LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سنگین نوعیت کے حادثات کا باعث بن سکتی ہے شہری ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کریں

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سنگین نوعیت کے حادثات کا باعث بن سکتی ہے شہری ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کریں، چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان،ٹریفک پولیس کی کالے شیشوں والی 450 گاڑیوں کے خلاف قانونی کاروائی،۔وفاقی دارالحکومت کی اہم شاہراؤں اور مقامات پرخصوصی دستے تعینات،ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاتفریق کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سی ٹی او اسلام آباد کائنات اظہر خان تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس اسلام آباد سید علی ناصر رضوی کی خصوصی ہدایت پر اسلام آباد ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران کالے شیشوں والی 450 سے زائد گاڑیوں کے خلاف قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔اسلام آباد ٹریفک پولیس نے خصوصی اقدامات کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کی اہم اور مصروف ترین شاہراہوں اور چوراہوں پر خصوصی دستے تعینات کیے ہیں، جو ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہیں۔ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے زیرو ٹالرینس پالیسی کے تحت کالے شیشوں اور دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائیوں میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔اس موقع پر چیف ٹریفک آفیسر اسلام آباد کائنات اظہر خان نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سنگین نوعیت کے حادثات کا باعث بن سکتی ہے، اس لیے سڑکوں پر منظم اور محفوظ ٹریفک نظام کے قیام کے لیے شہریوں کا اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ساتھ تعاون انتہائی اہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سے نہ صرف آپ کی بلکہ دیگر شہریوں کی قیمتی جانیں بھی محفوظ رہ سکتی ہیں۔ شہری ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹریفک قوانین کی ہرگز خلاف ورزی نہ کریں اور محفوظ سفر کو یقینی بنانے میں اسلام آباد ٹریفک پولیس کا ساتھ دیں۔سی ٹی او اسلام آباد نے مزید کہا کہ اسلام آباد ٹریفک پولیس قانون کی یکساں اور بلاامتیاز عملداری کے ذریعے شہریوں کو محفوظ سفری ماحول فراہم کرنے اور وفاقی دارالحکومت میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X