اسلام آباد (اردو ٹائمز) حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ ایک عملی دستورِ حیات
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) حضرت امام حسین علیہ السلام کی سیرتِ مبارکہ کائنات کے ہر انسان کے لیے ایک عملی دستورِ حیات ہے۔ آپ نے کربلا کے تپتے ہوئے میدان میں اپنے عمل سے ثابت کیا کہ زندگی کا اصل مقصد سچائی اور انسانی اقدار کا تحفظ ہے۔
10 محرم الحرام (روزِ عاشور) کی صبح، تاریخِ انسانیت کے سب سے بڑے اور بے مثل معرکے کا آغاز ہوا اس دن جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب نے حجت تمام کرنے اور خون خرابہ روکنے کے لیے یزیدی لشکر کے سامنے انتہائی فصیح و بلیغ خطبات دیئے ,تاریخی کتبِ , تاریخِ طبری اور الملہوف کے مطابق، صبحِ عاشور کے ابتدائی واقعات اور خطبات درج ذیل ترتیب سے پیش آئے:
صبحِ عاشور کے ابتدائی واقعات ;
لشکر کی ترتیب و آرائش: نمازِ فجر کے بعد امام حسین علیہ السلام نے اپنے مختصر لشکر جو روایات کے مطابق لگ بھگ 72 نفوس پر مشتمل تھا اسکی صف بندی فرمائی۔ آپ نے میمنہ (رائٹ ونگ) کی کمان حضرت زہیر بن قینؓ کو، میسرہ (لیفٹ ونگ) کی کمان حضرت حبیب بن مظاہرؓ کو سونپی اور علمِ عباس حضرت عباس بن علیؓ کے ہاتھ میں دیا,
خیموں کے پیچھے آگ جلانا:
امام عالی مقام نے خیموں کی پشت پر ایک خندق کھدوا کر اس میں لکڑیاں اور سرکنڈے ڈال کر آگ لگوا دی، تاکہ دشمن پیچھے سے اچانک حملہ نہ کر سکے۔
امام عالی مقام کی بارگاہِ الٰہی میں دعا:
جب عمر بن سعد کا لشکرِ جرار خیموں کی طرف بڑھا، تو امام حسین علیہ السلام نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور یہ مشہور دعا فرمائی:
“اے اللہ! ہر مصیبت میں تو ہی میرا سہارا ہے، اور ہر سختی میں تو ہی میری امید ہے.
. میدانِ کربلا کے تاریخی خطبات ;
جنگ شروع ہونے سے پہلے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے جلیل القدر اصحاب نے گھوڑوں پر سوار ہو کر یزیدی فوج کو مخاطب کیا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں حقیقت کا علم نہیں تھا۔
امام حسین علیہ السلام کا تاریخی خطبہ ;
آپؑ نے اپنا گھوڑا طلب کیا، اتمامِ حجت کے لیے یزیدی لشکر کے سامنے کھڑے ہوئے اور بلند آواز میں فرمایا:حق و انصاف کی دعوت: “لوگو! میری بات سنو، جنگ میں جلدی نہ کرو تاکہ میں تمہیں اس بات کی نصیحت کروں جو مجھ پر فرض ہے۔ اگر تم مجھ سے انصاف کرو گے تو خوش بخت ہو جاؤ گے، اور اگر تم انصاف نہیں کرو گے تو اپنے سارے ساتھیوں کو جمع کر لو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو。”اپنا تعارف اور مقام: “میرا نسب دیکھو کہ میں کون ہوں؟
کیا تمہارے لیے میرا قتل حلال ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ اور ان کے چچا زاد بھائی علی کا بیٹا نہیں ہوں؟
کیا سید الشہدا حضرت حمزہ اور جعفر طیار میرے چچا نہیں ہیں؟
کیا رسول اللہ کا میرے اور میرے بھائی کے بارے میں یہ فرمان نہیں کہ ‘یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں؟’
” کوفیوں کے خطوط کا ذکر: امام عالی مقام نے لشکر میں موجود کوفہ کے ان سرداروں (جیسے شبث بن ربعی اور قیس بن اشعث) کے نام لے کر پکارا جنہوں نے آپ کو خطوط لکھ کر بلایا تھا۔ جب انہوں نے انکار کیا تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس تمہارے خطوط آج بھی محفوظ ہیں
。بیعتِ یزید سے انکار:
جب آپ سے کہا گیا کہ یزید کی بیعت کر لیں، تو آپ نے وہ تاریخی جملہ فرمایا:”خدا کی قسم! میں ذلت کے ساتھ ان کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دوں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح اطاعت قبول کروں گا۔
حضرت زہیر بن قینؓ کا خطبہ;امامؑ کے بعد حضرت زہیر بن قینؓ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آئے اور کوفیوں سے فرمایا:”اے کوفہ کے لوگو! اللہ کے عذاب سے ڈرو۔
رسول اللہؐ کی اولاد کی مدد کرنا تم پر فرض ہے。 تم آلِ رسول کی مدد چھوڑ کر آلِ زیاد (ابنِ زیاد) اور یزید جیسے بدکاروں کی اطاعت کر رہے ہو؟
یاد رکھو، اللہ اپنے رسول کی ذریت کا پاس رکھنے والوں کو کبھی نہیں بھولے گا۔”
حضرت بریر بن خضیرؓ کا خطبہ;کوفہ کے نامور قاری حضرت بریر بن خضیر ہمدانیؓ آگے بڑھے اور یزیدی لشکر کو جھنجھوڑا:”اے لوگو! یہ محمد مصطفیٰؐ کی آل ہے جو تمہارے سامنے پیاسی کھڑی ہے۔ تم نے فرات کے پانی پر اپنے جانوروں اور خنزیروں کو چھوٹ دی ہوئی ہے لیکن رسول کے نواسے پر پانی بند کر رکھا ہے؟
تم قیامت کے دن رسول اللہؐ کو کیا منہ دکھاؤ گے؟”
خطبات کا اثر اور حر بن یزید ریاحیؓ کی توبہ ;
ان خطبات کا یزیدی لشکر پر تو کوئی اثر نہ ہوا، الٹا انہوں نے شور مچانا اور تیر چلانا شروع کر دیے。 لیکن حضرت حر بن یزید ریاحیؓ (جو یزیدی لشکر کے ایک اہم کمانڈر تھے) کے دل پر امام عالی مقام کے کلمات کا گہرا اثر ہوا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ عمر بن سعد ہر صورت جنگ پر بضد ہے، تو انہوں نے گھوڑے کا رخ حسینی خیموں کی طرف موڑ دیا، امام کے قدموں میں گر کر توبہ کی اور حسینی کاروان کے پہلے باقاعدہ شہید بنے۔
جنگ کا باقاعدہ آغاز;
خطبات اور اتمامِ حجت کے بعد، عمر بن سعد نے کمان میں تیر جوڑ کر حسینی خیموں کی طرف پھینکا اور کہا: “گواہ رہنا، امیر (ابنِ زیاد) کے سامنے کہ سب سے پہلا تیر میں نے چلایا ہے۔
” اس کے بعد جنگِ کربلا کا باقاعدہ اور خونریز آغاز ہوا جسے تاریخ میں “حملہ اولیٰ” کہا جاتا ہےحضرت امام حسین علیہ السلام نے میدانِ کربلا میں، بالخصوص 10 محرم (یومِ عاشورہ) کو، جنگ شروع ہونے سے پہلے یزیدی لشکر پر حجت تمام کرنے کے لیے انتہائی فصیح و بلیغ خطبات ارشاد فرمائے۔ ان خطبات کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ سچائی کو واضح کرنا اور دشمن کو گمراہی سے بچانا تھا۔
تاریخی روایات (جیسے تاریخِ طبری) کے مطابق، آپ علیہ السلام کے کلیدی خطبات کا اردو ترجمہ اور متن درج ذیل ہے:
1۔ یومِ عاشورہ کا پہلا تاریخی خطبہ (اپنا تعارف اور اتمامِ حجت)
حضرت امام حسین علیہ السلام اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر یزیدی لشکر کے سامنے تشریف لائے اور بلند آواز سے فرمایا:”اے لوگو! جلدی نہ کرو، میری بات سنو۔ مجھ پر لازم ہے کہ تمہیں نصیحت کروں اور اپنے آنے کا سبب بیان کروں۔
اگر تم میرا عذر قبول کر لو گے اور میری بات سچ مانو گے تو تم انصاف کی راہ پا لو گے۔ اور اگر تم میرا عذر قبول نہیں کرو گے تو اپنے تمام ساتھیوں کو بلا لو اور مجھ پر ٹوٹ پڑو اور مجھے مہلت نہ دو۔
