کراچی (اردو ٹائمز) منگھوپیر میں شہری پر تشدد کرنیوالے 4 ملزمان گرفتار الٹا لٹکا کر تشدد کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پیرآباد پولیس کی کارروائی رات میں بجلی کی عدم دستیابی پر وارداتیں بڑھنے کا حکام نوٹس لیں۔ ماربل ایسوسی ایشن
Share
کراچی (اردو ٹائمز) کراچی ڈسٹرکٹ ویسٹ کے تھانہ پیرآباد کی پولیس نے شہری کو الٹا لٹکا کر تشدد کرنے والے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایس ایس پی ویسٹ ملزمان کی منگھوپیر روڈ پر شہری کو الٹا لٹکا کر تشدد کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔پولیس نے وائرل ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی شناخت کے بعد خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تشدد میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ دو روز قبل فیکٹری سے چوری کرنے والے ایک شخص کو پکڑ کر اسے غیر قانونی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا تھا گرفتار ملزمان میں حضرت علی ولد محمد اسماعیل، شیر محمد ولد شاہ زمان خان، نصیب زادہ معین جان اور مزمل ولد عزیز احمد شامل ہیں گرفتار ملزمان کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔دریں اثناء آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن، سندھ و بلوچستان زون نے صنعتی علاقوں میں بجلی کی تاروں اور قیمتی کیبلز کی مسلسل چوری پر شدید تشویش اور گہری مذمت کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر چوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ایسوسی ایشن کے مطابق رات کے اوقات میں بجلی کی عدم دستیابی اور صنعتی علاقوں میں مناسب نگرانی نہ ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے الیکٹرک کی بجلی سپلائی کرنے والی تاروں کے ساتھ ساتھ مختلف کارخانوں کی قیمتی بجلی کی کیبلز کاٹ کر چوری کر رہے ہیں۔ ان وارداتوں کے باعث صنعتکاروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے جبکہ بجلی کی بندش اور کیبلز کی عدم دستیابی کے باعث صنعتی و پیداواری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ایسوسی ایشن نے کہا کہ تاروں اور کیبلز کی چوری کے بعد صنعتکاروں کو اپنی مدد آپ کے تحت نئی کیبلز، تاریں اور دیگر برقی سامان کا انتظام کرنا پڑتا ہے، جس پر بھاری اخراجات آتے ہیں۔ دوسری جانب بجلی کی بحالی میں تاخیر کے باعث کارخانوں میں کام رک جاتا ہے، پیداوار متاثر ہوتی ہے اور صنعتکاروں کو روزانہ کی بنیاد پر کاروباری نقصانات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن نے واضح کیا کہ کسی بھی صورت قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا قابل قبول نہیں۔ کسی بھی مشتبہ شخص کو خود پکڑنے، تشدد کا نشانہ بنانے یا سزا دینے کا اختیار کسی فرد یا گروہ کو حاصل نہیں۔ اگر کسی مشتبہ شخص یا چوری کے واقعے کی اطلاع ہو تو فوری طور پر پولیس اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کیا جائے اور ان کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے تاکہ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ایسوسی ایشن نے صنعتکاروں اور صنعتی علاقوں کے تمام افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، کسی بھی افواہ یا اشتعال انگیزی کا حصہ نہ بنیں اور ہر صورت قانون کی پاسداری کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔ایسوسی ایشن کے مطابق بجلی کی تاروں اور کیبلز کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات سے متعلق متعلقہ حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم اب اس مسئلے کے مستقل حل کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔آل پاکستان ماربل انڈسٹریز ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی علاقوں میں بالخصوص رات کے اوقات میں پولیس گشت اور سکیورٹی کے انتظامات مزید مؤثر بنائے جائیں، بجلی کی سپلائی لائنز اور صنعتی تنصیبات کی حفاظت کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں اور تار چوری میں ملوث عناصر کے ساتھ ساتھ چوری شدہ تاریں اور کیبلز خریدنے والے افراد اور کاروبار کرنے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ صنعتکار ملکی معیشت، روزگار اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، لہٰذا ان کے جان و مال، کارخانوں اور صنعتی اثاثوں کا تحفظ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صنعتکار قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انتظامیہ کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں، تاہم متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا بھرپور احساس کرتے ہوئے اس مسئلے کے خاتمے کے لیے فوری، مؤثر اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔


