LOADING

Type to search

Uncategorized

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز;عوا م کو مہنگائی سے بچانے کے لیےتاریخی ا قدا م

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) حکومتِ پاکستان کی جانب سے متوسط اور غریب طبقے کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے بچانے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا آغاز کر دیا گیا ہے۔مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خلیج کی سنگین صورتحال نے جہاں عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، وہیں بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی متاثر ہونے سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے اثرات انتہائی تشویشناک ہیں، جہاں عام آدمی پہلے ہی بجلی کے بلوں اور روزمرہ کی اشیاء خورونوش کی قیمتوں تلے دبا ہوا ہے۔ ایسے میں وفاق کی جانب سے کم آمدن والے طبقے کے لیے “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز ایک امید کی کرن اور خوش آئند اقدام ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر شروع کی جانے والی اس اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر رعایت (سبسدی) فراہم کی جا رہی ہے۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) نے اس پیکیج کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز جاری کیے ہیں۔اس عوامی ریلیف پیکیج کی تفاصیل اور طریقہ کار کو ایک روایتی اخباری کالم کے انداز میں نیچے قلمبند کیا گیا ہے

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ سے غریب طبقے کو بچانے کے لیے تاریخی “پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم” کا باقاعدہ آغاز کیا ہے، جس کے تحت مستحق شہریوں کو پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی خطیر سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے۔ یہ ریلیف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ-ایران جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ای سی سی (ECC) نے اس اسکیم کے لیے 75 ارب روپے کے فنڈز کی منظوری دی ہے موجودہ قیمتوں کے مطابق عام مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمت 380.24 روپے فی لیٹر ہے، جبکہ اس اسکیم کے تحت اہل صارفین کو یہ پیٹرول 280.24 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا

سکیم کی اہم تفصیلات،

اہلیت کا معیار اور رجسٹریشن کا طریقہ کار درج ذیل ہے: اسکیم کے لیے اہلیت اور ریلیف کی حدیہ اسکیم صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے ہے اور ایک شناختی کارڈ پر صرف ایک گاڑی رجسٹرڈ کی جا سکتی ہے: موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی مالکان: ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف (یعنی مہینے میں 20 لیٹر تک پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: ہر 10 دن کے لیے 1,000 روپے کا ریلیف (یعنی ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر رعایت)

ملک بھر میں نفاذ کا شیڈول حکومت نے اسکیم کی شفاف فراہمی کے لیے درج ذیل شیڈول کا اعلان کیا ہے 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے رعایتی پیٹرول کی فراہمی شروع ہو چکی ہے۔باقی پاکستان (پنجاب، سندھ، کے پی، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر): 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا 100 روپے رعایت حاصل کرنے کا مرحلہ وار طریقہصارفین کو ڈیجیٹل طریقے سے جوڑنے کے لیے مندرجہ ذیل آسان اقدامات کرنے ہوں گے

پہلا مرحلہ (رجسٹریشن): اپنے موبائل کے میسج آپشن میں جا کر لکھیں: REG <اسپیس> شناختی کارڈ نمبر <اسپیس> گاڑی کا رجسٹریشن نمبر <اسپیس> صوبے کا پہلا حرف <اسپیس> رجسٹریشن کی تاریخ اور اسے 9771 پر بھیج دیں۔

دوسرا مرحلہ (تصدیق): رجسٹریشن مکمل ہونے پر آپ کو حکومت کی طرف سے ایک تصدیقی میسج موصول ہوگا۔

تیسرا مرحلہ (ٹوکن کا حصول): پیٹرول پمپ پر جانے سے پہلے اپنے موبائل سے TOK لکھ کر دوبارہ 9771 پر ایس ایم ایس کریں۔

چوتھا مرحلہ (رعایت کا حصول): آپ کو ایک ڈیجیٹل ٹوکن میسج ملے گا جس میں ٹوکن نمبر، گاڑی کا نمبر اور پیٹرول کی رعایتی مقدار لکھی ہوگی۔ یہ میسج پمپ پر دکھا کر آپ 100 روپے فی لیٹر کی فوری بچت حاصل کر سکتے ہیں

وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر عوام کی سہولت کے لیے 9771 پر بھیجے جانے والے تمام ایس ایم ایس (SMS) بالکل مفت کر دیے گئے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے حکومت کی آفیشل ویب سائٹ PM Fuel Relief پر وزٹ کیا جا سکتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب پیٹرول کی قیمتیں غریب کی پہنچ سے باہر ہو رہی ہیں، حکومت کی جانب سے فی لیٹر 100 روپے کی براہِ راست سبسٹڈی فراہم کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ تاہم، اس اسکیم کو طویل المدتی بنیادوں پر کامیاب بنانے کے لیے اس کے طریقہ کار، شفافیت اور عام شہریوں کے لیے رسائی کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ اسکیم کا دائرہ کار اور ریلیف کی حدکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) کے منظور کردہ پیکیج کے مطابق، یہ ریلیف صرف غیر تجارتی (Non-Commercial) صارفین کے لیے مختص ہے اور اس کی تقسیم درج ذیل کوٹے کے تحت کی جا رہی ہے:موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگچی صارفین: ان کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے۔ یعنی وہ ہر ہفتے 500 روپے (ماہانہ 2,000 روپے) تک کی براہِ راست بچت حاصل کر سکتے ہیں۔800 سی سی (CC) تک کی چھوٹی گاڑیاں: (جیسے مہران، آلٹو، بولان وغیرہ) کے لیے ماہانہ 30 لیٹر کا کوٹہ طے ہوا ہے۔ یہ صارفین ہر 10 دن بعد 1,000 روپے (ماہانہ 3,000 روپے) کا فیول ریلیف حاصل کر سکیں گے۔ملکیت کی شرط کا خاتمہ: وزارتِ پیٹرولیم کے مطابق، گاڑی یا بائیک کا شناختی کارڈ ہولڈر کے نام پر ہونا لازمی نہیں، بلکہ جو شخص گاڑی استعمال کر رہا ہے وہ بھی اس ریلیف کا اہل ہو سکتا ہے۔ رجسٹریشن کا آسان ڈیجیٹل طریقہ کار (بغیر انٹرنیٹ)عوام کی سہولت کے لیے آئی ٹی اور پیٹرولیم کی وزارتوں نے ایک خودکار ڈیجیٹل سسٹم تیار کیا ہے جس کے لیے کسی اسمارٹ فون یا انٹرنیٹ کی ضرورت نہیں۔ شہری اپنے سادہ موبائل فون سے درج ذیل اقدامات کے ذریعے یہ ریلیف حاصل کر سکتے ہیںپہلا مرحلہ (ایس ایم ایس رجسٹریشن): اپنے فون کے میسج آپشن میں جائیں اور لکھیں:REG <اسپیس> شناختی کارڈ نمبر <اسپیس> گاڑی کا نمبر <اسپیس> صوبائی کوڈ <اسپیس> رجسٹریشن کی تاریخ اور اسے 9771 پر بھیج دیں۔(مثال: REG 61101146206753 ADV811 I 16052017)دوسرا مرحلہ (ٹوکن کا حصول): رجسٹریشن کی تصدیق کا میسج ملنے کے بعد، جب بھی پیٹرول پمپ پر جانا ہو، تو اسی نمبر سے TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔تیسرا مرحلہ (رعایت کی فراہمی): موبائل پر موصول ہونے والا ڈیجیٹل ٹوکن کوڈ پیٹرول پمپ کے عملے کو دکھائیں، وہ اسے اپنے سسٹم سے تصدیق کر کے آپ کو فوری طور پر 100 روپے فی لیٹر سستا پیٹرول فراہم کر دیں گے۔حکومت نے اس اسکیم کو مرحلہ وار نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے:اسلام آباد ریجن: وفاقی دارالحکومت میں یہ اسکیم 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب سے فعال ہو چکی ہے، جہاں پہلے ہی دن لاکھوں شہریوں نے رجسٹریشن کے لیے رجوع کیا۔باقی پاکستان: پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں یہ سہولت 16 اور 17 ستمبر کی درمیانی شب سے مکمل طور پر دستیاب ہو جائے گی۔

چیلنجز اور اختتامی کلماتجہاں اس اسکیم کا عوامی سطح پر زبردست خیر مقدم کیا جا رہا ہے، وہیں اپوزیشن اور چند ماہرینِ معیشت کی جانب سے ڈیٹا بیس کی درستگی اور بوگس رجسٹریشن جیسے چیلنجز پر سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے ان خدشات کو دور کرنے کے لیے نادرہ (NADRA) اور صوبائی ایکسائز محکموں کے ڈیٹا کو آپس میں منسلک کیا ہے۔مجموعی طور پر، یہ اسکیم موجودہ معاشی بحران میں دیہاڑی دار طبقے، پبلک ٹرانسپورٹ چلانے والوں، طلبہ اور ڈیلیوری رائیڈرز کے لیے ایک بڑا سہارا ثابت ہو سکتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پیٹرول پمپس پر ٹیکنالوجی اور کنیکٹیویٹی کے مسائل کو فوری حل کرنے کے لیے قائم کردہ ہیلپ لائنز چوبیس گھنٹے متحرک رہیں تاکہ غریب شہریوں کو ریلیف حاصل کرنے کے لیے طویل لائنوں اور خواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سخت لفظی جنگ چھڑ گئی ہے، جہاں حکمران اتحاد اور اپوزیشن آمنے سامنے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیرِ مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کا موقف ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کے شدید بحران کے پیشِ نظر 11 ملین سے زائد غریب موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو تحفظ دینا ناگزیر تھا، جس کے لیے حکومت نے اپنے ترقیاتی بجٹ (PSDP) سے 75 ارب روپے قربان کیے۔ دوسری طرف، جماعتِ اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اس پیکیج کو یکسر “ناکافی” قرار دے کر مسترد کر دیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حکومت عارضی سبسڈیز کے بجائے پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور آئی پی پیز (IPPs) کے ظالمانہ معاہدوں پر نظرثانی کرے۔ اسی طرح پاکستان تحریکِ انصاف (PTI) نے بھی اس اسکیم کو ایک “سیاسی شعبدہ بازی” اور پبلسٹی اسٹنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول کی بنیادی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا کر غریب عوام کو پیچیدہ ڈیجیٹل ٹوکن لائنوں میں لگانا سراسر ناانصافی ہے، اس لیے حکومت کو ٹیکسز میں مستقل کمی کر کے پائیدار ریلیف دینا چاہیے۔پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم کے نفاذ پر ملک بھر کے بازاروں، رکشہ اسٹینڈز اور پیٹرول پمپس پر عوام اور خصوصاً دہاڑی دار مزدور طبقے کی جانب سے ایک ملا جلا اور گہرا ردعمل سامنے آیا ہے۔ جہاں ایک بڑی تعداد نے فی لیٹر 100 روپے کی بچت کو موجودہ شدید مہنگائی میں ایک بڑا ہاؤس ہولڈ ریلیف قرار دیا ہے، وہیں زمینی حقائق کے پیشِ نظر رکشہ ڈرائیورز اور دیہاڑی دار طبقے کو چند عملی مشکلات کا بھی سامنا ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ ماہانہ 20 سے 30 لیٹر کا کوٹہ ان کی روزمرہ کی کاروباری ضروریات کے لیے بہت کم ہے، کیونکہ ایک کمرشل رکشہ یا آن لائن ڈیلیوری بائیک روزانہ کم از کم 5 سے 7 لیٹر پیٹرول استعمال کرتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ سرکاری کوٹہ محض چند دنوں میں ختم ہو جائے گا۔ مزید برآں، ملک کے دور دراز علاقوں اور پسماندہ شہروں میں پیٹرول پمپس پر اسمارٹ فونز یا ڈیجیٹل ٹوکن سسٹم کی سست رفتار کنیکٹیویٹی اور طویل لائنوں کی وجہ سے دیہاڑی دار طبقے کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے، جس پر انہوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس نظام کو مزید سادہ اور کوٹے کی حد کو بڑھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور نعرے بازی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو ‘پی ایم اسپیشل فیول ریلیف اسکیم’ کا اخلاقی اور سیاسی حاصل یہ ہے کہ ریاست نے طویل عرصے بعد، سسکتے ہوئے غریب طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش کی ہے۔ اخلاقی طور پر یہ اسکیم اس بات کا اعتراف ہے کہ اشرافیہ کی مراعات پر کلہاڑا چلائے بغیر غریب کو تنہا چھوڑ دینا عوامی فلاحی ریاست کے تصور کی نفی ہوگی؛ ترقیاتی بجٹ سے 75 ارب روپے کاٹ کر موٹر سائیکل اور رکشہ رائیڈرز کی جیب میں ڈالنا ایک مثبت اخلاقی قدم ہے۔ تاہم، سیاسی طور پر حکومت کے لیے اصل امتحان اس اسکیم کو محض ایک وقتی انتخابی اسٹنٹ بننے سے روکنا اور اسے بیوروکریٹک رکاوٹوں سے پاک کرنا ہے۔ اگر اپوزیشن کی تنقید کے مطابق یہ اسکیم ٹیکنالوجی کی خرابیوں یا ناکافی کوٹے کی وجہ سے غریب کے لیے ریلیف کے بجائے زحمت بن گئی، تو اس کا سیاسی خمیازہ موجودہ حکمران اتحاد کو بھگتنا پڑے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عارضی بیساکھیوں کے ساتھ ساتھ آئی پی پیز (IPPs) اور پٹرولیم ٹیکسز کے ڈھانچے میں مستقل اصلاحات کرے، کیونکہ غریب کو چند لیٹر کا کوٹہ نہیں بلکہ مہنگائی کے مستقل طوفان سے نجات چاہیے۔

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download