یاد رکھو! میرا کارساز وہ اللہ ہے جس نے کتاب نازل کی اور وہ نیک بندوں کی سرپرستی کرتا ہے۔”اس کے بعد آپ علیہ السلام نے اپنا حسب و نسب یاد دلاتے ہوئے فرمایا:”اے لوگو! اپنے گریبانوں میں جھانکو اور سوچو کہ کیا تمہارے لیے میرا قتل کرنا اور میری حرمت کو پامال کرنا جائز ہے؟ کیا میں تمہارے نبی کا نواسہ نہیں ہوں؟ کیا سید الشہدا حضرت حمزہؓ اور جعفر طیارؓ میرے بزرگ نہیں ہیں؟ کیا تمہارے کانوں میں رسول اللہ ﷺ کا وہ فرمان نہیں گونجتا جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی (حسن علیہ السلام) کے بارے میں فرمایا تھا کہ: ‘یہ دونوں جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ؟
اگر تم میری اس بات کو سچ مانتے ہو تو یہی حق ہے، اور خدا کی قسم! میں نے زندگی میں کبھی جھوٹ نہیں بولا۔”
۔ کوفہ والوں کو ان کے خطوط یاد دلاناجب سامنے کھڑے لشکر کے کچھ افراد نے خاموشی اختیار کی، تو آپ علیہ السلام نے ان کوفہ والوں کے نام لے کر پکارا جنہوں نے آپ علیہ السلام کو خط لکھ کر بلایا تھا:”اے شبث بن ربعی! اے حجار بن ابجر! اے قیس بن اشعث! کیا تم لوگوں نے مجھے خط لکھ کر نہیں بھیجا تھا کہ ‘کوفہ کے پھل پک چکے ہیں، زمین سرسبز ہو چکی ہے اور آپ ہماری طرف تشریف لائیے کیونکہ آپ کا لشکر تیار ہے’؟”
جب انہوں نے خوف یا شرمندگی کے باعث انکار کیا، تو آپ علیہ السلام نے فرمایا:”خدا کی قسم! تم نے ایسا ہی کیا تھا۔ اب اگر تم مجھے ناپسند کرتے ہو، تو مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اللہ کی کسی دوسری پرامن زمین کی طرف لوٹ جاؤں۔”
۔ ذلت پر موت کو ترجیح دینے کا اعلان
(عاشورہ کا دوسرا خطبہ)جب قیس بن اشعث نے کہا کہ آپ اپنے آپ کو یزید اور عبیداللہ بن زیاد کے حوالے (بیعت) کیوں نہیں کر دیتے؟
تو حضرت امام حسین علیہ السلام نے تاریخی اور غیرتِ ایمانی سے بھرپور جواب دیا:
“لا وَاللَّهِ لا أُعْطِيهِمْ بِيَدِي إِعْطَاءَ الذَّلِيلِ وَلا أَفِرُّ فِرَارَ الْعَبِيدِ”
“خدا کی قسم! میں ذلیلوں کی طرح اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں (بیعت کے لیے) نہیں دوں گا، اور نہ ہی غلاموں کی طرح میدان سے بھاگوں گا۔
“آپ علیہ السلام نے مزید فرمایا:”اس بدبخت (ابنِ زیاد) نے مجھے دو راستوں کے درمیان لا کھڑا کیا ہے؛ یا تو تلوار اٹھا کر جنگ کروں یا ذلت (بیعت) کو قبول کر لوں۔ اور ‘ہیہات منا الذلۃ’ (ذلت ہم سے بہت دور ہے)۔
اللہ، اس کا رسول ﷺ، اور پاکیزہ آغوشِ تربیت جس میں، میں نے پرورش پائی ہے، یہ کبھی قبول نہیں کر سکتے کہ ہم اطاعتِ لئام (کمینوں کی اطاعت) کو معززین کی شہادت پر ترجیح دیں۔”
سفرِ کربلا کے دوران حکمرانوں کے ظلم پر خطبہ ;
میدانِ کربلا پہنچنے سے پہلے بھی راستے میں (مقامِ بیضہ پر) آپ علیہ السلام نے حر کے لشکر کے سامنے ایک جامع خطبہ دیا تھا، جس میں قیام کی وجہ بیان کی گئی:”اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: ‘جو شخص کسی ایسے جابر سلطان (حکمران) کو دیکھے جو اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کر رہا ہو، اللہ کے عہد کو توڑ رہا ہو، سنتِ رسول کی مخالفت کرتا ہو اور اللہ کے بندوں پر ظلم و گناہ کے ساتھ حکومت کرتا ہو؛ اور وہ شخص اپنے عمل یا زبان سے اس کے خلاف آواز نہ اٹھائے، تو اللہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اس خاموش رہنے والے کو بھی اسی ظالم کے ٹھکانے (جہنم) میں داخل کر دے’۔ لوگو دیکھو! انہوں نے شیطان کی اطاعت اختیار کر لی ہے اور رحمن کی فرمانبرداری چھوڑ دی ہے، انہوں نے زمین پر فساد پھیلایا ہے اور حدودِ الٰہی کو معطل کر دیا ہے۔”یہ خطبات واضح کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام آخری وقت تک اتمامِ حجت فرماتے رہے تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں حقیقت کا علم نہیں تھا۔ شبِ عاشور، 9 محرم کی رات، حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنے اصحاب اور اہل بیت کو جمع کر کے تاریخی خطبہ دیا، جس میں انہوں نے خدا کی حمد و ثنا کے بعد اپنے ساتھیوں کی بے مثال وفاداری کو سراہا اور انہیں بیعت سے آزاد کرتے ہوئے محفوظ مقام پر جانے کی اجازت دی۔ امام علیہ السلام نے چراغ بجھانے کا حکم دے کر ساتھیوں کو دشمن کی یلغار سے بچنے کا موقع دیا، لیکن اہل بیت اور اصحاب نے وفاداری کا عزم دہرایا۔ حضرت عباسؓ، مسلم بن عوسجہؓ، سعید بن عبداللہ حنفیؓ اور زہیر بن قینؓ سمیت تمام اصحاب نے جانثارانہ ردعمل کا اظہار کیا، جسے دیکھ کر امام عالی مقام نے انہیں جنت میں ان کے بلند مقامات سے آگاہ کیا ,اس آخری خطبے کے اہم ترین نکات ;
امام حسین علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بہترین انداز میں حمد و ثناء بیان کی اور فرمایا: “میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں نبوّت کے ذریعے عزت بخشی، قرآن کی تعلیم دی اور دین کی سمجھ عطا کی۔
امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: “میں روئے زمین پر اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر ساتھی اور اپنے اہل بیت سے زیادہ نیک اور صلہ رحمی کرنے والے اہل بیت نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ تم سب کو میری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے۔
امام حسین علیہ السلام نے واضح کیا: “میرا گمان ہے کہ کل ہمارا اس لشکر سے آخری دن ہوگا۔ لہٰذا میں تم سب کو اجازت دیتا ہوں کہ تم رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاؤ اور چلے جاؤ۔ تم میں سے ہر ایک میرے خاندان کے ایک فرد کا ہاتھ پکڑے اور بکھر جائے۔ یہ ظالم لوگ صرف میرے خون کے پیاسے ہیں اور مجھے پا کر کسی اور سے تعرض نہیں کریں گے۔
“اصحابِ باوفا کا لازوال جواب; یہ سن کر حضرت عباس بن علیؓ نے سب سے پہلے عرض کیا: “ہم ایسا کیوں کریں؟ کیا ہم آپ کے بعد زندہ رہیں؟! اللہ ہمیں وہ دن کبھی نہ دکھائے۔”دیگر تمام اصحاب اور بنی ہاشم نے بھی یک زبان ہو کر کہا: “خدا کی قسم! ہم آپ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ہم اپنی جانیں آپ پر قربان کر دیں گے تاکہ کل روزِ قیامت آپ کے جدّ (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے سرخرو ہو سکیں۔
“مقامِ شہادت کی بشارت;اس بے مثال وفا پر امام حسین علیہ السلام نے ان کے حق میں دعائیں کیں اور فرمایا: “خدا تم سب کو جزائے خیر دے۔ سنو! کل جو بھی میرے ساتھ رہے گا وہ شہید کر دیا جائے گا اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا۔” اس پر اصحاب نے انتہائی مسرت کا اظہار کیا۔

