LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) معاشی استحکام کا حامل عوام دوست بجٹ ,پنشن , تنخواہوں میں اضافہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے لیے 18 کھرب 77 ارب 10 کروڑ روپے کا عوام دوست بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔ بجٹ میں دفاع کے لیے 3,000 ارب مختص کیے گئے ہیں بجٹ دستاویزات کے مطابق دفاعی اخراجات کا تخمینہ 3000 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 450 ارب روپے زائد ہے، علاقائی سیکیورٹی صورت حال اور دفاعی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے مالی سال کے لیے دفاعی بجٹ 18 فیصد اضافے سے 3000 ارب روپے رکھا جائے گا جو کہ مجموعی وفاقی بجٹ کا تقریبا 15 فیصد ہے۔

نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1284 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 573 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 293 ارب روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

رواں سال دفاعی بجٹ میں پاک فوج کے لیے 1184 ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ پاک فضائیہ کے لیے 520 ارب روپے اور پاک بحریہ کے لیے 273 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 7 ارب 95 کروڑ رکھے گئے تھے، جو نظر ثانی کے بعد 11 ارب 74 کروڑ ہو چکے ہیں، نئے مالی سال کے دوران دفاعی بجٹ میں انتظامی اخراجات 10 ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں۔

نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 967 ارب کے اخراجات تجویز کیے گئے ہیں جب کہ جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں ملازمین سے متعلق 846 ارب کے اخراجات رکھے گئے تھے جو نظرثانی کے بعد 851 ارب روپے ہیں۔

نئے مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 743 ارب تجویز کیے گئے ہیں، جاری مالی سال کے دفاعی بجٹ میں آپریشنل اخراجات 704 ارب رکھے گئے تھے، جو نظرثانی کے بعد 721 ارب روپے ہیں۔

