اسلام آباد۔12مارچ (اردو ٹائمز):سماجی ورکر، کالم نویس اور سندھو سوشل ویلفیئر ٹرسٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر افشاں ملک نے کہا ہے کہ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت اور معاشرتی ذمہ داری ہے، معاشرے کے مستحق اور یتیم بچوں کی کفالت ایک عظیم فریضہ ہے جس کے ذریعے نہ صرف ضرورت مندوں کی زندگی میں آسانی پیدا کی جا سکتی ہے بلکہ انسان اپنی آخرت بھی سنوار سکتا ہے۔ پاکستان سویٹ ہوم میں منعقدہ افطار ڈنر سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بھی مقام، وسائل اور عزت دی ہے وہ دراصل ایک امانت ہے اور اس کا اصل مقصد ضرورت مندوں اور محروم طبقات کی مدد کرنا ہے۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے والے مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے فلاحی کاموں میں معاشرے کے تمام طبقات کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔
ڈاکٹر افشاں ملک نے کہا کہ سماجی خدمت کے اس سفر میں ایسے افراد کا کردار انتہائی قابل تحسین ہے جو اپنی زندگی اور وسائل کو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔انہوں نے زمرد خان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت اور فلاح کے لیے کام کر رہے ہیں جو یقیناً ایک بڑا اور مشکل کام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی ایک خاندان کے چند افراد کی ذمہ داری اٹھانا بھی مشکل ہوتا ہے لیکن اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی کفالت کرنا غیر معمولی خدمت ہے جس کے لیے انہیں خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کم عمری میں والد کے انتقال کے بعد انہیں یتیمی کے دکھ اور مشکلات کا قریب سے سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں خاندان میں مزید سانحات پیش آئے اور ان کے تین جوان بھائیوں کے انتقال کے بعد ان کے بچوں کی کفالت کا مسئلہ سامنے آیا۔ ان حالات نے انہیں یہ احساس دلایا کہ یتیم بچوں اور بے سہارا افراد کی مدد کرنا کتنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر افشاں ملک نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں سماجی خدمت کا راستہ دکھایا اور وہ اسی مشن کے ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی خوشیوں میں ضرورت مندوں کو شامل کرنا چاہیے کیونکہ یتیم اور محروم بچوں کے چہروں پر آنے والی مسکراہٹ انسان کے دل کو حقیقی سکون فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسان کو اپنی نیکیوں میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے اور فلاحی کام صرف اللہ کی رضا کے لیے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے حج کے دوران سنے گئے ایک خطبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر نیکیاں دکھاوے کے لیے کی جائیں تو وہ ضائع ہو جاتی ہیں، اس لیے ہر عمل کے پیچھے نیت خالص ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں معاشرے میں احساس اور باہمی روابط کم ہوتے جا رہے ہیں اور لوگ ایک دوسرے کے مسائل اور مشکلات سے بے خبر ہوتے جا رہے ہیں۔ جدید طرز زندگی اور مصروفیات نے انسانوں کے درمیان فاصلے بڑھا دیئے ہیں جس کے باعث معاشرتی ہم آہنگی اور باہمی ہمدردی متاثر ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر افشاں ملک نے کہا کہ اسلام انسانیت کی خدمت اور محتاجوں کی مدد کا درس دیتا ہے اور کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی پریشان حال کی مدد کرنا یا کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی صدقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں انسانیت، ہمدردی اور احساس کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی یتیم اور مستحق بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گی اور معاشرے کے مخیر حضرات کو بھی اس کار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی دعوت دیں گی۔

