LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) امریکی صدر عالمی امن کیلئے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کےمعترف

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ریاست کے قیام کے لیے اپنی سفارتی حمایت جاری رکھے گا پاکستان بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے فلسطینی عوام کی مشکلات کے خاتمے اور حق خود ارادیت کے حصول کے لیے تعمیری کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔پاکستان نے غزہ امن معاہدے پر کسی دباؤ میں نہیں بلکہ مظلوم فلسطینیوں کو بچانے کے لیے دستخط کیے ہیں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کی تھی یہ فیصلہ فلسطین میں امن کے قیام، انسانی امداد میں اضافے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو کے مقصد کے تحت کیا گیا تھا پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں بہتری آئے گی اور غزہ کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ممکن ہو سکیں گے۔ پاکستان مشکل مراحل سے گزر رہا ہے، تاہم اس کے باوجود غزہ میں امن کے لیے بورڈ آف پیس میں شامل ہوا تھا پاکستان فلسطین میں امن کا خواہاں ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نے امن بورڈ کے اجلاس میں آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ہر ممکن کوشش ناگزیر ہے۔ واشنگٹن ڈی سی سے جاری اپنے ایک ویڈیو بیان میں عطاء تارڑ کا کہنا تھاکہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام میں مضمر ہے پاکستان کا مؤقف دوٹوک اور اصولی ہے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت جاری رکھی جائے گی۔ ویڈیو پیغام میں عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے عالمی امن کے لئے پاکستان کے کردار کو سراہا جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم نے جس انداز سے فلسطینی عوام کا مقدمہ عالمی فورمز پر پیش کیا، وہ قابل تحسین ہے۔ امن کے قیام کے لیے جتنی بھی سفارتی اور سیاسی کوششیں کی جائیں وہ کم ہیں، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کا خاتمہ عالمی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ پیش رفت میں مثبت اقدام اٹھایا ہے، جس کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی تمام تر سفارتی کوششیں فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ اور خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر حق صرف فلسطینی عوام کا ہے اور اس بنیادی اصول سے انحراف قابل قبول نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان ثالثی کا مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور عالمی سطح پر خارجہ محاذ پر پاکستان کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی قیادت اور عوام نے ہمیشہ پاکستان کے اصولی مؤقف اور عملی حمایت کو سراہا ہے۔ امن بورڈ خطے میں استحکام کے فروغ اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔ حکومت پاکستان مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کردار ادا کرتی رہے گی۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ پاک فوج اور آرمی چیف کی صلاحیتوں کا اعتراف فخر کی بات ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی بصیرت کو سراہا گیا ہے۔ مسلم ممالک کی جانب سے فلسطین کے لیے 12 ارب ڈالر کا اعلان خوش آئند ہے پاکستان کو بین الاقوامی فورمز پر ایک منفرد مقام ملا ہے، پاکستانی قیادت کی دنیا بھر میں تعریف ہو رہی ہے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 60 سے 70 بار پاکستان کی تعریف کی، بین الاقوامی تقریب میں پاکستان کی تعریف ایک بڑی کامیابی ہے انہوں نے کہا کہ غزہ کی دوبارہ آباد کاری اور فلسطین کے لیے اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں، انشاءاللہ غزہ اور فلسطین پھر سے آباد ہوں گے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ رمضان کا برکتوں والا مہینہ ہے، دعا ہے کہ مسلمانوں کی مشکلات حل ہوں، فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خاتمے کے لیے پوری دنیا کو متحد ہونا ہوگا۔ یہ یاد رکھیں کہ امریکی صدر ٹرمپ نے عالمی امن کے لیے پاکستانی عسکری اور سیاسی قیادت کے کردار کی تعریف کی ہے,امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ غزہ میں پائیدار امن لانے والے پہلے شخص ہوں گے، غزہ کے لیے امریکا 10 ارب ڈالر دے گا، انھوں نے خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت کو سراہا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف کی۔صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا واشنگٹن آمد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے دوران ان کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم شہباز شریف کو بہت پسند کرتے ہیں۔امریکی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو عظیم شخصیت اور فائٹر قرار دیتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔امریکی صدر نے خطاب میں کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران 11 جیٹ طیارے گرے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو واضح پیغام دیا تھا کہ اگر جنگ نہ رکی تو بھاری ٹیرف عائد کیے جائیں گے۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان اور بھارت دونوں کو تجارت بڑھانے کی پیشکش کی۔ ان کے مطابق پاکستان کے ساتھ ایک اچھی تجارتی ڈیل طے پائی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ میں پائیدار امن کے لیے پرعزم ہیں اورغزہ کے عوام کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔ تعمیر نو کے لیے سات ارب ڈالر سے زیادہ دیے جا چکے ہیں۔ امریکا دس ارب ڈالر دے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ فیفا غزہ میں منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گا۔ تعمر نو اور غزہ میں استحکام کے لیے مختلف ملک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پائیدار امن کے لیے غزہ امن بورڈ اہم فورم ہے۔ دریں اثنا عالمی فٹبال تنظیم فیفا اور بورڈ آف پیس نے غزہ کی تعمیر نو اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فٹبال کے ذریعے سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک اہم شراکت داری معاہدے پر دستخط کر دیئے ہیں۔ یہ معاہدہ واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس کے دوران طے پایا، جس کا بنیادی مقصد غزہ کی تعمیر نو کے لیے عالمی رہنماؤں اور اداروں سے مالی معاونت حاصل کرنا ہے، اس بورڈ کا قیام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت عمل میں لایا گیا تھا۔فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی بحالی میں اہم کردار ادا کرے گا اور فٹبال کو ترقی، روزگار اور سماجی بہتری کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت غزہ میں اسکولوں اور رہائشی علاقوں کے قریب 50 چھوٹے فٹبال گراؤنڈز، مختلف اضلاع میں 5 بڑے گراؤنڈز، ایک جدید فیفا اکیڈمی اور 20 ہزار نشستوں پر مشتمل قومی اسٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ فٹبال سے متعلق منصوبوں کے لیے 75 ملین ڈالر جمع کیے جائیں گے۔ فیفا کے مطابق اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں شامل کرنا، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے باقاعدہ لیگز کا انعقاد اور مقامی معیشت کو فروغ دینا بھی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں سکیورٹی صورتحال، تعمیر نو کے اخراجات اور انسانی امداد کی فراہمی جیسے عوامل اس منصوبے کی کامیابی کے لیے اہم چیلنجز ثابت ہو سکتے ہیں,صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دنیا میں امن سے زیادہ کوئی اور چیز اہم نہیں ہے، پائیدار امن کےلیے غزہ پیس بورڈ اہم فورم ہے، غزہ پیس بورڈ میں دنیا کے اہم ممالک شامل ہوئے ہیں، اپنے اہداف اور اہمیت کے حوالے سے پیس بورڈ کا کوئی متبادل نہیں، ہم غزہ کے لوگوں کے لیے روشن مستقبل چاہتے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب میں کہا کہ فیفا غزہ میں منصوبوں کے لیے ساڑھے سات کروڑ ڈالر جمع کرنے میں مدد دے گا۔ تعمر نو اور غزہ میں استحکام کے لیے مختلف ملک اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ پائیدار امن کے لیے غزہ امن بورڈ اہم فورم ہے۔ امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ ایران امن کے راستے پر آئے اور خطے میں استحکام کے لیے ایٹمی ہتھیار نہ رکھے۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں گے تو مشرق وسطیٰ میں امن ممکن نہیں ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور وہ بامعنی معاہدہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تقریباً 10 دن میں ایران کے بارے میں صورت حال معلوم ہو جائے گی اور امریکی حکومت کو ایران کے ساتھ کچھ ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ صدر ٹرمپ نے زور دیا کہ ایران کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ امن کے راستے پر چلے اور معاہدہ کرے، ورنہ نتائج سنگین ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں اس کے نتائج براہ راست خطے اور عالمی سطح پر محسوس ہوں گے۔مزید کہا کہ وہ اپریل میں چین کا دورہ کریں گے۔ صدر ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہترین قرار دیا۔ امریکی صدرنے کہا کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان معاہدہ ہو چکا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ہے واضح رہے کہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں وزیراعظم شہبازشریف، رکن ممالک انڈونیشیا، آذربائیجان، قازقستان کے صدور، اردن کے شاہ عبداللہ، نائب امریکی صدرجے وینس، سعودی عرب اور ترک وزیرخارجہ بھی شریک ہیں۔ اجلاس شروع ہونے سے پہلے صدر ٹرمپ کے ساتھ عالمی سربراہان کا گروپ فوٹو ہوا۔ امریکی صدرنے امن بورڈ کے شرکا سے گفتگو بھی کی۔ واشنگٹن میں غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں اس دوران وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کاکہناتھا کہ غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے، آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے اور فلسطینیوں کا حق ہے، غزہ میں پائیدار امن کے لیے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں رکنی چاہئیں۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن اور معاشی استحکام کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت باعث افتخار ہے، غزہ میں پائیدار امن ہمارا مشن ہے، فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین کا مکمل حق ہونا چاہیے، آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام پائیدار امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے تنازعات کے حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت مداخلت سے پاک بھارت جنگ رکی، اس جنگ بندی سے کروڑوں قیمتی جانیں بچیں، صدر ٹرمپ امن کے علمبردار ہیں، صدر ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کو بڑی تباہی سے بچایا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینیوں کو ان کا حق دیا جائے، مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے آج کا دن تاریخ کا سنہری باب ہے، دیرپا امن کے لیے غزہ میں سیز فائر کی خلاف ورزیاں ختم ہونی چاہئیں، غزہ میں امن قائم کرنا آپ کی بہت بڑی کامیابی اور میراث ہوگی۔ اس کے علاوہ وزیرِاعظم شہبازشریف نے واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے آئے عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی اور خوشگوار ملاقاتیں کی ہیں۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی بحرین کے فرمانروا شاہ حماد بن عیسی الخلیفہ، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزا یوف، قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف اور انڈونیشیا کے صدرپر ابوو سوبیانتو سے غیر رسمی ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں اہم عالمی و علاقائی امور پر گفتگو کی گئی جب کہ مسکراہٹوں کا تبادلہ اور غیررسمی گرمجوشی بھی دیکھی گئی۔ وزیرِاعظم واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں۔ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس اجلاس میں امریکی آرمی اہلکار نے اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ انڈونیشیا غزہ استحکام فورس کا نائب کمانڈر مقرر کیا گیا، عرب ملک کی پہلی فوجی شمولیت ہے، مراکش بھی غزہ فورس کیلئے فوج بھیجنے پر رضامند ہوگیا۔ غزہ استحکام فورس کیلئے 20 ہزار اہلکاروں پر مشتمل فورس کا ہدف مقرر ہے، انڈونیشیا نے 8 ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش کی ہے، البانیہ، قازقستان اور کوسووو نے بھی فورس کا حصہ بننے کا اعلان کیا ہے، مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت کا وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ بورڈ آف پیس اجلاس میں ممکنہ غزہ سکیورٹی منصوبہ بھی پیش کردیا گیا، رفاہ کو ترجیحی بنیادوں پر تین سال میں دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، 200 ہوٹل تعمیر کئے جائیں گے، 12 ہزار پولیس اہلکاروں اور 20 ہزار اضافی سکیورٹی اہلکاروں کو تربیت دی جائے گی ۔بورڈ آف پیس کے ایک سینئر عہدیدار نکولے ملادنوف نے بتایا کہ فلسطینی عوام نے غزہ میں نئی عبوری پولیس فورس کے لیے بھرتی کے عمل میں بڑی دلچسپی دکھائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے فلسطینی پولیس فورس کی بھرتی کا عمل شروع کیا اور صرف چند گھنٹوں میں 2,000 افراد نے شامل ہونے کی درخواست دے دی ہے۔ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں آرمی میجر جنرل جیسپر جیفریز، جو اقوام متحدہ کی منظوری یافتہ کثیر القومی امن فورس (آئی ایس ایف) کے کمانڈر ہیں، نے بتایا کہ فورس کا طویل مدتی منصوبہ غزہ کے لیے 12,000 پولیس افسران کی تربیت کرنا ہے۔ بین الاقوامی سیکیورٹی فورس میں اب تک پانچ ممالک نے فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جن میں انڈونیشیا، مراکش، قازقستان، کوسوو اور البانیہ شامل ہیں۔ دو ممالک، مصر اور اردن نے پولیس کی تربیت دینے کا وعدہ کیا ہے۔ جیسپر جیفریز کے مطابق آئی ایس ایف اپنی تعیناتی کا آغاز جنوبی غزہ کے رفح علاقے سے کرے گی، جہاں پولیس کی تربیت شروع کی جائے گی اور پھر مرحلہ وار دیگر علاقوں تک دائرہ کار بڑھایا جائے گا۔ طویل مدتی منصوبے کے مطابق 20,000 آئی ایس ایف فوجیوں کی خدمات لی جائیں گی اور 12,000 پولیس افسران کو تربیت دی جائے گی۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں امن و استحکام قائم کرنا اور خطے میں سیکیورٹی کو مضبوط کرنا ہے، جب کہ فلسطینی عوام کو مقامی سطح پر امن قائم کرنے میں بااختیار بنانا ہےعرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمود مرداوی نے بیان میں کہا ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی دھمکیاں حماس کے مؤقف کو تبدیل نہیں کر سکتیں اور مزاحمت جاری رہے گی۔ اسرائیل کی جانب سے حماس کو غیر مسلح ہونے کے لیے دی گئی مہلت کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حماس قیادت کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری صورتحال اور اسرائیلی اقدامات کے تناظر میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ شرط قبول نہیں کی جا سکتی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس بیان کے بعد دونوں فریقین کے درمیان کشیدگی میں کمی کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ خطے میں امن کوششوں کو بھی ایک نیا دھچکا لگنے کا امکان ہے۔ صورتحال پر عالمی برادری کی نظر ہے، تاہم فی الحال زمینی حقائق میں کسی فوری تبدیلی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔۔اس دوران امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ انہوں نے واشنگٹن ڈی سی میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں معدنیات، انسدادِ دہشت گردی اور دوطرفہ اسٹریٹجک تعلقات سمیت اہم امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ملاقات خوشگوار اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جس میں پاک امریکا تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان معدنی وسائل کے شعبے میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی۔مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں باہمی تعاون ناگزیر ہے، اور اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو اہمیت حاصل ہے۔انہوں نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔امریکی وزیر خارجہ نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں پائیدار امن اور مشترکہ مفادات کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گا۔واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےغزہ کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر پاکستان کی تعریف کی اور وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا تھا۔دوسری جانب نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ سیزفائر کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔آٹھ عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے بھی اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیزفائر کا احترام اور مستقل امن کے قیام کے لیے باہمی اعتماد پر مبنی سفارت کاری ناگزیر ہے۔اسحاق ڈار نے زور دیا کہ غزہ کی تعمیرِ نو اور انسانی امداد وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ صورتحال کے پائیدار حل کے لیے فلسطینی اتھارٹی کا مرکزی کردار لازم و ملزوم ہے۔اس دوران فلسطین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک برائے فروخت نہیں ہے، اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا ایکس پر ایک بیان میں فلسطینی وزارت خارجہ نے لکھا کہ ’فلسطینی لوگ اپنی سرزمین پر موجود ہیں اور نسل پرست آبادکار حملہ آوروں کو ہمارا ملک چھوڑنا ہوگا۔ مزید کہا گیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ایک ایسی بدمعاش ریاست کو مسترد کرے جو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے اور روزانہ نسل پرستانہ اقدامات کررہی ہے فلسطینی وزارت خارجہ نے کہا کہ دنیا کو یکجا ہوکر دہشت گرد آبادکاروں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ فلسطین کی حقیقت کو مٹا سکتے ہیں اور اپنے توسیع پسندانہ منصوبے فلسطینی عوام پر مسلط کرسکتے ہیں۔ مزید کہا کہ فلسطین ‘فروخت کے لیے نہیں‘ ہے، اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس دوران چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر نے فلسطین کے معاملے پر ہمیشہ امت مسلمہ کی ترجمانی کی ہے۔مسئلہ فلسطین پر پاکستانی عوام اور ریاست کا موقف ایک ہے، بعض عناصر صرف سیاست کیلئے فلسطین کے مسئلہ پر پاکستانی قوم میں تقسیم پیدا کرنا چاہتے ہیں, پاکستان کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے۔غزہ کی صورتحال پر امن بورڈ کا اجلاس ہوا، اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اسلامی ممالک کی غزہ امن بورڈ میں شمولیت اہل فلسطین کیلئے ہے چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا ہم امید کرتے ہیں کہ غزہ امن بورڈ کے آج ہونے والے اجلاس میں ایک بار پھر وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف پاکستان کے فلسطین کے مسئلے پر اصولی موقف پر بات کریں گے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے کہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالخلافہ القدس شریف ہو، غزہ کی تعمیر نو ہو، مکمل جنگ بندی اور اسرائیلی وحشت اور بربریت کا خاتمہ ہو۔ ‏پاکستان کی غزہ سے متعلق اقوامِ متحدہ کی منظور شدہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فریم ورک میں شرکت پاکستان کے مؤقف میں کسی تبدیلی کی علامت نہیں ہے قیامِ پاکستان سے آج تک پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے اور اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا یہ پالیسی آج بھی وہی ہے جو پہلے تھی ‏بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اقدام اجتماعی ہے، جس میں سعودی عرب، تُرکئے، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، قطر، اور انڈونیشیا بھی شامل ہیں، اس لیے اسے کسی قسم کی “نارملائزیشن” یا اسرائیل کو تسلیم کرنے سے جوڑنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کثیرالجہتی فورمز میں شرکت سفارتی تعلقات کے برابر نہیں ہوتی۔ بلکہ گلوبل ذمہ داری کا آئینہ دار ہوتی ہے، ‏پاکستان کی فورم میں شرکت واضح طور پر اس شرط کے ساتھ ہے کہ مستقل جنگ بندی ہو، غزہ کی تعمیرِ نو ہو، اور فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کی جائےچیئرمین پاکستان علماء کونسل ‏اہم بات یہ ہے کہ جنگ بندی اور تعمیرِ نو کے فیصلے وہی ممالک بہتر انداز میں کر سکتے ہیں جو میز پر موجود ہوں۔ پاکستان وہاں اس لیے موجود ہے تاکہ فلسطینی مفادات کا تحفظ کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ کوئی بھی قدم فلسطینی مؤقف کے خلاف نہ ہو۔ پاکستان کا تاریخی مؤقف آج بھی وہی ہے، فلسطین کی مکمل حمایت، اور اسی اصول پر قائم رہتے ہوئے عملی کردار ادا کرنا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X