LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مکہ معاہدۂ: خطے میں عظیم تر امن اور اتحادِ اُمت کی جانب تاریخی قدم

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان معاہدۂ مکہ محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں، بلکہ اگر اسے درست سمت میں آگے بڑھایا گیا تو یہ مسلم دنیا کے اجتماعی دفاع، تزویراتی خودمختاری اور خطے میں عظیم تر امن کے ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اسے اتحادِ اُمت کی جانب بارش کا پہلا قطرہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو۔

مسلم دنیا طویل عرصے سے بے پناہ وسائل، افرادی قوت، غیر معمولی جغرافیائی اہمیت اور دفاعی صلاحیت رکھنے کے باوجود سیاسی و دفاعی انتشار کا شکار رہی ہے۔ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا ایک مشترکہ دفاعی پلیٹ فارم پر آنا اس تاریخی کمزوری کو اجتماعی طاقت میں تبدیل کرنے کی ابتدا بن سکتا ہے۔

آج اصل سوال یہ ہے کہ کیا معاہدۂ مکہ مستقبل میں ایک ایسے وسیع اجتماعی مسلم دفاعی اتحاد، یعنی ایک ممکنہ ’’مسلم نیٹو‘‘ کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں کسی ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تمام اراکین کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے؟

اگر قطر، کویت، بحرین، مصر اور دیگر مسلم ممالک مرحلہ وار اس نظام کا حصہ بنتے ہیں تو دنیا ایک نئی تزویراتی حقیقت کا مشاہدہ کر سکتی ہے۔ ایران بھی مستقبل میں اس اتحاد کا رکن، شراکت دار یا مضبوط حامی بن سکتا ہے۔ ایران کو مستقل حریف سمجھنے کے بجائے اسے وسیع تر مسلم سلامتی کے نظام میں شامل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے، کیونکہ عرب دنیا اور ایران کے درمیان مفاہمت کے بغیر مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب ادھورا رہے گا۔

حالیہ علاقائی بحرانوں نے ایک بنیادی سوال پیدا کر دیا ہے: کیا بیرونی فوجی موجودگی واقعی خلیجی ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت فراہم کر سکی ہے؟

اگر مسلم ممالک اپنی مشترکہ دفاعی صلاحیت پیدا کر سکتے ہیں تو مستقبل میں انہیں اپنی سلامتی کے لیے غیر ملکی طاقتوں پر غیر معمولی انحصار کی ضرورت کیوں رہے؟

امریکی فوجی اڈوں کا مستقبل یقیناً واشنگٹن اور متعلقہ خلیجی حکومتوں کا خودمختار معاملہ ہے، لیکن ایک مؤثر مسلم دفاعی اتحاد وقت کے ساتھ خطے کو اپنی سلامتی کے فیصلے خود کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔ مقصد امریکہ یا کسی دوسری عالمی طاقت سے محاذ آرائی نہیں ہونا چاہیے؛ اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ مسلم دنیا اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانے کی صلاحیت پیدا کرے۔

اس اتحاد کی سب سے بڑی طاقت تینوں ممالک کی باہمی تکمیل ہے۔

سعودی عرب کے پاس اقتصادی طاقت، توانائی کے وسائل اور عالمِ اسلام میں منفرد مقام ہے۔ ترکی ایک بڑی عسکری قوت اور تیزی سے ترقی کرتی دفاعی صنعت کا حامل ہے، جبکہ پاکستان کے پاس دنیا کی تجربہ کار افواج میں سے ایک، جدید میزائل ٹیکنالوجی، مضبوط فضائی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے کا اعزاز ہے۔

ان تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا امتزاج ایک ایسا دفاعی حصار تشکیل دے سکتا ہے جس کا مقصد جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ جنگ کو روکنا ہو۔

پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو کسی دوسرے ملک کے لیے خودکار ’’نیوکلیئر امبریلا‘‘ سمجھنا درست نہیں ہوگا، لیکن پاکستان کی مجموعی دفاعی قوت، ٹیکنالوجی، تربیت اور تزویراتی تجربہ یقیناً کسی وسیع مشترکہ دفاعی نظام کو غیر معمولی وزن دے سکتا ہے۔

معاہدۂ مکہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب بھارت اپنی عسکری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے اور جدید جنگی طیاروں، میزائل نظام اور دیگر دفاعی ٹیکنالوجیز پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔ نئی دہلی یقیناً پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان اس بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔

ایک مضبوط دفاعی اتحاد کا پیغام بالکل واضح ہونا چاہیے: ہم کسی پر حملہ نہیں کریں گے، لیکن کسی رکن کے خلاف جارحیت کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

یہی حقیقی ڈیٹرنس ہے اور یہی طاقت کے ذریعے امن کو یقینی بنانے کا مؤثر اصول بن سکتا ہے۔

