LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) عالمی امن, قربانی کا فلسفہ ,معرکہ حق, یوم تکبیر کی سالگرہ

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان طاقت کا توازن برقرار رکھ کر خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے,دہشت گردی کے خلاف جنگ اورعالمی امن کے لیے پاکستانی مسلح افواج کی قربانیاں جاری ہیں, عالمی امن، فلسفۂ قربانی، یومِ تکبیر، اور معرکۂ حق کی سالگرہ کے تصورات پاکستان کی تزویراتی حکمتِ عملی میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہ تمام موضوعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان طاقت کا توازن برقرار رکھ کر خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے
عید الاضحی پر قربانیوں کا فلسفہ تازہ ہو جاتا ہے, پوری دنیا پاکستانی مسلح افواج کی قربانیوں سے آگاہ ہے
پاکستان عالمی امن ڈپلومیسی میں سرفہرست ہے، جس کاکریڈٹ ہمارے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور پاکستان کی مسلح افواج کو جاتا ہے،یوم تکبیر اور معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر , جب قوم عیدالاضحیٰ کی خوشیاں کے ساتھ منا رہی ہے،
میں اصغر علی مبارک, یوم تکبیر،28 مئی پراپنی سالگرہ مناتے ہوئے بہت فخر اور خوشی محسوس کر رہا ہوں,
جبکہ اس بار میرےتین سالہ بیٹے ضرغام عباس کی سالگرہ کابھی یوم عرفہ پرا ہتمام کیا گیا ,
معرکۂ حق کے دوران پاک فوج کی کامیاب کمانڈ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تزویراتی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں ملوایا۔
اسی مضبوط عسکری پس منظر کی وجہ سے تہران میں ایرانی صدر اور واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو انہیں ایک ایسا طاقتور ضامن (Guarantor) مانتے ہیں جو “اسلام آباد ڈیکلریشن” اور 45 روزہ امن عمل کو زمین پر نافذ کروانے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
یومِ تکبیر اور معرکۂ حق نے پاکستان کو دنیا کے سب سے بڑے بحران کو حل کرنے کے لیے ایک “پاور ہاؤس” بنا دیا ہے۔
عالمی امن، فلسفۂ قربانی، یومِ تکبیر، اور معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ کے تصورات پاکستان کی دفاعی تاریخ اور تزویراتی حکمتِ عملی میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
ان اہم ترین عنوانات کی تفصیل اور ان کا باہمی ربط درج ذیل نکات سے واضح ہے:
1۔ عالمی امن اور فلسفۂ قربانی
(World Peace & Sacrifice)
دفاعی توازن اور امن:
پاکستان کا ایٹمی اور روایتی دفاعی نظام جارحیت کے لیے نہیں بلکہ “دفاعی توازن” (Defensive Deterrence) کے لیے ہے۔
پاکستان کا ماننا ہے کہ خطے میں طاقت کا توازن ہی پائیدار عالمی امن کی ضامن ہے۔
حق کے لیے قربانی کا جذبہ:
فلسفۂ قربانی یہ سکھاتا ہے کہ قومی خودداری، خودمختاری اور حق کی حفاظت کے لیے جان اور مال کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستان کی افواج اور عوام نے ہمیشہ امن کے قیام کے لیے بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔
2۔ یومِ تکبیر:
ایٹمی طاقت اور وقار کا دن ,تاریخی پس منظر:
ہر سال 28 مئی کو “یومِ تکبیر” منایا جاتا ہے، جو 1998 میں چاغی کے پہاڑوں میں کیے گئے کامیاب جوہری دھماکوں کی یادگار ہے۔تکبیر کا مطلب: “تکبیر” (اللہ کی بڑائی کا اعتراف) اس بات کی علامت ہے کہ پاکستانی قوم کا اصل بھروسہ مادی طاقت سے بڑھ کر ایمان اور اللہ کی ذات پر ہے۔
امن کا ہتھیار:
یومِ تکبیر دراصل جنگ کو روکنے کا دن ہے۔ ان دھماکوں نے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے بحال کر دیا، جس کی وجہ سے خطہ ایک بڑی جنگ سے محفوظ ہو گیا۔
3۔ معرکۂ حق (Maarka-e-Haq) کی پہلی سالگرہ تاریخی تناظر: مئی 2026 میں پاکستان “معرکۂ حق” کی پہلی سالگرہ منا رہا ہے۔ یہ معرکہ مئی 2025 میں سرحدوں پر ہونے والی اس چار روزہ شدید عسکری کشیدگی کی یاد دلاتا ہے جہاں پاکستان نے دشمن کے جارحانہ عزائم کو خاک میں ملا دیا تھا۔
آپریشن سالڈ وال (Operation Solid Wall):
