رحیم یار خان (اردو ٹائمز) جسٹس آصف خان ترین — کی خدمات، یادیں اور خاندانی ورثہ
Share
رحیم یار خان (اردو ٹائمز) 11 مارچ کو مرحوم جسٹس اصف خان ترین کی برسی نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر ان کے اہلِ خانہ، دوستوں، وکلاء برادری اور سماجی شخصیات نے انہیں بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مرحوم ایک باصلاحیت قانون دان، دیانتدار جج اور اعلیٰ کردار کے حامل انسان تھے، جنہوں نے اپنی زندگی انصاف، خدمت اور اصولوں کی پاسداری کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
مرحوم جسٹس اصف خان ترین، معروف قبائلی و سماجی شخصیت سردار صادق خان ترین کے بڑے صاحبزادے تھے اور ایک معزز و باوقار خاندان سے تعلق رکھتے تھے، جس کے افراد مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
وکالت سے جج بننے تک کا درخشاں سفر
جسٹس اصف خان ترین نے اپنے عملی کیریئر کا آغاز وکالت سے کیا اور جلد ہی رحیم یار خان کے ممتاز وکلاء میں شمار ہونے لگے۔ اپنی غیر معمولی قانونی بصیرت، مضبوط دلائل اور انصاف پسندی کے باعث انہوں نے قانونی حلقوں میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی قابلیت اور خدمات کے اعتراف میں انہیں انسدادِ دہشت گردی عدالت بہاولپور میں بطور جج تعینات کیا گیا، جہاں انہوں نے نہایت دیانتداری اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیے۔
تاہم، ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے عروج کے دوران ایک المناک حادثہ پیش آیا۔ وہ رحیم یار خان سے لاہور جا رہے تھے کہ لیاقت پور کے قریب ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ ان کی ناگہانی وفات نے قانونی برادری کو ایک نڈر، قابل اور اصول پسند جج سے محروم کر دیا۔
کھیلوں سے گہری وابستگی
قانونی خدمات کے ساتھ ساتھ جسٹس اصف خان ترین کو کھیلوں، خصوصاً فٹبال سے خصوصی دلچسپی تھی۔ وہ رحیم یار خان میں فٹبال کے فروغ کے لیے سرگرم کردار ادا کرتے رہے اور ایک عرصہ تک فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر بھی رہے۔ ان کی کاوشوں سے نوجوانوں میں کھیلوں کے رجحان کو فروغ ملا اور مقامی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو تقویت ملی۔
معزز خاندان اور بھائیوں کی نمایاں خدمات
مرحوم کے بھائی ڈاکٹر اقبال خان ترین ایک ممتاز سرجن ہیں جو لندن میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر FRCS جیسی اعلیٰ ڈگری کے حامل ہیں۔
سردار ظفر خان ترین ایک سینئر قانون دان اور ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں، جو رحیم یار خان میں وکالت کے شعبے میں نمایاں مقام رکھتے ہیں اور ڈسٹرکٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ سماجی و قبائلی امور میں بھی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔
انجینئر شاہد خان ترین کینیڈین نیشنلٹی رکھتے ہیں اور سعودی عرب کی عالمی شہرت یافتہ کمپنی سعودی آرامکو میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں، جہاں وہ اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح انجم خان ترین لاہور میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں اور تجارت کے میدان میں معتبر مقام رکھتے ہیں۔
والد کی تربیت — کامیابی کی بنیاد
مرحوم جسٹس اصف خان ترین کی کامیابی اور ان کے خاندان کی نمایاں حیثیت کے پیچھے ان کے والد سردار صادق خان ترین کی بصیرت، محنت اور دور اندیشی کا کلیدی کردار رہا ہے۔
آج سے کئی دہائیاں قبل، جب تعلیمی سہولیات محدود تھیں، ایسے حالات میں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانا اور انہیں مختلف شعبوں میں نمایاں مقام دلانا ایک غیر معمولی کارنامہ تھا۔ سردار صادق خان ترین نے نہ صرف اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی بلکہ انہیں اعلیٰ اخلاق، محنت اور دیانتداری کے اصول بھی سکھائے۔
اختتامیہ
مرحوم جسٹس اصف خان ترین کی زندگی خدمت، انصاف اور اصول پسندی کی روشن مثال ہے۔ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، جبکہ ان کا خاندان آج بھی مختلف شعبوں میں ان کے نام کو روشن کر رہا ہے۔ ان کی برسی کے موقع پر انہیں یاد کرتے ہوئے دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔

