LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان کی ایران , امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تجویز..؟

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم پاکستان نے ایران اور امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تجویز پیش کر دی ہے تاکہ تصفیہ طلب معاملات، جیسے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال، پر مزید بات چیت کی جا سکے,
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے پہلے دور کے بعد اب دوسرے مرحلے (Phase 2) کے لیے ایک جامع تجویز پیش کی ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کو ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے مرحلے (Phase 2) کے حوالے سے تازہ ترین صورتحال درج ذیل ہے:
مذاکرات کا مقام اور وقت

پاکستان کی حکومت نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ بھی اسلام آباد میں منعقد کیا جائے تاکہ پہلے مرحلے کے تسلسل کو برقرار رکھا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ اگلے چند ہفتوں میں شروع ہو سکتا ہے، تاہم حتمی تاریخوں کا اعلان فریقین (واشنگٹن اور تہران) کی رضامندی کے بعد کیا جائے گا۔
دوسرے مرحلے کامجوزہ ایجنڈا ;….
پاکستان نے دوسرے مرحلے کے لیے درج ذیل اہم نکات پر توجہ مرکوز کرنے کی تجویز دی ہے:…
جنگ بندی میں توسیع:…. موجودہ عارضی جنگ بندی کو طویل مدتی معاہدے میں بدلنا;…
سمندری سیکیورٹی:… آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں تجارتی جہازوں کی بحفاظت نقل و حمل کو یقینی بنانا۔
قیدیوں کا تبادلہ:… انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کی رہائی کے معاملے پر پیش رفت;…
ایٹمی پروگرام اور پابندیاں:….. ایران کے ایٹمی پروگرام پر تحفظات اور ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے حوالے سے ابتدائی بات چیت۔
فریقین کا ردعمل;.. امریکا: وائٹ ہاؤس اور نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو “تعمیراتی” قرار دیا ہے، تاہم وہ کسی بھی مستقل معاہدے سے قبل ٹھوس ضمانتیں چاہتے ہیں۔
ایران: ….ایرانی وفد نے بھی مذاکرات کے عمل کو مثبت قرار دیا ہے لیکن ان کا اصرار ہے کہ پابندیوں کے خاتمے کے بغیر پائیدار امن مشکل ہے۔
4. پاکستان کا کردار بطور سہولت کار;……
وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی سفارتی حکام اس وقت چین، سعودی عرب اور قطر کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ دوسرے مرحلے کے لیے ایک ایسا فریم ورک تیار کیا جا سکے جو دونوں فریقین کے لیے قابلِ قبول ہو۔
پاکستان کی کوشش ہے کہ دوسرے مرحلے میں مذاکرات کو محض بیانات سے نکال کر تحریری معاہدوں کی طرف لے جایا جائے۔
دوسرے مرحلے کی تجویز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:….
مذاکرات کا مقام اور وقت: ….پاکستان نے تجویز دی ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور بھی اسلام آباد میں منعقد کیا جائے، جس میں دونوں ممالک کے تکنیکی وفود گہرائی سے بات چیت کر سکیں۔
ایجنڈا ,تصفیہ طلب مسائل ;…. دوسرے مرحلے کے لیے پاکستان نے ایران کے ایٹمی پروگرام، علاقائی سیکیورٹی، اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) میں جہاز رانی کی آزادی جیسے حساس معاملات کو ایجنڈے میں شامل کرنے کی تجویز دی ہے۔

پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر ہمسایہ ممالک اور مسلم امہ کے درمیان تنازعات کو ختم کرانے اور جنگ بندی کی کوششوں میں پاکستان کی سفارت کاری کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے حوالے سے گہری امید ظاہر کی ہے اور اسے پاکستان کے لیے ایک “تاریخی لمحہ” قرار دیا ہے, ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کو ایک میز پر لانا پاکستان کی سفارتی کامیابی ہے اور وہ ان کوششوں کے مستقل نتائج کے لیے پرامید ہیں,
وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہ راست بات چیت کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے اور پاکستان مذاکرات میں مثبت پیشرفت کے لیے اب بھی پرامید ہے
مذاکرات کا تسلسل: وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ اسلام آباد مذاکرات کا پہلا دور کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوا، لیکن فریقین کے درمیان جنگ بندی (Ceasefire) اب بھی برقرار ہے اور پاکستان اس کے تسلسل کے لیے “بھرپور کوششیں” کر رہا ہے۔
تاریخی اہمیت:…. وزیراعظم نے واضح کیا کہ 47 سال بعد پہلی بار دونوں وفود آمنے سامنے بیٹھے، جس کا سہرا پاکستان کی قیادت اور بالخصوص نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو جاتا ہے۔

