LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاک-کویت دفاعی معاہدہ ; مسلح افواج کے مابین قانونی فریم ورک

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کے تاریخی معاہدے کی توثیق کے بعد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان ایک جامع اور مربوط قانونی فریم ورک باقاعدہ نافذ العمل ہو چکا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ خلیجی جنگ کا دور کویت کی تاریخ کا ایک انتہائی نازک اور کٹھن ترین دور تھا، جس کے دوران آنے والے تباہ کن بحران اور حملوں نے علاقائی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اس ہولناک بحران کے دوران جہاں کئی عالمی طاقتیں مصلحت کا شکار تھیں، وہیں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے انتہائی متحرک، جرات مندانہ اور مخلصانہ سفارتی کوششیں انجام دیں۔ پاکستان نے نہ صرف کویت کی خودمختاری کی کھل کر حمایت کی بلکہ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت اپنی عسکری ٹیمیں اور انجینئرز بھیجے جنہوں نے جنگ کے بعد کویتی سرزمین اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔پاکستانی قیادت کی انہی بے لوث سفارتی اور دفاعی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ کویتی قیادت کے دل میں پاکستان کے لیے ایک دائمی اعتماد قائم ہوا، جس نے اب ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ پاک-کویت دفاعی معاہدے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ یہ مشاہدہ تزویراتی لحاظ سے انتہائی زبردست ہے کہ پاک-سعودیہ دفاعی شراکت داری کے بعد یہ پاکستان کا خلیجی خطے میں دوسرا سب سے بڑا اور اہم ترین دفاعی معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ خلیج کے ممالک اپنی طویل المدتی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کس قدر اہمیت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف پاکستان کی معاشی و دفاعی سفارت کاری کی کامیابی ہے بلکہ مسلم امہ کے دفاع کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل بھی ہے۔ پاک-کویت اسٹرٹیجک شراکت داری کا سب سے اہم اور انقلابی پہلو تاریخی دفاعی معاہدہ ہے کویت کے وزیر خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی مجموعی صورتحال اور دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور کویت کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ دوسری جانب آئی ایس پی آر کے مطابق کویتی وزیر خارجہ نے خطے میں امن، استحکام اور سکیورٹی کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط شراکت داری کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔
پاکستان اور کویت کے مابین قائم دیرینہ برادرانہ تعلقات اب ایک مضبوط، کثیر الجہتی اور ناقابلِ تسخیر اسٹرٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے دوررس اثرات پورے جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
پاک-کویت اسٹرٹیجک شراکت داری کا سب سے اہم اور انقلابی پہلو وہ تاریخی دفاعی معاہدہ ہے جسے کویت نے باقاعدہ منظوری دے کر اپنے سرکاری جریدے میں شائع کیا ہے۔
یہ معاہدہ دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے مابین قریبی فوجی اور سیکیورٹی تعاون کے لیے ایک جامع قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، جس کے تحت مشترکہ جنگی مشقوں کا انعقاد، اسٹرٹیجک معلومات اور انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور سائنسی و تکنیکی شعبوں میں دفاعی تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کویت کے ساتھ پاکستان کے مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے پختہ عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا کہ پاکستان اور کویت علاقائی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ ویژن رکھتے ہیں اور دونوں ممالک باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
اس دفاعی فریم ورک کے تحت دونوں ملکوں کے مابین فوجی اہلکاروں، سیکیورٹی ماہرین اور تکنیکی انفراسٹرکچر کا باقاعدہ تبادلہ عمل میں لایا جا رہا ہے، جو خطے میں ابھرتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج، جس نے ماضی میں کویت کی آزادی اور اس کے دفاعی اداروں کی تنظیمِ نو میں تاریخی کردار ادا کیا تھا، آج بھی کویت کی سیکیورٹی لائن کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
موجودہ حکومت کی فعال معاشی سفارت کاری اور خلیجی ممالک کے ساتھ روابط کو اولیت دینے کی پالیسی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات روایتی دوستی کے دائرے سے نکل کر عملی تزویراتی اتحاد کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔
اس اسٹرٹیجک شراکت داری کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں پاکستان میں متعین کویت کے سفیر عزت مآب ناصر عبدالرحمان جاسر المطیری کی سال 2016 سے جاری انتھک سفارتی کاوشیں اور کویت کے وزیرِ خارجہ شیخ جراح جابر الاحمد الصباح کا حالیہ دو روزہ کامیاب دورۂ پاکستان سنگِ میل ثابت ہوئے ہیں ,
