LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکہ اور ایران ایک تاریخی امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری شدید تنازعات اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکہ اور ایران ایک تاریخی امن معاہدے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں کئی ماہ سے جاری شدید تنازعات اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ معاہدہ اتوار 14 جون 2026 کو طے پا جائے گا اور اس پر ڈیجیٹل (الیکٹرانک) دستخط کیے جائیں گے۔
اس پیش رفت میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا ہے، اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ دونوں ممالک معاہدے کے متن پر متفق ہو چکے ہیں اور پاکستان اس تاریخی موقع پر الیکٹرانک دستخط کی تیاریاں کر رہا ہے۔
معاہدے کے اہم ترین نکات اور ممکنہ شرائطامریکی ناکہ بندی کا خاتمہ: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق، مفاہمتی یادداشت کا پہلا اور بنیادی نکتہ ایران کے خلاف عائد امریکی معاشی و تجارتی ناکہ بندی کو ختم کرنا ہے۔
آبنائے ہرمز کا انتظام: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، اس تزویراتی آبی گزرگاہ کو فوری طور پر تمام بین الاقوامی جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
جوہری پروگرام پر مذاکرات:
ڈیجیٹل دستخط ہونے کے بعد، اگلے ہفتے سے دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے جن میں ایران کا جوہری پروگرام اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کا معاملہ تفصیلی بحث کے تحت لایا جائے گا۔
کارکردگی پر مبنی ڈیل: امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ محض زبانی وعدوں پر نہیں بلکہ عملی کارکردگی پر مبنی ہے؛ یعنی ایران کو معاشی فوائد اور پابندیوں میں نرمی اسی صورت ملے گی جب وہ اپنے اقدامات کی تصدیق فراہم کرے گا۔
علاقائی اور بین الاقوامی ردِعمل : امریکی صدر نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس پیش رفت کو سراہا اور بتایا کہ انہوں نے ایران پر طے شدہ فوجی حملے منسوخ کر دیے ہیں کیونکہ ایک “شاندار معاہدہ” ہونے جا رہا ہے۔
ایرانی تحفظات اور اندرونی سیاست: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں معاہدے کی شرائط پر حامی اور مخالفین دونوں موجود ہیں، تاہم چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے زور دیا ہے کہ اب تمام فریقوں کو بغیر کسی بہانے کے اپنے وعدوں پر پورا اترنا ہوگا۔
اسرائیل کا ردِعمل اور تشویش: اسرائیل ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہے اور امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کے خواہشمند تھے جسے صدر ٹرمپ نے آخری وقت پر روکا؛ اسرائیل کو اب بھی ایران کے جوہری پروگرام پر شدید تحفظات ہیں۔
یورپی ممالک کا مؤقف: فرانس اور دیگر مغربی ممالک نے دونوں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کی حقیقی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہوئے فوری طور پر حتمی معاہدہ طے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل مدتی امن کے قیام کے لیے ایک انتہائی اہم اور مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے “پرفیکٹ ڈیل” کے اعلان کے بعد، پابندیاں ہٹانے کا مجوزہ طریقہ کار اور پاکستانی معیشت پر اس کے اثرات درج ذیل ہیں:
پابندیاں ہٹائے جانے کا مجوزہ شیڈول ;
پہلا مرحلہ (فوری عملدرآمد): اتوار کو ڈیجیٹل دستخط ہوتے ہی ایران کے خلاف امریکی بحری اور تجارتی ناکہ بندی کو معطل کیا جائے گا تاکہ تجارتی جہازوں کی آمد و رفت شروع ہو سکے۔
دوسرا مرحلہ (تکنیکی مذاکرات): آئندہ ہفتے سے ایران کے جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کی حدود طے کرنے کے لیے تکنیکی کمیٹیوں کے اجلاس شروع ہوں گے
تیسرا مرحلہ (مرحلہ وار ریلیف):
ایران کی طرف سے جوہری شرائط پر عملدرآمد کی تصدیق کے ساتھ ساتھ، منجمد اثاثوں کی بحالی اور تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں بتدریج ختم کی جائیں گی۔
شرطِ کارکردگی: امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندیوں کا مکمل خاتمہ صرف “کارکردگی کی بنیاد” پر ہوگا؛ اگر ایران نے وعدہ خلافی کی تو پابندیاں فوری طور پر دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔
پاکستانی معیشت پر ممکنہ اثرات ;
