LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) صدر گلگت بلتستان شہداء فاؤنڈیشن، بہادر جمیل نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے شہداءِ پاکستان سے متعلق دیے گئے *بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کے لواحقین اپنے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں پر فخر کرتے ہیں۔

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) صدر گلگت بلتستان شہداء فاؤنڈیشن، بہادر جمیل نے مولانا فضل الرحمٰن کی جانب سے شہداءِ پاکستان سے متعلق دیے گئے *بیان کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہداء پوری قوم کا سرمایہ ہیں اور ان کے لواحقین اپنے عظیم شہداء کی لازوال قربانیوں پر فخر کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن اپنے بیان پر نظرثانی کریں اور اگر ان کے الفاظ سے شہداء کے ورثاء کی دل آزاری ہوئی ہے فی الفور معافی مانگے ۔صدد بہادر جمیل نے کہا کہ ہم ان عظیم شہداء کے وارث ہیں جنہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع، ملکی سلامتی اور اپنے قومی فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہداء کے لواحقین کو تنخواہ، پنشن اور دیگر مراعات کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے، جس کی مثال اسلامی تاریخ، بالخصوص خلافتِ راشدہ کے دور میں بھی ملتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن کو اس نظام پر اعتراض ہے تو انہیں اپنے تاریخی اور شرعی علم کی روشنی میں اس موضوع پر سنجیدگی سے غور و فکر درکار ہے صدر گلگت بلتستان شہداء فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمٰن کو افواجِ پاکستان کے جوانوں کی قربانیوں اور ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات کا صحیح اندازہ نہیں تو وہ اپنے صاحبزادے سمیت منفی 90 ڈگری سینٹی گریڈ سردی میں سیاچن، گلتری، گیاری، کارگل، حمزہ گونڈ اور دیگر اگلے محاذوں پر تعینات جوانوں کے ساتھ ایک ماہ گزاریں اور وہاں کے حالات کا قریب سے مشاہدہ کریں تاکہ انہیں ان قربانیوں کی حقیقی اہمیت کا احساس ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم، شہداء کے لواحقین، انہیں ایک ماہ کے لیے 10 لاکھ روپے ماہانہ دینے کو تیار ہیں، اور اگر وہ سینے پر گولی کھا کر شہید ہو جائیں تو ہم ان کی بیوہ اور بچوں کو 2 کروڑ روپے ادا کریں گے۔ شہادت ہمارے جذبۂ ایمانی کا حصہ ہے، جو منافقت، سیاسی نعروں یا زبانی دعوؤں سے حاصل نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان سمیت پورے پاکستان کے شہداء کے لواحقین مولانا فضل الرحمٰن کے اس بیان کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور اپنے الفاظ پر معافی مانگیں۔ ورنہ شہیداء لواحقین قانون کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X