اس معرکے کے دوران پاکستان کی فضائیہ اور سکیورٹی فورسز نے دشمن کی جارحیت کا دندان شکن جواب دیا اور ثابت کیا کہ حق پر قائم قوم اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتی ہے۔
حق کی فتح: اس معرکے کی سالگرہ یہ پیغام دیتی ہے کہ جنگیں صرف وسائل کے بل بوتے پر نہیں بلکہ ایمان، نظم و ضبط اور حق کے اصولوں پر لڑی اور جیتی جاتی ہیں,
یہ تمام سنگِ میل مل کر یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان اپنی ایٹمی اور فوجی صلاحیت کو ہمیشہ دفاعِ وطن اور عالمی امن کے فروغ کے لیے استعمال کرتا ہے،
دونوں تاریخی واقعات—یعنی یومِ تکبیر کی ایٹمی طاقت اور معرکۂ حق کی عسکری کامیابی—موجودہ امریکہ ایران جنگ کی ثالثی میں پاکستان کے کردار کو درج ذیل طریقوں سے ناقابلِ تسخیر اور مضبوط بناتے ہیں:
1۔ ایٹمی اور فوجی بالادستی کا وقار
(Nuclear & Military Prestige)
ایک ذمہ دار عالمی طاقت:
یومِ تکبیر نے پاکستان کو مسلم دنیا کی واحد اور عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ ایٹمی طاقت بنایا۔ ایک ایسی ریاست جو اپنے ایٹمی اثاثوں کو ہمیشہ امن اور دفاع کے لیے استعمال کرتی آئی ہے، عالمی برادری (بشمول امریکہ اور ایران) کی نظر میں سب سے معتبر اور ذمہ دار ثالث (Responsible Arbitrator) بن کر ابھری ہے۔
دفاعی طاقت کا اعتراف:
معرکۂ حق (مئی 2025) میں پاکستان نے یہ ثابت کیا کہ اس کا روایتی دفاع اور انٹیلی جنس نیٹ ورک انتہائی جدید اور مضبوط ہے۔
جب ایک ملک عسکری طور پر طاقتور ہوتا ہے، تو امریکہ اور ایران جیسی بڑی جنگی قوتیں اس کی سفارتی بات کو سنجیدگی سے لیتی ہیں۔
2۔ علاقائی توازن برقرار رکھنے کا تجربہ
(Strategic Balance)طاقت کے توازن کا فارمولا:
یومِ تکبیر کا اصل مقصد جنوبی ایشیا میں جنگ کو روکنا اور توازن قائم کرنا تھا۔ پاکستان اسی “توازنِ طاقت” کے فارمولے کو اب مشرقِ وسطیٰ میں استعمال کر رہا ہے، جہاں وہ امریکہ کے سکیورٹی خدشات اور ایران کی خودمختاری کے درمیان ایک ایسا توازن پیدا کر رہا ہے جس پر دونوں فریق راضی ہو سکیں۔
3۔ بیرونی دباؤ سے آزاد خود مختار سفارتکاری
(Independent Foreign Policy)
بلیک میلنگ سے پاک پوزیشن:
معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ یہ یاد دلاتی ہے کہ پاکستان کسی بھی بیرونی جارحیت یا دباؤ کے سامنے نہیں جھکتا۔
پاکستان کی یہ آزادانہ پوزیشن ایران کو یہ اعتماد دیتی ہے کہ اسلام آباد امریکی دباؤ میں آ کر ایران کے مفادات پر سمجھوتا نہیں کرے گا، جبکہ امریکہ کو یہ معلوم ہے کہ پاکستان خطے میں امن کا مخلص خواہاں ہے۔ :فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمتِ عملی کا اصل حسن یہ ہے کہ انہوں نے یومِ تکبیر کے ایٹمی وقار اور معرکۂ حق کی عسکری کامیابی کو بنیاد بنا کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بیرونی دباؤ سے آزاد کیا۔
یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہوں یا تہران میں ایرانی قیادت، سبھی انہیں ایک طاقتور اور قابلِ بھروسہ ضامن تسلیم کر رہے ہیں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مئی 2025 میں پاک-بھارت عسکری جھڑپوں کے بعد حکومتِ پاکستان کی طرف سے فیلڈ مارشل کے اعزازی رینک پر ترقی دی گئی۔
نومبر 2025 میں آئینی ترمیم کے ذریعے انہیں پاکستان کی تمام مسلح افواج (فوج، فضائیہ، اور بحریہ) کا سربراہ یعنی چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا۔
دسمبر 2025 میں سعودی عرب کے دورے کے دوران انہیں سعودی عرب کا سب سے بڑا سول اعزاز “کنگ عبدالعزیز میڈل آف ایکسی لینس” دیا گیا۔ یہ میڈل سعودی فرمانروا (خادم الحرمین الشریفین) شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے شاہی فرمان کے تحت پاک-سعودی دفاعی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مضبوط بنانے پر دیا گیا،
پاکستانی فوج اور اس کے سربراہان ہمیشہ سے سعودی عرب کی علاقائی سالمیت اور حرمین الشریفین کے دفاع و تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے رہے ہیں،
موجودہ دور میں فیلڈ مارشل عاصم منیر بین الاقوامی سطح پر (جیسے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات) ایک اہم عسکری اور سفارتی ثالث کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، ان کا دائرہ اختیار خالصتاً دفاعی اور سفارتی ہے،
