اسلام آباد (اردو ٹائمز) اٹک جیل میں آزادی کا جشن
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) جیل کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک خاص قسم کی تصویر ابھرتی ہے۔ بلند و بالا دیواریں، آہنی دروازے، سخت پہرے، خاموش راہداریاں اور چہروں پر سنجیدگی۔ لیکن زندگی کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے۔ بعض اوقات ہم دور سے جو کچھ دیکھتے ہیں، قریب جا کر وہ بالکل مختلف دکھائی دیتا ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر ڈسٹرکٹ جیل اٹک میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا موقع ملا تو میرے ذہن میں بھی جیل کا وہی روایتی تصور موجود تھا جو عام لوگوں کے ذہن میں ہوتا ہے۔ مگر جیل کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک مختلف منظر سامنے آیا۔ منظم ماحول، صفائی، ترتیب، نظم و ضبط اور ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ جو خاموشی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا تھا۔
اٹک جیل محض ایک عمارت نہیں بلکہ ایک صدی سے زائد تاریخ رکھنے والا ادارہ ہے۔ برطانوی دور میں قائم ہونے والی یہ جیل آج بھی اپنی تاریخی حیثیت برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان فصیلوں نے کئی نسلیں دیکھی ہیں، کئی ادوار دیکھے ہیں اور بے شمار ایسے واقعات دیکھے ہیں جو شاید تاریخ کی کتابوں میں بھی محفوظ نہ ہوں۔
جیل کی بلند دیواروں کے اندر ایک الگ دنیا آباد ہے۔ ایک ایسی دنیا جہاں ہر لمحہ نظم و ضبط کے تابع ہے۔ ہر سرگرمی کا وقت مقرر ہے، ہر ذمہ داری کی حدود متعین ہیں اور ہر فرد اپنے فرائض سے آگاہ ہے۔
یومِ آزادی کی تقریب کے لیے پورے جیل کمپلیکس کو قومی رنگوں سے سجایا گیا تھا۔ سبز اور سفید جھنڈیاں، قومی پرچم، بینرز اور روشنیوں نے ماحول کو ایک خاص وقار بخش رکھا تھا۔ سب سے زیادہ متاثر کن بات یہ تھی کہ پورا احاطہ غیر معمولی حد تک صاف ستھرا نظر آ رہا تھا۔
صفائی کسی بھی ادارے کے معیار کا پہلا تعارف ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے کی راہداریاں، دفاتر، بیرکس اور کھلے مقامات صاف ستھرے ہوں تو یہ اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہاں انتظامی معاملات بھی سنجیدگی سے چلائے جا رہے ہیں۔ اٹک جیل میں یہی تاثر نمایاں طور پر محسوس ہوا۔
بیرکس کے اطراف صفائی کا خاص اہتمام نظر آیا۔ کھلے مقامات منظم تھے، درخت اور پودے تراشے ہوئے تھے اور مجموعی ماحول میں ایک ترتیب دکھائی دیتی تھی۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی بھی ادارے کی انتظامی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔
تقریب میں سپرنٹنڈنٹ جیل عمران نوید اشرف بھرت اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سرفراز ہارون خان کی موجودگی نمایاں رہی۔ دونوں افسران نہ صرف تقریب کی نگرانی کر رہے تھے بلکہ جیل کے مختلف حصوں میں انتظامات کا جائزہ بھی لیتے رہے۔
سرکاری اداروں میں بعض افسران صرف فائلوں تک محدود رہتے ہیں جبکہ بعض میدان میں نظر آتے ہیں۔ عمران نوید اشرف بھرت کا شمار ایسے افسران میں ہوتا ہے جو ادارے کے نظم و نسق کو عملی طور پر دیکھنے پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں جیل کے عملے اور متعلقہ حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ قانون اور قواعد و ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کے قائل ہیں۔
قانون کسی بھی ادارے کی بنیاد ہوتا ہے۔ جب قانون پر بلا امتیاز عمل ہوتا ہے تو نظم پیدا ہوتا ہے، اور جب نظم پیدا ہوتا ہے تو ادارے مضبوط ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کامیاب اداروں میں شخصیت سے زیادہ نظام کی اہمیت ہوتی ہے۔
عمران نوید اشرف بھرت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فیصلوں میں ضابطے کو مقدم رکھتے ہیں۔ یہی طرزِ فکر کسی بھی انتظامی افسر کی اصل طاقت ہوتی ہے۔ جیل جیسا حساس ادارہ تو ویسے بھی ایسے لوگوں کا تقاضا کرتا ہے جو دباؤ سے بالاتر ہو کر فیصلے کر سکیں۔
اسی طرح ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سرفراز ہارون خان جیل کے روزمرہ انتظامی معاملات میں ایک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ جیل کے اندرونی نظم و ضبط، سکیورٹی، ڈیوٹیوں کی تقسیم، بیرکس کے معاملات اور مختلف انتظامی امور کی نگرانی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