پاک-ایران گیس پائپ لائن کی بحالی: اس معاہدے سے پاکستان پر امریکی پابندیوں (Snapback sanctions) کا خطرہ ٹل جائے گا، جس سے تعطل کا شکار پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبہ دوبارہ شروع ہو سکے گا۔
سستی توانائی کا حصول: ایران سے سستی گیس اور بجلی کی درآمد سے پاکستان میں جاری توانائی کا بحران کم ہوگا اور صنعتوں کے لیے پیداواری لاگت میں واضح کمی آئے گی۔
قانونی تجارت اور اسمگلنگ کا خاتمہ: بارڈر مارکیٹس فعال ہونے اور بینکنگ چینلز کھلنے سے دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی قانونی تجارت شروع ہوگی، جس سے پیٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ کا خاتمہ ہوگا۔
علاقائی تجارتی مرکز (Trade Hub): پاکستان، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطے بڑھنے سے سی پیک (CPEC) اور گوادر پورٹ کی اہمیت میں اضافہ ہوگا، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں فروری 2026 سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کی طرف ایک تاریخی اور غیر معمولی پیش رفت ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے متفقہ متن کی تصدیق کے بعد، اس سفارتی بریک تھرو کو “تاریخی امن” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
جس کے اہم ترین پہلو درج ذیل ہیں:اس امن معاہدے کو “تاریخی” کہا جا رہا ہے
خونی جنگ کا خاتمہ: یہ معاہدہ فروری 2026 سے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری اس براہِ راست جنگ کو روکے گا جس میں اب تک ہزاروں لبنانی اور ایرانی شہری جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈیل 2015 کے تاریخی جوہری معاہدے (JCPOA) سے کہیں زیادہ سخت اور جامع ہوگی، جس کے تحت ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عالمی معیشت کو بڑا ریلیف: اپریل سے جاری امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے سے عالمی سطح پر تیل کا سنگین بحران ٹل جائے گا اور پٹرولیم کی قیمتوں میں استحکام آئے گا۔
عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں یہ پاکستان کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے، جہاں اسلام آباد اور وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات اور مسودوں کی منتقلی میں مرکزی کردار ادا کیا۔
تاریخی امن کے راستے میں موجود بڑے چیلنجزامریکی اور ایرانی بیانات میں تضاد: جہاں صدر ٹرمپ اتوار (14 جون) کو ہی فریم ورک پر دستخط کا دعویٰ کر رہے ہیں، وہیں ایرانی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ متن کے بڑے حصے پر اتفاق کے باوجود تہران اپنی سرخ لکیروں پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ابھی حتمی فیصلہ باقی ہے۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو ایران پر حملے جاری رکھنے کے حامی تھے؛ تاہم صدر ٹرمپ کی یقین دہانی کے بعد کہ حتمی ڈیل میں ایران کا تمام افزودہ مواد ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا اور اس کے میزائل پروگرام پر پابندی ہوگی،
اسرائیل تاحال اس امن عمل کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔فنڈز کی واپسی کا معاملہ: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح کیا ہے کہ ایران کو محض دستخط کرنے پر کوئی منجمد فنڈز یا نقد رقم جاری نہیں کی جائے گی، بلکہ یہ مکمل طور پر “کارکردگی سے مشروط” معاہدہ ہوگا۔سوئٹزرلینڈ نے اس تاریخی امن معاہدے پر دونوں ممالک کے درمیان حتمی دستخطوں کی تقریب کی میزبانی کی پیشکش بھی کر دی ہے
امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع تاریخی امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً اسرائیل اور لبنان میں جاری حالیہ شدید کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ایک اہم ترین موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ چونکہ فروری 2026 سے جاری اس جنگ میں ایران کا براہِ راست کردار اور اس کے علاقائی پراکسیز (مثلاً حزب اللہ) مرکزی فریق ہیں، اس لیے اس ڈیل کے حالیہ سکیورٹی صورتحال پر درج ذیل براہِ راست اثرات مرتب ہوں گے:لبنان اور حزب اللہ کے محاذ پر اثرات ہمہ جہت جنگ بندی کا فریم ورک:
ایرانی دفترِ خارجہ کے مطابق تہران کا واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے لیے بنیادی اصرار یہی تھا کہ اس میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر حملوں کا فوری خاتمہ شامل کیا جائے۔
جون کے آغاز میں امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے تحت اسرائیل اور لبنان ایک فریم ورک پر متفق ہوئے تھے جس کے تحت حزب اللہ کو جنوبی لیتانی سیکٹر سے اپنے تمام جنگجو واپس بلانے ہوں گے۔
