LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کرپشن کے شکنجے سے آزادی ہی پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد ہے

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کرپشن بلا شبہ ایک فعلِ بد، سماجی و معاشرتی برائی اور آئینی و قانونی طور پر جرم کے زمرے میں شمار ہوتی ہے کرپشن کے معنی عموماً رشوت کے لین دین تک محدود سمجھے جاتے ہیں حالانکہ اس کے مفہوم اور دائرۂ کار بہت وسیع ہیں۔ کرپشن میں بد دیانتی بدعنوانی غیر قانونی برتاؤ، فراڈ، جعل سازی، اختیارات کا ناجائز استعمال اور بالخصوص ان افراد کی جانب سے طاقت و اختیار کا غلط استعمال شامل ہے جنہیں ریاست اور عوام کی خدمت کے لئے اختیارات تفویض کئے جاتے ہیں کسی بھی ملک و قوم کی تباہی میں کرپشن کا بنیادی کردار ہوتا ہے جب ذاتی مفادات ملک و قوم کے مفادات پر مقدم ہو جائیں تو تباہی یقینی ہو جاتی ہے اسی لئے کرپشن کو ’’ام الخبائث‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے، کیونکہ بے شمار برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں کرپشن اعلیٰ اقدار، ترقی اور خوشحالی کی دشمن ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے چاہے یہ کسی بھی شکل میں ہو جس معاشرے میں کرپشن جتنی زیادہ ہو وہ معاشرہ اتنی ہی تیزی سے زوال و بربادی کی طرف بڑھتا ہے حکومت کی جانب سے کرپشن لوٹ مار اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے اعلانات اور اقدامات کے باوجود ملک میں بد عنوانیوں بے ضابطگیوں اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی وسائل کے ضیاع کا سلسلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظام میں موجود خرابیاں طاقتور طبقوں کے مفادات پر مؤثر قدغن لگانے کی پوزیشن میں نہیں یہی وجہ ہے کہ طاقتور افراد یا سرکاری اداروں سے جڑے بعض با اثر گروہ کرپشن کی خطرناک شکل اختیار کر چکے ہیں پاکستان بار بار عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کے باوجود اپنے بنیادی معاشی مسائل پر مستقل قابو نہیں پا سکا عوام معیارِ زندگی کے کئی اہم اشاریوں میں ہمسایہ ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں کرپشن کی لعنت جمہوریت کو دھیرے دھیرے کمزور کرنے کے علاوہ غربت دولت کی غیر منصفانہ تقسیم اور سماجی برائیوں میں بھی اضافہ کر رہی ہے شاید ہی کوئی ریاستی ادارہ یا سرکاری محکمہ ایسا ہو جہاں بدعنوانی کے امکانات اور شکایات موجود نہ ہوں مختلف عالمی اداروں کی رپورٹس بھی وقتاً فوقتاً ان عوامل کی نشاندہی کرتی رہی ہیں جن کے ذریعے کرپشن اور قومی وسائل کے ضیاع کو تقویت ملتی ہے

یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اختیارات رکھنے والے بعض افراد کے مفادات بھی انہی نظامی خامیوں سے وابستہ ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے خلاف کارروائی کا عمل اکثر محدود ہو کر رہ جاتا ہے یہ سلسلہ حکومتی نظام میں اتنی تقویت پکڑ چکا ہے کہ اب اس پر قابو پانا جوئے شیر لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے انتہائی افسوس ناک امر یہ ہے کہ ملک میں بعض اہم معاشی و مالیاتی پالیسیاں طاقتور طبقوں کے مفاد میں یا ان کے دباؤ کے تحت تشکیل پاتی رہی ہیں خواہ اس کے لئے قانون سازی کرنا پڑے یا قوانین میں ایسی گنجائش پیدا کرنا پڑے جس سے مخصوص طبقات کو فائدہ پہنچ سکے ان نقصانات کا بوجھ بالآخر عوام پر بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ڈال دیا جاتا ہے ترقیاتی اخراجات اور انسانی وسائل کی ترقی کے لئے مطلوبہ وسائل محدود رہ جاتے ہیں جبکہ ملکی و بیرونی قرضوں پر انحصار بڑھتا جاتا ہے طاقتور طبقوں ٹیکس چوری کرنے والوں قومی دولت لوٹنے والوں بینکوں سے غیر معمولی طریقوں سے قرضے معاف کرانے والوں اور ناجائز ذرائع سے حاصل کردہ دولت سے ملک کے اندر اثاثے بنانے یا بیرونِ ملک منتقل کرنے والوں کے خلاف مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے قومی دولت کسی فرد یا طبقے کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت دراصل پوری قوم کے مستقبل پر ڈاکا ہے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا تقریباً 6 فیصد حصہ اشرافیہ کو دی جانے والی مختلف مراعات پر صرف ہونے کا اندازہ ہے جو تقریباً ساڑھے 17 ارب ڈالر کے لگ بھگ بنتا ہے کاروباری طبقے کو دی جانے والی مراعات کا حجم بھی اربوں ڈالر میں ہے ایک فیصد امیر ترین افراد ملک کی مجموعی آمدنی کے تقریباً 9 فیصد کے مالک ہیں، جبکہ جاگیردار طبقہ، جو آبادی کا تقریباً 1.1 فیصد بتایا جاتا ہے قابلِ کاشت رقبے کے ایک بڑے حصے پر قابض ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان میں وسائل کی تقسیم اور مواقع کی فراہمی میں واضح عدم توازن موجود ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں عملاً دو طبقات کی ریاستیں موجود ہیں ایک طرف متوسط، غریب اور پسماندہ طبقات ہیں جو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ طاقتور طبقہ ہے جس کا نہ صرف وسائل پر اثر و رسوخ ہے بلکہ اقتدار اور اختیار کی مختلف شکلیں بھی اسی کے گرد گھومتی ہیں یہی عدم مساوات عوام میں احساسِ محرومی کو جنم دیتی ہے غریب عوام کو قربانی کا بکرا سمجھ کر آئے روز نئے ٹیکسوں مہنگائی اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کرنا پڑے جبکہ ایک محدود طبقہ ہر طرح کی سہولیات اور آسائشوں کے ساتھ زندگی بسر کرے تو اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا احساسِ محرومی کسی بھی معاشرے کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے عوام کی غالب اکثریت کو کھانے کے لئے مناسب خوراک علاج کے لئے دوا، بچوں کے لئے معیاری تعلیم اور روزگار کے مناسب مواقع میسر نہ ہوں تو معاشی اعداد و شمار عوام کے دکھ کا مداوا نہیں کر سکتے پاکستان کا قرض خواہی کا گراف جس رفتار سے بڑھ رہا ہے وہ معاشی خود مختاری اور پائیدار استحکام کے حوالے سے تشویش کا باعث ہے قرضوں کی ادائیگی سودی اخراجات اور نئے قرضوں کی سخت شرائط کے معاشی و سماجی اثرات اپنی جگہ موجود ہیں۔ ایسے حالات میں حکمرانوں کی جانب سے معاشی بحالی اور استحکام کے دعوے اس وقت تک عوام کو مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتے جب تک ان کے اثرات عام آدمی کی زندگی میں نمایاں طور پر محسوس نہ ہوں حقیقی معاشی بحالی وہ ہوتی ہے جب عوام کی آمدنی میں بہتری آئے، روزگار کے مواقع بڑھیں، مہنگائی میں کمی ہو، تعلیم اور صحت کی سہولیات بہتر ہوں سماجی تناؤ اور اضطراب کم ہو اور عام شہری کو اپنے مستقبل کے بارے میں اعتماد حاصل ہو محض زرمبادلہ کے ذخائر قرضوں کے حصول یا چند معاشی اشاریوں میں بہتری کو مکمل معاشی بحالی قرار نہیں دیا جا سکتا کرپشن کے خاتمے کے لئے محض اعلانات سیمینارز اور وقتی کارروائیاں کافی نہیں ریاستی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں جب تک احتساب کا نظام بلاامتیاز، شفاف اور مؤثر نہیں ہوگا کرپشن کے ناسور پر قابو پانا مشکل رہے گا۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ عہدہ، سیاسی وابستگی مالی حیثیت یا اثر و رسوخ سے بالاتر ہو کر ہر شخص کو قانون کے سامنے جواب دہ بنایا جائے اگر ایک عام شہری معمولی خلاف ورزی پر قانون کا سامنا کرتا ہے تو طاقتور شخص کو بھی قومی وسائل کے غلط استعمال اور اختیارات سے تجاوز پر جواب دہ ہونا چاہیے سرکاری معاملات میں زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے لائسنس ٹیکس سرکاری خریداری زمینوں کے ریکارڈ ترقیاتی منصوبوں بھرتیوں اور دیگر عوامی خدمات کو شفاف ڈیجیٹل نظام سے منسلک کیا جائے تو انسانی مداخلت کم اور کرپشن کے مواقع محدود کئے جا سکتے ہیں سرکاری اداروں میں میرٹ، کارکردگی اور جواب دہی کو بنیادی اصول بنایا جائے اور ایمانداری و فرض شناسی سے کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے اسی طرح سرکاری ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت انتہائی ضروری ہے اربوں روپے کے منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی کمیشن اقربا پروری اور غیر ضروری اخراجات شامل ہوں تو اس کا براہِ راست نقصان عوام کو ہوتا ہے۔ قومی خزانے کی ایک ایک رقم عوام کی امانت ہے اس لئے اس کے استعمال کا شفاف ریکارڈ اور مؤثر نگرانی ضروری ہے ٹیکس وصولی کے نظام کو بھی منصفانہ بنانا ہوگا ٹیکس کا بوجھ صرف تنخواہ دار اور متوسط طبقے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ہر صاحبِ استطاعت فرد کاروبار اور شعبے کو اپنی قانونی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی جب ایک عام شہری ٹیکس ادا کرے اور طاقتور طبقات ٹیکس سے بچنے کے راستے تلاش کریں تو ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور ہوتا ہے کرپشن صرف قومی خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ نوجوان نسل کے مستقبل کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جب ایک نوجوان یہ دیکھتا ہے کہ قابلیت، تعلیم اور محنت کے بجائے سفارش رشوت اور تعلقات سے مواقع حاصل کئے جا رہے ہیں تو اس کا ریاستی نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ میرٹ کی پامالی کسی بھی معاشرے کے لئے خطرناک ہے کیونکہ اس سے اہل افراد بددل اور نااہل عناصر مضبوط ہوتے ہیں یہی صورتحال آگے چل کر اداروں کی کارکردگی اور ملکی ترقی کو متاثر کرتی ہے کرپشن کے خاتمے کی جنگ صرف حکومت یا احتسابی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا والدین، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، میڈیا اور سول سوسائٹی کو نوجوان نسل میں دیانت، امانت، میرٹ اور قومی ذمہ داری کا شعور اجاگر کرنا ہو گا جس معاشرے میں ناجائز دولت کو کامیابی کی علامت سمجھا جانے لگے وہاں صرف قانون کا خوف کرپشن کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکتا پاکستان کے پاس انسانی وسائل، قدرتی وسائل زرعی صلاحیت نوجوان آبادی اور جغرافیائی اعتبار سے اہم محلِ وقوع جیسی بے شمار قوتیں موجود ہیں اصل ضرورت ان صلاحیتوں کو شفاف اور مؤثر نظام کے ذریعے بروئے کار لانے کی ہے اگر قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم میرٹ قانون کی حکمرانی اور احتساب کو یقینی بنا دیا جائے تو پاکستان معاشی مشکلات کے موجودہ دائرے سے نکل کر ترقی اور خوشحالی کی طرف بڑھ سکتا ہے حکومت اگر کرپشن، بدانتظامی اور اپنی ناکامیوں پر قابو پانے کے لئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے، اشرافیہ کی غیر ضروری مراعات پر نظرثانی کرے، ٹیکس چوری کا خاتمہ کرے ریاستی اداروں کو سیاسی و ذاتی مفادات سے پاک کرے اور قومی وسائل کو عوامی فلاح کے لئے استعمال کرے تو آنے والے برسوں میں ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت اور مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں اضافہ ممکن ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ایک جامع اور طویل المدتی انسدادِ بدعنوانی پالیسی تشکیل دے جس میں کرپشن کے بنیادی اسباب کا خاتمہ بھی شامل ہو سرکاری اداروں میں غیر ضروری صوابدیدی اختیارات کم کئے جائیں، قوانین کو آسان بنایا جائے سرکاری خریداری کا نظام شفاف کیا جائے، ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے اور قومی وسائل کے استعمال کی مؤثر نگرانی کی جائے پارلیمنٹ، عدلیہ، انتظامیہ میڈیا اور احتسابی ادارے اپنی اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے اس عمل کو مضبوط بنائیں تو صورتحال میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے ملکی ترقی کا راستہ قرضوں کے بوجھ مراعات اور کرپشن سے نہیں بلکہ دیانت، میرٹ، محنت، شفافیت اور قانون کی حکمرانی سے نکلتا ہے۔ کرپشن کے خلاف جنگ دراصل پاکستان کے مستقبل، عوام کے وقار اور آنے والی نسلوں کے حقوق کی جنگ ہے اگر آج اس ناسور کا مؤثر علاج نہ کیا گیا تو غربت، بے روزگاری، معاشی عدم مساوات اور سماجی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے، قانون طاقتور اور کمزور دونوں کے لئے یکساں ہو اور قومی خزانے کو ذاتی جاگیر سمجھنے کا تصور ختم کر دیا جائے تو پاکستان ایک مضبوط، خود انحصار اور خوشحال معاشی ریاست بن سکتا ہے ترقی یافتہ پاکستان کا خواب صرف معاشی پالیسیوں سے نہیں بلکہ ایک ایسے شفاف نظام سے پورا ہوگا جہاں اختیار امانت منصب ذمہ داری اور قومی خزانہ عوام کی مقدس امانت سمجھا جائے**

