اسلام آباد (اردو ٹائمز) محرم کا مہینہ,امن کا عالمگیر پیغام
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) محرم کا مہینہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قربانیِ امام حسین علیہ السلام کسی ایک مکتبِ فکر کے لیے نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ظلم کے خلاف صبر، استقامت اور امن کا عالمگیر پیغام ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ ماہِ محرم الحرام محض ایک مہینہ نہیں، بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے امن، رواداری اور ایثار کا عالمگیر پیغام ہے,
اسلام کے چار مقدس مہینوں میں شامل یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کس طرح اپنے ذاتی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد، بھائی چارے اور صبر کا دامن تھاما جائے۔ ملکی موجودہ صورتحال میں ان اصولوں پر عمل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے,اس مقدس مہینے کے دوران ان اعلیٰ انسانی و اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
اتحاد اور بین المسالک ہم آہنگی مشترکہ اقدار پر توجہ:
نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے رفقا کی قربانی کسی ایک مسلک کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت اور اسلام کے تحفظ کے لیے تھی۔ تمام مکاتبِ فکر کے علما اور مشائخ کو چاہیے کہ وہ ممبر و محراب سے صرف محبت، یگانگت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا درس دیں۔ ایک دوسرے کے عقائد، نظریات اور مقدسات کا احترام کرنا ہی امن کی پہلی سیڑھی ہے۔
ماتمی جلوسوں اور مجالس کے راستوں پر پانی کی سبیلیں لگانا، لنگر تقسیم کرنا اور صفائی کا خیال رکھنا ہمیشہ سے مسلمانوں کی خوبصورت روایت رہی ہے۔
سوشل میڈیا یا محافل میں کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا نفرت آمیز مواد کو پھیلنے سے روکنا اور افواہوں پر کان نہ دھرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
مقامی سطح پر مختلف مسالک کے لوگوں پر مشتمل امن کمیٹیاں سیکیورٹی اور انتظامات میں انتظامیہ کا ہاتھ بٹا کر بھائی چارے کی بہترین مثال قائم کرتی ہیں,
میدانِ کربلا ہمیں سکھاتا ہے کہ بدترین حالات اور مصائب میں بھی صبر، استقامت اور حق پر ڈٹ جانے کا نام ہی کامیابی ہے, انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی سیکیورٹی پابندیوں جیسے چیکنگ، موبائل سروس کی معطلی یا روٹس کی تبدیلی پر صبر اور تعاون کا مظاہرہ کرنا ہی اس مہینے کا اصل ضابطہ ہے۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعے یا اشتعال انگیزی کی صورت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے صبر اور دانشمندی سے کام لینا ملکی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان میں ماہ محرم الحرام 1448 ہجری کا آغاز ہو چکا ہے اور یومِ عاشورہ (10 محرم) 26 جون بروز جمعہ کو انتہائی مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا۔وزارتِ داخلہ کی طرف سے روایتی طور پر 9 اور 10 محرم الحرام یعنی 25 اور 26 جون 2026 کو ملک بھر میں عام تعطیلات کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیاہے، جس کے دوران تمام تعلیمی ادارے، بینک اور سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے ملک بھر میں امن و امان کی فضا برقرار رکھنے اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے سخت حکومتی اور انتظامی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزارتِ داخلہ اور صوبائی حکومتوں نے سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف سخت ایکشن شروع کر دیا ہے۔ سیکڑوں مشکوک اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کے لیے سائبر کرائم ٹیمیں فعال ہیں۔
پنجاب اور بلوچستان سمیت مختلف صوبوں میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
