LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) سڈنی ورلڈ کپ 1994 فائنل کا سنسنی خیزراز بے نقاب؛

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) کھیلوں کی صحافت کے میرے (اصغر علی مبارک )کےطویل کیریئر میں کئی ایسے لمحات آئے جنہوں نے روح کو گرما دیا، لیکن دسمبر 1994، کےوسط میں پاکستان اسپورٹس کمپلیکس، اسلام آباد میں منعقدہ تقریب میری زندگی کی سب سے یادگار دستاویزی تاریخ بن گئی ہے۔ وہ لمحہ جب میں نے پاکستان ہاکی کی تاریخ کی سب سے معتبر امانت—ایف آئی ایچ ورلڈ کپ ٹرافی—کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا، اور میرے ساتھ 1994 کے سڈنی ورلڈ کپ کے عظیم ہیرو اور مایہ ناز گول کیپر منصور احمد (مرحوم)تھے۔اسی تقریب کے دوران، جب میں نے منصور احمد سے سڈنی فائنل کے ان آخری سنسنی خیز لمحات کے بارے میں گفتگو شروع کی، تو انہوں نے مجھ (اصغر علی مبارک) سے ایک ایسا سنسنی خیز اور حیرت انگیز انکشاف کیا جو اس سے پہلے کبھی کسی میڈیا کے سامنے نہیں آیا تھا۔
منصور احمد نے بتایاتھا کہ جب ہالینڈ (ڈچ) کے کھلاڑی ڈالمی (Delmee) آخری پینلٹی اسٹروک لینے آئے، تو پاکستان کی جیت اور ہالینڈ کی ہار کا پورا دارومدار اسی ایک ہٹ پر تھا۔ جیسے ہی منصور احمد نے اپنی جادوئی گول کیپنگ سے وہ پینلٹی اسٹروک روکا، تو وہیں میدان میں تاریخ رقم ہو گئی،
لیکن اس کے فوراً بعد گراؤنڈ پر ایک انسانی المیہ بھی جنم لے چکا تھا۔منصور احمد نے انکشاف کیا کہ ”
پینلٹی اسٹروک مس کرنے کا شدید صدمہ ڈچ کھلاڑی ڈالمی برداشت نہ کر سکا اور وہ وہیں گراؤنڈ پر گر کر بے ہوش ہو گیا۔ وہ بے ہوشی عارضی نہیں تھی، بلکہ وہ کافی دیر تک ہوش میں نہ آ سکا۔ جب طبی عملے نے سخت تگ و دو کے بعد اسے ہوش میں لایا، تو وہ شدید صدمے کی وجہ سے ایک انتہائی خطرناک ذہنی اور نفسیاتی حالت (Shock) میں جا چکا تھا، جہاں اس کا دماغ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکار کر رہا تھا کہ وہ ورلڈ کپ ہار چکے ہیں۔طبی ماہرین اور نفسیات دانوں نے اس کی نازک ذہنی حالت کو دیکھتے ہوئے ایک عجیب مگر ناگزیر مشورہ دیا۔ جب فائنل میچ ختم ہوا اور تمام تماشائی اسٹیڈیم سے باہر نکل گئے، تو ڈالمی کو اس خالی اور خاموش اسٹیڈیم کے میدان میں دوبارہ لایا گیا۔ ماہرین کے مشورے پر، وہاں بالکل پینلٹی اسٹروک کی طرح ایک فرضی صورتحال بنائی گئی اور ڈالمی کو دوبارہ گیند دی گئی اور اس سے کہا گیا کہ وہ گیند کو گول پوسٹ اور نیٹ کے اندر دھکیل دے۔ جب اس نے خالی نیٹ میں گیند کو ہٹ کر کے گول اسکور کیا، تو اس کے دماغ پر چھایا ہوا شدید دباؤ آہستہ آہستہ کم ہوا اور کچھ دیر بعد وہ نفسیاتی طور پر نارمل حالت میں واپس آیا”۔اب جبکہ طویل انتظار کے بعد، ابوبکر محمود کی کپتانی میں پاکستان کی قومی ٹیم ایف آئی ایچ ورلڈ کپ 2026 کے آفیشل شیڈول کے تحت نیدرلینڈز کی سرزمین پر پہنچ چکی ہے، تو میری اسپورٹس جرنلسٹ کی نظریں ایک بار پھر تاریخ کے دہرائے جانے کی منتظر ہیں۔
میں یہ دعوے اور امید کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ہمارے نوجوانوں نے منصور احمد والے جذبے کے ساتھ کھیل کا مظاہرہ کیا، تو موجودہ ورلڈ کپ کے شیڈول کے مطابق، پاکستانی ٹیم ہالینڈ (نیدرلینڈز) کی مضبوط ترین ٹیم کو ان کے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ایک بار پھر چونکانےاور تاریخ دہرانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آج جب میں اس تاریخی تصویر کو دیکھتا ہوں، تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ایک کھلاڑی کے کندھوں پر اپنے ملک کی لاج رکھنے کا کتا بھاری وزن ہوتا ہے۔ منصور احمد کی وہ مسکراہٹ، مجھ سے کیا گیا یہ تاریخی انکشاف اور موجودہ ٹیم سے جڑی ورلڈ کپ کی امیدیں، پاکستان اسپورٹس ہسٹری اور میری صحافتی زندگی کا وہ قیمتی سرمایہ ہے جو ہمیشہ آنے والی نسلوں کو اس عظیم کھیل کی اندرونی کہانی سناتا رہے گا۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X