LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال, ندی نالوں میں طغیانی ,خیبر پختونخوا میں تباہی

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) مون سون بارشوں کے باعث مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔کشمیر کی وادی نیلم کے نواحی گاؤں میں کلاووڈ برسٹ کے بعد ندی نالوں میں طغیانی آگئی، جس سے مکانات سمیت متعدد دکانیں سیلاب کی زد میں آگئیں ۔ مینگل نالے کے قریب متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکل بہہ گئیں۔ نالے میں آنیوالے سیلاب سے لوگوں کے مال مویشی بھی نالےمیں بہہ گئے۔ مرکزی شاہراہ نیلم پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی۔ حافظ آباد ہیڈ قادرآباد کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے جہاں پانی کی آمد ایک لاکھ 38 ہزار کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار کیوسک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہیڈ قادرآباد کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہےلیہ کے موضع سمرانشیب میں دریائے سندھ کی بے رحم موجیں بےقابو ہوگئیں۔ پانی کے تیز بہاؤ میں دو بڑے سرکاری اسکول دریا برد ہوگئے۔ دریائے سندھ کے کٹاؤ سے اب تک سینکڑوں ایکڑ فصلوں،300 مکانات کو نقصان پہنچا۔5 سے زائد بستیاں، 3مساجد ،بجلی کے پول ودیگر سرکاری املاک بھی متاثر ہوئیں۔مون سون بارشیں اس سال بھی حسن ابدال کے نواحی علاقے کوہلیہ سمیت درجنوں دیہاتوں کے مکینوں کے لیے زحمت بن گئیں۔ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت چندے سے تعمیر کیا گیا کوہلیہ پل ایک بار پھر تیز سیلابی ریلے کی نذر ہو گیا، جس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا کے سرحدی دیہات کا شہر سے رابطہ منقطع اور شہری شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے آج سے 25 جولائی تک مختلف علاقوں میں گرج چمک کےساتھ بارشوں کی پیشگوئی کی ہے۔ آج سے23 جولائی کے دوران دریاؤں وندی نالوں میں طغیانی اورنشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق شدید مون سون کا طاقتور سلسلہ کل سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا باعث بنےگا، گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور پنجاب میں فلیش سیلاب اور ہل ٹورنٹس میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ اعلامیے کے مطابق دریائے چناب پرمرالہ اور دریائے جہلم پرمنگلا کے بالائی حصے میں سیلابی ریلوں کا امکان ہے، سیالکوٹ، نارووال، گجرات بھمبر سے آنے والے نالے اور مریدکے میں فلیش سیلاب کاامکان ہے۔ ڈی جی خان، راجن پور، مری اور گلیات کے ندی نالوں میں شدیدبارشوں سے سیلاب کا خدشہ ہے، دریائے کابل اوراس کے معاون دریاؤں میں بلند پانی کی سطح کاخطرہ ہے، دریائےکابل کے ملحقہ علاقوں بلخصوص پنجکورہ، سوات اورچترال میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
خیبر میں تیز بارش کے باعث مختلف مقامات پر سیلابی ریلوں میں دو گاڑیاں بہہ گئیں۔ سوار خواتین اور بچوں کو بچا لیا گیا جبکہ سیلابی ریلے میں بہہ جانے والے 5 افراد کی لاشیں مل گئیں۔ علاقہ خوگہ خیل زکریا مسجد کے قریب بھی کار سیلابی ریلے کی نذر ہوئی، موٹر کار میں موجود تمام افراد کو بحفاظت نکال دیا گیا ہے۔

ملک بھر میں حالیہ مون سون بارشوں کے طاقتور سلسلے کے باعث خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے جبکہ پنجاب کے مختلف ندی نالوں اور دریاؤں میں شدید سیلاب کا الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا میں سیلابی ریلوں سے تباہیجانی نقصان: ضلع خیبر، لنڈی کوتل اور جمرود کے علاقوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کی زد میں آکر بچوں اور افغان مہاجرین سمیت کم از کم 8 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔انفراسٹرکچر کی تباہی: شدید بارشوں کے باعث پاک افغان شاہراہ سمیت متعدد رابطہ سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ 10 سے زائد کچے مکانات اور چاردیواریاں منہدم ہو چکی ہیں اور درجن سے زائد افراد زخمی ہیں۔دریاؤں میں طغیانی کا خطرہ: دریائے کابل اور اس کے معاون دریاؤں (پنجکورہ، سوات اور چترال) میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔
کوہِ سلیمان کے ری ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں کوہِ سلیمان سے آنے والے پہاڑی ریلوں (ہل ٹورنٹس) نے سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق دریائے چناب پر مرالہ اور دریائے جہلم پر منگلا کے بالائی حصوں میں بڑے سیلابی ریلوں کا امکان ہے۔ سیالکوٹ، نارووال، گجرات اور مریدکے کے مقامی ندی نالوں میں فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کا شدید خطرہ موجود ہے۔ لیاقت پور کے نواحی علاقوں میں دریائے سندھ اور چناب کے کٹاؤ کی وجہ سے بستیاں اور سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی زیرِ آب آ چکی ہے۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے، غیر ضروری طور پر دریاؤں اور ندی نالوں کا رخ نہ کرنے اور بچوں کو پانی میں نہانے سے روکنے کی ہدایت کی ہے۔ ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں، جہاں بنیادی سہولیات اور ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مزید کہا کہ شہری موسم و سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں اور ندی نالوں کے اطراف سیرو تفریح سے گریز کریں، بچوں کا خاص خیال رکھیں انہیں دریاؤں ندی نالوں میں ہرگز نہ نہانے دیں۔
خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں ہونے والی بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث مختلف حادثات میں 8 افراد جاں بحق جب کہ متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں جب کہ ایبٹ آباد سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے اور گلیات میں بارش اور شدید دھند سے حد نگاہ صفر ہوگئی۔ سیلابی ریلوں کے باعث 8 افراد جان کی بازی ہار گئے جب کہ 2 خواتین سمیت متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ ریسکو 1122 کے مطابق مردان رستم کالو ڈھیری میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچے جاں بحق جب کہ ماں اور بیٹی شدید زخمی ہوگئیں۔ ضلع خیبر میں ہونے والی موسلا دھار بارش اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی ہے، جہاں مختلف واقعات میں 6 افراد جاں بحق جب کہ کئی افراد زخمی ہوگئے جب کہ شدید بارش کے باعث لنڈی کوتل اور گردونواح میں متعدد رابطہ سڑکیں متاثر ہوئیں اور کچے مکانات اور 10 سے زائد گھروں کی چاردیواریاں بھی منہدم ہوگئیں.
ایبٹ آباد اور ہری پور سمیت مختلف اضلاع میں بھی بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی سے شاہراہ ریشم پر پانی جمع ہونے سے سڑک تالاب کا منظر پیش کرنے لگی، جس کے باعث ٹریفک بلاک ہو گئی۔ گلیات کے علاقوں میں بارش اور شدید دھند کے باعث حدِ نگاہ صفر ہو گئی ہے، اس صورت حال پر گلیات ڈویلپمنٹ اتھارتی (جی ڈی اے) کی جانب سے سیاحوں کے لیے اہم ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ جی ڈی اے نے الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”سیاح نتھیا گلی اور ڈونگا گلی کی طرف سفر کرنے سے گریز کریں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرناک علاقوں میں اپنی گاڑیاں ہرگز پارک نہ کریں“۔ قبل ازیں محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ خیبر پختونخوا، کشمیر، اسلام آباد، بالائی اور وسطی پنجاب اور گلگت بلتستان میں وسیع پیمانے پر بارش کا امکان ہے جب کہ اس کے برعکس ملک کے جنوبی حصوں میں شدید گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار رہے گی۔ اسلام آباد میں کہیں ہلکی اور کہیں موسلادھار بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا ہے جب کہ صوبہ بلوچستان کے زیادہ تر اضلاع میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کے ساتھ ساتھ خضدار، موسیٰ خیل، شیرانی، کوہلو، ژوب اور بارکھان کے علاقوں میں آندھی اور بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بھی شہر کے مختلف حصوں میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی ہے، جس پر واسا نے تمام اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں۔ واسا کے مطابق گلشن راوی میں سب سے زیادہ 34.2 ملی میٹر اور سمن آباد میں 31.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ سگیاں میں 17.4، فرخ آباد میں 11.6، اقبال ٹاؤن میں 11، لکشمی چوک میں 6.8، پانی والا تالاب میں 1.4، چوک ناخدا میں 0.4، اور ہیڈ آفس گلبرگ و نشتر ٹاؤن میں 0.2 ملی میٹر بارش ہوئی تاہم جیل روڈ، ایئرپورٹ، اپر مال، مغلپورہ اور تاجپورہ کے علاقوں میں بارش ریکارڈ نہیں ہوئی۔ لاہور میں نکاسیِ آب کی صورتحال پر واسا انتظامیہ الرٹ ہے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں کے لیے فلیش فلڈ کا الرٹ جاری کیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں 25 جولائی تک گلیشیرز پگھلنے کا شدید خدشہ ہے، جس کے باعث ندیاں اور نالوں میں پانی کے بہاؤ میں بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔ این ڈی ایم اے نے ہنزہ، نگر، سکردو، شگر، استور اور دیامر میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے خدشات ظاہر کیے ہیں جب کہ اپر اور لوئر چترال اور ان کے ملحقہ علاقوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔ شانگلہ کے مقام پر بھی دریائے سندھ میں پانی کا بہاؤ کافی تیز ہوگیا ہے
پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے میں دریاؤں کی موجودہ صورت حال سے متعلق رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے تاہم دریائے چناب کے خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورت حال برقرار ہے۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق خانکی کے مقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ پچیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ سترہ ہزار کیوسک جب کہ قادر آباد میں پانی کی آمد ایک لاکھ چھیالیس ہزار اور اخراج ایک لاکھ ستائیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ دریائے راوی، ستلج اور سندھ کے مختلف مقامات پر پانی کا بہاؤ فی الحال نارمل سطح پر ہے جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک مون سون بارشوں کے باعث دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے کا خدشہ ہے۔ دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ نالوں، بسنتر، ڈیگ، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا میں سیلاب جب کہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ہنگامی صورتحال کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات نے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اور انتہائی اہم احتیاطی تدابیر جاری کر دی ہیں۔حکام کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق سیلاب کا الرٹ آتے ہی تمام شہریوں کو قبل از وقت تیاری مکمل کرنی چاہیے، جس کے لیے ایک ہنگامی بیگ تیار رکھنا لازمی ہے جس میں پینے کا صاف پانی، خشک خوراک، فرسٹ ایڈ بکس، ضروری ادویات، ٹارچ اور پاور بینک موجود ہوں اس کے ساتھ ہی اپنے تمام اہم دستاویزات جیسے شناختی کارڈ، پاسپورٹ، نقدی اور زمین کے کاغذات کو فوری طور پر پلاسٹک کے واٹر پروف تھیلوں میں منتقل کریں اور اپنے علاقے میں موجود محفوظ اور اونچی جگہوں یا ریلیف کیمپوں کی نشان دہی پہلے سے کر کے رکھیں۔ ہنگامی ضرورت کے وقت فوری مدد حاصل کرنے کے لیے مقامی انتظامیہ، ریسکیو 1122 اور قریبی ہسپتالوں کے رابطہ نمبرز ہر وقت اپنے پاس محفوظ رکھیں۔سیلابی پانی گلیوں یا گھروں میں داخل ہونے کی صورت میں فوری طور پر گھر کا مین الیکٹرک سوئچ اور گیس کا والو بند کر دیں تاکہ کرنٹ لگنے یا آگ لگنے کے بڑے حادثات سے بچا جا سک پانی کی سطح بلند ہونے پر فوری طور پر گھر کی بالائی منزل یا قریبی بلندی والے مقام پر منتقل ہو جائیں اور اس عمل میں بچوں، خواتین، بیماروں اور بزرگوں کو ترجیحی بنیادوں پر محفوظ مقامات پر پہنچائیں۔ کسی بھی صورت میں تیز بہاؤ والے پانی یا گلیوں کے سیلابی پانی میں پیدل چلنے یا گاڑی چلانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ چند انچ کا تیز پانی بھی گاڑی کو بہا لے جانے کی طاقت رکھتا ہے اور باہر نکلتے وقت بجلی کے کھمبوں، لٹکتے تاروں اور کھلے مین ہولز سے مکمل دوری اختیار کریں۔صحت کی حفاظت کے حوالے سے انتہائی سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ سیلاب کے دوران پانی شدید آلودہ ہو جاتا ہے، اس لیے صرف ابلا ہوا، کلورین ملا یا مستند کمپنی کا بوتل والا پانی ہی استعمال کریں ایسی تمام خوراک کو فوری طور پر ضائع کر دیں جو سیلاب کے پانی سے چھو گئی ہو یا خراب ہو چکی ہو، اور اگر کسی مجبوری میں پانی میں اترنا پڑے تو بوٹ اور حفاظتی لباس ضرور پہنیں تاکہ پانی میں موجود سانپ، بچھو یا دیگر زہریلے حشرات کے کاٹنے سے محفوظ رہا جا سکے۔ سیلاب کے بعد ریڈیو، ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی آفیشل ہدایات پر مسلسل نظر رکھیں، غیر تصدیق شدہ خبروں اور افواہوں پر بالکل کان نہ دھریں، اور جب تک ریسکیو ادارے اور انتظامیہ آپ کے علاقے کو مکمل طور پر محفوظ قرار نہ دے دیں، اپنے گھروں کو واپس جانے کا خطرہ ہرگز نہ اٹھائیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X