وفاقی حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں کمی کرتے ہوئے دفاعی اور سیکیورٹی ضروریات کو ترجیح دی ہے، دستاویز کے مطابق دفاعی بجٹ میں عام طور پر شامل اخراجات پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے آپریشنل اخراجات افسران اور جوانوں کی تنخواہیں و الاؤنسز بھی شامل ہیں۔ آئندہ مالی سال سے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس شرح میں کمی کر دی گئی ہے۔آئندہ مالی سال کا عوام دوست وفاقی بجٹ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے 12 جون 2026 کو قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے،
جس کا کل حجم 18,771 ارب روپے (18.77 ٹریلین) مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بجٹ کو “عوام دوست” اور معاشی استحکام کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، جس میں تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد کے لیے خصوصی ریلیف اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ کے اہم ترین خدوخال اور عوامی ریلیف کے اقدامات درج ذیل ہیں:
1۔ سرکاری ملازمین اور پینشنرز کے لیے ریلیف
تنخواہوں میں اضافہ:
مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔پینشن میں اضافہ: ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں بھی 7 فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
کم از کم اجرت: مزدور کی کم از کم ماہانہ اجرت کو بڑھا کر اس میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
2۔ تنخواہ دار طبقے اور عوام کے لیے ٹیکسز میں کمی انکم ٹیکس میں ریلیف: تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے 4 نئے ٹیکس سلیبز متعارف کروائے گئے ہیں۔
سالانہ 2.2 ملین سے 3.3 ملین روپے کمانے والوں کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں 3 فیصد کمی کی گئی ہے
پراپرٹی ٹیکس میں کمی:
فائلرز کے لیے جائیداد کی منتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (پراپرٹی ٹرانسفر ٹیکس) کو 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے تاکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو فروغ ملے۔خواتین اور صحت کے لیے اقدامات: سینٹری پیڈز اور مانع حمل ادویات پر سے تمام ٹیکسز مکمل ختم کرنے کی تجویز ہے۔
بین الاقوامی ٹرانزیکشنز:
کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بین الاقوامی ادائیگیوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔
3۔ سماجی بہبود اور نوجوانوں کے لیے پروگرامز
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP): غریب طبقے کی امداد کے لیے اس پروگرام کا دائرہ کار بڑھا کر 1 کروڑ 20 لاکھ افراد تک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ:
نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جس سے 120,000 نوجوان مستفید ہوں گے۔گرین جابز اور ماحولیات: ملک میں 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد درخت لگانے کا ہدف اور 23,775 گرین جابز (روزگار کے مواقع) پیدا کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
4۔ بجٹ کے دیگر بڑے اعداد و شمار ,شعبہ / مدمختص کردہ رقم / ہدف تفصیلات کل حجم18,771 ارب روپےپچھلے سال سے تقریباً 6.8 فیصد زائدایف بی آر ٹیکس ہدف15,264 ارب روپےٹیکس نیٹ بڑھانے پر توجہ قرضوں پر سود کی ادائیگی8,054 ارب روپےبجٹ کا سب سے بڑا حصہدفاعی بجٹ3,000 ارب روپےگزشتہ سال کے مقابلے میں 17.6 فیصد اضافہ مجموعی ترقیاتی بجٹ (PSDP)3,675 ارب روپےصوبوں اور وفاق کے مشترکہ ترقیاتی منصوبےمعاشی ترقی کا ہدف (GDP)4 فیصدپائیدار معاشی ترقی کا نشانہ مہنگائی کا تخمینہ8.2 فیصدمہنگائی کو یک ہندسی عدد پر رکھنے کی کوشش
5۔ نئے ٹیکسز اور پابندیاں : 2000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کرنے کی تجویز ہے
۔ڈیجیٹل انفلوئنسرز:
سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹرز اور انفلوئنسرز کی آمدنی پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
چھوٹے دکاندار: سالانہ 20 کروڑ روپے تک کی فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے 1 فیصد فکسڈ ٹیکس متعارف کروایا گیا ہےجمعے کو اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی بجٹ اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ دیگر اراکین بھی شریک ہوئے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کردی۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابا کرتے ہوئے حکومت مخالف نعرے لگائے، جس کے باعث ایوان کا ماحول کشیدہ ہو گیا جب کہ پی ٹی آئی اراکین ہاتھوں میں پلے کارڈز آٹھائے ایوان میں آئے جب کہ اپوزیشن ارکان نے بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر وزیرخزانہ محمد اورنگزیب پر پھینک دیں۔ اپوزیشن رہنماؤں کا ماننا ہے کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جب کہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔ کم سے کم تنخواہ پر 3 ہزار 700 روپے اضافہ کا ہوا ہے، جس کے بعد کم سے کم تنخواہ 40 ہزار 700 ہوگئی ہے جب کہ پنشن اخراجات کے لیے 11 کھرب 69 ارب روپے رکھے ہیں۔
وفاقی حکومت نے نجکاری پروگرام کو وسعت دیتے ہوئے جینکوز، ڈسکوز، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور ہوائی اڈوں کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ تین ڈسکوز کی نجکاری کے لیے اظہارِ دلچسپی کے نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جب کہ نجکاری کے عمل کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےعوام دوستِ وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے,قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی حکومت سرکاری اور نجی تنخواہ دار طبقے کو درپیش مشکلات سے بخوبی آگاہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے مختلف ٹیکس ریلیف اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے مختلف مالی اور معاشی اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ہماری حکومت نے آمدنی کی چار سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف فراہم کا فیصلہ کیا ہے۔

بجٹ تقریر میں انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فی صد اضافے کی تجویز پیش کی ہے۔ اسی طرح ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 7 فی صد اضافے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ بڑھتی مہنگائی کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کم سے کم ماہانہ اجرت میں 10 فی صد اضافے کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت کم سے کم تنخواہ میں 3 ہزار 700 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد کم سے کم ماہانہ تنخواہ 40 ہزار 700 روپے ہو جائے گی۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات عوام کی قوتِ خرید میں بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مددگار ثابت ہوں گے، جب کہ ان کا مقصد کم آمدن والے طبقے کو معاشی سہارا فراہم کرنا بھی ہے۔

بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹیکس ڈھانچے میں تبدیلیاں متعارف کرا رہی ہے تاکہ متوسط آمدن رکھنے والے افراد پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔

وزیر خزانہ کے مطابق سالانہ 22 لاکھ روپے سے 32 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد پر انکم ٹیکس کی شرح 20 فی صد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 30 فی صد سے کم کر کے 25 فی صد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

اسی طرح سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کرکے 29 فی صد جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 35 فی صد سے کم کر کے 32 فی صد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کمی کے علاوہ حکومت نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک دیرینہ عوامی مطالبہ تھا اور حکومت اس سے بخوبی آگاہ تھی,
اسی وجہ سے گزشتہ بجٹ میں اس سرچارج کی شرح 10 فیصد سے کم کر کے 9 فیصد کی گئی تھی، جب کہ اب اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں وزیراعظم کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر مالی بوجھ کم کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویزات اور فنانس بل کے مسودے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس کے دوران کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی بھی منظوری دی۔ موجودہ معاشی حالات، مالیاتی نظم و ضبط اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ تجاویز مرتب کی گئی ہیں، جن کا مقصد معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف شعبوں کو ضروری مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کر رہی ہے، وفاقی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم اور ٹیکس میں ریلیف دینے کے لیے 4 سلیبز کی تجویز پیش کی ہے۔بجٹ تجاویز کے مطابق 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 23 سے کم کرکے 20 فیصد، 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پر ٹیکس کی شرح 25 فیصد، 41 سے 56 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد جب کہ 56 سے 70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر انکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ مزید بتایا کہ حکومت نے کاروباری طبقے پر عائد سپر ٹیکس ختم کردیا ہے۔ 15 کروڑسے 50 کروڑ تک آمدنی پر سپر ٹیکس مکمل ختم کردیا ہے، 50 کروڑ سے زیادہ آمدنی پر سپرٹیکس 10 سے کم کر کے 8 فیصد کردیا۔ بجٹ تجاویز کے مطابق وفاقی حکومت کے مالی سال 27-2027 کے بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ دفاعی اخراجات کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاق کا ایک ہزارارب روپے جب کہ صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2224ارب روپے ہے۔ اگلے مالی سال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔جاری اخراجات سے آزاد کشمیر کے لیے 146ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88ارب دیے جائیں گے جب کہ خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کےلیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، ”اپنا گھر اسکیم“ کے لیے 71 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ مزید بتایا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں جائیداد منتقلی پر عائد ود ہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے، فائلرز کے لیے جائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز ہے جب کہ نان فائلرز کے لیے جائیداد کی فروخت پر ود ہولڈنگ ٹیکس 5.5 سے کم کرکے 2.75 فیصد کرنے کی تجویز ہے کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو جوڑنے کے لیے 100 ارب روپے، ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے جب کہ گوادر بندرگاہ اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے لیے 93 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں، بجلی کے شعبے کے لیے 116.2 ارب روپے، کراچی میں کے فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے جب کہ آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، ہاؤسنگ کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے ہیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر 1 لاکھ 50 ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں صنعت اور تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے، صحت کے لیے 25.1 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے الگ سے 3.6 ارب روپے رکھے ہیں جب کہ دانش اسکولوں کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجٹ میں آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید 3 سال 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے، برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے0.5 فیصد کردیا، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کردیا۔ بجٹ تجاویز کے مطابق چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کی اسکیم ہے، 20 کروڑ یا اس سے کم فروخت پر سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس عائد ہے، ٹیکس گوشوارے جمع کرتے وقت انہیں 25 ہزار روپے جمع کروانا ہوں گے، روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا، ٹیکس دینے والے دکاندار کو سبز تختی دی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے بجٹ 27-2026 میں لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں پر نئے اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی تمام پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں بالخصوص ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے جب کہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ وفاقی بجٹ میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے دائرے میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔

وزیر خزانہ نے ایوان میں بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر مراعات ختم نہیں کر رہی۔ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نئی آٹو پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آٹو موبائل سیکٹر کے لیے مزید اصلاحات متوقع ہیں۔

بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے وائٹ اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر بھی 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ان دونوں اشیاء کا استعمال پیٹرول اور دیگر مصوناعات میں غیر قانونی ملاوٹ کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کی گاڑیوں، صنعتی مشینری اور دیگر آلات کو نقصان پہنچتا ہے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس نئی ڈیوٹی کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی ملاوٹ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اور صارفین کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرناہے کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو جوڑنے کے لیے 100 ارب روپے، ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن کے لیے 25 ارب روپے جب کہ گوادر بندرگاہ اور چاروں صوبوں میں ٹرانسپورٹ کے لیے 93 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی کے لیے 10 کھرب 91 ارب روپے رکھے ہیں، بجلی کے شعبے کے لیے 116.2 ارب روپے، کراچی میں کے فور منصوبے کے لیے 10 ارب روپے جب کہ آبی منصوبوں کے لیے 103.1 ارب روپے مختص کیے ہیں، ہاؤسنگ کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے ہیں، وفاقی اور صوبائی سطح پر 1 لاکھ 50 ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ بجٹ میں صنعت اور تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے، صحت کے لیے 25.1 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب روپے اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے الگ سے 3.6 ارب روپے رکھے ہیں جب کہ دانش اسکولوں کے لیے 26.3 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ بجٹ میں آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید 3 سال 2029 تک جاری رکھنے کی تجویز ہے، برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کردیا، کریڈٹ یا ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پر ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے0.5 فیصد کردیا، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کردیا۔ بجٹ تجاویز کے مطابق چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس کی اسکیم ہے، 20 کروڑ یا اس سے کم فروخت پر سالانہ فروخت کا ایک فیصد ٹیکس عائد ہے، ٹیکس گوشوارے جمع کرتے وقت انہیں 25 ہزار روپے جمع کروانا ہوں گے، روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا، ٹیکس دینے والے دکاندار کو سبز تختی دی جائے گی۔ وزیر خزانہ نے بجٹ 27-2026 میں لگژری اور درآمدی گاڑیوں پر ٹیکسوں پر نئے اور اضافی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان بھی کیا۔ 2000 سی سی سے 3000 سی سی تک کی تمام پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں بالخصوص ایس یو ویز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جا رہی ہے جب کہ 3000 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر پہلے سے موجود ڈیوٹی میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ وفاقی بجٹ میں دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی الیکٹرک گاڑیوں کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے دائرے میں رکھنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس فیصلے کے بعد مہنگی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس لاگو ہوگا۔ وزیر خزانہ نے ایوان میں بتایا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر مراعات ختم نہیں کر رہی۔ الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور بسوں کے لیے موجودہ رعایتی نظام برقرار رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی نئی آٹو پالیسی پر غور کر رہی ہے، جس کے تحت مستقبل میں آٹو موبائل سیکٹر کے لیے مزید اصلاحات متوقع ہیں۔ بجٹ تقریر کے دوران وزیر خزانہ نے وائٹ اسپرٹ اور منرل تارپین آئل پر بھی 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات ان دونوں اشیاء کا استعمال پیٹرول اور دیگر مصوناعات میں غیر قانونی ملاوٹ کے لیے کیا جاتا ہے، جس سے صارفین کی گاڑیوں، صنعتی مشینری اور دیگر آلات کو نقصان پہنچتا ہے۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اس نئی ڈیوٹی کا مقصد ملک بھر میں ایندھن کی ملاوٹ کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اور صارفین کو بہتر معیار کا ایندھن فراہم کرناہےحکومت نے بجٹ 27-2026 میں سرمایہ کاری، برآمدات اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات پر ٹیکس ریلیف کا اعلان کیا ہے جس میں جائیداد کی خرید و فروخت، آئی ٹی برآمدات، بیرونِ ملک لین دین اور غیر ملکی اثاثوں پر ٹیکسوں میں نمایاں کمی یا خاتمہ شامل ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جمعے کو قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کرتے ہوئے رئیل اسٹیٹ، برآمدی صنعت، آئی ٹی سیکٹر اور بیرونِ ملک سرمایہ رکھنے والے پاکستانیوں کے لیے ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا ہے۔ حکومت نے معاشی سرگرمیوں کو تیز، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور برآمدات بڑھانے کے لیے مختلف وِد ہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکسز میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے اہم ریلیف کے تحت ٹیکس فائلرز کی جانب سے جائیداد کی خریداری پر عائد وِد ہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسی طرح جائیداد فروخت کرنے والے فائلرز کے لیے وِد ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 5.5 فیصد سے کم کر کے 2.75 فیصد کر دی گئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ وزیر خزانہ نے آئی ٹی سیکٹر کے لیے بھی ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ٹی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی پر 0.25 فیصد کی رعایتی ٹیکس شرح میں 2029 تک توسیع کی جا رہی ہے تاکہ ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی انڈسٹری کو مزید سہارا دیا جا سکے۔ وفاقی حکومت نے برآمدی شعبے کے لیے بھی ایڈوانس انکم ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی تجویز کے مطابق برآمدات پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی شرح 2 فیصد سے کم کر کے 1.25 فیصد کر دی جائے گی، جس کا مقصد پاکستانی برآمد کنندگان کی عالمی منڈیوں میں مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت نے بیرونِ ملک مالی لین دین کرنے والے افراد کے لیے بھی نمایاں ریلیف کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز کے ذریعے بیرونِ ملک اخراجات پر عائد ٹیکس 5 فیصد سے کم کر کے صرف 0.5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے غیر ملکی اثاثوں پر عائد کیپیٹل ویلیو ٹیکس (سی وی ٹی) مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وزیرِ خزانہ نے اس اقدام کو ٹیکس نظام کو زیادہ مؤثر اور سرمایہ کار دوست بنانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا۔ بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے چھوٹے دکانداروں اور ریٹیلرز کے لیے ایک فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا بھی اعلان کیا۔ ان کے مطابق اس اسکیم کا مقصد ٹیکس ادائیگی کے عمل کو آسان بنانا اور معیشت کو مزید دستاویزی شکل دینا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ 27-2026 پیش کرنے کے بعد وفاقی وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے فنانس بل 2026 کی کاپی سینیٹ میں پیش کردی جب کہ فنانس بل 2026 کے ساتھ سالانہ بجٹ اسٹیٹمنٹ بھی سینیٹ میں رکھی گئی ہے۔
وفاقی وزیرخزانہ نے سینیٹ کی سفارشات قومی اسمبلی کو بھجوانے کی تحریک بھی پیش کی۔ سینیٹ اجلاس چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔چیئرمین سینیٹ نے ارکان سینیٹ کو ہدایت دی کہ 15 جون تک اپنی بجٹ سفارشات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بھیج سکتے ہیں۔ سینیٹ اجلاس 2 گھنٹے سے زائد تاخیر کے بعد شروع ہوا، اجلاس شروع ہوتے ہی پی ٹی آئی ارکان نے احتجاج شروع کردیا اور نعرے بازی کی جب کہ پی ٹی ارکان نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے۔ سینیٹ اجلاس میں میں تاج محمد آفریدی کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی جب کہ سینیٹ اجلاس پیر کی دوپہر 12:30 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