لبنانی فوج کا کنٹرول: نئے سکیورٹی پلان کے تحت جنوبی لبنان کے مخصوص زونز میں سکیورٹی کا خصوصی اور اکیلا کنٹرول لبنانی مسلح افواج (LAF) کو سونپا جائے گا تاکہ غیر ریاستی عناصر کا اثر و رسوخ ختم کیا جا سکے۔
ممکنہ زمینی چیلنجزاسرائیلی حملوں میں تیزی: معاہدے کی خبروں کے باوجود اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے واضح کیا ہے کہ ان کی فوج مقبوضہ علاقوں سے پیچھے نہیں ہٹے گی، بلکہ ہفتے کے روز بھی اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے شہر نبطیہ سمیت 20 مقامات پر انخلا کی وارننگ جاری کر کے شدید بمباری کی ہے۔پراکسیز کے لیے ایرانی امداد کا خاتمہ: امریکی حکام کے مطابق اس فریم ورک کا بڑا مقصد یہ ہے کہ ایران حزب اللہ، حماس، اور یمن کے حوثی باغیوں کی مالی و عسکری معاونت مستقل طور پر بند کرے۔
اسرائیل کی آزادیِ عمل : اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو اور صدر ٹرمپ کے درمیان شدید سفارتی تناؤ دیکھا گیا ہے؛ اسرائیل کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی ایرانی یا حزب اللہ کی نئی دھمکی کی صورت میں یکطرفہ فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے
مجموعی طور پر، اگر ایران اس معاہدے کے تحت اپنی پراکسیز کو روکنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو لبنان اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری خونریز تصادم مستقل جنگ بندی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی قرارداد 1701 کی بنیادی شرائطحزب اللہ کا انخلا: اس قرارداد کے تحت حزب اللہ کے تمام جنگجوؤں اور عسکری انفراسٹرکچر کو جنوبی لبنان سے دریائے لیتانی کے شمالی کنارے تک پیچھے ہٹنا ہوگا۔
لبنانی فوج کی تعیناتی: اسرائیل اور دریائے لیتانی کے درمیانی علاقے (بلیو لائن زون) میں صرف لبنانی مسلح افواج (LAF) اور اقوامِ متحدہ کے امن دستوں (UNIFIL) کو ہتھیار رکھنے کی اجازت ہوگی
اسرائیلی فوج کی واپسی: جنگ بندی کے نفاذ کے ساتھ ہی اسرائیلی افواج جنوبی لبنان کے ان تمام علاقوں کو خالی کر دیں گی جہاں انہوں نے حالیہ حملوں کے دوران کنٹرول حاصل کیا ہے
غیر قانونی ہتھیاروں پر پابندی: لبنان کی سرحدوں کے اندر کسی بھی غیر ملکی یا غیر ریاستی گروہ کو لبنانی حکومت کی اجازت کے بغیر ہتھیار لانے یا رکھنے کی مکمل ممانعت ہوگی۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بحری راستوں کو کھولنے کے معاہدے کے بعد، ایران کی طرف سے حوثی باغیوں کو فراہم کی جانے والی لاجسٹک اور انٹیلیجنس سپورٹ معطل ہونے کا قوی امکان ہے، جس سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے رک جائیں گے
سفارتی دباؤ میں اضافہ: واشنگٹن اور تہران کے مابین فریم ورک کے تحت ایران پر یہ لازم ہوگا کہ وہ خطے میں استحکام لانے کے لیے یمن کے انصار اللہ (حوثی) دھڑے کو یکطرفہ جارحیت سے روکے۔سعودی-یمن امن عمل کی بحالی: خطے میں ایران اور امریکہ کی کشیدگی ختم ہونے سے یمن کی اندرونی جنگ کے خاتمے اور سعودی عرب کے ساتھ تعطل کا شکار امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا راستہ ہموار ہوگا۔لبنانی مسلح افواج (LAF) کو اپنی خودمختاری کی بحالی اور جنوبی لبنان میں کنٹرول سنبھالنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر عسکری اور مالی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ امریکہ، یورپی یونین اور فرانس کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا واحد راستہ لبنانی فوج کو مضبوط بنانا ہے
یورپی یونین نے جون 2026 کے آغاز میں یورپی پیس فیسلٹی (EPF) کے تحت لبنانی فوج کے لیے 100 ملین یورو (تقریباً 116 ملین ڈالر) کے چوتھے بڑے امدادی پیکیج کی منظوری دی ہے۔
بارڈر رجمنٹ کی تیاری: اس فنڈنگ سے لبنانی فوج کی لینڈ بارڈر رجمنٹ کو جدید آلات فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ ملکی سرحدوں کی نگرانی سخت کر سکے۔
نگرانی کی صلاحیتیں: سمندری سکیورٹی اور فوجی تنصیبات کی حفاظت کے لیے جدید ترین سرائیلنس اور مانیٹرنگ سسٹم فراہم کیے جا رہے ہیں۔
طبی اور لاجسٹک معاونت: اس پیکج میں فوجی ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور اہلکاروں کے لیے طبی سازوسامان بھی شامل ہے۔امریکی عسکری معاونت میں اضافہ ;
امریکی پینٹاگون اور سینٹرل کمانڈ اسرائیل-لبنان جنگ بندی کو مستقل بنانے کے لیے لبنانی فوج کی مالی اور عسکری امداد کے دائرہ کار کو بڑے پیمانے پر بڑھا رہے ہیں۔
