LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیر اعظم پاکستان میں بجلی کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے پرعزم

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیر اعظم شہباز شریف پاکستان میں بجلی کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے پرعزم ہیں . بجلی کی لوڈشیڈنگ میں انتہائی اضافہ اور ساتھ ہی بجلی کی قیمتوں میں بھی روز بروز اضافے کی وجہ سے عوام کا جینا محال ہوچکا ہے
پاکستان میں بجلی کے مسائل کی بنیادی وجوہات میں گیس اور ایندھن کی قلت، مہنگی پیداوار، اور فرسودہ ترسیلی نظام شامل ہیں، جس کے نتیجے میں شدید لوڈشیڈنگ اور بلند نرخوں کا سامنا ہے۔
حکومت لائن لاسز میں کمی اور شمسی توانائی کی طرف منتقلی کے لیے اصلاحات کر رہی ہےوزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان کے توانائی کے شعبے اور بجلی کے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے، لائن لاسز ,توانائی کے ضیاع میں کمی لانے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھاہے اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں انہوں نے اس سلسلے میں سخت اقدامات کی ہدایات جاری کی ہیں۔
بجلی کے نظام میں بہتری اور لائن لاسز ,ترسیلی نقصانات کو کم کرنے کے حوالے سے وزیر اعظم نےجامع ہدایات جاری کی ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس میں شہباز شریف نےمتعلقہ حکام کو بجلی کے نرخوں میں استحکام کے لیے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت کی ,
وزیرِاعظم نے صنعتی اور گھریلو صارفین دونوں کو ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور متعلقہ حکام کو اس سلسلے میں ٹھوس اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے لائن لاسز میں کمی کے لیے بجلی کی ترسیلی نظام میں نمایاں بہتری لانے کی بھی تاکید کی۔ وزیرِاعظم نے توانائی کے شعبے میں جدیدیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا اور ملک میں توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بجلی کے بلوں کی ادائیگی کو صارفین کے لیے آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
وزیرِاعظم نے بجلی چوری کے خلاف سخت اقدامات کے تسلسل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی ترقی کے فروغ کے لیے بلا تعطل توانائی کی فراہمی ناگزیر ہے۔ واضح کیا کہ گھریلو صارفین کو ریلیف دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات عوام اور صنعت کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کی جائیں گی۔ اجلاس کے دوران حکام نے گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کے استعمال سے متعلق سفارشات بھی پیش کیں۔ اجلاس میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونِ خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ توانائی کے شعبے میں اصلاحات عوام اور صنعت کے مفاد کو مدنظر رکھ کر کی جائیں,
وزیراعظم کی جاری کردہ کلیدی ہدایات درج ذیل ہیں:
لائن لاسز میں نمایاں کمی:
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بجلی کی ترسیل کے نظام (Transmission System) میں موجود خامیوں کو دور کر کے لائن لاسز میں واضح کمی لائی جائے۔ وزیراعظم نے ترسیلی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ لائن لاسز کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکے۔
صارفین کے لیے ریلیف:
صنعتی ترقی کے لیے بلا تعطل بجلی کی فراہمی اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں (Tariff) میں استحکام لانے کی حکمت عملی۔
نجکاری (Privatization):
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری اور نجی شعبے کو بجلی پیدا کرنے کی اجازت دینے کی پالیسی پر کام جاری ہے تاکہ نظام کو مزید موثر بنایا جا سکے۔
بجلی کے اہم مسائل:
