LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم کی سیلابی صورتحال پرالرٹ رہنے کی ہدایت

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے ) پاکستان کا ایک اعلیٰ وفاقی ادارہ ہے جو ملک میں ہر قسم کی قدرتی اور انسان ساختہ آفات سے نمٹنے، ان کے اثرات کو کم کرنے اور متاثرین کی بحالی کے لیے پالیسیاں اور حکمتِ عملی تیار کرتا ہے۔ یہ ادارہ شدید بارشوں، سیلاب، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کی پہلے سے نگرانی کرتا ہے اور این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ ایپ اور میڈیا کے ذریعے پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے۔ کسی بھی آفت کی صورت میں متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی سامان (خیمے، خوراک، ادویات) پہنچانا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے یہ ادارہ صوبائی اداروں (PDMAs)، ضلعی انتظامیہ اور پاک فوج کے ساتھ مل کر آفات کے دوران مشترکہ آپریشنز کو منظم کرتا ہے۔ یہ اپنے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) میں مصنوعی ذہانت (AI) اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے موسمی خطرات کا جائزہ لیتا ہے۔ مون سون ہوائیں 16 اگست کی رات سے ملک کے بالائی حصوں میں داخل ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں 17 اگست (پیر) سے 21 اگست (جمعہ) 2026 کے دوران وقفے وقفے سے بارشوں کا نیا سلسلہ چلے گا۔ موسلا دھار بارشوں کے باعث 17 سے 20 اگست کے دوران اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات، مردان اور صوابی کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ موجود ہے۔
ملک بھر میں مون سون کی حالیہ بارشوں نے جہاں جل تھل ایک کر دیا ہے، وہاں اسلام آباد کے اقتدار کے ایوانوں میں بھی سیاسی و انتظامی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے۔ ہفتے کے روز وزیراعظم شہباز شریف اور چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کے درمیان ہونے والی ملاقات بظاہر تو ایک روایتی بریفنگ دکھائی دیتی ہے، لیکن اندر کی بات یہ ہے کہ یہ محض چائے کی پیالی پر گفتگو نہیں تھی، بلکہ اس کے پیچھے بیوروکریسی کو ایک انتہائی سخت اور واضح پیغام دیا گیا ۔ اندر کی خبر رکھنے والے بتاتے ہیں کہ وزیراعظم نے اس بار روایتی کاغذی کارروائیوں، لیت و لعل اور فوٹو سیشنز پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے دور افتادہ حصوں سے آنے والی شکایات وفاق اور صوبوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی شدید کمی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے پی ڈی ایم ایز کو این ڈی ایم اے کے ماتحت فعال کرنے اور تمام ریسکیو آپریشنز کو براہِ راست مانیٹر کرنے کا حکم دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ملاقات کا سب سے اہم پہلو نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (NEOC) میں لگی وہ جدید ترین سکرینیں تھیں جن پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور پریڈیکٹو ماڈلنگ کے ذریعے ملک کے ایک ایک ضلع کی لائیو میپنگ دکھائی جا رہی تھی، جو بھارت کی طرف سے چھوڑے جانے والے پانی کی مقدار اور بادلوں کی نقل و حرکت کا سیکنڈوں میں حساب لگا کر 72 گھنٹے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا دیتی ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ وزیراعظم کو سیٹلائٹ تصاویر کے ذریعے صاف دکھایا گیا کہ مری، سوات اور لاہور جیسے علاقوں میں کن کن بااثر افراد کی تجاوزات اور انتظامی غفلت کی وجہ سے ندی نالوں کے قدرتی راستے بند ہیں، جس کی وجہ سے اربن فلڈنگ کا خطرہ پیدا ہو رہا ہے۔
شہباز شریف نے ٹیکنالوجی کے اس استعمال کو سراہا تو ضرور، لیکن ساتھ ہی یہ چبھتا ہوا سوال بھی کر ڈالا کہ جب ہمارا ڈیجیٹل نظام اتنا جدید ہے، تو نقصان سے پہلے فیلڈ میں ایکشن کیوں نظر نہیں آتا؟ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاق اب امدادی فنڈز کی تقسیم کو صوبوں کی کارکردگی اور مانیٹرنگ سیل کی رپورٹس سے مشروط کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے۔
این ڈی ایم اے نے پہلی بار پہاڑی ندی نالوں کی نگرانی اور دور دراز پھنسے لوگوں تک ادویات پہنچانے کے لیے سرویلنس ڈرونز بھی تعینات کر دیے ہیں اورچیئرمین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اگلے 48 گھنٹوں میں تمام متاثرہ اضلاع کی لائیو رپورٹ براہِ راست وزیراعظم ہاؤس ارسال کریں۔