ماضی کی طرح امریکہ لبنانی فوجیوں کی بنیادی تنخواہوں کی ادائیگی میں براہِ راست مالی معاونت کر رہا ہے تاکہ معاشی بحران کے باعث فوج کو کمزور ہونے سے بچایا جا سکے۔
امریکہ کی جانب سے فوجی نقل و حرکت کے لیے بکتر بند گاڑیاں، ہلکے ہتھیار اور مواصلاتی نظام فراہم کیے جا رہے ہیں۔حزب اللہ کا متبادل: پینٹاگون کا واضح ہدف ہے کہ لبنانی فوج کو جنوبی لبنان (دریائے لیتانی کا علاقہ) میں اس قابل بنایا جائے کہ وہ حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کر سکے
فرانس لبنانی حکام کی خودمختاری کی حمایت میں سب سے آگے ہے اور پیرس میں ایک بین الاقوامی سپورٹ کانفرنس کے انعقاد کی تیاری کر رہا ہے۔ فرانسیسی وزارتِ دفاع ہنگامی بنیادوں پر لبنانی فوج کو ایندھن (Fuel)، راشن، ادویات اور فوجی گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس فراہم کر رہی ہے تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں ان کی کارروائیاں معطل نہ ہوں۔اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ نے بھی لبنانی بحران سے نمٹنے کے لیے فلیش اپیل کے تحت اپنے فنڈنگ ہدف کو بڑھا کر 640 ملین ڈالر کر دیا ہے تاکہ سکیورٹی اور انسانی امداد کی فراہمی بیک وقت جاری رہ سکے۔ ایک عرصے تک واشنگٹن لبنان کے فوجیوں کی تنخواہوں میں بھی حصہ ڈالتا رہا ہے لبنان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہائیکل نے جون 2026 کے دوسرے ہفتے میں پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور تزویراتی دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے جی ایچ کیو راولپنڈی میں پاکستانی فورسز کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تفصیلی ملاقات کی۔ یہ دورہ محض روایتی عسکری تعلقات تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا براہِ راست تعلق امریکہ اور ایران کے مابین جاری امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار سے ہے۔اس دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں اور عسکری تعاون کے حوالے سے درج ذیل اہم فیصلے اور نکات سامنے آئے ہیں:
1۔ امریکہ-ایران امن عمل میں لبنان کی شمولیت ;
ثالثی کا اہم ترین لنک: فرانسیسی خبر رساں ادارے (AFP) کے مطابق، تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری امن ڈیل میں لبنان سب سے اہم فریق ہے۔ ایران کا اصرار رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کی صورت میں لبنان میں جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے، اور لبنانی فوج کے سربراہ کا دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔علاقائی سلامتی کا فریم ورک: دونوں فوجی سربراہان نے مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا تاکہ خطے میں جنگ بندی کے عمل کو پائیدار بنایا جا سکے۔2۔ عسکری و دفاعی تعاون کے بنیادی فیصلےپیشہ ورانہ روابط اور ادارہ جاتی تعلقات: انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے مطابق، دونوں ممالک کی مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ روابط اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا ہے۔تربیتی تعاون; پاکستان آرمی کی جانب سے لبنانی مسلح افواج (LAF) کے افسران اور جوانوں کے لیے خصوصی فوجی تربیت اور کورسز کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ لبنانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارا جا سکے۔
3۔ صلاحیتوں میں اضافہ (Capacity Building)پاکستانی ٹرینرز کی ممکنہ تعیناتی: دفاعی ذرائع کے مطابق، لبنانی فوج نے پاکستان کے ساتھ تعاون کو بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جس میں صلاحیتوں میں اضافے کے مقاصد کے لیے پاکستانی فوجی ٹرینرز اور معاون عملے کی لبنان میں ممکنہ تعیناتی بھی زیرِ غور لائی گئی ہے۔عالمی امن کوششوں کا اعتراف: جنرل روڈولف ہائیکل نے عالمی سطح پر اور بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پاکستان آرمی کے پیشہ ورانہ کردار اور قربانیوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔یہ دورہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ-ایران تاریخی امن معاہدے کے نفاذ اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کا کنٹرول مضبوط کرنے کے لیے پاکستان سفارتی اور عسکری دونوں محاذوں پر ایک کلیدی کھلاڑی بن کر ابھرا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X