محرم کے دوران صرف منظور شدہ اور روایتی راستوں پر ہی مجالس اور جلوسوں کی اجازت ہوگی، کسی بھی نئے روٹ یا جلوس پر مکمل پابندی عائد ہے۔
اشتعال انگیز تقاریر کو روکنے کے لیے فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور کئی افراد کے مخصوص اضلاع میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے
اسلحے کی نمائش، وال چاکنگ، چاقو، خنجر یا ڈنڈے ساتھ رکھنے اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔
راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر کے مختلف حصوں میں امن و امان کے پیشِ نظر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں تین درجاتی سیکیورٹی نظام فعال ہے جس میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی درخواست پر لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، اور سرگودھا سمیت حساس اضلاع میں سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی کمپنیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔
راولپنڈی میں پولیس کی چھٹیاں منسوخ کر کے تمام اہلکاروں کو ڈیوٹی پر طلب کر لیا گیا ہے۔
اسلام آباد، لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں “سیف سٹی” کے جدید کیمروں کے ذریعے جلوسوں کی 24 گھنٹے لائیو مانیٹرنگ کی جا رہی ہے
سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ڈرون کیمروں کے استعمال اور اشتعال انگیز تقاریر پر مکمل پابندی عائد ہے۔ پنجاب کی سطح پر کیو آر کوڈ سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
یومِ عاشورہ اور جلوسوں کے روٹس پر سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر حساس علاقوں میں موبائل فون سروس عارضی طور پر معطل رہنے کا امکان ہے۔ جس کے لیے متبادل کے طور پر ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں ایل ٹی ای (LTE) کوریج فراہم کی جائے گی۔
نویں اور دسویں محرم الحرام کو بڑے شہروں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد ہوگی، تاہم خواتین اور بزرگوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔
ملک بھر میں اس مقدس مہینے کو اتحاد، بھائی چارے اور صبر کے ساتھ گزارنے پر زور دیا جا رہا ہےماہِ محرم الحرام کا اصل جوہر اور معرکہِ کربلا کا آفاقی سبق پوری انسانیت کے لیے ظلم کے خلاف ڈٹ جانے، امن کے قیام اور باہمی رواداری کا عالمگیر پیغام ہے۔
نواسہِ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام نے حرمین شریفین کے تقدس اور انسانی جانوں کے تحفظ کی خاطر ہجرت کا راستہ چن کر واضح کیا کہ اسلام جنگ و جدل کے بجائے ہمیشہ پرامن بقائے باہمی کا حامی ہے۔
پاکستان کی قومی پیغامِ امن کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ “پیغامِ پاکستان ضابطہ اخلاق” بھی اسی بین المسالک ہم آہنگی اور عالمی امن کو برقرار رکھنے کا ایک اہم تسلسل ہے۔ محرم کا مہینہ عالمی سطح پر درج ذیل بنیادوں کے ذریعے امن کا پیغام عام کرتا ہے
1۔ انسانی حقوق اور انصاف کی بالادستی :
کربلا کا واقعہ دنیا کو یہ آفاقی درس دیتا ہے کہ حق اور انصاف کی خاطر بڑی سے بڑی طاقت کے سامنے کھڑے ہونا ہی انسانیت کی معراج ہے۔
مظلوموں کی حمایت:
یہ مہینہ رنگ، نسل اور مسلک سے بالاتر ہو کر دنیا بھر کے تمام مظلوموں کے حقوق کے تحفظ اور ظالم کی نفی کا ابدی اعلان ہے۔
آزادیِ ضمیر اور برداشت عقائد کا احترام:
اسلام دوسرے مذاہب اور مکاتبِ فکر کے احترام کا درس دیتا ہے۔ محرم الحرام میں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام کر کے ہی پرامن معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
انتہا پسندی کی نفی: یہ مہینہ ہمیں سکھاتا ہے کہ داخلی انتشار، نفرت اور تعصب سے دور رہ کر ہی ایک پرامن اور مستحکم معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
ایثار اور فلاحِ عامہ خدمتِ خلق کا جذبہ:
