اسلام آباد (اردو ٹائمز) معاشی محاذ پر حکومت کی کامیابی، ایس آئی ایف سی سے سرمایہ کاری کا عمل سازگار
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) ایس آئی ایف سی کے تعاون سے پاکستان پر غیر ملکی سرمایہ کاروں کا بڑھتا ہوا اعتماد معاشی استحکام کی علامت ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر معاشی حکمتِ عملی اور مالی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کی مالیاتی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) اور حکومت کی مؤثر پالیسیوں نے غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل کو سازگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں پاکستان نے 542 ارب روپے کا تاریخی مالیاتی سرپلس حاصل کر لیا، رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 542ارب روپے کا سرپلس مالیاتی استحکام کا بہترین عکاس ہے۔اخراجات میں کمی، موثر پالیسیوں اور حکومتی آمدن میں اضافے نے مالی صورتحال کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ٹیکس وصولیوں، سٹیٹ بینک منافع اور پٹرولیم لیوی آمدن میں اضافے سے حکومتی وسائل میں وسعت آئی، قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی اور اخراجاتی نظم و ضبط سے مالی بچت مزید مستحکم ہوئی۔ایس آئی ایف سی کی رہنمائی میں مؤثر مالی پالیسیوں اور مستحکم معاشی اقدامات سے پاکستان پائیدار استحکام حاصل کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26-2025 کے سات ماہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری پر منافع کی ترسیلات 1.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ رواں مالی سال کے 7 ماہ کے دوران غیر ملکی کمپنیوں کی منافع واپسی میں 27.92 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، توانائی اور مالیاتی شعبہ میں غیر ملکی کمپنیوں کے منافع کی واپسی بالترتیب 400.19 اور 371.33 ملین ڈالر ریکارڈ ہوا۔ سب سے زیادہ منافع کی واپسی برطانیہ میں 442.76 ملین اور چین میں 413.11 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ یہ اضافہ پاکستان کی مستحکم معاشی رفتار اور سرمایہ کاری کیلئے بہتر ماحول پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کاروباری ماحول میں آسانیاں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دے رہی ہیں۔. آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کمیونکیشنز جیولی کوزیک کا کہنا ہے کہ ای ایف ایف کے تحت حکومتی پالیسیوں سے پاکستانی معیشت کو استحکام ملا، اعتماد میں اضافہ اور مالی کارکردگی مضبوط رہی، سرپلس اہداف حاصل ہونے کی بھی تصدیق کردی۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گی۔ پاکستانی حکام سے ای ایف ایف پروگرام کے تیسرے اور آر ایس ایف کے دوسرے جائزے پر بات ہوگی۔ ای ایف ایف کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام ملا جس سے اعتماد میں اضافہ اور مالی کارکردگی مضبوط رہی ہے۔ مالی سال 2025 میں میں پاکستان کو جی ڈی پی کا تقریباً 1.3 فیصد بنیادی مالی سرپلس حاصل ہوا اور 14 سال بعدپہلی بارکرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل ہوا۔ یہ پروگرام کے اہداف کے مطابق ہے۔پاکستان میں مہنگائی مجموعی طور پر قابو میں رہی ہے۔ ڈائریکٹر کمیونیکیشنز آئی ایم ایف کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں گورننس اور کرپشن سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں اصلاحات کی تجاویز شامل ہیں۔ ٹیکس نظام کو آسان بنانا اور سرکاری خریداری میں شفافیت بھی شامل ہے۔
