LOADING

Type to search

Uncategorized

لاہور (اردو ٹائمز) لمز پہلی بار ایشیا کے مطالعے پر دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی کانفرنس کی میزبانی کے لیے تیار

Share

لاہور (اردو ٹائمز): لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) 25 ستمبر سے تین روزہ ایشیا کے مطالعے پر دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی کانفرنس AAS-in-Asia 2026 کی میزبانی کرے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار علومِ انسانی اور سماجی علوم کے شعبوں کی اس عالمی سطح کی کانفرنس کا انعقاد ملک میں ہو رہا ہے، جو نہ صرف لمز بلکہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی شعبے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

Centering Asia: Refiguring Connections, Recharting Futures
کے عنوان سے منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں 37 سے زائد ممالک سے ایک ہزار سے زیادہ محققین شرکت کریں گے۔ شرکاء میں دنیا کی معروف جامعات کے ماہرینِ تعلیم شامل ہوں گے، جن میں پیکنگ یونیورسٹی، سنگھوا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ٹوکیو، نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور، نین یانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی، ہارورڈ یونیورسٹی، کیمبرج یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی اور ییل یونیورسٹی سمیت دیگر ممتاز جامعات کے اساتذہ اور محققین شامل ہیں۔

AAS-in-Asia اس سے قبل جنوبی کوریا، انڈونیشیا، نیپال، جاپان اور بھارت سمیت مختلف ممالک میں منعقد ہو چکی ہے۔ پاکستان میں پہلی بار اس عالمی کانفرنس کا انعقاد لمز اور لاہور کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ AAS-in-Asiaکانفرنسیں ایشیا بھر میں وسیع بین الاقوامی شرکت اور توجہ کا مرکز بنتی ہیں۔

مشتاق احمد گرمانی اسکول آف ہیومینٹیز اینڈ سوشل سائنسز (MGSHSS) کے ڈین اور بلقیس داؤد چیئر ڈاکٹر علی خان نے کہا، ”یہ کانفرنس اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان دنیا کو بہت کچھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمیں دنیا بھر سے آنے والے محققین کو لاہور میں خوش آمدید کہتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ خود دیکھیں کہ پاکستان کا تعارف صرف خبروں میں بیان کیے جانے والے تاثر تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک متحرک، متنوع اور فکری طور پر مضبوط معاشرہ ہے۔ یہ لاہور کو عالمی تعلیمی نقشے پر نمایاں کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔”

کانفرنس کا مرکزی خطاب ڈاکٹر عادل نجم کریں گے، جو WWF International کے صدر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ محقق ہیں۔ ان کی تحقیقی خدمات بین الاقوامی تعلقات، ماحولیات، ترقیاتی امور اور جنوبی ایشیا سے متعلق موضوعات پر محیط ہیں۔

کانفرنس ڈائریکٹر اور لمز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر فرخ خان نے کہا، ”یہ کانفرنس ایسے محققین کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی جو ایشیا اور دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات سے متعلق اہم سوالات پر تحقیق کر رہے ہیں، جن میں خطے کی سیاست، ثقافت، معیشت اور تاریخ شامل ہیں۔ پاکستان، خصوصاً لاہور میں اس عالمی مکالمے کی میزبانی ایک غیرمعمولی موقع ہے، کیونکہ اس سے ایشیا کو اسی خطے میں رہ کر سمجھنے اور اس پر گفتگو کرنے کا موقع ملے گا۔”

کانفرنس کے پروگرام میں تاریخ، سیاسیات، انسانی معاشروں کے مطالعے، ادب، معاشیات اور فنون سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا جائے گا، جو دنیا بھر میں ایشیا کے مطالعے سے متعلق تحقیق کے وسیع دائرے کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستانی محققین کے لیے یہ کانفرنس ایک نادر اور اہم موقع فراہم کرے گی، جہاں وہ اپنی تحقیق عالمی سطح پر پیش کر سکیں گے، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتاز ماہرین سے تبادلہ خیال کر سکیں گے اور اس عالمی مکالمے کا حصہ بن سکیں گے جو اس مرتبہ پاکستان میں ہو رہا ہے۔

پاکستانی محققین کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے ”محققین معاونتی فنڈ” قائم کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر سے، خصوصاً بڑے شہروں کے علاوہ دیگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے محققین بھی اس کانفرنس میں شریک ہو سکیں۔ بہت سے محققین کے لیے یہ پہلا موقع ہوگا کہ وہ اپنی تحقیق بین الاقوامی سامعین کے سامنے پیش کریں گے۔

یہ کانفرنس لمز اور ایسوسی ایشن فار ایشین اسٹڈیز (AAS) کے درمیان طویل المدتی تعاون کا نتیجہ ہے۔ ڈاکٹر کرسنا اُک، کنسلٹنٹ ڈائریکٹر AAS اور Beyond Asia نے اس شراکت داری کو تشکیل دینے اور کانفرنس کی منصوبہ بندی و تیاری کے مراحل میں لمز کے ساتھ تعاون فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

مقامی سطح پر کانفرنس کے انتظامی امور کی قیادت تاجور اعوان، سینئر پروجیکٹ منیجر اور لمز کی سابق طالبہ کر رہی ہیں، جنہوں نے رابطہ کاری، شراکت داری، پروگرام، اسپانسرشپ اور ابلاغ سمیت مختلف شعبوں میں انتظامات کو مربوط کیا ہے۔ تاجور اعوان نے کہا، ”ہم چاہتے ہیں کہ اس کانفرنس کے لیے لاہور آنے والا ہر محقق شہر، یہاں کے لوگوں اور اس کی فکری و علمی زندگی سے آگاہی حاصل کرے۔ ہمیں اس عالمی اجتماع کی تیاری پر فخر ہے۔”

AAS-in-Asia 2026 کے لیے رجسٹریشن کا آغاز ہو چکا ہے۔ مزید معلومات کے لیے ویب سائٹ ملاحظہ کریں:
https://aasinasia2026.lums.edu.pk/

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X