LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) شہباز شریف کی ہدایت پر عوام دوست بجٹ” میں ریلیف

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر آئندہ مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات شامل کیے جا رہے ہیں، حکومت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
بجٹ میں نئے مالی سال کی مالی ترجیحات، اقتصادی پالیسیوں اور حکومتی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق پاکستان اکنامک سروے 9 جون کو جاری کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی مجموعی کارکردگی، مختلف شعبوں کی ترقی، اقتصادی اشاریوں اور حکومتی پالیسیوں کے نتائج کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔وفاقی بجٹ میں حکومت اپنی آمدن، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور مالی انتظام سے متعلق تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے رکھے گی۔ آئی ایم ایف کی شرائط کے باعث حقیقی ریلیف دینا حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان بن گیا ہے۔ ایک طرف معاشی استحکام کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف مئی 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.66 فیصد تک پہنچنے کی وجہ سے عام آدمی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
“عوام دوست بجٹ” میں ریلیف کی نئی امیدوں اور تجاویز کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف ;
ٹیکس چھوٹ کی حد: ماہانہ 80 ہزار روپے تک آمدن والے تنخواہ دار ملازمین کو انکم ٹیکس سے مکمل چھوٹ دینے کی تجویز زیرِ غور ہے۔ٹیکس سلیبس میں کمی: 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے مڈل کلاس طبقے کے لیے ٹیکس کی شرح کم کرنے پر مشاورت کی جا رہی ہے۔
تنخواہوں اور الائونسز میں اضافہ:
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے اور گریڈ 1 سے 19 تک کے ملازمین کے کنوینس الائونس میں 100 فیصد تک اضافے کی تجاویز تیار کی گئی ہیں۔
پنشن میں اصلاحات: مہنگائی کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے پنشنرز کو ریلیف دینے کی سالانہ تجویز بجٹ کا حصہ بنائی جا رہی ہے۔
ترقیاتی بجٹ (PSDP) میں بڑا اضافہ; : حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی ترقیاتی بجٹ کو بڑھا کر 1,126 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی ہے، جو پچھلے سال سے 289 ارب روپے زائد ہے۔
انفراسٹرکچر اور روزگار: اس رقم میں سے سب سے بڑی مالیت (730 ارب روپے) انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ، پانی اور توانائی کے منصوبوں پر خرچ ہوگی تاکہ عام آدمی کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
زراعت، صنعت اور آئی ٹی (IT) کے لیے مراعات: وزیرِ اعظم کے مطابق صنعت، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو مراعات دے کر ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر کھڑا کیا جائے گا۔آئی ٹی ایکسپورٹس: آئی ٹی فری لانسرز اور کمپنیوں کے لیے موجودہ رعایتی ٹیکس سلیبس کو برقرار رکھنے کی امید ہے تاکہ نوجوان زیادہ سے زیادہ زرِ مبادلہ کما سکیں۔
ریلیف کی امیدوں کے سامنے رکاوٹیں ;
نئے ٹیکسز کا بوجھ: ریلیف کے دعووں کے ساتھ ہی حکومت آئی ایم ایف کے دباؤ پر 220 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکسز عائد کرنے کی بھی تیاری کر رہی ہے۔
جی ایس ٹی (GST) میں ممکنہ اضافہ: معاشی ماہرین کے مطابق جنرل سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، جس سے مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔
مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں عوام کی سب سے بڑی توقعات اور امیدیں مہنگائی میں کمی، روزگار کے مواقع کی فراہمی، تنخواہوں اور پنشن میں اضافے اور اشیائے خوردونوش و بجلی پر ٹیکسز میں ریلیف سے وابستہ ہیں۔
عوام کی جانب سے درج ذیل معاشی ترجیحات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے:
مہنگائی کا خاتمہ: عوام کا بنیادی مطالبہ ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے تاکہ عام آدمی کی قوتِ خرید بہتر ہو۔ٹیکس ریلیف اور پیٹرولیم لیوی: سرمایہ داروں اور اشرافیہ کے بجائے نچلے اور متوسط طبقے کو ٹیکس سلیبز میں ریلیف فراہم کیا جائے، اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کم کی جائے تاکہ ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیاء سستی ہوں۔
تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ: مہنگائی کی موجودہ شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنرز کی پنشن میں مناسب اضافے کی شدید امیدیں ہیں تاکہ وہ گھر کا بجٹ چلا سکیں۔
روزگار اور کاروبار کی ترقی: آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کے اثرات سے بچتے ہوئے حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے فروغ کے لیے قرضوں کی آسانیاں پیدا کرے اور صنعتوں کے لیے خصوصی پیکیج متعارف کرائے۔معاشی ماہرین اور سیاسی جماعتیں بھی اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ بجٹ کو محض روایتی ہندسوں کا کھیل نہ بنایا جائے، بلکہ عوام دوست پالیسیاں متعارف کرا کر عام آدمی کو معاشی مشکلات سے نکالا جائے۔