Close Welcome Bar
news-1701

yakinjp

MAUJP

MAUJP

MAUJP

SATGASJITU

SLOT GACOR

SALAMJITU

SATGASJITU

SEMOGAJITU

SALAMJITU

Slot Gacor

MAUJP

Slot Gacor

SLOT GACOR

artikel 000000121

artikel 000000122

artikel 000000123

artikel 000000124

artikel 000000125

artikel 000000126

artikel 000000127

artikel 000000128

artikel 000000129

artikel 000000130

artikel 000000131

artikel 000000132

artikel 000000133

artikel 000000134

artikel 000000135

artikel 000000136

artikel 000000137

artikel 000000138

artikel 000000139

artikel 000000140

artikel 000000141

artikel 000000142

artikel 000000143

artikel 000000144

artikel 000000145

artikel 000000146

artikel 000000147

artikel 000000148

artikel 000000149

artikel 000000150

artikel 000000151

artikel 000000152

artikel 000000153

artikel 000000154

artikel 000000155

artikel 000000156

artikel 000000157

artikel 000000158

artikel 000000159

artikel 000000160

artikel 000000161

artikel 000000162

artikel 000000163

artikel 000000164

artikel 000000165

artikel 000000166

artikel 000000167

artikel 000000168

artikel 000000169

artikel 000000170

artikel 000000171

artikel 000000172

artikel 000000173

artikel 000000174

artikel 000000175

informasi terbaru kabupaten belu 00000056

informasi terbaru kabupaten belu 00000057

informasi terbaru kabupaten belu 00000058

informasi terbaru kabupaten belu 00000059

informasi terbaru kabupaten belu 00000060

informasi terbaru kabupaten belu 00000061

informasi terbaru kabupaten belu 00000062

informasi terbaru kabupaten belu 00000063

informasi terbaru kabupaten belu 00000064

informasi terbaru kabupaten belu 00000065

informasi terbaru kabupaten belu 00000066

informasi terbaru kabupaten belu 00000067

informasi terbaru kabupaten belu 00000068

informasi terbaru kabupaten belu 00000069

informasi terbaru kabupaten belu 00000070

informasi terbaru kabupaten belu 00000071

informasi terbaru kabupaten belu 00000072

informasi terbaru kabupaten belu 00000073

informasi terbaru kabupaten belu 00000074

informasi terbaru kabupaten belu 00000075

informasi terbaru kabupaten belu 00000076

informasi terbaru kabupaten belu 00000077

informasi terbaru kabupaten belu 00000078

informasi terbaru kabupaten belu 00000079

informasi terbaru kabupaten belu 00000080

informasi terbaru kabupaten belu 00000081

informasi terbaru kabupaten belu 00000082

informasi terbaru kabupaten belu 00000083

informasi terbaru kabupaten belu 00000084

informasi terbaru kabupaten belu 00000085

informasi terbaru kabupaten belu 00000086

informasi terbaru kabupaten belu 00000087

informasi terbaru kabupaten belu 00000088

informasi terbaru kabupaten belu 00000089

informasi terbaru kabupaten belu 00000090

informasi terbaru kabupaten belu 00000091

informasi terbaru kabupaten belu 00000092

informasi terbaru kabupaten belu 00000093

informasi terbaru kabupaten belu 00000094

informasi terbaru kabupaten belu 00000095

informasi terbaru kabupaten belu 00000096

informasi terbaru kabupaten belu 00000097

informasi terbaru kabupaten belu 00000098

informasi terbaru kabupaten belu 00000099

informasi terbaru kabupaten belu 00000100

informasi terbaru kabupaten belu 00000101

informasi terbaru kabupaten belu 00000102

informasi terbaru kabupaten belu 00000103

informasi terbaru kabupaten belu 00000104

informasi terbaru kabupaten belu 00000105

informasi terbaru kabupaten belu 00000106

informasi terbaru kabupaten belu 00000107

informasi terbaru kabupaten belu 00000108

informasi terbaru kabupaten belu 00000109

informasi terbaru kabupaten belu 00000110

informasi terbaru kabupaten belu 00000111

informasi terbaru kabupaten belu 00000112

informasi terbaru kabupaten belu 00000113

informasi terbaru kabupaten belu 00000114

informasi terbaru kabupaten belu 00000115

informasi terbaru kabupaten belu 00000116

informasi terbaru kabupaten belu 00000117

informasi terbaru kabupaten belu 00000118

informasi terbaru kabupaten belu 00000119

informasi terbaru kabupaten belu 00000120

informasi terbaru kabupaten belu 00000121

informasi terbaru kabupaten belu 00000122