عالمی ستائش: ….وزیراعظم نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور جاپانی وزیراعظم سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کی طرف سے پاکستان کے مصالحانہ کردار کو سراہے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔
آئندہ کا لائحہ عمل:… پاکستان نے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی تجویز پیش کر دی ہے تاکہ تصفیہ طلب معاملات، جیسے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال، پر مزید بات چیت کی جا سکے۔ وزیراعظم پاکستان کا ماننا ہے کہ جس طرح اوسلو معاہدہ یا گڈ فرائیڈے معاہدے میں وقت لگا، اسی طرح ایران اور امریکہ کے درمیان پائیدار امن کے قیام میں بھی صبر اور مسلسل سفارت کاری کی ضرورت ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ ’پاکستان نے خطے میں کشیدہ صورتحال کے دوران کئی مواقع پر تناؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔”پاکستان نے اس وقت امریکہ اور ایران میں ثالثی اور مذاکرات کی میزبانی کی جب دنیا کی معیشت ہجکولے رہی تھی اور یہ پاکستان کی ہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ دونوں فریقین میں جنگ بندی اس وقت بھی جاری ہے”۔ اسلام آباد میں ایران اور امریکہ رات بھر جاری رہنے والے مذاکرات کے باوجود معاہدے پر پہنچنے میں ناکام رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے امریکا ایران مذاکرات کےلیے پاکستانی قیادت کی تعریف کی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ یہ مذاکرات فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی مؤثر قیادت کے ذریعے ممکن ہوئے۔ امریکی صدر پاکستانی قیادت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے ان کی کاوشوں کو سراہا۔ کہا کہ پاکستانی قیادت ان کا شکریہ ادا کرتی رہی ہے کہ انہوں نے بھارت کے ساتھ ایک ممکنہ بڑی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا جس میں کروڑوں جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کے ساتھ مذاکرات صبح سویرے شروع ہوئے اور تقریباً 20 گھنٹے تک جاری رہے جس دوران کئی نکات پر پیش رفت ہوئی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سب سے اہم مسئلہ ایران کا جوہری پروگرام ہے جس پر کوئی حتمی اتفاق نہ ہو سکا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے کے لیے تیار نہیں اور یہی بنیادی رکاوٹ ہے کیونکہ ایسے غیر متوقع ملک کے پاس جوہری طاقت ہونا قابل قبول نہیں۔ پاکستانی سینئر سفارتی نامہ نگار اور صدر ڈپلومیٹک کرسپانڈنٹس فورم پاکستان,اصغر علی مبارک کے مطابق اسلام آباد میں موجود ذرائع نےبتایا کہ کچھ بات چیت اُس کے بعد بھی جاری رہی، جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس علی الصبح اپنا جہاز لے کر روانہ ہوئے اور اعلان کیا کہ امریکی وفد نے اپنی ’آخری اور بہترین پیشکش‘ بھی کر دی ہے۔ تاہم اس کے بعد یہ اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری رہی۔ اس سےیہ اشارہ ملتا ہے کہ مصالحت اور پسِ پردہ رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنے والی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے۔ امریکا سے مذاکرات کے خاتمے کے بعد سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے کہا کہ مذاکراتی عمل کو آسان بنانے پر پاکستان کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے پہلے میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ ہمارے پاس نیک نیتی اورارادہ ہے، گزشتہ دو جنگوں کےتجربات سےہمیں مخالف فریق پرکوئی بھروسانہیں۔ اسپیکر ایرانی پارلیمنٹ نے کہا کہ مذاکرات میں ایرانی وفد نے مستقبل سے متعلق اقدامات کیے، لیکن مخالف فریق اس مرحلے میں ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں بالآخرناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کی منطق اور اصولوں کو سمجھ لیا ہے، اب وقت آگیا ہے وہ فیصلہ کریں کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ باقر قالیباف نے لکھا کہ ایرانی قوم کے حقوق کی پاسداری کے لیے فوجی جدوجہد کے ساتھ ڈپلومیسی کو دوسرا طریقہ سمجھتے ہیں، ایران 90 ملین افراد کا ملک ہے، سپریم لیڈرکے حکم پر سڑکوں پر نکلنے والے بہادر ایرانیوں کا شکر گزار ہوں، ایران کے40 روزہ قومی دفاع کی کامیابیاں مستحکم کرنے کے لیےکوششیں جاری رکھیں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ایران نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ’ایک ہی نشست میں‘ معاہدہ طے پا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے اسلام آباد مذاکرات کو ایک اہم سفارتی عمل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، جو باہمی اعتماد اور سیاسی عزم کے ذریعے تمام فریقین کے مفادات کے لیے ایک پائیدار فریم ورک تشکیل دے سکتا ہے۔ ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے ایک مضبوط سفارتی بنیاد فراہم کی ہے، جس سے مستقبل میں مثبت پیش رفت کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک پاکستان نے ان مذاکرات کے انعقاد میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ایرانی سفیر نے بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خیر سگالی اور مثبت سفارتی کردار ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی حکومت، فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں نے مذاکرات کے انعقاد کے لیے بھرپور انتظامات کیے، جس کے باعث مہمانوں کو ایک پُرامن، منظم اور محفوظ ماحول میسر آیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی اعلیٰ سطحی مذاکراتی ٹیم نے وقار، خود اعتمادی اور عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے بات چیت میں حصہ لیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ان مذاکرات کے ذریعے اپنے قومی مفادات اور عوام کے جائز حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی۔ سفیر ایران نے امید ظاہر کی کہ اگر تمام فریقین باہمی اعتماد اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو یہ سفارتی عمل خطے میں استحکام اور تعاون کے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ یاد رکھیں کہ پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے اتوار کو امید ظاہر کی امریکہ اور ایران مذاکرات جاری رکھیں گے۔ ا نکا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی ضروری ہے کہ فریقین جنگ بندی کے حوالے سے اپنے عزم پر قائم رہیں۔ مزید کہا کہ ’پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان روابط اور مذاکرات کو سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی اپنا یہ کردار ادا کرتا رہے گا۔‘اسحٰق ڈار کا کہنا تھا کہ امید کرتے ہیں دونوں ملک خطے اور دنیا میں پائیدار امن اور خوشحالی کےلیے مثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے۔ دونوں ملکوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔دونوں فریقوں کے درمیان جامع اور تعمیری مذاکرات کے متعدد دور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے بطور نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے مذاکراتی عمل میں معاونت کی۔ اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کی جانب سے پاکستان کے مثبت کردار کو تسلیم کیے جانے پر ان کے مشکور ہیں۔

وزیر خارجہ نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے جس میں اہم سفارتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے سعودی ہم منصب کو اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کے لیے جنگ بندی کے وعدوں پر عمل درآمد کرنا نہایت ضروری ہے۔ نائب وزیراعظم نے مذاکرات کے عمل میں پاکستان کے سہولت کار کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے اور اس سے باہر امن و استحکام کے فروغ کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت اور بات چیت کے عمل کو جاری رکھنے کے لیے اپنا تعاون فراہم کرتا رہے گا۔ اس دوران اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے جس میں اہم علاقائی و عالمی معاملات پر بات چیت کی گئی۔ اس گفتگو کے دوران نائب وزیراعظم نے اپنے مصری ہم منصب کو اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی اور فریقین کے درمیان روابط کو آسان بنانے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ تمام فریقین کے لیے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے علاوہ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں یہ تسلیم کیا کہ پاکستان میں طویل مذاکرات ’اچھی طرح‘ ہوئے اور ’زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا۔‘ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسلام آباد میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں ایران کے جوہری ہتھیاروں پر سخت مؤقف کے جواب میں اتوار کو آبنائے ہرمز کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیا پوسٹ میں ٹرمپ نے مزید لکھا کہ