جلوسوں اور مجالس کے دوران بلا تفریقِ مذہب و ملت سبیلیں لگانا، لنگر تقسیم کرنا اور پیاسوں کو پانی پلانا امن اور انسانیت سے محبت کی ایک بہترین عالمی مثال پیش کرتا ہے
قربانی کا لازوال جذبہ:
اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دینا اور اعلیٰ مقاصد کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا معاشرے میں ایثار کا کلچر فروغ دیتا ہے۔
ذمہ دارانہ سماجی رویےمثبت زبان کا استعمال:
علما اور خطبا پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ممبر و محراب سے صرف اتحادِ امت کی بات کریں اور ایسے جملوں سے پرہیز کریں جو امن کو سبوتاژ کریں۔
سوشل میڈیا کا پرامن استعمال: عصرِ حاضر میں سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی فرقہ وارانہ نفرت یا افواہ سازی کی نفی کرنا ہر شہری کا اخلاقی اور مذہبی فرض ہے۔قومی پیغامِ امن کمیٹی اور جید علمائے کرام کے مشترکہ فیصلے کے مطابق، محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنے کے لیے “پیغامِ پاکستان ضابطہ اخلاق” پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس تاریخی اور متفقہ بیانیے کا بنیادی مقصد ملک میں فرقہ وارانہ نفرت کا خاتمہ، بین المسالک ہم آہنگی کا فروغ اور تکفیر و انتہا پسندی کا سدِباب ہے۔
اس ضابطہ اخلاق کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں,
آئینِ پاکستان کا احترام :
تمام شہریوں کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کرنا اور ملکی سلامتی کے قوانین کی پاسداری کرنا لازمی ہے۔
بنیادی حقوق کا تحفظ:
بلا تفریقِ رنگ و نسل تمام شہریوں کی مساوات، آزادیِ عبادت اور مذہبی اجتماعات کے بنیادی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گا۔
انتہا پسندی اور مسلح کارروائیوں کی نفی :
نفاذِ اسلام یا کسی بھی نام پر ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد، جبر اور انتشار پھیلانے کی تمام کوششوں کو شریعت کی رو سے “بغاوت” قرار دیا گیا ہے۔
دہشت گردی سے لاتعلقی: تمام مسالک کے اکابرین اور قیادت خود کو ہر قسم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے مکمل الگ رکھیں گے۔
مقدسات کا احترام اور توہین کی ممانعت :
رسول اللہ ﷺ، تمام انبیاءِ کرام، خلفائے راشدین، اہل بیتِ اطہار، صحابہ کرام اور امہات المومنین کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی یا نازیبا کلمات کہنے پر مکمل پابندی ہے۔
عقائد پر حملوں کی روک تھام:
کسی بھی شخص یا مسلک کو دوسرے مکتبِ فکر کے خلاف اشتعال انگیز پروپیگنڈا کرنے یا ان کی توہین کرنے کی اجازت نہیں ہوگی,
کفر کے فتووں (تکفیر) پر پابندی,
کسی بھی مسلمان کو کافر یا “واجب القتل” قرار دینے کی سخت ممانعت ہے۔
عدالتوں کا دائرہ اختیار:
یہ واشگاف کیا گیا ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو خود سے کفر کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں، یہ خالصتاً عدالتوں کا آئینی دائرہ اختیار ہے۔
منبر و محراب اور سوشل میڈیا کا پرامن استعمال :
سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور خطباتِ جمعہ میں دل آزار کتابوں، آڈیوز/ویڈیوز یا تقاریر کی تشہیر پر سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی
مذہبی رواداری: علما، خطبا اور ذاکرین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اجتماعات میں صرف امن، بھائی چارے اور مشترکہ اسلامی اقدار کی تبلیغ کریں۔
اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ :
پاکستان میں مقیم غیر مسلم شہریوں کو اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزارنے اور اپنی عبادت گاہوں کے تحفظ کی مکمل آئینی ضمانت حاصل ہے
۔قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اعلامیے کے مطابق، ان نکات کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف انسدادِ دہشت گردی اور سائبر کرائم قوانین کے تحت فوری اور سخت ایکشن لیا جائے گا

