اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمام پاکستانی 79واں یوم آزادی جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمام پاکستانی 79واں یوم آزادی جوش و خروش سے منا رہے ہیں۔ بیرون ملک رہنے والوں کا جوش قابل دید ہے کیونکہ وہ پاکستان سے آزادی کی خوشی بھی مناتے ہیں اور جو رہ گئے ہیں وہ پاکستان سے نکلنے کے لئے مختلف طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔ خوشی منانے کا طریقہ ہر شخص کا مختلف ہے جیسے نوجوان نسل پورے اہتمام کے ساتھ یعنی بینڈ باجے کے ساتھ ڈھول کی تھاپ پر ناچتے گاتے ہیں اور بعض من چلے موٹر سائیکلوں کے سلنسر نکال کر جو دوسروں کا سکون برباد کرتے ہیں اور بدلے میں گالیوں کا تحفہ ملتا ہے۔ بیرونی ممالک میں تعینات سفارتی عملہ سرکاری خرچے پر ہر سال یوم آزادی کی خوشیاں مناتا ہے۔ سچ پوچھیں تو خوشیاں منانے کا حق اسی مخصوص طبقے کو ہے۔ جیسے یوم مزدور پر مزدور تو بالکل چھٹی نہیں کرتا اور نہ ہی اسے خوشی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سرکاری بابو اور امراء چھٹی مناتے ہیں۔ پاک و ہند میں اسی (۸۰)سال والے کو بوڑھا سمجھا جاتا ہے مگر یہاں معاملہ تھوڑا مختلف ہے کیونکہ پاکستان اس عمر تک پہنچنے کے بعد ابھی تک سنبھل نہیں پایا بلکہ بیرونی ممالک میں پاکستان کے بارے میں خیالات اچھے نہیں۔ ایک وقت تھا جب دنیا میں کہیں بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوتا تھا تو یہی خیال آتا کہ ہو نہ ہو کسی پاکستانی کا نام ضرور آئے گا۔ تاہم گزشتہ چند ماہ سے پاکستان کا نام صلح کروانے والوں میں شامل ہوگیا ہے جو اچھا شگون ہے۔ کاش کہ تمام بڑے مل کر عوام کی حالت پر بھی رحم کھائیں اور عام آدمی کی بہتری کے لئے بھی کچھ بہتری کا انتظام کریں۔
گزشتہ ماہ جولائی کے شروع میں امریکہ میں بھی یوم آزادی منایا گیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح تمام لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق یوم آزادی کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ متعدد مقامات پر آتش بازی کے ساتھ عوام نے خوشی منائی۔ امریکہ میں مقامی افراد اگرچہ پاکستان سے متعلق کچھ زیادہ معلومات نہیں رکھتے تاہم انہیں یہ ضرور یاد ہے کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں رہا جسے بعد ازاں خفیہ مشن کے ذریعے انجام تک پہنچایا گیا۔ اگرچہ اس سے متعلق مختلف آراء موجود ہیں تاہم اس بات سے سب واقف ہیں کہ دہشتگردی کے متعدد کردار پاکستان میں قیام پذیر رہے۔ اب یہ کہنا کس حد تک درست ہے کہ اب بھی ہیں یا نہیں۔ امریکی اسامہ بن لادن کو امریکہ میں نائن الیون کے واقعات کا مرتکب قرار دیتے ہیں اور پاکستانیوں کو آج بھی اسے محفوظ پناہ دینے والوں میں سے ایک سمجھتے ہیں۔ اگرچہ یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے کہ امریکی خفیہ اداروں نے اسامہ بن لادن کو ایبٹ آباد کے نواح میں ڈھونڈ نکالا مگر وہی خفیہ اداروں کے ارکان امریکہ میں ہونے والی اتنی خوفناک کاروائی کے بارے میں بے خبر رہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے آج کل بھارتی میڈیا پاکستان سے متعلق تمام معلومات رکھتا ہے اور سرعام راز افشاں کرتا ہے اور پاکستانی میڈیا بھارت کے بارے تمام معلومات عوام کو بتلاتا ہے مگر دونوں اپنے اپنے ملک کے بارے میں یا تو جانتے نہیں اور اگر جانتے ہیں مگر بولتے نہیں۔ اب اسے مصلحت کہیں یا جو آپ کے دل میں آئے کہیں۔