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال27-2026 کے بجٹ کیلئے اہم معاشی اہداف مقرر کرلیے ہیں۔ نئے مالی سال کےلیے 4715 ارب روپے کا قومی ترقیاتی آؤٹ لے منظور کرلیاگیا ہے۔ اگلے سال کے لیے معاشی شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ حکومت نے آئندہ بجٹ میں عوام سے سرچارج کی مد میں سالانہ اوسطاً 2156 ارب روپے وصول کرنے کا پلان تیار کیا ہے۔ زراعت کا ہدف3.8فیصد،صنعت 4فیصد، سروسز کا 4.2 فیصد مقرر کردیا گیا۔ وفاقی کا پی ایس ڈی پی کے تحت 1126ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے، صوبائی حکومتیں ترقیاتی منصوبوں پر 3138 ارب خرچ کریں گی۔ صوبہ پنجاب 1450 ارب جبکہ سندھ کا ترقی بجٹ 816 ارب روپے، خیبرپختوانخواہ 564 ارب، بلوچستان کا ترقیاتی بجٹ 308 ارب روپے مقرر کردیا گیا۔ دیگر مختلف وفاقی سرکاری ادارے 451 ارب روپے الگ خرچ کریں گے۔ بجٹ دستاویزات میں آئندہ مالی سال کیلئے وسائل کے استعمال، ترقیاتی ترجیحات اور معاشی اہداف کا تعین بھی کیا جائے گا۔ بجٹ میں ٹیکسوں، سبسڈیز اور عوامی ریلیف سے متعلق مختلف اقدامات متوقع ہیں ۔ حکومت مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی ترجیحات اور روڈ میپ بھی پیش کرے گی۔وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 10 جون بروزبدھ شام 5 بجے ہوگابجٹ اجلاس کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کی سمری بھجوادی گئی ہے۔ وزیر اعظم نے قومی اقتصادی کونسل کااجلاس 8 جون کوطلب کرلیا ہے، وزیراعظم این ای سی اجلاس کی صدارت کریں گے وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کی وزرائے اعلیٰ اجلاس میں شریک ہوں گے، آزاد کشمیرکے وزیر اعظم اور جی بی کے وزیراعلیٰ اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قومی اقتصادی کونسل آئندہ سال 27-2026 کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے گی آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پاور ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق 48 منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق پہلے سے جاری 45 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 86 ارب روپے جبکہ 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ دستاویزات میں قومی گرڈ نظام کی توسیع اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے متعدد منصوبوں کیلئے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ 500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کیلئے 70 کروڑ روپے جبکہ این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن کیلئے 3 ارب روپے مختص کرنے کا پلان تجویز کیا گیا ہے۔ داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کے انخلا کیلئے 10 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سوکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹرانسمیشن لائنوں کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح مہمند ڈیم سے بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کیلئے ترسیلی نظام پر 3 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق میپکو کے بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری کیلئے 3 ارب روپے، جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے 2 ارب 41 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے 9 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔ مزید برآں سندھ کے 10 اضلاع میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے 2 ارب 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بجلی کے استعمال کی نگرانی اور بہتری کیلئے پاور کنزمپشن ڈیوائسز کی تنصیب پر 3 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں بجلی کی ترسیل، تقسیم اور قومی گرڈ کے استحکام سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارتِ آئی ٹی نے 71 ارب 84 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے۔ سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں وزارت کے 12 جاری اور 8 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق وزارتِ آئی ٹی کے جاری منصوبوں کیلئے 32 ارب 13 کروڑ روپے جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 39 ارب 71 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی نے اپنے 5 منصوبوں کیلئے 37 ارب 79 کروڑ روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، جبکہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے 7 جاری منصوبوں کیلئے 24 ارب 39 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبہ 72 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جس کیلئے آئندہ مالی سال میں 6 ارب 73 کروڑ روپے مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ کراچی آئی ٹی پارک منصوبے کیلئے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔ اسٹارٹ اپ اور وینچر ایکو سسٹم کے فروغ کیلئے ایک ارب 80 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ قومی سیمی کنڈکٹر افرادی وسائل ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز مانگے گئے ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے اپنے 4 منصوبوں کیلئے 2 ارب 67 کروڑ روپے تجویز کیے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی بہتری کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کا نیا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔ نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے 3 منصوبوں کیلئے 74 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، جبکہ اگنائٹ نے نئے منصوبے کیلئے 3 ارب روپے اور قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے 3 ارب 24 کروڑ روپے مانگے ہیں۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ وفاقی بجٹ میں اس اہم چیلنج سے نمٹنے کیلئے صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق کلائمیٹ چینج ڈویژن نے نئے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کیا، جبکہ مجوزہ فنڈز پہلے سے جاری تین منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔ دستاویزات کے مطابق 123 ارب 51 کروڑ روپے لاگت کے ان تین جاری منصوبوں پر 30 جون 2026 تک صرف 35 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے بھی انہی منصوبوں پر 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

مجوزہ بجٹ کے تحت 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپے گرین پاکستان پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ تقریباً 29 کروڑ روپے وزارت کی تکنیکی استعداد کار بڑھانے کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت گرین اسکلز منصوبے کیلئے صرف 16 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو مون سون میں غیر معمولی بارشوں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات، شدید گرمی کی لہروں، جنگلات میں آگ لگنے اور جانی و مالی نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومت نے صوبوں کے تعاون سے مون سون سے نمٹنے کیلئے 245 روزہ منصوبہ بھی تیار کیا تھا اور ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم متعدد اقدامات تاحال تاخیر کا شکار ہیں۔پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےسب سےزیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کے باوجود نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سےنمٹنے کے لیےکوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیاگیا،جبکہ تین جاری منصوبوں کیلئے بھی برائے نام فنڈزمختص کیےگئےہیں۔ آئندہ مالی سال کےلیےکلائمیٹ چینج ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنےآگئی ہیں،جن کے تحت صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،جو پہلے سے جاری منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ دستاویز کےمطابق ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کےجاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 123 ارب 51 کروڑ روپے ہے،جن میں سے 30 جون 2026 تک بمشکل 35 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے۔ گزشتہ سال اس شعبےکےلیے 2 ارب 30 کروڑروپےمختص کیےگئےتھے،تاہم رواں سال بھی فنڈنگ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کیاگیا،گرین پاکستان پروگرام کےلیے 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپےمختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 122 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔ دستاویز کےمطابق وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی تکنیکی استعدادبڑھانے کے لیے 29 کروڑ روپےسےزائد رقم رکھی گئی ہے،جبکہ پائیدارترقی اہداف کےتحت گرین اسکلزمنصوبے کے لیے صرف 16 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ پاکستان کو ہر سال سیلاب،ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری سامنے نہیں آ سکی۔ یاد رہےکہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران 1000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،تاہم ماہرین کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم اور مون سون پلان پر عملدرآمد تاخیر کا شکار ہے۔بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کیلئے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے شامل ہیں، جن کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔پی ایس ڈی پی 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال میں یہی رقم 13 ارب 44 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کمی تجویز کی گئی ہے۔
ملک بھر میں ہاؤسنگ یونٹس کی کمی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ کم از کم 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت بتائی جاتی ہے، تاہم محدود فنڈنگ کے باعث بحران میں کمی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 40 ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ کم فنڈز کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کراچی کے گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کیلئے تقریباً 1 ارب 98 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تمام منصوبوں میں سب سے بڑی ایلوکیشن ہے۔ اسی طرح اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد اور لیاقت آباد میں سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج اور پارکس کی بہتری کیلئے 1 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کیلئے بھی کروڑوں روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ شہری سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔ مزید برآں مانسہرہ میں سائرن ندی پر دو بڑے پلوں کی تعمیر کیلئے 68 کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27 میں ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کیلئے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔ وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے شامل ہیں، جن کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔دستاویزات کےمطابق جاری منصوبوں کےلیے 86 ارب روپےجبکہ نئےمنصوبوں کے لیے 4 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنےکی تجویزدی گئی،قومی گرڈسسٹم کی توسیع اوربجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے متعدد منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ 500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن سسٹم اپ گریڈیشن کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ دستاویز کےمطابق داسو ہائیڈرو پاورمنصوبے کےلیے 10 ارب 80 کروڑ روپےمختص کرنےکی تجویز ہے، جبکہ سُکھی کناری ہائیڈرو پاورمنصوبےکی ٹرانسمیشن لائن کےلیے 3 ارب روپےتجویزکیےگئےہیں،مہمند ڈیم سےپیداہونےوالی بجلی قومی گرڈتک پہنچانے کے منصوبے کے لیے 3 ارب 90 کروڑ روپے رکھنےکی سفارش کی گئی ہے۔ ملتان الیکٹرک پاورکمپنی کےڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 3 ارب روپےمختص کرنے کی تجویز دی گئی،جبکہ بجلی کےترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے 2 ارب 41 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسلام آبادویسٹ گرڈاسٹیشن کی تعمیر کےلیے 9 ارب 32 کروڑروپےسےزائد مختص کرنےکی تجویز سامنے آئی ہے،اسی طرح سندھ کے 10 اضلاع میں پاورڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 2 ارب 91 کروڑ روپےاورپاورکنزمپشن ڈیوائسزکی تنصیب کےلیے 3 ارب روپے سےزائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی میں صوبائی نوعیت کے منصوبوں کو بتدریج ختم کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ اورخیبرپختونخوا حکومت نےوفاقی حکومت کی نئی حکمت عملی پرشدید تحفظات کا اظہارکردیا، صوبوں کوراضی اور آئی ایم ایف سےمعاملات طےکرنے میں وفاقی حکومت کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126 ارب روپےجبکہ صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 3118 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے،نئی حکمت عملی کےتحت صوبائی نوعیت کےمنصوبوں کے لیےصرف 100 ارب روپےمختص کیےگئے ہیں۔ دستاویزات کےمطابق خیبرپختونخوا کے 786 مجموعی منصوبوں میں سےصرف 6 منصوبوں کےلیے 1.2 ارب روپےرکھےگئے ہیں،جبکہ صوبےمیں سڑکوں کی تعمیر کے لیے 8.6 ارب روپے علیحدہ مختص کیے گئےہیں،خیبرپختونخوا کو آئندہ برسوں میں پی ایس ڈی پی میں حصہ ختم ہونےکا خدشہ ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف نےپاکستان سےآئندہ مالی سال میں 15 ہزار 264 ارب روپے ٹیکس جمع کرنے کا مطالبہ کیاہے،جبکہ صوبوں کو بھی 430 ارب روپےاضافی ریونیوجمع کرنےکا ٹاسک دےدیاگیا،حکومت سے جی ڈی پی کا 2 فیصد یعنی 2900 ارب روپے پرائمری سرپلس حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ ٹیکس وصولیوں میں اضافے اور اخراجات میں کمی پر مذاکرات جاری ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق رواں مالی سال زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی، قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی۔ اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا۔ گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد، پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی، مالی سال 26-2025 کےدوران چاول کی پیداوارمیں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا۔
گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ، پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کیا گیا، مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی، کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا۔ کپاس کی پیداوار میں 0.5 فیصد کمی، کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔ دیگرفصلوں میں 2.4 فیصد نمو، چنےکی پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔ ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد جبکہ مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی۔ دستاویز کے مطابق رواں مالی سال گدھوں، گھوڑوں، خچروں سمیت دیگر جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا، مالی سال 26-2025 میں لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔ گدھوں کی تعداد 61 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، سالانہ 1.9 فیصد اضافہ ہوا۔ خچروں کی تعداد 1.8 فیصد بڑھ کر 2 لاکھ 21 ہزار ہوگئی، گھوڑوں کی تعداد میں 0.8 فیصد اضافہ، تعداد 3 لاکھ 86 ہزار تک پہنچ گئی۔ ملک میں رواں مالی سال کے دوران بھینسوں کی تعداد 4 کروڑ 91 لاکھ سے تجاوز کرگئی، سالانہ 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، گائے کی تعداد 6 کروڑ 19 لاکھ 60 ہزار تک پہنچ گئی، 3.8 فیصد اضافہ ہوا۔ بکریوں کی تعداد 9 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھ گئی، سالانہ 2.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا، بھیڑوں کی تعداد 1.2 فیصد بڑھ کر 3 کروڑ 35 لاکھ سے زائد ہوگئی، اونٹوں کی تعداد میں 1.4 فیصد اضافہ، مجموعی تعداد 11 لاکھ 93 ہزارہوگئی۔ رواں مالی سال ماہی گیری کے شعبے نے 1.7 فیصد نمو ریکارڈ کی۔نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔ پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔ رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X