اسلام آباد (اردو ٹائمز) مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی معاونت کے معیار کو غیر ضروری طور پر محدود کرنا ایک مزدور دشمن اقدام ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔چوہدری محمد یٰسین
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی معاونت کے معیار کو غیر ضروری طور پر محدود کرنا ایک مزدور دشمن اقدام ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔چوہدری محمد یٰسین
پاکستان ورکرزفیڈریشن کا ورکرزویلفیئرفنڈکے مزدوردشمن تعلیمی فیصلے کی شدید مذمت۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری محمد یٰسین، جنرل سیکرٹری اسد محمود، صدر شوکت علی انجم، چیئرمین عبدالرحمان عاصی سمیت دیگر عہدیداران چوہدری بلال محمود، منیر حسین بٹ، عمرسلیمی،اشتیاق ورک،سید عطااللہ شاہ،جمتازخان،آصف خان، چوہدری امجد عباس ودیگر عہدیداران نے وزارتِ سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی گورننگ باڈی کے چیئرمین کی توجہ ایک اہم فیصلے کی جانب مبذول کروائی ہے جس کے مطابق گورننگ باڈی کے 166ویں اجلاس (مورخہ 11 مارچ 2026ء، ایجنڈا آئٹم نمبر 5، پیرا III/43-IV) میں مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیمی معاونت کے معیار کو غیر ضروری طور پر محدود کرنا ایک مزدور دشمن اقدام ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔رہنماؤں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ورکرز ویلفیئر فنڈ کے بنیادی اغراض و مقاصد کے منافی ہے بلکہ ملک بھر کے لاکھوں مزدوروں اور ان کے بچوں کے تعلیمی حقوق پر براہِ راست حملہ ہے۔ پاکستان ورکرز فیڈریشن نے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔اس موقع پر انھوں نے واضح کیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایک فلاحی ادارہ ہے جو مزدوروں کی محنت اور صنعتی اداروں سے حاصل ہونے والے وسائل سے قائم کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد مزدوروں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود اور تعلیمی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ ایسی پالیسیاں جو مزدوروں کے بچوں کو تعلیم سے محروم کریں، ادارے کے قیام کے مقصد کی صریح نفی ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ماضی میں یہ اصول رائج تھا کہ اگر کسی مزدور کے بچے کو کسی تسلیم شدہ کالج، یونیورسٹی، میڈیکل یا انجینئرنگ ادارے میں داخلہ مل جاتا تھا تو اس کی فیس ورکرز ویلفیئر فنڈ ادا کرتا تھا اور اس کے لیے کسی مخصوص فیصد کی شرط عائد نہیں تھی تاہم اب 60 فیصد اور 80 فیصد جیسے سخت معیار نافذ کر کے ہزاروں مستحق بچوں کو اس سہولت سے محروم کیا جا رہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ مزدوروں کے بچے پہلے ہی محدود وسائل اور کمزور تعلیمی سہولیات کے باعث مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، اور ایسے میں بلند نمبروں کی شرط عائد کرنا ان کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بند کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیلف ایجوکیشن اسکیم کا خاتمہ یا نئے کیسز پر پابندی مزدوروں کی پیشہ ورانہ اور تعلیمی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، جو کسی بھی فلاحی نظام کے بنیادی تصور کے خلاف ہے۔

