اسلام آباد (اردو ٹائمز) بڑھتی آبادی کا دباؤ خطرہ
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) وطن عزیز میں آبادی کا بے ہنگم پھیلاؤ سکڑتی زرعی زمین اور شہری پھیلاؤ انتہائی تیزی کے ساتھ بڑے ملکی چیلنجز بنتے جارہے ہیں 2023 کی ڈیجیٹل مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 24 کروڑ سے زائد ہے اور اس میں سالانہ 2.55 فیصد کی شرح سے اضافہ ہو رہا ہے 2050 تک ملکی آباد ی 25 کروڑ سے بڑھ کر 40 کروڑ تک پہنچ جائے گی پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ سے بڑھ کر 20 کروڑ سندھ کی آبادی 9 کروڑ 11 لاکھ تک پہنچنے کی پیشگوئی ہے خیبرپختونخوا کی آبادی 6 کروڑ 76 لاکھ اور بلوچستان کی آبادی ڈھائی کروڑ تک پہنچنے کی پیشگوئی کی گئی ہے اسلام آباد کی آبادی 24 لاکھ سے بڑھ کر 65 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے پلاننگ کمیشن رپورٹ میں وارننگ دی گئی ہے کہ آبادی سے صحت تعلیم روزگار پانی خوراک و دیگر بنیادی سہولیات پر شدید دباؤ بڑھے گا دنیا کو اس وقت درپیش چیلنجز میں سے ایک بڑا چیلنج انسانی آبادی میں اضافہ بھی ہے آبادی کے بے تحاشا پھیلاؤ کو روکنے کے لئے دنیا بھر میں مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں سوائے چند ایک ممالک کے اکثر ممالک چھوٹے خاندان یعنی کم بچوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں مختلف ممالک کے وسائل ان کی آبادی کے تناسب سے کم پڑتے جا رہے حکومتیں آبادی میں اضافہ کی وجہ سے دباؤ کا شکار ہیں کسی بھی ملک کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جس کی آبادی بہت تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور جیسے جیسے آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی وسائل اور آبادی میں توازن بگڑتا جا رہا ہے ہر پیدا ہونے والا بچہ اپنے ساتھ بنیادی ضرورتوں کا حق لے کر آتا ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے وسائل اتنے نہیں ہیں کہ وہ اپنی آبادی کی تمام بنیادی ضرورتوں کو پورا کرسکے ارض پاک شمار اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے ہر سال پاکستان میں تقریبا 60 لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں پاکستان میں آبادی کے اضافہ پر نظر رکھنے والے ادارے پاپولیشن کونسل کے اعداد وشمار مستقبل کے سنگین خطرات کی نشاندہی کر رہے ہیں آبادی میں تیزی سے اضافہ کے باعث خوراک تعلیم صحت روزگار اور انفراسٹر کچر جیسی ضروریات بڑھ رہی ہیں ملک کے محدود وسائل پر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے وسائل اور ضروریات کے درمیان عدم توازان پیدا ہو رہا ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا 2050 تک پاکستان کے وسائل اتنی بڑی آبادی کا بوجھ اٹھا سکتے ہیں کیا ہمارا انفراسٹرکچر کم وبیش دو کروڑ نئے گھر اور 11 کروڑ سے زائد نوکریوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے کیا ہم اتنی بڑی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں کیا تمام آبادی کو پینے کا صاف پانی مہیا کیا جاسکتا ہے تو ان تمام سوالوں کا جواب نفی میں آتا ہے ہماری قابل کاشت زرعی زمین روز بروز کم ہوتی جا رہی ہے گاؤں شہروں میں بدلتے جا رہے ہیں سرسبز کھیت مہنگی ہاوسنگ سوسائٹیز میں تبدیل ہو رہے ہیں واٹر لیول گرتا جا رہا ہے زیر زمین پانی کی کمی کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں زرعی مقاصد کے لیے زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال نے پانی کو مزید کم کر دیا ہے۔ اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمیں اناج باہر سے منگوانا پڑتا ہے اور اگر یہی صورتحال 2040 میں بھی ہوئی تو سوچا جاسکتا ہے کہ اتنی بڑی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کس قدر اناج منگوانا پڑے گا اور اس پر کتنا زرمبادلہ خرچ ہو گا لوگوں کو پینے کا صاف پانی تک مہیا نہیں ہوسکا آج بھی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ گندا پانی پینے پر مجبور ہے اور 2040 میں تو پینے کے پانی کی طلب اس قدر زیادہ ہوگی کہ یہ دریا بھی کم پڑ جائیں گے اور زرعی مقاصد کے لئے ان دریاؤں کے پانی کا استعمال تو عیاشی تصور ہو گا وسائل کم اور مسائل زیادہ اور اس پر ستم آبادی میں مسلسل بے پناہ اضافے کی وجہ سے پاکستانی معاشرے میں ناخواندگی، بے حسی، خوراک کی کمی، قلتِ آب بجلی، غربت بے روزگاری ملاوٹ مہنگائی بدعنوانی انتہا پسندی، دہشت گردی منشیات کے استعمال کا رحجان پیداوار و زراعت میں کمی ضرورت کے مطابق کھیلنے کے میدان میسر نہ ہونا رہائشی علاقوں کی کمی اور اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جنگلات اور چٹانیں کاٹ کر شہر آباد کرنے کے مسائل قدرتی ماحول کی تباہی بدامنی لاقانونیت اور جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ سے کاروبار صنعتیں بند ہو جانا نئی صنعتوں کا نہ لگنا معیشت ٹھپ ہو جانا دیہاتوں سے روزگار کے سلسلے میں عوام کا شہروں کا رخ کرنا سمیت دیگر ہولناک مسائل عوام اور معاشرے کو مزید تیزی سے نگل رہے ہیں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہائوسنگ سیکٹر میں جامع اصلاحات کی اہمیت محض رہائش کی فراہمی تک محدود نہیں بلکہ ملک کی غذائی ضروریات کا تحفظ بھی اس کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے ملک میں جب تک رہائشی منصوبوں کو ایک ضابطے کے تحت نہیں لایا جاتا تب تک آبادی کے سیل رواں کو منظم کرنا اور اس کے معاشی وسماجی اثرات سے نمٹنا ممکن نہیں ہوگا معاشی نکتہ نظر سے ہاؤسنگ سیکٹر ملکی معیشت میں نئی روح پھونکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے کیونکہ اس کے ساتھ 40 سے زائد صنعتیں وابستہ ہیں لہذا ہاؤسنگ سیکٹر میں اصلاحات محض ایک انتظامی ضرورت نہیں بلکہ ملک کے معاشی اور ماحولیاتی تحفظ کا بھی معاملہ ہے آبادی میں اضافے کا تعلق صرف سماج سے نہیں بلکہ تمام معاشی معاشرتی اور ماحولیاتی اشاریوں کو متاثر کر رہا ہے اور پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے یہ حقیقتا ٹائم بم سے کم نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ اس اہم مسئلہ کے حل کی جانب جلد از جلد سنجیدہ توجہ دے**

