اسلام آباد (اردو ٹائمز) حسن ابدال میں آر پی او کی کھلی کچہری ۔۔۔ آنکھوں دیکھا حال
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) حسن ابدال میں آر پی او کی کھلی کچہری ۔۔۔ آنکھوں دیکھا حال ممبر نیشنل پریس کلب اسلام آباد صحافت میں بعض دن ایسے آتے ہیں جب آپ خبر ڈھونڈنے نکلتے ہیں اور راستے میں ایک مشاہدہ مل جاتا ہے۔ ایسا مشاہدہ جو اعداد و شمار، پریس ریلیز اور سرکاری بیانات سے کہیں زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔
19 اگست 2026 کا دن میرے لیے کچھ ایسا ہی تھا۔
اسلام آباد کی صحافت میں میری پوری عملی زندگی گزر گئی۔ پارلیمنٹ کے ہنگامے دیکھے، حکومتوں کے عروج و زوال کا مشاہدہ کیا، طاقت کے ایوانوں کے اندر ہونے والی سرگوشیاں سنیں، بڑے بڑے سیاسی بحرانوں کی رپورٹنگ کی، مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ پنجاب پولیس کے ساتھ میرا براہِ راست واسطہ بہت کم رہا۔
شاید اسی لیے میرے ذہن میں ہمیشہ ایک سوال موجود تھا:
آخر وزیر اعلیٰ مریم نواز کے پنجاب میں پولیس کس انداز سے کام کر رہی ہے؟ کیا واقعی عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم ہو رہے ہیں؟ کیا واقعی پولیس صرف اختیار کی علامت نہیں بلکہ خدمت کے جذبے کے ساتھ کام کر رہی ہے؟
یہ سوالات میرے ذہن میں اس وقت بھی موجود تھے جب ہم تین صحافی دوست اسلام آباد سے حسن ابدال پہنچے۔ ہمارا اصل مقصد گوردوارہ سری پنجہ صاحب کے حوالے سے ایک خصوصی فیچر تیار کرنا تھا، مگر وہاں معلوم ہوا کہ راولپنڈی ریجن کے آر پی او بابر سرفراز الپا کھلی کچہری کر رہے ہیں جبکہ ضلع اٹک کے ڈی پی او کیپٹن (ر) علی بن طارق بھی ان کے ہمراہ موجود ہیں۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا:
“آج صحافی نہیں، صرف مبصر بنتے ہیں۔”
ہم نے فیصلہ کیا کہ نہ کسی افسر سے ملاقات کریں گے، نہ اپنا تعارف کروائیں گے اور نہ ہی کوئی سوال کریں گے۔ صرف خاموشی سے دیکھیں گے کہ یہ نظام کس طرح کام کرتا ہے۔
ہال میں داخل ہوا تو وہ روایتی سرکاری ماحول نظر نہیں آیا جس کا ہم اکثر مشاہدہ کرتے ہیں۔ میرے سامنے عام شہری تھے، جن کے ہاتھوں میں درخواستیں اور دلوں میں امید تھی کہ شاید آج ان کی بات سنی جائے گی۔
ایک بزرگ شہری اپنی شکایت بیان کر رہے تھے۔ آر پی او بابر سرفراز الپا انتہائی توجہ سے ان کی بات سن رہے تھے۔ نہ کوئی جلدی، نہ بے زاری اور نہ ہی رسمی کارروائی کا تاثر۔ اسی لمحے مجھے احساس ہوا کہ عوام کو ہمیشہ فوری حل نہیں چاہیے ہوتا، بعض اوقات انہیں صرف یہ یقین درکار ہوتا ہے کہ ریاست ان کی بات سننے کے لیے موجود ہے۔
بابر سرفراز الپا کی شخصیت میں مجھے اختیار، تحمل، قیادت اور جوابدہی کا ایک متوازن امتزاج نظر آیا۔ وہ صرف احکامات جاری نہیں کر رہے تھے بلکہ شہریوں کے مسائل کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش بھی کر رہے تھے۔ یہی وہ طرزِ قیادت ہے جو عوامی اعتماد پیدا کرتی ہے۔
کھلی کچہری کے دوران ایک اور شخصیت مسلسل توجہ کا مرکز بنی رہی: ڈی پی او اٹک کیپٹن (ر) علی بن طارق۔
میں نے بہت سے ضلعی افسر دیکھے ہیں۔ کچھ اپنی کرسی تک محدود رہتے ہیں اور کچھ اپنے پروٹوکول میں گم ہو جاتے ہیں، مگر علی بن طارق ان افسران میں دکھائی دیے جو اپنے ضلع کو محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ وہ ہر درخواست پر توجہ دے رہے تھے، ہر شکایت کو سنجیدگی سے سن رہے تھے اور ان کے انداز سے واضح تھا کہ عوامی مسائل ان کے لیے صرف فائلوں کا بوجھ نہیں بلکہ عملی ذمہ داری ہیں۔
کھلی کچہری کے بعد قافلہ تھانہ سٹی حسن ابدال پہنچا۔ میں بھی خاموشی سے ساتھ ہو لیا۔ آر پی او نے فرنٹ ڈیسک، حوالات، ریکارڈ اور دیگر شعبہ جات کا معائنہ کیا۔ افسران سے سوالات کیے اور بار بار ایک بات پر زور دیا کہ تھانے میں آنے والے ہر شہری کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آیا جائے۔
یہ جملہ بظاہر سادہ ہے، مگر اگر کسی ادارے کی ثقافت کا حصہ بن جائے تو پورا نظام بدل سکتا ہے۔
واپسی کے سفر میں میں سوچ رہا تھا کہ کیا ایک دن کا مشاہدہ کسی ادارے کے بارے میں حتمی رائے دے سکتا ہے؟ یقیناً نہیں۔ لیکن کیا ایک دن کا مشاہدہ کسی سمت کی نشاندہی کر سکتا ہے؟ بالکل کر سکتا ہے۔
اور حسن ابدال میں مجھے جو سمت نظر آئی، وہ عوامی رابطے، جوابدہی اور خدمت کی سمت تھی۔
ایک صحافی کی حیثیت سے میرا کام تعریف یا تنقید نہیں بلکہ مشاہدہ اور حقیقت کو قلم بند کرنا ہے۔ میرا مشاہدہ یہی ہے کہ مریم نواز کے پنجاب میں کم از کم اس دن مجھے پولیس کا ایک ایسا چہرہ دیکھنے کو ملا جو عوام سے فاصلے بڑھانے کے بجائے ان کے درمیان بیٹھا تھا۔
بابر سرفراز الپا کی قیادت اور کیپٹن (ر) علی بن طارق کی متحرک موجودگی نے یہ تاثر دیا کہ اچھی پولیسنگ صرف جرائم کے خلاف کارروائی کا نام نہیں بلکہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کا عمل بھی ہے۔
اس روز میں حسن ابدال گوردوارہ سری پنجہ صاحب کی رپورٹنگ کے لیے گیا تھا، مگر واپسی پر میرے نوٹ بک میں ایک اور کہانی بھی درج ہو چکی تھی۔
یہ کہانی ایک کھلی کچہری کی تھی۔
یہ کہانی دو پولیس افسروں کی تھی۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہانی اس امید کی تھی کہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا رشتہ اب بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