yakinjp

maujp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

article 48666670301

article 48666670302

article 48666670303

article 48666670304

article 48666670305

article 48666670306

article 48666670307

article 48666670308

article 48666670309

article 48666670310

article 48666670311

article 48666670312

article 48666670313

article 48666670314

article 48666670315

article 48666670316

article 48666670317

article 48666670318

article 48666670319

article 48666670320

article 48666670321

article 48666670322

article 48666670323

article 48666670324

article 48666670325

article 48666670326

article 48666670327

article 48666670328

article 48666670329

article 48666670330

article 48666670331

article 48666670332

article 48666670333

article 48666670334

article 48666670335

article 48666670336

article 48666670337

article 48666670338

article 48666670339

article 48666670340

article 48666670341

article 48666670342

article 48666670343

article 48666670344

article 48666670345

article 48666670346

article 48666670347

article 48666670348

article 48666670349

article 48666670350

article 48666670351

article 48666670352

article 48666670353

article 48666670354

article 48666670355

article 48666670356

article 48666670357

article 48666670358

article 48666670359

article 48666670360

noticias 000000031

noticias 000000032

noticias 000000033

noticias 000000034

noticias 000000035

noticias 000000036

noticias 000000037

noticias 000000038

noticias 000000039

noticias 000000040

noticias 000000041

noticias 000000042

noticias 000000043

noticias 000000044

noticias 000000045

noticias 000000046

noticias 000000047

noticias 000000048

noticias 000000049

noticias 000000050

noticias 000000051

noticias 000000052

noticias 000000053

noticias 000000054

noticias 000000055

noticias 000000056

noticias 000000057

noticias 000000058

noticias 000000059

noticias 000000060

noticias 000000061

noticias 000000062

noticias 000000063

noticias 000000064

noticias 000000065

noticias 000000066

noticias 000000067

noticias 000000068

noticias 000000069

noticias 000000070

noticias 000000071

noticias 000000072

noticias 000000073

noticias 000000074

noticias 000000075

noticias 000000076

noticias 000000077

noticias 000000078

noticias 000000079

noticias 000000080

noticias 000000081

noticias 000000082

noticias 000000083

noticias 000000084

noticias 000000085

noticias 000000086

noticias 000000087

noticias 000000088

noticias 000000089

noticias 000000090

noticias 000000091

noticias 000000092

noticias 000000093

noticias 000000094

noticias 000000095

noticias 000000096

noticias 000000097

noticias 000000098

noticias 000000099

noticias 000000100

noticias 000000101

noticias 000000102

noticias 000000103

noticias 000000104

noticias 000000105

noticias 000000106

noticias 000000107

noticias 000000108

noticias 000000109

noticias 000000110

noticias 000000111

noticias 000000112

noticias 000000113

noticias 000000114

noticias 000000115

noticias 000000116

noticias 000000117

noticias 000000118

noticias 000000119

noticias 000000120

komunitas praya menyoroti perubahan pembahasan putaran gratis mahjong ways

selong tren diskusi mahjong wins tengah munculnya game digital baru

kreator konten tanjung mengangkat cerita perkembangan mahjong ways media sosial

sumbawa besar membahas tiga elemen visual mahjong wins 3 ubin emas naga scatter

komunitas digital semarang menelaah pengaruh animasi terhadap identitas game mahjong modern

yogyakarta menjadi sorotan diskusi perpaduan tradisi asia teknologi game

pengamat surabaya mengulas perubahan gaya ilustrasi seri mahjong digital

makassar membahas peran komunitas online menyebarkan tren konten mahjong

medan hingga palembang perbedaan perspektif penggemar terhadap visual mahjong ways

denpasar menyoroti perkembangan narasi budaya asia desain game mahjong kontemporer

sweet bonanza kabupaten pangkajene kepulauan mengenal mekanisme fitur putaran gratis

gates of olympus kabupaten muara enim perpaduan kisah mitologi teknologi animasi modern

lucky neko kota langsa cara simbol tradisional menyesuaikan diri selera generasi digital

wild bandito mahjong ways kabupaten garut perbandingan dua karakter visual berbeda

warga kabupaten lebak mengkaji cara membedakan klaim permainan informasi memiliki bukti