ایران نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا وعدہ کیا تھا، اور انہوں نے جانتے بوجھتے ایسا کرنے میں ناکامی دکھائی۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر کے بہت سے لوگوں اور ممالک کو بے چینی، افراتفری اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے پانی میں بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں، حالانکہ ان کی تمام بحریہ اور زیادہ تر ’مائن ڈراپرز‘ (بارودی سرنگیں گرانے والے جہاز) مکمل طور پر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے انہوں نے ایسا کیا ہو، لیکن کون سا جہاز کا مالک یہ خطرہ مول لینا چاہے گا؟ ایران کی ساکھ اور ان کے ’رہنماؤں‘ کے بچا کھچا وقار کو بہت بڑی بے عزتی اور مستقل نقصان پہنچا ہے، لیکن ہم اب ان تمام باتوں سے آگے نکل چکے ہیں۔ جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا، بہتر ہوگا کہ وہ اس بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھولنے کا عمل تیز رفتاری سے شروع کریں! ان کی جانب سے قانون کی ہر کتاب کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ مجھے نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف، اور جیرڈ کشنر نے اس ملاقات کے بارے میں مکمل بریفنگ دی ہے جو اسلام آباد میں پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی مہربان اور انتہائی قابل قیادت میں ہوئی تھی۔ وہ بہت ہی غیر معمولی انسان ہیں، اور انڈیا کے ساتھ ایک ہولناک جنگ، جس میں 30 سے 50 ملین (3 سے 5 کروڑ) جانیں ضائع ہو سکتی تھیں، کو رکوانے پر میرا مسلسل شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مجھے یہ سن کر ہمیشہ خوشی ہوتی ہے۔ جس انسانیت کا ذکر کیا گیا ہے وہ ناقابل فہم ہے۔ ایران کے ساتھ ملاقات صبح سویرے شروع ہوئی اور پوری رات جاری رہی، تقریباً 20 گھنٹے۔ میں بڑی تفصیل میں جا سکتا ہوں اور ان بہت سی چیزوں کے بارے میں بات کر سکتا ہوں جو حاصل کی گئی ہیں، لیکن صرف ایک چیز اہمیت رکھتی ہے۔ ایران اپنے جوہری عزائم کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے! کئی لحاظ سے، جن نکات پر اتفاق ہوا وہ ہمارے فوجی آپریشنز کو منطقی انجام تک جاری رکھنے سے بہتر ہیں، لیکن وہ تمام نکات اس بات کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتے کہ ایٹمی طاقت ایسے غیر مستحکم، مشکل اور ناقابل پیش گوئی لوگوں کے ہاتھ میں رہنے دی جائے۔ میرے تینوں نمائندے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، حیران کن طور پر ایران کے نمائندوں محمد باقر قالیباف، عباس عراقچی اور علی باقری کے بہت دوست اور معزز بن گئے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ سب سے اہم واحد مسئلے پر بالکل غیر لچکدار تھے اور، جیسا کہ میں نے ہمیشہ کہا ہے، شروع ہی سے، اور کئی سال پہلے بھی، ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا! چنانچہ، صورتحال یہ ہے کہ ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن واحد ’نکتہ جو واقعی اہمیت رکھتا تھا، یعنی ’جوہری (ہتھیار)‘، اس پر اتفاق نہیں ہوا۔ فوری طور پر نافذ العمل، ریاست ہائے متحدہ کی بحریہ، جو دنیا کی بہترین بحریہ ہے، آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے یا وہاں سے نکلنے والے تمام بحری جہازوں کی ناکہ بندی کا عمل شروع کر دے گی۔ ایک وقت آئے گا جب ہم ’سب کو اندر جانے کی اجازت، سب کو باہر آنے کی اجازت‘ کی بنیاد پر پہنچ جائیں گے، لیکن ایران نے محض یہ کہہ کر کہ ’وہاں کہیں کوئی بارودی سرنگ ہو سکتی ہے‘ جس کے بارے میں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا، ایسا ہونے نہیں دیا۔ یہ عالمی بھتہ خوری ہے، اور ممالک کے قائدین، خاص طور پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے قائدین، کو کبھی بھی بلیک میل یا مجبور نہیں کیا جا سکے گا۔
ٹرمپ نے مزید لکھا کہ میں نے اپنی بحریہ کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ وہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کو تلاش کرے اور روکے جس نے ایران کو ٹول (ٹیکس) ادا کیا ہے۔ غیر قانونی ٹول ادا کرنے والے کسی بھی شخص کو کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا۔ ہم ان بارودی سرنگوں کو تباہ کرنے کا کام بھی شروع کریں گے جو ایرانیوں نے آبنائے میں بچھائی ہیں۔ کوئی بھی ایرانی جو ہم پر یا پرامن جہازوں پر گولی چلائے گا، اسے جہنم واصل کر دیا جائے گا! ایران کسی بھی دوسرے سے بہتر جانتا ہے کہ اس صورتحال کو کیسے ختم کرنا ہے جس نے پہلے ہی ان کے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی بحریہ ختم ہو چکی ہے، ان کی فضائیہ ختم ہو چکی ہے، ان کا اینٹی ایئر کرافٹ اور ریڈار نظام بیکار ہے، خامنہ ای اور ان کے زیادہ تر ’رہنما‘ مر چکے ہیں، یہ سب ان کے جوہری عزائم کی وجہ سے ہوا ہے۔ ناکہ بندی جلد شروع ہو جائے گی۔ اس ناکہ بندی میں دیگر ممالک بھی شامل ہوں گے۔ ایران کو اس بھتہ خوری کے غیر قانونی فعل سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وہ پیسہ چاہتے ہیں اور، اس سے بھی اہم بات، وہ جوہری طاقت چاہتے ہیں۔ مزید برآں، ایک مناسب وقت پر، ہم مکمل طور پر ’لاکڈ اینڈ لوڈڈ‘ ہیں، اور ہماری فوج ایران کا جو تھوڑا بہت حصہ بچا ہے اسے ختم کر دے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X