دوسری طرف ٹیکس چوری روکنےکے لیے ایف بی آر نے تمام کاروباری لین دین کی نگرانی کا فیصلہ کیاہےجومعیشت کی ڈاکیومنٹیشن کی طرف بڑا قدم ہے یاد رکھیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریوینیو (ایف بی آر نے انکم ٹیکس رولز میں مزید ترامیم سے متعلق مسودے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے کاروبار کی رئیل ٹائم نگرانی سے ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا۔
معیشت کو دستاویزی شکل دینے کےلیے تمام بڑے ری ٹیلرز، پروفیشنلز اور سروس پرووائیڈرز کی نگرانی ہوگی۔ ڈاکٹررز، وکلاء، اکاونٹنٹس، بڑے شہروں کے ایلیٹ کلب زد میں آئیں گے، ایئر کنڈیشن ریسٹورنٹ، ہوسٹل، گیسٹ ہاوس، میرچ ہال، مارکیز بھی شامل ہے۔ پوائنٹ آف سیل سسٹم، ای انوائسنگ کے بغیر سیل سروس دینا ناممکن ہوگا۔ بیوٹی پارلرز، سلمنگ، مساج اور ہیئر ٹرانسپلانٹ سینٹر کی بھی نگرانی ہوگی، بڑے نجی ڈاکٹرز، تعلیمی ادارے بھی پی او ایس سسٹم سے مربوط ہونگے، 500 روپے سے زیادہ فیس والے ڈینٹسٹ بھی پابند ہوں گے، 50 ہزار سے زیادہ فیس والے فوٹو، ویڈیو گرافرز، ایونٹ مینجرز شامل ہوں گے۔ کوریئر، کارگو سروسز، فارن ایکسچینج ڈیلرز، کمپنیز بھی پابند ہونگی، ایسکرے، سٹی اسکین، ایم آر آئی کرنے والیمیڈیکل لیبارٹریز، ایک ہزار سے زیادہ ماہانہ فیس والے نجی اسکول، کالجز، یونیورسٹیز کی بھی نگرانی ہوگی۔ انٹر سٹی ٹریول سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی عمل کرنا ہوگا۔دوسری طرف حکومت پنجاب نے تمام متعلقہ حکام کو صوبہ بھر میں ڈیجیٹل پیمنٹ پر عملدرآمد کی ہدایت جاری کردی۔ مراسلے کے مطابق پنجاب میں اب پیمنٹ کیش نہیں ڈیجٹل ہوگی، کاروباری لین دین کیو آر کوڈ اور راست کے ذریعہ کیا جائے، پنجاب بھر کے تمام کاروباری مراکز اور پرچون کی دکانتوں پر کیو آر کوڈ آویزاں کیے جائیں۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کے ذریعہ کیش لیس سسٹم نافذالعمل ہوگا، کیش لیس سسٹم سے عوام کی سہولت، شفافیت اور اکاؤنٹبلیٹی میں معاون ثابت ہوگی۔ صوبہ بھر کے پیٹرول پمپس پر فوری طور ڈیجیٹل پیمنٹس کو یقینی بنانے کا حکم دیدیا گیا، حکام کا کہنا ہے کہ پیٹرول پمپ پرنہ صرف کیو آر کوڈ بلکہ موبائل کے ذریعہ بھی ادائیگی کویقینی بنایاجائے، پیٹرول پمپس کی لائیسنس کا اجراء آن لائن بکنگ سے مشروط کردیا گیا ہے۔ واضح رہے کہاسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق جنوری کے دوران ملکی کرنٹ اکاؤنٹ 12 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جب کہ دسمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ 39 کروڑ ڈالر خسارے میں تھا۔ ماہانہ بنیاد پر کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کی بڑی وجہ ترسیلاتِ زر اور برآمدات میں اضافہ ہے، جس کے باعث بیرونی کھاتوں کا توازن بہتر ہوا۔ تاہم سالانہ بنیاد پر صورت حال مختلف رہی اور بڑھتی ہوئی درآمدات کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ میں تنزلی دیکھی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں کرنٹ اکاؤنٹ 56 کروڑ ڈالر سرپلس تھا۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعدادوشمارکے مطابق ستمبر2020سے لیکراب تک سمندرپارپاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعہ مجموعی طورپر 11.923ارب ڈالر زرمبادلہ ملک ارسال کیا،جنوری کے مہینہ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے زریعہ ترسیلات زر کا حجم 216ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ اعدادوشمارکے مطابق روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے اب تک ملک میں مجموعی طورپر1.695ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی ہے، جنوری کے مہینہ میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے زریعہ سرمایہ کاری کاحجم 72ملین ڈالر ریکارڈ کیاگیا۔ سمندرپارپاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعہ نیا پاکستان روایتی سرٹیفکیٹس میں 518ملین ڈالر،نیا پاکستان اسلامی سرٹیفیکیٹس میں 1.063ارب ڈالراورسٹاک ایکسچینج میں 114ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اسی طرح ایس ای سی پی نے نان لسٹڈ کمپنیوں کے فزیکل شیئرز کو الیکٹرانک فارم میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔کمپنیوں کے فزیکل شیئر سرٹیفکیٹ سینٹرل ڈیپازٹری سسٹم سے الیکٹرانک فارم میں تبدیل ہوں گے، نان لسٹڈ کمپنیوں کے شئیرز کی ٹرانزیکشن اب فزیکل فارم میں نہیں ہو ں گی۔ کمیشن کے مطابق رائٹس ایشو، بونس، بائی بیک اور ٹرانسفر سے پہلے شئیرز کو ڈیجیٹل کرنا ہوگا، فزیکل شیئرز سے وابستہ جعلسازی، چوری اور ضائع ہونے کے خطرات ختم ہوں گے۔ ایس ای سی پی کے مطابق الیکٹرانک شیئرز سے ملکیت کا ریکارڈ محفوظ ہوگا، الیکٹرانک شیئرز سے کمپنیوں کے شیئر تنازعات کا حل ہ شیئرز کی منتقلی تیز، محفوظ، سیٹلمنٹ کا عمل فوری ہوگا اورالیکٹرانک شیئرز بینک قرض کے لئے بطور ضمانت استعمال ہوسکیں گے۔ ایس ای سی پی کے مطابق فزیکل شیئر رکھنے والی کمپنیوں کو ٹرانزیکشن سے پہلے شیئرز ڈیجیٹل کرنا ہوں گے، آئندہ شیئر ٹرانزیکشنز سی ڈی ایس کے ذریعے ہوں گی۔یاد رکھیں کہ نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے ملک میں رجسٹرڈ آبادی کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نادرا کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ شہریوں کی تعداد 22 کروڑ 70 لاکھ ہے۔
ترجمان کے مطابق یونین کونسلز میں 3 کروڑ 19 لاکھ بچوں کی پیدائش کا اندراج ہوا ہے، لیکن یہ بچے ابھی نادرا سے رجسٹرڈ نہیں ہیں جبکہ پاکستان کی 97 فیصد آبادی سرکاری طور پر رجسٹرڈ ہے اور رجسٹرڈ افراد میں 48 فیصد خواتین اور 52 فیصد مرد شامل ہیں۔ نادرا کے بائیو میٹرک ڈیٹا کے مطابق 17 کروڑ شہریوں کے چہروں کی شناخت موجود ہے، ڈیٹا بیس میں 1 ارب 68 کروڑ فنگر پرنٹس اور 70 لاکھ افراد کی آنکھوں کا ڈیٹا موجود ہے۔ رجسٹریشن میں مجموعی طور پر 11 فیصد اضافہ ہوا ہے، بچوں کی رجسٹریشن میں 18 فیصد جبکہ خواتین کی رجسٹریشن میں 8 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ ملک بھر میں نادرا کے 938 رجسٹریشن سینٹرز فعال ہیں اور 2025ء میں 75 نئے رجسٹریشن سینٹرز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے۔ نادرا نے سمندر پار پاکستانیوں کی رجسٹریشن اور سہولت کو بھی بڑھایا ہے اور پاک آئی ڈی ایپلیکیشن نے نادرا کی 15 فیصد ذمے داری سنبھال لی ہے جبکہ آئی ڈی ایپلیکیشن کی ڈاؤن لوڈز کی تعداد 1 کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ 7 سال میں مزید پونے 2 کروڑ لوگ غریب ہو گئے۔ حکومت نے 7 سال بعد ملک میں غربت کے اعداد وشمار جاری کر دیئے، اعداد شمار کے مطابق 25 کروڑ کی آبادی میں سے 7 کروڑ غربت کا شکار ہوگئے، 7 سال میں غربت کی شرح میں 7.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد تک پہنچ گئی۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 36.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، شہری علاقوں میں شرح 17.4 فیصد رہی، بلوچستان میں غربت کی شرح 47 فیصد تک جا پہنچی، خیبر پختونخوا میں شرح 35.3 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ سندھ میں غربت کی شرح 32.6 اور پنجاب میں 23.3 فیصد ہو گئی، پاکستان میں معاشی عدم مساوات بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، عدم مساوات کی شرح بھی بڑھ کر 32 اعشاریہ 7 فیصد ہو گئی۔ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کہتے ہیں پالیسی کے عدم تسلسل، کرونا وبا اور آئی ایم ایف پروگراموں سے غربت میں اضافہ ہوا، روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی نے لوگوں کو بری طرح کچل دیا۔حکومت نے گزشتہ مالی سال میں 10.6 ارب ڈالر کا نیا قرضہ لیا جبکہ 13.3 ارب ڈالر کا قرض اور سود ادا کیا ہے۔ وزارت اقتصادی امور نے گزشتہ مالی سال کےلیے سالانہ رپورٹ جاری کردی جس کے مطابق گزشتہ مالی سال 9.7 ارب ڈالر قرض اور 3.5 ارب ڈالر سود ادا کیا، وفاق نے 8.6 اور صوبوں نے 1.9 ارب ڈالر کا نیا قرض لیا۔ گزشتہ مالی سال تک پاکستان کا غیر ملکی قرضہ 91.7 ارب ڈالر کو پہنچا، ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ پارٹنرز سے 5.06 ارب ڈالر قرض ملا، ایشیائی ترقیاتی بینک نے سب سے زیادہ 2.2 ارب ڈالر کا قرض دیا۔ بتایا گیا کہ عالمی بینک نے 1.9 ارب ڈالر کا قرض دیا، ایشیائی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ بینک نے 89 کروڑ ڈالر کا قرض دیا، گزشتہ مالی سال 1.3 ارب ڈالر کا قرضہ بجلی و توانائی کے پراجیکٹس پر لگایا گیا,موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کم کرنے کے پراجیکٹس پر 68 کروڑ ڈالر خرچ کیے، 28 کروڑ ڈالر شہری اور دیہی ترقیاتی پراجیکٹس پر خرچ کیے، 18.5 کروڑ ڈالر صحت، آئی وسائل پر 17.1 کروڑ ڈالر خرچ کیے۔ پاکستان کےذمے بیرونی قرضوں اور واجبات کا حجم 138 ارب ڈالر سے تجاوزکر گیا،جبکہ ان قرضوں پر سود کی ادائیگی میں گزشتہ تین برسوں کےدوران 84 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا،تین سال کےدوران صرف سودکا حجم ایک ارب اکانوے کروڑ ڈالر سے بڑھ کر تین ارب انسٹھ کروڑ تک پہنچ گیا۔ دستاویزکےمطابق پاکستان کے بیرونی قرضوں پرسود کی ادائیگی میں 84 فیصد اضافہ ہوا، 3 سال میں سود کا حجم بڑھ کر 3.59 ارب ڈالر تک پہنچ گیا،بیرونی قرضوں پر سود 3 سال پہلے تک 1.91 ارب ڈالر تھا،2022 کے مقابلے گزشتہ سال سود کی ادائیگی 1.67 ارب ڈالر بڑھ گئی،یہ سود آئی ایم ایف، عالمی بینک،اے ڈی بی، کمرشل بینکوں کو ادا کیا گیا،پاکستان بیرونی قرضوں پر 8 فیصد تک کی شرح سے سود ادا کررہا ہے۔ دستاویز کےمطابق سعودی عرب اور چین نےبھی سیف ڈیپازٹس پرسود وصول کیا،سود سمیت قرضوں کی ادائیگی پرسالانہ 13 ارب 32 کروڑ ڈالرخرچ ہوئے،پاکستان کے نیٹ بیرونی قرضوں میں گزشتہ سال 1.71 ارب ڈالر اضافہ ہوا،پاکستان نے 11 کروڑ 44 لاکھ ڈالر قرض لیا،9.73 ارب ڈالر اصل رقم واپس کی بیرونی کمرشل قرض پر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرسود سمیت 3 ارب ڈالر خرچ ہوئے،آئی ایم ایف کو 2.10 ارب ڈالر کی ادائیگی، 58 کروڑ ڈالر سود بھی شامل ہے۔ دستاویز کےمطابق نیا پاکستان سرٹیفکیٹ پر18 کروڑ 80 لاکھ ڈالرسود سمیت 1.56 ارب ڈالرخرچ ہوئے،اے ڈی بی کو 1.54 ارب ڈالرادا کئے گئے،61 کروڑ 50 لاکھ ڈالرسودشامل ہے،عالمی بینک کو 41 کروڑ 90 لاکھ ڈالرسود سمیت 1.25 ارب ڈالر ادائیگی ہوئی۔ اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب کو 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود سمیت 81 کروڑ ڈالر قرض واپس کیا،سعودی عرب کو سیف ڈیپازٹس کی مد میں بھی 20 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سود کی ادائیگی کی گئی۔پاکستان نےگزشتہ مالی سال یورو بانڈکی مدمیں 50 کروڑ ڈالر کی ادائیگی کی،چین کو سیف ڈیپازٹس کے 23 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سود سمیت 40 کروڑ ڈالر کی ادائیگی،گزشتہ مالی سال جرمنی کو 10 لاکھ 70 کروڑ اور فرانس کو 24 کروڑ ڈالرادا کیا،اسلامی ترقیاتی بینک کو 27 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا قرضہ واپس کیا گیا۔