mahjong wins kota tanjungbalai menelaah fungsi simbol membentuk pengalaman visual

mengapa efek cahaya sering muncul fitur bonus pengamatan kabupaten tapanuli utara

lucky neko kabupaten hulu sungai selatan kombinasi karakter animasi ornamen bernuansa emas

gates of olympus kabupaten aceh besar memahami konsep peluang tanpa bergantung ramalan

sweet bonanza kota gorontalo menelusuri peran desain ceria membentuk identitas game

wild bandito kabupaten halmahera utara eksplorasi tema petualangan format interaktif

mahjong pgsoft kabupaten musi banyuasin perubahan pengalaman pengguna saat bermain melalui layar ponsel

princess starlight kota palangka raya mengulas fungsi cahaya elemen penceritaan

lucky neko sweet bonanza perbedaan pendekatan warna membangun identitas desain

warga kabupaten ende menelusuri pengaruh cerita budaya terhadap pembentukan karakter game digital

mengapa pemain lebih mudah mengingat kemenangan besar penjelasan bias ingatan kota madiun

bukan hanya hiburan warga kabupaten bekasi membahas pentingnya memahami batas pengeluaran digital

mahjong ways kabupaten magetan contoh memahami fenomena ilusi pola hasil acak

gates of olympus kota pagar alam menguraikan kesalahpahaman prediksi hasil permainan

warga kabupaten flores timur mengamati pengaruh notifikasi terhadap perhatian pengguna ponsel

sweet bonanza kota sukabumi membahas perbedaan ekspektasi pengguna peluang

wild bandito mahjong wins mengapa perbedaan desain bisa menarik kelompok pengguna beragam

lucky neko kabupaten tanah laut mengkaji simbol keberuntungan perspektif lintas budaya

literasi digital kabupaten sumbawa memahami rtp agar tidak terjebak penafsiran keliru

princess starlight kota tegal menelaah kontribusi tokoh pengalaman hiburan interaktif

article 88666670351

article 88666670352

article 88666670353

article 88666670354

article 88666670355

article 88666670356

article 88666670357

article 88666670358

article 88666670359

article 88666670360

article 88666670361

article 88666670362

article 88666670363

article 88666670364

article 88666670365

article 88666670366

article 88666670367

article 88666670368

article 88666670369

article 88666670370

informasi terbaru kabupaten belu 00000021

informasi terbaru kabupaten belu 00000022

informasi terbaru kabupaten belu 00000023

informasi terbaru kabupaten belu 00000024

informasi terbaru kabupaten belu 00000025

informasi terbaru kabupaten belu 00000026

informasi terbaru kabupaten belu 00000027

informasi terbaru kabupaten belu 00000028

informasi terbaru kabupaten belu 00000029

informasi terbaru kabupaten belu 00000030

informasi terbaru kabupaten belu 00000031

informasi terbaru kabupaten belu 00000032

informasi terbaru kabupaten belu 00000033

informasi terbaru kabupaten belu 00000034

informasi terbaru kabupaten belu 00000035

informasi terbaru kabupaten belu 00000036

informasi terbaru kabupaten belu 00000037

informasi terbaru kabupaten belu 00000038

informasi terbaru kabupaten belu 00000039

informasi terbaru kabupaten belu 00000040

informasi terbaru kabupaten belu 00000041

informasi terbaru kabupaten belu 00000042

informasi terbaru kabupaten belu 00000043

informasi terbaru kabupaten belu 00000044

informasi terbaru kabupaten belu 00000045

informasi terbaru kabupaten belu 00000046

informasi terbaru kabupaten belu 00000047

informasi terbaru kabupaten belu 00000048

informasi terbaru kabupaten belu 00000049

informasi terbaru kabupaten belu 00000050

informasi terbaru kabupaten belu 00000051

informasi terbaru kabupaten belu 00000052

informasi terbaru kabupaten belu 00000053

informasi terbaru kabupaten belu 00000054

informasi terbaru kabupaten belu 00000055

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download