فلسطین کا مسئلہ اور اسرائیلی توسیع پسندی مسلم دنیا کے لیے بدستور بنیادی تشویش ہیں۔ نام نہاد ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے تناظر میں ایک متحد مسلم دفاعی اور سفارتی پلیٹ فارم غیر معمولی اہمیت اختیار کر سکتا ہے۔

مسلم ممالک کی تقسیم نے کئی دہائیوں سے مسئلہ فلسطین پر ان کی اجتماعی قوت کو محدود کر رکھا ہے۔ اگر مسلم دنیا اقتصادی، سیاسی اور دفاعی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرتی ہے تو فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اس کی آواز کہیں زیادہ مؤثر اور طاقتور ہو سکتی ہے۔

لیکن یہ اتحاد صرف فوجی طاقت کا نام نہیں ہونا چاہیے۔ اس کی حقیقی قوت مشترکہ سفارت کاری، اقتصادی تعاون، انٹیلی جنس اشتراک، مشترکہ دفاعی پیداوار، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور تنازعات کی روک تھام میں ہونی چاہیے۔

افغانستان کو بھی اس نئی علاقائی حقیقت سے مثبت سبق حاصل کرنا چاہیے۔ افغانستان کا مستقبل پاکستان یا کسی دوسرے ہمسایہ ملک سے محاذ آرائی میں نہیں بلکہ تجارت، علاقائی روابط اور پُرامن بقائے باہمی میں ہے۔

ایک وسیع مسلم سلامتی کا نظام افغانستان کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ایک موقع بن سکتا ہے، بشرطیکہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف دہشت گردی یا عدم استحکام کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

معاہدۂ مکہ کے پس منظر میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دفاعی سفارت کاری اور مسلم ممالک کی قیادت کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کو علاقائی سلامتی اور مسلم دنیا کے مشترکہ دفاع کے مباحث میں مرکزی مقام دلانے میں ان کا کردار اہم ہے۔

اگر آنے والے برسوں میں ان کی کوششیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اس دفاعی تعاون کو ایک وسیع مسلم امن و سلامتی کے نظام میں تبدیل کرنے، عرب ممالک اور ایران کو قریب لانے اور بڑی علاقائی جنگوں کو روکنے میں کامیاب ہوتی ہیں تو ان خدمات کی عالمی سطح پر پذیرائی فطری ہوگی۔

اور اگر یہ کوششیں واقعی جنگیں رکوانے، متحارب قوتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے اور دیرپا امن قائم کرنے میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرتی ہیں تو مستقبل میں نوبیل امن انعام جیسے عالمی اعزاز کے لیے نامزدگی یا غور بھی خارج از امکان نہیں۔ تاہم کسی شخصیت کے لیے سب سے بڑا اعزاز کوئی انعام نہیں، بلکہ اس کی کوششوں کے نتیجے میں قائم ہونے والا پائیدار امن ہوگا۔

معاہدۂ مکہ کو کسی نئے جنگی بلاک کی بنیاد نہیں بننا چاہیے۔ اسے امن کے لیے طاقت اور طاقت کے ذریعے ڈیٹرنس کے ایک ایسے نظام میں تبدیل ہونا چاہیے جو مسلم ممالک کی خودمختاری اور علاقائی استحکام کی ضمانت بن سکے۔

مسلم دنیا کے پاس تقریباً ہر وہ چیز موجود ہے جو اسے عالمی سطح پر ایک باوقار اور مؤثر قوت بنا سکتی ہے—وسائل، آبادی، جغرافیہ، سرمایہ، توانائی، فوجی قوت اور ٹیکنالوجی۔ جس چیز کی سب سے زیادہ کمی محسوس ہوتی رہی ہے وہ اتحاد، باہمی اعتماد اور مشترکہ حکمت عملی ہے۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگر واقعی اس سمت میں پہلا قدم اٹھایا ہے تو اس سفر کو اب رکنا نہیں چاہیے۔

معاہدۂ مکہ کو قطر، کویت، بحرین، مصر اور بالآخر ایران سمیت وسیع تر مسلم دنیا کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم بننا چاہیے۔

ایسا اتحاد کسی قوم کے خلاف نہیں بلکہ جنگ کے خلاف ہونا چاہیے؛ کسی ملک کو فتح کرنے کے لیے نہیں بلکہ مسلم ممالک کی خودمختاری، سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہونا چاہیے۔

4 noاگر یہ مقصد حاصل ہوگیا تو تاریخ معاہدۂ مکہ کو محض تین ممالک کا دفاعی معاہدہ نہیں کہے گی۔

یہ شاید اُس تاریخی لمحے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جب مسلم دنیا نے اپنی سلامتی، اپنے مستقبل اور خطے کے عظیم تر امن کی ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا—اور ایک حقیقی ’’مسلم نیٹو‘‘ کی بنیاد رکھ دی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X