informasi terbaru kabupaten belu 00000123

informasi terbaru kabupaten belu 00000124

informasi terbaru kabupaten belu 00000125

informasi terbaru kabupaten belu 00000126

informasi terbaru kabupaten belu 00000127

informasi terbaru kabupaten belu 00000128

informasi terbaru kabupaten belu 00000129

informasi terbaru kabupaten belu 00000130

article 48666670361

article 48666670362

article 48666670363

article 48666670364

article 48666670365

article 48666670366

article 48666670367

article 48666670368

article 48666670369

article 48666670370

article 48666670371

article 48666670372

article 48666670373

article 48666670374

article 48666670375

article 48666670376

article 48666670377

article 48666670378

article 48666670379

article 48666670380

article 48666670381

article 48666670382

article 48666670383

article 48666670384

article 48666670385

article 48666670386

article 48666670387

article 48666670388

article 48666670389

article 48666670390

article 48666670391

article 48666670392

article 48666670393

article 48666670394

article 48666670395

article 48666670396

article 48666670397

article 48666670398

article 48666670399

article 48666670400

article 48666670401

article 48666670402

article 48666670403

article 48666670404

article 48666670405

article 48666670406

article 48666670407

article 48666670408

article 48666670409

article 48666670410

article 58666670411

article 58666670412

article 58666670413

article 58666670414

article 58666670415

article 58666670416

article 58666670417

article 58666670418

article 58666670419

article 58666670420

article 58666670421

article 58666670422

article 58666670423

article 58666670424

article 58666670425

article 58666670426

article 58666670427

article 58666670428

article 58666670429

article 58666670430

article 58666670431

article 58666670432

article 58666670433

article 58666670434

article 58666670435

article 58666670436

article 58666670437

article 58666670438

article 58666670439

article 58666670440

article 58666670441

article 58666670442

article 58666670443

article 58666670444

article 58666670445

article 58666670446

article 58666670447

article 58666670448

article 58666670449

article 58666670450

article 58666670451

article 58666670452

article 58666670453

article 58666670454

article 58666670455

article 58666670456

article 58666670457

article 58666670458

article 58666670459

article 58666670460

article 58666670461

article 58666670462

article 58666670463

article 58666670464

article 58666670465

article 58666670466

article 58666670467

article 58666670468

article 58666670469

article 58666670470

article 58666670471

article 58666670472

article 58666670473

article 58666670474

article 58666670475

article 58666670476

article 58666670477

article 58666670478

article 58666670479

article 58666670480

article 58666670481

article 58666670482

article 58666670483

article 58666670484

article 58666670485

article 58666670486

article 58666670487

article 58666670488

article 58666670489

article 58666670490

article 58666670491

article 58666670492

article 58666670493

article 58666670494

article 58666670495

article 58666670496

article 58666670497

article 58666670498

article 58666670499

article 58666670500

article 58666670501

article 58666670502

article 58666670503

article 58666670504

article 58666670505

article 58666670506

article 58666670507

article 58666670508

article 58666670509

article 58666670510

news-1701
VST plugins free download free effects plugins free synth plugins Omnisphere 3 download Serum 2 download Soothe 3 download Valhalla Vintage Verb download Kickstart 2 download NS1 Noise Suppressor download Nexus 5 download Decapitator download FabFilter Pro-Q 4 download CLA-2A download Soothe 2 download Metatune download Melodyne 5 download Keyscape download FL Studio download Oxford Inflator download Kontakt 8 download Silk Vocal download Hype 2 download Thermal download Phase Plant download Vocal Rider download Sylenth1 download Little AlterBoy download Portal download