اسلام آباد (اردو ٹائمز) ڈاکٹر بخیت عتیق: پاک–امارات تعلقات میں اعتماد اور استحکام کی نئی مثال
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک گہرے بھائی چارے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی دیرینہ شراکت داری ہے۔ یہ رشتہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا گیا ہے اور آج بھی وفاداری، ہمدردی اور مشترکہ ترقی کے اصولوں پر قائم ہے، جو دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قریب رکھتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں متحدہ عرب امارات نے پیچیدہ علاقائی اور عالمی حالات میں جس بصیرت اور استحکام کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابلِ تحسین ہے۔ مشکل حالات میں مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے خطے میں توازن برقرار رکھنا اماراتی قیادت کی دوراندیشی کا ثبوت ہے۔ اس طرزِ حکمرانی نے نہ صرف عالمی سطح پر اعتماد کو بڑھایا ہے بلکہ پاکستان جیسے قریبی شراکت دار ممالک میں بھی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
اس مضبوط تعلق کے فروغ میں اہم سفارتی شخصیات کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی ان نمایاں شخصیات میں شامل ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور مؤثر سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کی قیادت میں قونصل خانہ متحدہ عرب امارات کراچی نہ صرف سفارتی سرگرمیوں کا مرکز بنا بلکہ عوامی اور کاروباری سطح پر روابط کو بھی فروغ ملا۔
ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی نے کراچی کی تاجر برادری، پالیسی سازوں اور سول سوسائٹی میں ایک قابلِ اعتماد اور باوقار شخصیت کے طور پر اپنی شناخت قائم کی ہے۔ ان کا اندازِ گفتگو، مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ رویہ اور پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ مسلسل رابطہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ صرف ایک سفارتی نمائندہ نہیں بلکہ ایک ایسے پل کا کردار ادا کر رہے ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
ایسے مواقع پر جب غلط فہمیاں یا افواہیں عوامی اعتماد کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کرتی ہیں، وہاں ڈاکٹر بخیت عتیق جیسے معتبر رہنما انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی اور مؤثر رابطہ کاری سے نہ صرف بے بنیاد خدشات کا خاتمہ ہوتا ہے بلکہ عوام اور کاروباری حلقوں میں اعتماد بھی بحال رہتا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی کمیونٹی، جو بڑی تعداد میں امارات میں مقیم ہے، اس قسم کی مثبت سفارت کاری سے براہِ راست مستفید ہوتی ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور انسانی وسائل سمیت متعدد شعبوں پر محیط ہیں۔ لاکھوں پاکستانی امارات کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ وطنِ عزیز کے لیے زرِمبادلہ کا اہم ذریعہ بھی ہیں۔ یہی عوامی تعلق اس شراکت داری کی اصل بنیاد ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے مسلسل اعتماد اور شفافیت ضروری ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں بااثر اور قابلِ احترام شخصیات کے ساتھ روابط کو فروغ دینا ایک دانشمندانہ حکمتِ عملی ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف سفارتی تعلقات کو تقویت ملتی ہے بلکہ عوامی سطح پر بھی ایک مثبت اور حقیقت پسندانہ تاثر قائم ہوتا ہے۔ یہ حکمتِ عملی دونوں ممالک کے درمیان دیرپا استحکام اور ہم آہنگی کو یقینی بناتی ہے۔
کراچی، جو پاکستان کا معاشی مرکز ہے، اس تعلق میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں ایک فعال اور متحرک قونصل جنرل کی موجودگی نہ صرف کاروباری روابط کو مضبوط بناتی ہے بلکہ سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ ڈاکٹر بخیت عتیق الرمیثی کی قیادت میں قونصل خانہ متحدہ عرب امارات کراچی نے ان تمام پہلوؤں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا ہے۔
یہ شراکت داری وفاداری، ہمدردی اور مشترکہ ترقی کی بنیاد پر قائم ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، چاہے وہ معاشی تعاون ہو، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد ہو یا سفارتی حمایت۔ یہی مستقل تعاون اس رشتے کو وقت کے ساتھ مزید مضبوط بناتا ہے۔
مستقبل میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کے بے شمار مواقع موجود ہیں، خصوصاً ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں۔ ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر سفارت کاری، مضبوط قیادت اور باہمی اعتماد کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کا تعلق دراصل ایک ایسی کہانی ہے جو اتحاد، اعتماد اور مشترکہ مقاصد کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا بندھن ہے جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوتا جا رہا ہے اور آنے والے برسوں میں بھی دونوں ممالک کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کرے گا۔