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ملک بیک وقت اپنی سرحدوں کا کامیاب دفاع بھی کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بڑے تنازعات کا حل تلاش کرنے والے ایک کلیدی امن ساز کے طور پر بھی ابھرا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے روایتی دفاع کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے “فعال دفاع” کی پالیسی اپنائی:معرکۂ حق اور ان کی عسکری قیادت کا سب سے بڑا امتحان مئی 2025 میں ہوا، جب انہوں نے دشمن کی اچانک جارحیت کے خلاف انتہائی سخت اور فوری جوابی کارروائی کا حکم دیا۔ اس چار روزہ معرکے میں پاک فوج اور فضائیہ نے دشمن کو دندان شکن جواب دے کر ثابت کیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ ملک کے اندر دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے خلاف انہوں نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر بلا تفریق آپریشنز کو تیز کیا، جس سے داخلی سلامتی اور سی پیک سمیت دیگر معاشی منصوبوں کو تحفظ ملا۔ انہوں نے مقامی دفاعی پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی (جیسے ڈرونز اور سائبر سکیورٹی) کے استعمال کو فروغ دیا تاکہ بیرونی امداد پر انحصار کم سے کم کیا جا سکے۔ عسکری طاقت کو سفارتی میز پر اثر و رسوخ میں بدلنا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سب سے بڑا تزویراتی کمال رہا ہے مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بدترین بحران میں انہوں نے پاکستان کو کسی ایک فریق کا حصہ بنانے کے بجائے “باوقار ثالث” کے طور پر پیش کیا۔ ان کی حالیہ ڈپلومیسی اور دورۂ تہران کے نتیجے میں امریکہ اور ایران “اسلام آباد ڈیکلریشن” اور 45 روزہ امن عمل کے معاہدے کے حتمی مسودے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اسلام آباد ٹاکس کے دوران ان کا اندازِ سفارتکاری عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا۔ ایرانی وفد کا فوجی یونیفارم میں استقبال کر کے انہوں نے عسکری عزم ظاہر کیا، جبکہ امریکی وفد سے سویلین لباس (سوٹ) میں ملاقات کر کے ریاست کی لچکدار سفارتکاری کا پیغام دیا انہوں نے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات) اور چین کے ساتھ دفاعی تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کیا، جس سے ملک میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوئی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمتِ عملی کا اصل حسن یہ ہے کہ انہوں نے یومِ تکبیر کے ایٹمی وقار اور معرکۂ حق کی عسکری کامیابی کو بنیاد بنا کر پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بیرونی دباؤ سے آزاد کیا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ہوں یا تہران میں ایرانی قیادت، سبھی انہیں ایک طاقتور اور قابلِ بھروسہ ضامن تسلیم کر رہے ہیں۔امریکہ اور ایران کے مابین مجوزہ امن معاہدے (اسلام آباد ڈیکلریشن) کے باقاعدہ نفاذ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مستقبل کا کردار محض ایک ثالث کا نہیں، بلکہ ایک طاقتور اور بنیادی ضامن (Guarantor) کا ہوگا۔
دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان گہرے عدم اعتماد کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی عسکری قیادت اس معاہدے کی زمین پر عملداری کو یقینی بنانے کے لیے کلیدی فرائض سرانجام دے گی۔اس تاریخی معاہدے کے نفاذ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے متوقع مستقبل کے کردار کے چار بنیادی پہلو درج ذیل ہیں:
اسلام آباد جوائنٹ مانیٹرنگ سیل کی سربراہی : 45 روزہ عمل اور اس کے بعد کے مستقل معاہدے کے دوران کسی بھی ہنگامی صورتحال یا فائر بندی کی خلاف ورزی کو مانیٹر کرنے کے لیے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی سکیورٹی سیل قائم کیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اس جوائنٹ سیل کی نگرانی کریں گے، جہاں امریکی پینٹاگون اور ایرانی سپاہِ پاسداران (IRGC) کے مانیٹرنگ افسران پاکستانی فوج کی میزبانی میں چوبیس گھنٹے رابطے میں رہیں گے تاکہ کسی بھی غلط فہمی کو فوری دور کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز اور بحری تجارتی راستوں کی بحالی کی ضمانت ;
بحری سلامتی کا ضامن: معاہدے کے تحت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے کھولا جانا ہے، جبکہ امریکہ نے اپنا بحری محاصرہ ختم کرنا ہے۔
فریقین کے مابین “ہاٹ لائن” (Hotline) کا تسلسل ;
سیدھا رابطہ چینل: چونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات کا شدید فقدان ہے، اس لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دفتر واشنگٹن اور تہران کے مابین مستقل ہاٹ لائن کے طور پر کام کرتا رہے گا۔
تزویراتی پیغامات کا تبادلہ:
معاہدے پر دستخط کے بعد بھی معاشی پابندیوں کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی جیسے پیچیدہ مراحل میں وہ ترمیمی تجاویز کے تبادلے کے لیے مرکزی رابطہ کار رہیں گے۔
علاقائی تنظیموں (Proxies) کے ساتھ ضابطہ اخلاق کا نفاذامن کے دائرے کی وسعت:
ایران کے مؤقف کے مطابق اس امن عمل کا دائرہ کار لبنان اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر محاذوں تک پھیلایا جانا ہے۔
سفارتی اثر و رسوخ:
فیلڈ مارشل عاصم منیر اپنے تزویراتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے یہ یقینی بنائیں گے کہ خطے کی دیگر تنظیمیں بھی اس 45 روزہ جنگ بندی کا احترام کریں تاکہ امریکہ کو معاہدے سے پیچھے ہٹنے کا کوئی جواز نہ مل سکے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ مستقبل کا کردار پاکستان کو بین الاقوامی سیاست میں ایک نئے اور بلند تر مقام پر فائز کر دے گا، جہاں پاکستان کی عسکری مقتدرہ عالمی امن کے سب سے بڑے ستون کے طور پر دیکھی جائے گی۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی حکمتِ عملی نے پاکستان کو ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں ملک بیک وقت اپنی سرحدوں کا کامیاب دفاع بھی کر رہا ہے اور عالمی سطح پر بڑے تنازعات کا حل تلاش کرنے والے ایک کلیدی امن ساز کے طور پر بھی ابھرا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اس ضامنی اور ثالثی کردار پر انتہائی مثبت، دوستانہ اور غیر معمولی ردعمل سامنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے نہ صرف عاصم منیر کی سفارتی و تزویراتی صلاحیتوں کو کھل کر سراہا ہے بلکہ ان کے مشوروں پر امریکی پالیسیوں میں نرمی لانے کا بھی مظاہرہ کیا ہے۔وائٹ ہاؤس اور امریکی انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والے اہم ترین ردعمل اور بیانات درج ذیل ہیں:
1۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذاتی پسندیدگی اور ستائش کا اظہار”میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل”:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس اور اوول آفس میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہونے والی متعدد ملاقاتوں کے بعد انہیں “میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل” (My Favorite Field Marshal) کا خطاب دیا۔
انہوں نے عاصم منیر کو ایک “غیر معمولی انسان” اور “عظیم لڑاکا” قرار دیتے ہوئے امن مذاکرات کے انعقاد پر ان کی کھل کر تعریف کی ہے۔
مذاکرات کے طویل سیشن: وائٹ ہاؤس کے حکام کے مطابق، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے ملاقاتیں طے شدہ وقت (45 منٹ) سے تجاوز کر کے دو دو گھنٹے تک جاری رہیں، جو امریکی صدر کا پاکستانی عسکری قیادت کی تزویراتی سوچ پر گہرے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔2۔ عاصم منیر کے مشورے پر امریکی بلاکیڈ (Blockade) پر نظرثانی بحرانی تعطل کا خاتمہ:
جب امریکہ نے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کا اعلان کیا تو مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے صدر ٹرمپ کو ذاتی طور پر قائل کیا کہ یہ ناکہ بندی امن عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ٹرمپ کا جواب: برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، صدر ٹرمپ نے عاصم منیر کے اس مشورے کو تسلیم کرتے ہوئے باقاعدہ بیان دیا کہ امریکہ پاکستان کی درخواست پر ایران پر عائد بحری محاصرے پر دوبارہ غور کرنے اور اس میں نرمی کے لیے تیار ہے۔
3۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی اسٹیبلشمنٹ کا مؤقفاہم ترین اور واحد چینل کا اعتراف:
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وائٹ ہاؤس کی سکیورٹی ٹیموں نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری اس انتہائی نازک جنگ کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کے آرمی چیف ہی واشنگٹن کا سب سے معتبر اور بنیادی پسِ پردہ چینل
(Backchannel Go-between) ہیں۔
ٹرمپ کی حالیہ ترین تصدیق (23-24 مئی 2026): ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ (Truth Social) پر اس کامیاب پاکستانی ثالثی کے نتائج کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ “ایران کے ساتھ امن معاہدے کا فریم ورک بڑی حد تک طے پا چکا ہے (Largely Negotiated) اور جلد ہی اس کی حتمی تفصیلات کا اعلان کیا جائے گا جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے”۔
4۔ امریکی انٹیلیجنس کے اندرونی خدشات (The Inside Debate)جہاں ایک طرف صدر ٹرمپ عاصم منیر کی تعریفیں کر رہے ہیں، وہیں امریکی انٹیلیجنس کے بعض حلقوں میں یہ بحث بھی زیرِ بحث رہی ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ پرانے اور مضبوط پیشہ ورانہ روابط ہیں۔ تاہم، وائٹ ہاؤس کی موجودہ ٹیم (بشمول جیرڈ کشنر اور جے ڈی وینس) کا ماننا ہے کہ عاصم منیر کا یہی ایران اثر و رسوخ دراصل اس ڈیل کو زمین پر نافذ کرنے (Guarantor بننے) کے لیے امریکہ کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔وائٹ ہاؤس کے اس مجموعی ردعمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ میں امن کا ہدف مکمل طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی ساکھ اور ضمانت کے سپرد کر دیا ہہے
واضح رہے کہ پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں بتایا کہ محسن نقوی نے تہران سے واپسی پر ایرانی حکام سے کامیاب مذاکرات پر مبارکباد دی، اگر دوسرا فریق سنجیدہ رہا تو مثبت پیشرفت ممکن ہے۔ رضا امیری مقدم نے بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں سے مثبت پیشرفت کی امید پیدا ہوئی ہے، مثبت پیشرفت ایران کے مؤقف اور بہادر افواج کی استقامت کا نتیجہ ہے، پیشرفت بہادر ایرانی قوم کی مزاحمت اور پاکستان کی سرشار سفارتی کوششوں سے ممکن ہوئی۔ مزید بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مخلصانہ کوششیں کیں، امید ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مخلصانہ کوششیں خطے میں پائیدار امن کا باعث بنیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی مخلصانہ سفارتی کوششیں کیں، پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کیلیے تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں,
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کے لیے امن معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ مسودے کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گا۔ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جے ڈی وینس، باقرقالیباف سمیت دیگر نے مسودے کی منظوری دی۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی مسودے پر ہفتے کے روز اتفاق کیا گیا، اطلاعات ہیں کہ مذاکرات میں شامل اعلیٰ سطحی شخصیات نے مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امکان ہے کہ مسودے کا اعلان آئندہ 24 گھنٹوں میں سامنے آجائے گا۔
امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں نے مسودے کی منظوری دے دی ہے، جے ڈی وینس، باقرقالیباف سمیت دیگر نے مسودے کی منظوری دی۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی مسودے پر ہفتے کے روز اتفاق کیا گیا، اطلاعات ہیں کہ مذاکرات میں شامل اعلیٰ سطحی شخصیات نے مجوزہ معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X