دیکھنا یہ ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا یہ جدید نظام اور وزیراعظم کی یہ سخت تنبیہ بیوروکریسی کو خوابِ خرگوش سے جگاتی ہے یا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی غریب عوام ہی سیلاب کے پانی میں لاوارث بہتے نظر آئیں گے،
کیونکہ سچ تو یہ ہے کہ فائلیں اب بھی گرم ہیں اور اندر کی بات یہی ہے کہ اگلے چند دن کئی اعلیٰ افسران کی نوکریوں کے لیے بھاری ثابت ہو سکتے ہیں,
وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور متعلقہ تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں اور خراب ہوتی موسمی صورتحال کے پیش نظر سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری امداد اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے گفتگو کے دوران جاری کیں، جنہوں نے انہیں تازہ ترین موسمی صورتحال اور بالخصوص جاری مون سون بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی کیفیت پر بریفنگ دی۔ شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مؤثر اور مربوط کارروائی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ وہ صوبائی حکومتوں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھے تاکہ امدادی سرگرمیاں بلا تاخیر متاثرہ آبادی تک پہنچ سکیں۔ انہوں نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو بھی سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی نظام ہنگامی حالات کی نگرانی، خطرات کا اندازہ لگانے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے حکومتی ردعمل کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اجلاس کے دوران این ڈی ایم اے کے چیئرمین نے وزیراعظم کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں اور بے گھر ہونے والے یا دیگر متاثرین کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے سیلاب زدہ علاقوں میں این ڈی ایم اے کی امدادی سرگرمیاں جاری رہیں گی یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا جب ملک بدستور مون سون کے موسم کی لپیٹ میں ہے اور حکام موسمی صورتحال اور مزید سیلاب کے خدشات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔وزیراعظم کی ہدایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت امدادی اور بحالی کی سرگرمیوں کے دوران قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے درمیان رابطے کو مزید مضبوط بنانا چاہتی ہے۔این ڈی ایم اے کو ہدایت کی گئی ہے کہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے، جبکہ صوبائی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون سے شدید بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں زیادہ مربوط اور مؤثر ردعمل کو یقینی بنایا جائے گا۔وزیراعظم کو این ڈی ایم اے کی جانب سے صورتحال کے مسلسل جائزے اور آئندہ دنوں میں متاثرہ آبادی کی معاونت کے لیے کیے گئے انتظامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں (PDMAs) کے درمیان سرد جنگ اور کوآرڈینیشن کی کمی کو ختم کرنے کے لیے ایک نیا مانیٹرنگ سیل قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ صوبوں کو صاف لفظوں میں کہہ دیا گیا ہے کہ امدادی کاموں میں سیاست یا سستی برداشت نہیں کی جائے گی، اور غفلت برتنے والے افسران کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا۔این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں متوقع موسمی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔ جمعہ کو جاری الرٹ کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کی جانب سے3سے4ماہ قبل جاری موسمی جائزہ کے عین مطابق ہے ،این ڈ ی ایم اے ممکنہ موسمی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی یقینی بنا رہا ہے ،قبل از وقت موسمی جائزہ متعلقہ اداروں کے لیے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بر وقت تیاری یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے ۔ این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے پیشتر علاقوں بشمول اسلام آباد سمیت پنجاب میں رولپنڈی، مری، اٹک، چکول، تلہ گنگ،منڈی بہاولدین،سرگودھا،گوجر خان، گجرات، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ،حافظ آباد،لاہور،فیصل آباد،سرگودھا،خوشاب، جھنگ، میانوالی، ڈیرہ غازی خان،قصور، اوکاڑہ،ساہیوال،ملتان، بہالپور اوررحیم یار خان کے علاقوں میں تیز ہواؤں، آندھی، جھکڑ اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ،جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت پوٹھوہار ریجن میں شہروں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔الرٹ میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقوں گلگت، اسکردو،دیامیر، استور، غزر، ہنزہ، گھانچے،شگر، نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ،باغ، کوٹلی، پونچھ، ہٹیاں میرپور،اور بھمبر میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال/گلاف کے خطرے سے متعلق بھی الرٹ جاری کیا ہے ۔
ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، استور اور دیامر کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ اوراپر اور لوئر چترال، سوات، کالام، بحرین اور آرکاری کے علاقوں میں بھی گلوف اور اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے ۔اپر دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے علاقے بھی اچانک سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے ،گلگت، نگر، غذر، اسکردو، گانچھے، داریل اور تانگیر ممکنہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں ۔ مظفرآباد، نیلم ویلی، باغ اور حویلی میں بھی مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ گلوف کے باعث اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ موجود ہے ۔تیزی سے پگھلتے گلیشئرزاور برفانی جھیلوں کے ٹوٹنے کے باعث پہاڑی علاقوں سے آنے والے ندی نالوں میں پانی کے شدید بہاؤ کا خطرہ اور گلیشائی جھیلوں کے سیلا ب کے باعث مقامی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا امکان ہے ۔

اسی طرح گلیشیئر سے نکلنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے اورشاہراہوں، رابطہ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ مقامی آبادی اور سیاح غیر ضروری طور پر گلیشیئرز اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں،غیر معمولی پانی کے بہاؤ، گدلے پانی یا گلیشیئر سے آنے والی آوازوں پر فوری ضروری حفاظتی اقدامات کریں۔خیبرپختونخوا میں چترال، دیر،سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان،چارسدہ،پشاور، کوہاٹ،پاراچنار، کرک، بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیر ستان ،بلوچستان میں تربت، کیچ، آواران، خضدار اور ژوب کے علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ۔ صوبہ سندھ میں جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، گھوٹکی، کشمور،شکار پور، شہید بینظر آباد اور کراچی کے علاقوں میں بھی تیز ہواؤں، آندھی جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پربارش کا امکان ہے ۔این ڈی ایم نے ہدایت کی ہے کہ ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی سامان اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کریں،نکاسی آب کے نظام، نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی یقینی بنائی جائے ،ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنا رہے ہیں۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں،سیاح اور مسافر شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں،بارشوں، دریاؤں کے بہاؤ اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے فوری رابطہ اور تعاون کریں،بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر رابطہ سڑکوں کی بندش کا بھی خطرہ موجود ہے ۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو حساس شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں،سیاح اور مسافر شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں ۔عوام موسم کی بروقت تازہ ترین صورتحال این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ سے حاصل کر سکتے ہیں ۔وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور متعلقہ تمام اداروں کو ہدایت کی کہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری مون سون بارشوں اور خراب ہوتی موسمی صورتحال کے پیش نظر سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری امداد اور معاونت فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ وزیراعظم نے یہ ہدایات این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے گفتگو کے دوران جاری کیں، جنہوں نے انہیں تازہ ترین موسمی صورتحال اور بالخصوص جاری مون سون بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی کیفیت پر بریفنگ دی,وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے این ڈی ایم اے کو ریسکیو اور ریلیف آپریشنز کی براہِ راست مانیٹرنگ کا حکم دینے کے پیچھے گہرے انتظامی اور سیاسی محرکات چھپے ہوئے ہیں جن کا مقصد بیوروکریسی کے روایتی سست روی کے ڈھانچے کو توڑنا ہے۔ اندر کی بات یہ ہے کہ ماضی میں قدرتی آفات کے دوران صوبائی ادارے اور ضلعی انتظامیہ فنڈز یا وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر امدادی کاموں میں جو مجرمانہ تاخیر کرتے رہے ہیں، اب وفاق براہِ راست نگرانی کے ذریعے اس ریڈ ٹیپزم کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے تاکہ امداد بغیر کسی رکاوٹ کے سیکنڈوں میں متاثرین تک پہنچائی جا سکے۔ موجودہ سیاسی منظر نامے میں، جہاں وفاق اور اپوزیشن کی صوبائی حکومتوں کے درمیان فنڈز اور کارکردگی پر ایک مستقل سرد جنگ جاری رہتی ہے، وہاں این ڈی ایم اے کو یہ وسیع مانیٹرنگ اختیارات سونپ کر وفاقی حکومت نے یہ سیاسی چال بھی چلی ہے کہ وفاق کی طرف سے بھیجے گئے قومی وسائل کو کوئی بھی صوبہ اپنے سیاسی مقاصد یا جلسے جلوسوں کے لیے استعمال نہ کر سکے اور نہ ہی بعد میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا سارا ملبہ وفاق پر ڈالا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں نصب کردہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور پریڈیکٹو ماڈلنگ اب وفاق کو ہر ضلع کی لائیو سیٹلائٹ تصاویر فراہم کر رہی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب اگر کسی علاقے میں انتظامی غفلت یا بااثر افراد کی تجاوزات کی وجہ سے ندی نالوں کا راستہ رکا اور نقصان ہوا، تو این ڈی ایم اے براہِ راست متعلقہ صوبائی یا ضلعی افسر کا گریبان پکڑنے اور اس سے سخت جواب طلبی کرنے کی مجاز ہوگی جس سے احتساب کا ایک نیا اور کڑا دور شروع ہونے کا امکان ہے۔این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر نے آئندہ چند روز کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں متوقع موسمی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا۔ الرٹ کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کی جانب سے3سے4ماہ قبل جاری موسمی جائزہ کے عین مطابق ہے ،این ڈ ی ایم اے ممکنہ موسمی صورتحال اور ممکنہ خطرات کے حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی یقینی بنا رہا ہے ،قبل از وقت موسمی جائزہ متعلقہ اداروں کے لیے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بر وقت تیاری یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے ۔ این ڈی ایم اے کے مطابق آئندہ 12 سے 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے پیشتر علاقوں بشمول اسلام آباد سمیت پنجاب میں رولپنڈی، مری، اٹک، چکول، تلہ گنگ،منڈی بہاولدین،سرگودھا،گوجر خان، گجرات، جہلم، سیالکوٹ، گوجرانوالہ،حافظ آباد،لاہور،فیصل آباد،سرگودھا،خوشاب، جھنگ، میانوالی، ڈیرہ غازی خان،قصور، اوکاڑہ،ساہیوال،ملتان، بہالپور اوررحیم یار خان کے علاقوں میں تیز ہواؤں، آندھی، جھکڑ اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے ،جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد سمیت پوٹھوہار ریجن میں شہروں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔الرٹ میں گلگت بلتستان اور کشمیر کے علاقوں گلگت، اسکردو،دیامیر، استور، غزر، ہنزہ، گھانچے،شگر، نیلم ویلی، مظفرآباد، راولاکوٹ،باغ، کوٹلی، پونچھ، ہٹیاں میرپور،اور بھمبر میں گرج چمک کے ساتھ بارش جبکہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال/گلاف کے خطرے سے متعلق بھی الرٹ جاری کیا ہے ۔
ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، استور اور دیامر کے علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ اوراپر اور لوئر چترال، سوات، کالام، بحرین اور آرکاری کے علاقوں میں بھی گلوف اور اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے ۔اپر دیر، سوات، کوہستان اور مانسہرہ کے علاقے بھی اچانک سیلابی صورتحال کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے ،گلگت، نگر، غذر، اسکردو، گانچھے، داریل اور تانگیر ممکنہ متاثرہ علاقوں میں شامل ہیں ۔ مظفرآباد، نیلم ویلی، باغ اور حویلی میں بھی مقامی سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جبکہ گلوف کے باعث اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ موجود ہے ۔تیزی سے پگھلتے گلیشئرزاور برفانی جھیلوں کے ٹوٹنے کے باعث پہاڑی علاقوں سے آنے والے ندی نالوں میں پانی کے شدید بہاؤ کا خطرہ اور گلیشائی جھیلوں کے سیلا ب کے باعث مقامی ندی نالوں اور دریاؤں میں طغیانی کا امکان ہے ۔

اسی طرح گلیشیئر سے نکلنے والے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے اورشاہراہوں، رابطہ سڑکوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ۔این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ مقامی آبادی اور سیاح غیر ضروری طور پر گلیشیئرز اور ندی نالوں کے قریب جانے سے گریز کریں،غیر معمولی پانی کے بہاؤ، گدلے پانی یا گلیشیئر سے آنے والی آوازوں پر فوری ضروری حفاظتی اقدامات کریں۔خیبرپختونخوا میں چترال، دیر،سوات، بٹگرام، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، صوابی، مردان،چارسدہ،پشاور، کوہاٹ،پاراچنار، کرک، بنوں،ڈیرہ اسماعیل خان اور وزیر ستان ،بلوچستان میں تربت، کیچ، آواران، خضدار اور ژوب کے علاقوں میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ۔ صوبہ سندھ میں جیکب آباد، سکھر، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، گھوٹکی، کشمور،شکار پور، شہید بینظر آباد اور کراچی کے علاقوں میں بھی تیز ہواؤں، آندھی جھکڑ اور گرج چمک کے ساتھ چند مقامات پربارش کا امکان ہے ۔این ڈی ایم نے ہدایت کی ہے کہ ندی نالوں اور نشیبی علاقوں کے مکین قیمتی سامان اور مویشی محفوظ مقامات پر منتقل کریں،نکاسی آب کے نظام، نالوں اور سیوریج لائنوں کی صفائی یقینی بنائی جائے ،ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی یقینی بنا رہے ہیں۔ الرٹ میں کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں،سیاح اور مسافر شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں،بارشوں، دریاؤں کے بہاؤ اور حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی جاری رکھی جائے،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں سے فوری رابطہ اور تعاون کریں،بارش، سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر رابطہ سڑکوں کی بندش کا بھی خطرہ موجود ہے ۔ این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو حساس شاہراہوں اور پہاڑی علاقوں میں الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں،سیاح اور مسافر شمالی علاقوں کا سفر کرنے سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کریں ۔عوام موسم کی بروقت تازہ ترین صورتحال این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ سے حاصل کر سکتے ہیں ۔ ہر گھر میں پینے کا پانی، خشک خوراک، فرسٹ ایڈ باکس، ٹارچ اور اہم دستاویزات پر مشتمل ایک ایمرجنسی بیگ ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ شدید بارشوں یا سیلاب کی وارننگ ملتے ہی اپنے قیمتی سامان اور مویشیوں سمیت فوری طور پر کسی اونچی جگہ منتقل ہو جائیں اور کھڑے پانی میں پیدل چلنے یا گاڑی چلانے سے مکمل گریز کریں۔ گیلے ہاتھوں سے بجلی کے آلات کو مت چھوئیں اور کرنٹ لگنے سے بچنے کے لیے گلیوں میں موجود بجلی کے کھمبوں یا گری ہوئی تاروں سے دور رہیں۔ زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہی فوری طور پر کسی مضبوط میز کے نیچے پناہ لیں اور اسے تھام لیں، یا اگر آپ باہر ہیں تو عمارتوں اور درختوں سے دور کسی کھلی جگہ چلے جائیں۔ زلزلے کے دوران یا بعد میں باہر نکلنے کے لیے لفٹ کا استعمال بالکل نہ کریں اور صرف سیڑھیاں استعمال کریں۔ مٹی کے تودے گرنے (لینڈ سلائیڈنگ) کے خطرے سے بچنے کے لیے مری، سوات یا گلگت بلتستان جیسے پہاڑی علاقوں میں مونسون کے دوران غیر ضروری سفر سے پرہیز کریں۔ آفت کے بعد وبائی امراض سے بچنے کے لیے ہمیشہ ابلا ہوا یا صاف کیا گیا پانی استعمال کریں۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری مدد کے لیے ریسکیو سروس کو 1122 یا ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو 1199 پر کال کریں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X