اسلام آباد (اردو ٹائمز) محمد کامران خان کو تمغہ امتیاز مبارک
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) اسلام آباد کی طاقت کی راہداریوں، شاہراہِ دستور کی سنسان عمارتوں اور بیوروکریسی کے پیچ در پیچ راستوں میں دو دہائیوں سے زیادہ خبر کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہوئے، میں نے افسرشاہی کے سیکڑوں روپ دیکھے ہیں۔ یہاں فائل کی معمولی جنبش سے رعایتوں کا کھیل کھیلنے والے بھی دیکھے، کیمروں کی فلش لائٹس کے بھوکے بھی، اور عہدوں کی نویلی چمک دھمک میں اپنا آپ اور اصل کھو دینے والے بھی۔ لیکن اقتدار کے اس بے رحم کھیل اور دفتر شاہی کی روایت کے درمیان بعض شخصیات ایسی ابھرتی ہیں جو خاموش وقار، غیر متزلزل دبدبے اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیت کا نایاب شاہکار ہوتی ہیں۔ پاکستان پولیس سروس (PSP) کے ممتاز اور سینئر ترین افسر محمد کامران خان بالکل اسی قبیل سے تعلق رکھنے والے ایک سچے اور کھرے پولیس ہیرو ہیں۔
میری ان سے پہلی ملاقات سال 2008ء میں ہوئی تھی، جب وہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) خانیوال کے طور پر تعینات تھے اور میرے ہمراہ ڈسٹرکٹ پریس کلب خانیوال کے سابق صدر راشد بن امیر بھی موجود تھے۔ اس پہلی ہی ملاقات میں ان کے اخلاق، انتظامی تدبر اور پیشہ ورانہ دبدبے نے ایک گہرا نقش چھوڑا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اگرچہ باقاعدہ ملاقاتوں کی نوبت کم ہی آئی، مگر احترام اور رابطے کا وہ سلسلہ مسلسل قائم رہا۔ وہ بلاشبہ ایک عظیم آفیسر اور شاندار انسان ہیں۔ کہتے ہیں کہ انسان کے نام کے اثرات اس کی شخصیت اور تقدیر پر گہرے مرتب ہوتے ہیں۔ ‘کامران’ کے معنی ہی کامیابی اور کامرانی کے ہیں، اور اگر محمد کامران خان کے سفر کا جائزہ لیا جائے تو ان کے نام کے اثرات یوں مرتب ہوئے کہ انہوں نے طالب علمی کے دور سے لے کر پولیس سربراہ کی مسند تک ہر محاذ پر کامرانیاں ہی سمیٹیں۔
گزشتہ دنوں جب حکومتِ پاکستان کی جانب سے ان کی طویل، بے لوث اور شاندار خدمات کے اعتراف میں ریاستِ پاکستان کے اعلیٰ شہری اعزاز تمغۂ امتیاز سے نوازنے کا اعلان کیا گیا، تو باخبر حلقوں میں حیرت کے بجائے مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ ہمارے ہاں یہ روایت تو چلی آ رہی ہے کہ قومی اعزازات اکثر سفارشوں، سیاسی وفاداریوں یا مقتدر ایوانوں کی خوشامد کے طفیل بانٹے جاتے ہیں۔ لیکن محمد کامران خان کو ملنے والا یہ تمغہ اس فرسودہ نظام میں ایک خوشگوار استثنیٰ ہے۔ یہ کسی سیاسی تعاقب کا حاصل نہیں، بلکہ ایک ایسے سچے سپاہی کی شب و روز کی محنت، قربانیوں اور ریاست کے ساتھ بے مثال وفاداری کا قومی اعتراف ہے۔
اگر آپ محمد کامران خان کے کیریئر کی باریکیوں اور پچھلی چند دہائیوں کا گہرا جائزہ لیں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ان کا سارا سفر نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ ترین انتظامی مسندوں تک صرف اور صرف پیشہ ورانہ معیار اور دیانت پر قائم رہا۔ اس افسر نے کبھی میڈیا میں آ کر سیلف پروموشن کی، نہ سستے فیم اور ڈرامائی ایکشنز کا سہارا لیا۔ بلوچستان کے بارود سے بھرے، دشوار گزار اور انتہائی حساس اضلاع میں جب امن و امان کا قیام ایک بہت بڑا سوالیہ نشان بنا ہوا تھا، تو کامران خان نے مسلسل چار سال تک وہاں کی خاک چھانی۔ بلوچستان جیسے پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز سے بھرپور خطے میں خدمات سرانجام دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ وہاں انتظامی غلطی کی گنجائش صفر ہوتی ہے، اور کامران خان نے اس کٹھن امتحان کو اپنی اعلیٰ انتظامی بصیرت سے کامیابی سے پار کیا۔
بلوچستان کی سخت کوش فضاؤں سے نکل کر جب وہ پنجاب آئے، تو ان کی ٹیکنو کریٹک اور جدید انتظامی صلاحیتوں کا ایک نیا رخ سامنے آیا۔ پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PCSA) کے ادارے کو جس طرح انہوں نے اپنے چھ سالہ طویل دورِ ملازمت میں ایک جدید، شفاف اور متحرک ادارے میں ڈھالا، وہ پاکستانی پولسنگ کی تاریخ کا ایک تحسین آمیز باب ہے۔ انہوں نے روایتی پولیسنگ کے فرسودہ ماڈل کو جدید سانچے میں ڈھال کر لاہور اور دیگر اہم شہروں کو سمارٹ مانیٹرنگ، سی سی ٹی وی نیٹ ورکنگ، اور ڈیجیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سے آراستہ کیا۔ یہ کامران خان کا ہی دورِ اندیش وژن تھا کہ پنجاب پولیس کو جدید ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ اور تھرمل امیجنگ جیسے جدید آلات سے لیس کرنے کے لیے لوجسٹکس اینڈ پروکیورمنٹ کے محکمے میں شفافیت کی ایک نئی روح پھونکی گئی۔ جہاں بیوروکریسی میں اربوں روپے کے مالیاتی منصوبوں پر انگلیاں اٹھنا معمول کی بات ہے، وہاں کامران خان نے اپنی بے داغ شہرت، سخت گیر نظم و ضبط اور شفافیت کے ذریعے ایسی مثال قائم کی جس پر ان کے مخالفین بھی معترض نہیں ہو سکتے۔
فروری 2024 میں جب انہیں ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کی بھاری ذمہ داری سونپی گئی، تو ان کے سامنے جنوبی پنجاب کے وہ پسماندہ اور پیچیدہ علاقے تھے جہاں کچے کے ڈاکو، بین الصوبائی جرائم پیشہ گروہ اور وسیع و عریض جغرافیہ ہمیشہ سے امن و امان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بنا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کی سرحدیں خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے ملتی ہیں—یہ وہ حساس ترسیلی راہداری ہے جہاں ایک چھوٹی سی غفلت پورے صوبے کا سکون برباد کر سکتی ہے۔ رحیم یار خان اور راجن پور کا ‘کچا’ کا علاقہ دہائیوں سے سنگین جرائم، اغوا برائے تاوان اور ڈاکوؤں کی محفوظ گاہ بنا ہوا تھا۔ مشکل جغرافیائی موقع، گھنے جنگلات اور ندی نالوں کے باعث یہ خطہ سیکیورٹی فورسز کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہا۔ ماضی میں کئی آپریشنز کیے گئے، لیکن کچے کے ڈاکو اپنے جدید ہتھیاروں اور جغرافیائی فائدے کا استعمال کرتے ہوئے دوبارہ منظم ہو جاتے تھے۔
محمد کامران خان نے ساؤتھ پنجاب کی کمان سنبھالتے ہی روایتی اشتہاری حربوں کے بجائے خالصتاً سائنسی، جدید اور عسکری بنیادوں پر حکمت عملی مرتب کی۔ انہوں نے محض طاقت کے استعمال کے بجائے ٹیکنالوجی، جدید ترین انٹیلی جنس اور آپریشنل اصلاحات کو ملا کر ایک مضبوط لائحہ عمل بنایا۔ انہوں نے لخانی، جھنگی اور نکانئی جیسی دور دراز بین الصوبائی چیک پوسٹوں کو جدید تھرمل ڈوم کیمروں، بلٹ پروف بکتر بند گاڑیوں (APCs) اور خودکار دفاعی نظام سے لیس کیا۔ کچے کے دشوار گزار حصوں میں ڈرون مانیٹرنگ، نائٹ ویژن ٹیکنالوجی اور تھرمل امیجنگ کے ذریعے ڈاکوؤں کی نقل و حرکت پر چوبیس گھنٹے کڑی نظر رکھی گئی، جبکہ وہ خود خطرناک ترین کچے کے علاقوں میں آپریشنز کی نگرانی کے لیے میدانی سطح پر اترے، جس سے پولیس کے جوانوں کے حوصلے بلند ہوئے اور ڈاکوؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا۔ اس جدید اور جارحانہ حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ کچے کے نامی گرامی ڈاکوؤں کے گروہوں کا صفایا ہوا، اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ڈرامائی کمی آئی اور سرحدی چیک پوسٹیں نا قابلِ تسخیر فصل بن گئیں۔
تاہم، ان کی شخصیت کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ ان کا وژن صرف طاقت کے استعمال تک محدود نہیں رہا۔ وہ ایک ایسے دانشور افسر ہیں جو جانتے ہیں کہ جرم کے تدارک کے لیے معاشرتی ڈھانچے کی اصلاح لازم ہے۔ انہوں نے تھانہ کلچر کی تبدیلی، تفتیشی نظام کی بہتری، اور عام شہریوں کو دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹائزیشن پر زور دیا۔ انہوں نے جنوبی پنجاب کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے ساتھ اہم معاہدے کیے تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کی وبا سے بچایا جا سکے اور کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو عملی شکل دی جائے۔
صحافت کے خاردار دشت میں گھومتے ہوئے جب میں بیوروکریسی کے شاہانہ رویوں کو دیکھتا ہوں، تو اکثر دل بدگمان سا ہونے لگتا ہے۔ لیکن محمد کامران خان جیسے وضع دار اور فرض شناس افسران اس امید کے روشن چراغ ہیں کہ اس ریاست میں اب بھی ایسے پولیس ہیرو موجود ہیں جن کے لیے ان کا فرض، ان کی وردی کا وقار اور ان کا ضمیر ہر دنیاوی رعایت سے اوپر ہے۔ انہیں ملنے والا تمغۂ امتیاز محض ایک دھات کا تمغہ نہیں؛ یہ اس فکر، اس مسلسل جدوجہد اور اس بے داغ دیانت کی سند ہے جو انہوں نے ریاست کی خدمت کرتے ہوئے پیش کی۔ ساؤتھ پنجاب کے عوام اور پولیس سروس کے لیے یہ بلاشبہ ایک باعثِ افتخار لمحہ ہے کہ ان کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جس کا کام بولتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان کی یہ پزیرائی پولیس سروس کے ان تمام جونیئر افسران کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی جو اس نظام کی تاریکی میں ایمانداری اور محنت کا چراغ جلائے رکھنا چاہتے ہیں۔ محمد کامران خان صاحب کو اس شاندار اور بحقِ خویش مستحق قومی اعزاز پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد!