ایک کامیاب جیل انتظامیہ دراصل ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سپرنٹنڈنٹ، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ، جیلر، چیف وارڈر اور دیگر اہلکار ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر ایک کڑی کمزور پڑ جائے تو پورا نظام متاثر ہو سکتا ہے۔
جیلر کا کردار بھی اس نظام میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ قیدیوں کی روزمرہ زندگی، بیرکس کی نگرانی، گنتی، ملاقاتوں کا نظام، سکیورٹی کے انتظامات اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنا جیلر کی ذمہ داریوں میں شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیل کا عملی ماحول زیادہ تر جیلر اور اس کی ٹیم کی کارکردگی کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
اٹک جیل میں سب سے خوش آئند پہلو یہ محسوس ہوا کہ نظم و نسق کے ساتھ انسانی وقار کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ جدید دنیا میں جیلوں کا تصور صرف سزا تک محدود نہیں رہا بلکہ اصلاح اور بحالی کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قیدی اگر معاشرے کا حصہ بن کر واپس جائیں تو یہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔
اسی سوچ کے تحت جیلوں میں تعلیم، فنی تربیت، مذہبی رہنمائی اور اخلاقی اصلاح کے مختلف پروگرام متعارف کرائے جاتے ہیں۔ اٹک جیل میں بھی ایسے اقدامات کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔
یومِ آزادی کی تقریب کے دوران ملی نغمے پیش کیے گئے، قومی پرچم کشائی کی گئی اور پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ تقریب میں شریک افراد کے چہروں پر قومی جذبہ نمایاں تھا۔
ایک لمحے کے لیے یہ احساس بھی پیدا ہوا کہ آزادی کی اصل قدر شاید وہی لوگ بہتر جانتے ہیں جو اس نعمت سے محروم ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ جیل کے اندر یومِ آزادی کی تقریب ایک منفرد معنویت اختیار کر جاتی ہے۔
جیل کے وسیع احاطے میں موجود سبزہ بھی توجہ کا مرکز تھا۔ درختوں کی قطاریں، صاف ستھرے راستے اور منظم ماحول اس امر کی نشاندہی کر رہے تھے کہ انتظامیہ صرف سکیورٹی ہی نہیں بلکہ ماحول کی بہتری پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ دنیا بھر میں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ صاف اور منظم ماحول انسان کے رویوں پر مثبت اثر ڈالتا ہے۔ جیلوں میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جیل کا نظام چوبیس گھنٹے متحرک رہتا ہے۔ جب شہر کے لوگ اپنے گھروں میں آرام کر رہے ہوتے ہیں تب بھی جیل کے اہلکار اپنی ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری صرف سکیورٹی تک محدود نہیں ہوتی بلکہ سینکڑوں افراد کی نگرانی، خوراک، صحت، نظم و ضبط اور دیگر معاملات بھی ان کے فرائض میں شامل ہوتے ہیں۔
اکثر سرکاری اداروں کی کارکردگی کا اندازہ عوام کو نظر آنے والے پہلوؤں سے لگایا جاتا ہے، لیکن جیل جیسے ادارے خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ یہاں کی کامیابی اس بات میں ہوتی ہے کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے، نظم برقرار رہے اور قانون کی عملداری قائم رہے۔
اٹک جیل میں یومِ آزادی کی تقریب دراصل اسی خاموش خدمت کی ایک جھلک تھی۔ یہ تقریب صرف جشن نہیں بلکہ اس بات کا اظہار بھی تھی کہ قومی ادارے اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔
تقریب کے اختتام پر جب قومی پرچم ہوا میں لہرا رہا تھا تو میرے ذہن میں ایک ہی خیال تھا کہ اداروں کی اصل طاقت ان کی عمارتوں میں نہیں بلکہ ان لوگوں میں ہوتی ہے جو انہیں چلاتے ہیں۔ اٹک جیل کے افسران اور اہلکار بھی انہی خاموش سپاہیوں میں شامل ہیں جو قانون، نظم و ضبط اور ریاستی وقار کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔
یومِ آزادی کا پیغام بھی یہی ہے کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ ایک ایسا عہد جسے ہر شہری نے اپنے اپنے دائرۂ کار میں نبھانا ہے۔ اٹک جیل کی فصیلوں کے اندر منایا جانے والا یہ جشن اسی عہد کی ایک خوبصورت یاد دہانی تھا۔
قومی پرچم کی سبز چادر تلے کھڑے ہو کر محسوس ہوا کہ وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں، بلکہ اپنے فرائض کو دیانت داری، قانون پسندی اور ذمہ داری کے ساتھ ادا کرنے کا نام ہے۔ اور یہی وہ جذبہ ہے جو کسی بھی ادارے کو مضبوط، باوقار اور قابلِ احترام بناتا ہے۔

