اسلام آباد (اردو ٹائمز) جناح گارڈن کے رہائشیوں کا اضافی بجلی بلوں کے خلاف جناح گارڈن ایڈمنسٹریٹر کے دفتر کے باہر احتجاج، درست بلز کے اجرا تک بلوں کی ادائیگی سے انکار
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) جناح گارڈن کے رہائشیوں کا اضافی بجلی بلوں کے خلاف جناح گارڈن ایڈمنسٹریٹر کے دفتر کے باہر احتجاج، درست بلز کے اجرا تک بلوں کی ادائیگی سے انکار
جناح گارڈن اسلام آباد کے رہائشیوں نے بجلی کے اضافی اور مبینہ طور پر غلط بلوں کے خلاف جناح گارڈن ایڈمنسٹریٹر کے دفتر کے باہر شدید احتجاج کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک انہیں درست بلز جاری نہیں کیے جاتے وہ موجودہ بل جمع نہیں کروائیں گے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ سردیوں کے موسم میں بھی ان کے بجلی کے بل غیر معمولی حد تک بڑھا دیے گئے ہیں، جس نے متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
مظاہرین کے مطابق جناح گارڈن کے متعدد گھروں کو کمرشل ریٹ کے تحت بجلی کے بلز بھیجے گئے ہیں، حالانکہ یہ علاقہ بنیادی طور پر رہائشی ہے۔ اس غلط درجہ بندی کے باعث صارفین کے بلوں میں ہزاروں روپے کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ رہائشیوں کا کہنا ہے کہ گھریلو استعمال کے باوجود کمرشل ٹیرف کا اطلاق سراسر ناانصافی ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔
احتجاج کرنے والے مکینوں نے بتایا کہ سردیوں کے دوران بجلی کا استعمال نسبتاً کم ہوتا ہے، تاہم اس کے باوجود ان کے بل گزشتہ مہینوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ موصول ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی گھروں کو دو گنے اور بعض کو اس سے بھی زیادہ بل موصول ہوئے، جس پر علاقے میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ جناح گارڈن انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں، بجلی کے بلوں کی ازسرنو جانچ پڑتال کی جائے اور غلط طور پر لگائے گئے کمرشل ریٹس ختم کر کے گھریلو ٹیرف کے مطابق درست بل جاری کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
علاقہ مکینوں نے جناح گارڈن کے ایڈمنسٹریٹر، حکومت اور متعلقہ بجلی فراہم کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں پہلے ہی عوام شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں اور ایسے میں اضافی بجلی کے بل ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
مزید برآں رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ایک جانب انہیں مبینہ طور پر بے تحاشا اضافی بجلی کے بل بھیجے گئے ہیں، جبکہ دوسری جانب بلوں کے ساتھ مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں بجلی منقطع کرنے کے نوٹس بھی ارسال کیے گئے ہیں۔ بلوں پر واضح طور پر درج ہے کہ مقررہ تاریخ تک ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں بجلی کی فراہمی منقطع کر دی جائے گی اور بعد ازاں بجلی کی بحالی کے لیے صارفین سے مزید تین ہزار روپے اضافی چارجز وصول کیے جائیں گے۔
مکینوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف غیر معمولی حد تک زیادہ بل بھیجے جا رہے ہیں اور دوسری طرف عدم ادائیگی کی صورت میں بجلی منقطع کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے، جو شہریوں کے ساتھ شدید ناانصافی ہے۔ رہائشیوں نے جناح گارڈن کی انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر بلوں کی فوری درستگی، کمرشل ریٹس کے خاتمے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہ کیے گئے تو وہ اجتماعی طور پر مزید سخت احتجاجی اقدامات کرنے پر مجبور ہوں گے۔

