ایک جسم نہیں، ایک عہد دفن ہے۔
اور اٹک پولیس کا یہ فرض ہے کہ اس عہد کو زندہ رکھے۔
کیونکہ شہید کو سب سے خوبصورت خراجِ عقیدت پھول نہیں دیتے۔
اس کے ادھورے مشن کو پورا کرنا دیتے ہیں۔
امیر افضل کی قبر پر آج بھی مٹی ہے۔
مگر اس مٹی کے نیچے ایک سوال زندہ ہے:
اگر وطن کو آج پھر کسی امیر افضل کی ضرورت پڑی تو کیا ہم تیار ہیں؟
یہی سوال ہر وردی والے کے سامنے کھڑا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ اکیس سال بعد بھی وہ قبر خاموش نہیں۔
وہ آج بھی ڈیوٹی پر ہے۔