لوڈشیڈنگ اور ایندھن کی کمی: گیس اور تھرمل پلانٹس کے لیے ایندھن کی محدود دستیابی کے باعث بجلی کی پیداوار میں کمی۔بجلی کے بلند نرخ: مہنگی پیداواری لاگت کی وجہ سے صارفین پر بھاری بلوں کا بوجھ۔کمزور انفراسٹرکچر: پرانی لائنوں اور ٹرانسفارمرز کے باعث لائن لاسز اور فالٹس۔بجلی چوری: سرکلر ڈیٹ میں اضافے کی بڑی وجہ۔حل اور مستقبل کے اقدامات:شمسی توانائی (Solar): گھریلو اور صنعتی سطح پر سولر سسٹم کا استعمال۔توانائی کی اصلاحات:
وزیر اعظم نے بجلی کے نظام میں بہتری اور لائن لاسز کم کرنے کے لیے ہدایات دی ہیں۔سستی بجلی کی پیداوار: ہائیڈل اور دیگر متبادل ذرائع پر انحصار بڑھانا۔بجلی کے نرخوں میں استحکام کے لیے جامع حکمت عملی زیر غور ہے تاکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو ریلیف مل سکے۔
بجلی کے نرخوں میں استحکام:
صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے بجلی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی خاطر ایک جامع حکمت عملی وضع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
بجلی چوری کے خلاف مہم:
بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے جاری سخت اقدامات کو بلا تعطل جاری رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔صنعتی و گھریلو صارفین کو ریلیف: صنعتی ترقی کے لیے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور گھریلو صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل سہولیات:
توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور صارفین کے لیے بلوں کی ادائیگی کو آسان بنانے کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کے فروغ پر زور دیا گیا ہے۔
قابلِ تجدید توانائی کے منصوبے:
ملک میں بجلی کی کمی کو دور کرنے کے لیے شمسی اور دیگر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ، حکومتی اصلاحات کے نتیجے میں پن بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے جو حال ہی میں 6,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے، جس سے قومی گرڈ کے استحکام میں مدد ملی ہے
پاکستان میں بجلی کی پیداوار میں اضافے اور نظام کی بہتری کے حوالے سے حالیہ اہم پیش رفت درج ذیل ہے:
پن بجلی (Hydel Power) میں ریکارڈ اضافہ:
مئی 2026 کی رپورٹس کے مطابق، تربیلا اور دیگر ڈیموں سے پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو 6,000 میگاواٹ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس اضافے سے مہنگی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔
شمسی توانائی (Solar Power) کا فروغ:
وزیراعظم نے بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے شمسی توانائی کے منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سستی بجلی پیدا کی جا سکے اور صارفین کے بلوں میں کمی آئے۔
نیوکلیئر پاور کی شمولیت:
پاکستان کے جوہری بجلی گھر (جیسے K-2 اور K-3) قومی گرڈ کو سستی اور مسلسل بجلی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
نئے منصوبوں کی تکمیل:
داسو اور بھاشا ڈیم جیسے بڑے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کر دی گئی ہے، جن کی تکمیل سے مستقبل میں ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی سسٹم میں شامل ہوگی۔
وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ بجلی کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ لائن لاسز کو کم کرنا اور بجلی چوری کا خاتمہ بھی ناگزیر ہے تاکہ عوام کو اس اضافے کا حقیقی فائدہ پہنچ سکے۔

بجلی کے ٹیرف اور سولر پینل اسکیموں کی تازہ ترین تفصیلات درج ذیل ہیں:
