اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان ملٹری اکاونٹس کی ادبی روایت
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان ملٹری اکاونٹس ایک قدیم ادارہ ہے،جس کی ایک طویل ادبی تاریخ ہے۔تاہم بنیادی طور پر اس موقر ادارے کے ذمہ فوج ،ائیر فورس اور نیوی کے حسابات اور دیگر واجبات کی ادائیگی ہے۔یہ ادارہ تقسیم پاک و ہند سے بھی کئی برس قبل وجود میں آیا۔ایک تحقیق کے مطابق ملٹری اکاونٹس ڈھائی سو سال قبل معرض وجود میں آیا تھا۔یوں پاکستان بننے سے کئی برس قبل اس محکمے کو ایک شناخت مل چکی تھی۔اس وقت کون کون سے ادباء و شعراء اس محکمے سے وابستہ تھے،یہ تو خبر نہیں ،تاہم پاکستان بننے کے بعد اس ادارے میں کئی بڑے شاعر و ادیب ملٹری اکاونٹس سے جڑے رہے اور میں آج کل ادبیات پاکستان ملٹری اکاونٹس کے نام سے ایک تحقیقی کام بھی کتاب کی صورت مرتب کر رہا ہوں ۔آج تک شعر و ادب کے علاوہ شوبز سے وابستہ کئی بڑی شخصیات کا تعلق اسی عظیم ادارے سے رہا ہے۔حلقہء ارباب پاکستان ملٹری اکاونٹس لاہور کا قیام بھی اسی ادارے کے چند شاعروں کا مرہون منت رہا ہے۔آج سے برسوں پہلے عبد الحمید عدم اس محکمے کا حصہ رہے ہیں۔بعد ازاں جناب بشیر رحمانی ،جناب علامہ بشیر رزمی،جناب طارب جمالی ،جناب یونس نشاط صدیقی،جناب الیاس شاداں،جناب ڈاکٹر وحید احمد،جناب محمد اظہار الحق ،جناب سرور انبالوی،جناب احمد ہاشمی،جناب شکیل جاذب ،جناب اشرف سلیم،جناب جہانگیر عمران،جناب کرامت بخاری،جناب الیاس حیدر زیدی،جناب ابوذر ،جناب امجد علی ،جناب ندیم اختر غزالی،جناب عمار یاسر مگسی،جناب علی سانول،جناب فانی عرفان،جناب جاوید اقبال سینئر،جناب عبدالرشید بٹالوی،جناب منیر منتظر،جناب عمار یاسر مگسی،محترمہ فرزانہ کوکب،جناب جاوید اقبال جونئیر اور راقم الحروف محمد نوید مرزا سمیت کئی اور بھی اس محکمے سے وابستہ رہے یا ابھی ملازمتی امور سر انجام دے رہے ہیں۔اداکاروں میں جناب محمد نواز کوئٹہ،جناب نفیس احمد اور جناب عباس باجوہ ،جب کہ گلوکاروں میں ساجد تبسم مرحوم سمیت کئی گلوکار و نعت خواں اس ادارے سے منسلک رہے ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حلقے کے بانیوں کو محکمے کے دو اعلی افسران کی سرپرستی حاصل رہی ہے،جن میں ایک نام سابق ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل جناب محمد اسلم خان مگسی اور دوسرا سابق سی ایل اے جناب محمد اسلم چوھدری کا تھا۔ان کے جانے کے بعد ایک طویل عرصہ تک حلقہ کی سرگرمیاں معطل رہیں۔تاہم پچھلے دو برسوں سے ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل جناب کاشف نور
اور کنٹرولر ملٹری پینشن جناب عمران اختر ورک کی سرپرستی میں حلقے نے ایک بار پھر اپنا اعتبار قائم کیا ہے اور اس سارے عرصے میں کئی علمی و ادبی پروگرام و مشاعرے منعقد ہوئے ہیں۔
اسی سلسلے کی ایک کڑی یوم آزادی کے موقع پر ہونے والی ایک شاندار تقریب بھی ہے،جس کی صدارت نامور ماہر اقبالیات اور ناظم اعلیٰ اقبال اکادمی جناب ڈاکٹر عبد الرؤف رفیقی نے کی۔جب کہ مہمانان خصوصی جناب سجاد احمد اور جناب ممتاز راشد لاہوری تھے۔یہ تقریب تین مراحل میں انعقاد پذیر ہوئی۔پہلے مرحلے میں راقم الحروف محمد نوید مرزا کی دو کتب باتیں ہماری اور تنقید کے رنگ کی تقریب منعقد ہوئی،جس پر صاحب صدر اور مہمانان کے علاوہ جناب میجر شہزاد نیر اور محترمہ میجر ثمینہ بٹ نے سیر حاصل گفتگو کی۔دوسرے سیشن میں یوم آزادی کے حوالے سے جناب امجد علی اور جناب ندیم اختر غزالی کے مقالات پیش ہوئے،جنھیں سراہا گیا۔تیسرے سیشن میں شعری نشست ہوئی ،جس میں جناب میجر شہزاد نیر،جناب محمد نوید مرزا،جناب معظم علی خان،جناب اکرام خاور ،محترمہ میجر ثمینہ بٹ،جناب علی سانول،جناب فانی عرفان نے اپنا کلام سنایا۔یہ ایک بھرپور تقریب تھی۔