. بجلی کے حالیہ ٹیرف (مئی 2026)نیپرا (NEPRA) نے 2026 کے لیے قومی اوسط ٹیرف میں معمولی کمی کی ہے، تاہم مختلف ایڈجسٹمنٹس کی وجہ سے صارفین پر بوجھ برقرار ہے۔اوسط ٹیرف: سال 2026 کے لیے قومی اوسط بنیادی ٹیرف 33.38 روپے فی یونٹ مقرر کیا گیا ہے۔فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FCA): فروری 2026 کے فیول چارجز کی مد میں 1.42 روپے فی یونٹ کا اضافہ کیا گیا ہے، جو صارفین کے اپریل اور مئی 2026 کے بلوں میں وصول کیا جا رہا ہے۔
سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ:
اکتوبر سے دسمبر 2025 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 35 پیسے فی یونٹ کا اضافہ مارچ سے مئی 2026 تک نافذ العمل ہے۔یونٹ وائز متوقع ریٹس (بغیر ٹیکس و ایڈجسٹمنٹ):لائف لائن صارفین (50 یونٹ تک): 3.95 روپے۔پروٹیکٹڈ صارفین (1-100 یونٹ): 10.54 روپے۔غیر پروٹیکٹڈ صارفین (101-200 یونٹ): تقریباً 28.91 روپے۔700 یونٹ سے زائد: 47.20 روپے تک۔2. سولر پینل اسکیمیں (2026)حکومت نے بجلی کے بلوں میں ریلیف کے لیے مختلف سولر اسکیموں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب سولر اسکیم:
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اسکیم کی مدت دسمبر 2026 تک بڑھا دی ہے, 0 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والے غریب گھرانوں کو 94,000 سے زائد سولر سسٹمز بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اہل افراد اپنے شناختی کارڈ اور بل ریفرنس نمبر کے ساتھ 8800 پر ایس ایم ایس کر کے یا آفیشل پورٹل کے ذریعے رجسٹر ہو سکتے ہیں۔
سندھ سولر اسکیم 2026:
حکومتِ سندھ نے بھی لاکھوں خاندانوں کو سستے سولر سسٹمز فراہم کرنے کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ توانائی کی غربت کو کم کیا جا سکے۔
وزیرِ اعظم سولر پروگرام (گلگت بلتستان): گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت مقامی گھرانوں کو مفت یا سبسڈی والے سولر پینلز دیے جا رہے ہیں۔
نیٹ میٹرنگ کے نئے قوانین ;
فروری 2026 میں جاری کردہ نئے ریگولیشنز کے مطابق نئے صارفین کے لیے ریٹ: نیشنل گرڈ کو بجلی بیچنے کا ریٹ کم کر کے 8.13 روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے۔پرانے صارفین, پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین 25.32 روپے کے پرانے ریٹ پر ہی بجلی بیچتے رہیں گے, ملک کی زیادہ تر بجلی کی پیداوار درآمدی تیل اور گیس پر منحصر ہے، جو عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے متاثر ہوئی ہے۔ اسی طرح تھرمل بجلی مقامی کوئلے کے ذخائر کے بجائے درآمدی کوئلے پر انحصار کرتی ہے، جو مہنگی ہوتی ہے۔ سولر، ونڈ، اور ہائیڈرو پاور میں ناکافی سرمایہ کاری کی وجہ سے قابل تجدید توانائی کے وسائل کا مکمل استعمال نہیں ہورہا۔
قابل تجدید توانائی کے فروغ کےلیے پالیسیوں، بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا پرانا اور ناکارہ نظام، بجلی کے ترسیلی اور تقسیم کار نظام کی مرمت اور دیکھ بھال کےلیے فنڈز کی کمی، تکنیکی ماہرین کی کمی کی وجہ سے مرمت اور دیکھ بھال میں تاخیر، بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کا مسئلہ بجلی کے موجودہ بحران کی اہم وجوہات ہیں۔ حکومت کی طرف سے دی جانے والی سبسڈی کے غیر مؤثر استعمال کی وجہ سے مستحق افراد کو صحیح فائدہ نہیں پہنچا۔ پانی کی کمی کی وجہ سے ہائیڈرو پاور جنریشن میں مشکلات اور نئے ڈیموں کی تعمیر میں تاخیر بھی اس بحران میں اپنا بھرپور حصہ ڈال رہے ہیں۔ پاکستان میں مہنگی بجلی اور بجلی کی کمی کے مسائل کو مستقل طور پر حل کرنے کےلیے مختلف پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کا سب سے بہترین حل سولر پاور پلانٹس ہے۔ پاکستان میں سالانہ 2500 سے 3000 گھنٹے دھوپ دستیاب ہے، جو سولر پاور جنریشن کےلیے انتہائی موزوں ہے۔ بڑے پیمانے پر سولر پاور پلانٹس کا قیام اس مسئلے کا بہترین حل ہے۔ گھروں، دفاتر اور صنعتی عمارتوں کی چھتوں پر سولر پینلز نصب کرکے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے سبسڈیز اور آسان اقساط پر قرض فراہم کیے جائیں۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے سولر پینلز پر ٹیکس لگانے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔
شمسی توانائی ایک قابل تجدید اور پائیدار ذریعہ ہے جس کے ذریعے بجلی کے بحران کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور قدرتی وسائل کی کمی کے باعث شمسی توانائی ایک بہترین متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں سورج کی روشنی وافر مقدار میں دستیاب ہے شمسی توانائی کے ذریعے بجلی کے بحران کو حل کرنے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ شمسی توانائی نہ صرف ماحول دوست ہے بلکہ یہ طویل مدتی طور پر اقتصادی بھی ثابت ہوتی ہے۔ شمسی پینلز کے ذریعے گھروں، دفاتر اور کارخانوں کو توانائی فراہم کی جا سکتی ہے جس سے فوسل فیول پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ توانائی کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو ہر وقت دستیاب رہتا ہے اور اس کے استعمال سے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ ہائیڈرو اور تھرمل پاور پلانٹس پر منحصر ہے جن کی محدود صلاحیت اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث بجلی کا بحران پیدا ہوتا ہے۔ شمسی توانائی کو فروغ دے کر ان مسائل کو کم کیا جا سکتا ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں بجلی کی سہولت دستیاب نہیں شمسی توانائی کے ذریعے وہاں کے رہائشیوں کو روشنی فراہم کی جا سکتی ہے۔ حکومت کی جانب سے شمسی توانائی کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں جن میں سولر پینلز کی تنصیب اور عوامی شعور بیدار کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو عام کرنے کے لیے مزید مالی امداد اور سبسڈیز کی ضرورت ہے تاکہ ہر طبقے کے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ شمسی توانائی کے فروغ کے لیے عوامی شعور اور ٹیکنالوجی تک رسائی دونوں ضروری ہیں۔ عوام کو شمسی توانائی کی افادیت اور اس کے فوائد کے بارے میں آگاہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی حکومت کو اس شعبے میں مزید سرمایہ کاری کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کی درآمد کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔ شمسی توانائی کو اپنانا نہ صرف بجلی کے بحران کا حل فراہم کرے گا بلکہ یہ ملک کی توانائی کی خودمختاری میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ نہ صرف ہمارے قدرتی وسائل کی حفاظت کرے گا۔ بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر ماحول بھی فراہم کرے گاونڈ پاور بھی بجلی پیدا کرنے کےلیے نہایت مؤثر ذریعہ ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں ہوا کی رفتار 7.5 میٹر فی سیکنڈ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہاں بڑے ونڈ فارم تعمیر کرکے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ونڈ ٹربائنز اور دیگر ضروری آلات کی مقامی صنعت کے قیام سے روزگار کے مواقع بھی پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجلی پیدا کرنے کےلیے بڑے ڈیموں کی تعمیر، جیسے بھاشا ڈیم، سے نہ صرف بجلی پیدا کی جاسکتی ہے بلکہ پانی کی ذخیرہ کاری کے مسئلے کا بھی حل نکالا جاسکتا ہے۔ ہمارے ہاں جب بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کی شدید کمی ہوجاتی ہے لیکن جب بارشیں شروع ہوجاتی ہیں تو سیلاب کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا بہترین حل بھی ڈیموں کی تعمیر میں مضمر ہے، جب بارشیں زیادہ ہوں تو اس پانی کو ڈیموں میں ذخیرہ کرلیا جائے پھر جب بارشوں کی کمی کی وجہ سے پانی کی قلت ہوجائے تو ڈیموں کا پانی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چھوٹے پیمانے کے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس دور دراز اور پہاڑی علاقوں میں بجلی کی فراہمی کےلیے مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس میں دو طرح کے پروجیکٹس ہوسکتے ہیں، ایک منی ہائیڈرو پروجیکٹ جو 100 سے 10 میگاواٹ تک کی بجلی پیدا کرتا ہے۔ یہ پروجیکٹس عام طور پر چھوٹے دریاؤں یا نہروں پر بنائے جاتے ہیں اور مقامی آبادی کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ دوسری طرح کے پروجیکٹس مائیکرو ہائیڈرو پروجیکٹس ہیں جو 5 کلو واٹ سے 100 کلو واٹ تک کی بجلی پیدا کرتے ہیں۔ یہ پروجیکٹس عموماً گاؤں، دور دراز بستیوں یا پہاڑی علاقوں میں نصب کیے جاتے ہیں اور ایک چھوٹے علاقے کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ ان کے کئی فوائد ہیں، ایک تو یہ کاربن کا اخراج نہایت کم کرتے ہیں جس سے ماحول کی آلودگی سے محفوظ رہا جاسکتا ہے، اسی طرح پانی کے قدرتی بہاؤ کو متاثر کیے بغیر بجلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کم لاگت پروجیکٹس ہوتے ہیں اور مقامی آبادی کےلیے روزگار کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے انرجی ایفیشینسی اسٹینڈرڈز متعارف کروائے جائیں اور عوام کو کم توانائی خرچ کرنے والے آلات خریدنے پر راغب کیا جائے۔ نیز توانائی بچانے والے آلات پر سبسڈی فراہم کی جائے۔ ہمارے ہاں عوام کو سولر پاور کی طرف راغب کرکے ان کی قیمتیں بڑھا دی گئی ہیں جس کی وجہ سے یہ طریقے مؤثر ثابت نہیں ہوئے۔ میڈیا، تعلیمی اداروں، اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے توانائی کی بچت کے طریقوں کے بارے میں آگاہی مہم چلائی جائے۔ عوام کو اتنے زیادہ بل موصول ہورہے ہیں کہ وہ ہر طرح کے بچت کے طریقوں کو اختیار کرنے کےلیے تیار ہیں، پاکستان کے بجلی کے شعبے میں 1947 میں اپنے قیام کے بعد سے کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ملک کو برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی سے ایک چھوٹا اور منقسم بجلی کا نظام ورثے میں ملا ، جو بنیادی طور پر پن بجلی کی پیداوار پر مبنی تھا,حکومت نے تھرمل، نیوکلیئر اور قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو شامل کرکے بجلی کے نظام کو وسعت دی۔ تاہم، بجلی کی طلب ہمیشہ سپلائی سے زیادہ رہی، جس کے نتیجے میں بجلی کی دائمی قلت ہے۔ بجلی کے شعبے میں ایک بڑی اصلاحات 1994 میں نجی پاور پروڈیوسرز ( آئی پی پیز ) کا تعارف تھا۔ حکومت نے غیر ملکی اور مقامی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی معاہدوں کے تحت بجلی گھروں کی تعمیر اور چلانے کے لئے راغب کرنے کے لئے ایک پالیسی اپنائی جس میں ضمانت شدہ ٹیرف اور ادائیگیاں شامل ہیں, یہ پالیسی پاکستان کے توانائی کے شعبے میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانے اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہی۔ تاہم اس نے کچھ چیلنجز بھی پیدا کیے ، جیسے بجلی کی اعلی لاگت ، ادائیگیوں پر تنازعات ، اور ماحولیاتی خدشات ہیں۔ 2005 میں ایک اور اصلاحات بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈی آئی ایس سی اوز) کی نجکاری تھی۔ حکومت نے آٹھ ڈی آئی ایس سی اوز میں اپنے حصص نجی سرمایہ کاروں کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ، جس کا مقصد ان کی آپریشنل اور مالی کارکردگی کو بہتر بنانا، نقصانات کو کم کرنا اور خدمات کی فراہمی کو بڑھانا تھی۔ تاہم، نجکاری کے عمل کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا، جیسے سیاسی مخالفت، قانونی چیلنجز، ریگولیٹری مسائل ہیں۔ پاکستان کو بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان چیلنجوں میں سے کچھ یہ ہیں:طلب اور رسد کا فرق: حالیہ برسوں میں نئے پاور پلانٹس کے اضافے کے باوجود، پاکستان کو اب بھی بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان فرق کا سامنا ہے، خاص طور پر مصروف ترین اوقات اور موسم گرما کے مہینوں میں۔ یہ فرق اوسطا 5 سے 6 گیگا واٹ ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی بندش ہوتی ہے۔
ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نقصانات: پاکستان کا ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن سسٹم پرانا اور غیر موثر ہے جس کے نتیجے میں اعلی تکنیکی اور غیر تکنیکی نقصانات ہوتے ہیں۔ یہ نقصانات پیدا ہونے والی بجلی کا تقریبا 18-20 فیصد ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ بجلی کے شعبے کو اربوں روپے کا ریونیو نقصان ہوتا ہے۔
گردشی قرضہ: پاکستان کا پاور سیکٹر گردشی قرضوں کے دائمی مسئلے کا شکار ہے، جو بجلی کی سپلائی چین میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے واجب الادا بلوں کا جمع ہونا ہے۔ گردشی قرضے کئی عوامل کی وجہ سے ہوتے ہیں، جیسے صارفین (خاص طور پر سرکاری شعبے کے اداروں) کی جانب سے ادائیگیوں میں تاخیر، غیر لاگت پر غور کرنے والے ٹیرف، سبسڈیز، نااہلی، بدعنوانی اور گورننس کے مسائل۔ گردشی قرضہ 2 کھرب روپے (تقریبا 12 ارب ڈالر) تک پہنچ چکا ہے، جس سے بجلی کے شعبے کی لیکویڈیٹی اور افادیت متاثر ہوتی ہے۔
ماحولیاتی اثرات: پاکستان کا بجلی کی پیداوار کے لیے فوسل فیول پر انحصار ماحول یات اور صحت عامہ پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ قدرتی گیس اور تیل کو جلانے سے گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں جو گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا کی تبدیلی میں کردار ادا کرتی ہیں۔ کوئلے کے استعمال سے نقصان دہ آلودگی بھی پیدا ہوتی ہے جو فضائی آلودگی اور سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کے آبی وسائل بھی پن بجلی کی پیداوار کے لیے بڑے ڈیموں کی تعمیر اور آپریشن سے متاثر ہوتے ہیں۔
درآمد شدہ جیواشم ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لئے، پاکستان کو مندرجہ ذیل حکمت عملی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے:
انرجی مکس میں تنوع: پاکستان کو اپنے انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کے ذرائع میں اپنا حصہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع ، جیسے ہوا ، شمسی ، بایوماس ، اور جیوتھرمل ، روایتی ذرائع کے مقابلے میں متعدد فوائد رکھتے ہیں ، جیسے کم لاگت ، کم کاربن کا اخراج ، دیسی دستیابی ، اور روزگار کی تخلیق۔ پاکستان میں قابل تجدید توانائی کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، خاص طور پر ہوا اور شمسی توانائی کے شعبوں میں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان 346 گیگا واٹ ہوا اور 2.9 ٹن شمسی توانائی پیدا کر سکتا ہے۔
متبادل ایندھن کی تلاش: پاکستان کو ایسے متبادل ایندھن تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو بجلی کی پیداوار کے لئے فوسل ایندھن کی جگہ لے سکیں۔ ان میں سے کچھ ایندھن قدرتی گیس ہائیڈریٹس (جسے میتھین ہائیڈریٹس بھی کہا جاتا ہے)، شیل گیس، کوئلہ بیڈ میتھین (سی بی ایم)، بائیو فیول (جیسے ایتھنول اور بائیو ڈیزل)، ہائیڈروجن (پانی کے الیکٹرولائٹس یا بایوماس گیسی فیکیشن سے تیار) اور مصنوعی ایندھن (کوئلے یا قدرتی گیس سے تیار کردہ) ہیں۔
توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانا: پاکستان کو بجلی کے نظام کی تمام سطحوں پر اپنی توانائی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، پیداوار سے ٹرانسمیشن تک، تقسیم سے لے کر کھپت تک. توانائی کی بچت کے اقدامات توانائی کے نقصانات کو کم کرنے ، اخراجات کو بچانے ، وسائل کو بچانے اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مدد کرسکتے ہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X