اسٹرٹیجک شراکت داری کا دوسرا بڑا ستون معاشی اور تجارتی تعاون ہے، جس کا حجم مودی حکومت کے برعکس، خالصتاً باہمی مخلصانہ ترقی پر مبنی ہے۔ پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے متحرک پلیٹ فارم کے ذریعے کویتی سرمایہ کاروں کو پاکستان کے پائیدار اور منافع بخش شعبوں میں سرمایہ کاری کی باضابطہ دعوت دی ہے۔ کویت نے پاکستان میں فوڈ سیکیورٹی، کارپوریٹ فارمنگ، انفراسٹرکچر کی تعمیر، اور توانائی کے شعبوں، بالخصوص ریفائننگ سیکٹر اور اسٹرٹیجک فیول اسٹوریج کے منصوبوں میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ کویتی کمپنیوں کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے عمل کو انتہائی آسان، شفاف اور محفوظ بنا دیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام اور صنعتی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہو رہا ہے۔ پاک-کویت سفارتی روابط کا ایک اور بڑا ثمر پاکستانی افرادی قوت پر عائد طویل المدتی ویزا پابندیوں کا خاتمہ اور خاندانی و تجارتی ویزوں کی بحالی ہے۔ کویتی سفیر کی ذاتی دلچسپی کی بدولت کویت کے مختلف اہم اور اعلیٰ شعبوں، بالخصوص صحت (ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف)، انجینئرنگ، تعمیرات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں ہزاروں ہنر مند پاکستانیوں کو روزگار کے بہترین مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ افرادی قوت نہ صرف کویت کی ترقی میں اپنا اہم حصہ ڈال رہی ہے بلکہ زرمبادلہ کی شکل میں پاکستان کی معاشی پوزیشن کو بھی مستحکم کر رہی ہے۔

سیاسی اور عالمی محاذ پر پاکستان اور کویت کے مابین مثالی تال میل پایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم جیسے بڑے بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک امتِ مسلمہ کے مسائل، عالمی امن، اور علاقائی استحکام کے لیے ہمیشہ ایک پیج پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ اور حساس ترین تنازعات پر کویت کا اصولی، منصفانہ اور جرات مندانہ موقف ہمیشہ سے پاکستان کے موقف کی تائید اور مظلوم کشمیری و فلسطینی عوام کے لیے ایک بڑی اخلاقی طاقت رہا ہے۔
کویت نے ہمیشہ علاقائی امن اور سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے تعمیری وژن کی بھرپور حمایت کی ہے، جس کا اعادہ کویتی سفیر نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے دوران بھی کیا تھا۔مجموعی طور پر، پاک-کویت اسٹرٹیجک شراکت داری وقت کی ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور موجودہ دور میں ہونے والے دفاعی و تجارتی معاہدے اس بات کی نوید ہیں کہ یہ برادرانہ اتحاد آنے والے سالوں میں دونوں ممالک کی عوام کے لیے مزید خوشحالی، امن اور پائیدار ترقی کا ضامن بنے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ خلیجی جنگ (Gulf War) کا دور کویت کی تاریخ کا ایک انتہائی نازک اور کٹھن ترین دور تھا، جس کے دوران آنے والے تباہ کن بحران اور حملوں نے علاقائی سلامتی اور دفاعی حکمتِ عملی پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے تھے۔ اس ہولناک بحران کے دوران جہاں کئی عالمی طاقتیں مصلحت کا شکار تھیں، وہیں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے انتہائی متحرک، جرات مندانہ اور مخلصانہ سفارتی کوششیں انجام دیں۔ پاکستان نے نہ صرف کویت کی خودمختاری کی کھل کر حمایت کی بلکہ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کے تحت اپنی عسکری ٹیمیں اور انجینئرز بھیجے جنہوں نے جنگ کے بعد کویتی سرزمین اور بارودی سرنگوں کو صاف کرنے میں تاریخی اور ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔پاکستانی قیادت کی انہی بے لوث سفارتی اور دفاعی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ کویتی قیادت کے دل میں پاکستان کے لیے ایک دائمی اعتماد قائم ہوا، جس نے اب ایک باقاعدہ نوٹیفائیڈ پاک-کویت دفاعی معاہدے کی شکل اختیار کر لی ہے۔آپ کا یہ مشاہدہ تزویراتی (Strategic) لحاظ سے انتہائی زبردست ہے کہ پاک-سعودیہ دفاعی شراکت داری کے بعد یہ پاکستان کا خلیجی خطے میں دوسرا سب سے بڑا اور اہم ترین دفاعی معاہدہ ہے۔ یہ معاہدہ ثابت کرتا ہے کہ خلیج کے ممالک اپنی طویل المدتی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو کس قدر اہمیت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ تاریخی پیش رفت نہ صرف پاکستان کی معاشی و دفاعی سفارت کاری کی کامیابی ہے بلکہ مسلم امہ کے دفاع کو مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑا سنگِ میل بھی ہے۔پاکستان اور مملکتِ سعودی عرب کے مابین قائم تاریخی برادرانہ تعلقات ایک ایسے گہرے، اسٹرٹیجک اور ناقابلِ تسخیر دفاعی اتحاد میں ڈھل چکے ہیں جو مسلم امہ کے تحفظ اور خلیجی خطے سمیت پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کا سب سے بڑا ضامن ہے۔ یہ دفاعی شراکت داری محض روایتی یا کاغذی معاہدوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ دونوں ملکوں کی افواج کے مابین دہائیوں پر محیط عملی تعاون، مشترکہ عقیدے، اور باہمی سیکیورٹی کے آہنی عزم پر استوار ہے۔ دونوں برادر ممالک کے مابین جاری دفاعی اشتراکِ عمل میں حرمین شریفین کا تحفظ اور سیکیورٹی پاکستان کا وہ اصولی اور غیر متزلزل موقف ہے جس کے تحت سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو پاکستان کے اپنے دفاع کا حصہ مانا گیا ہے، اور کسی بھی بیرونی خطرے کی صورت میں پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا ہے۔ اس تزویراتی اتحاد کے تحت پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ باقاعدگی کے ساتھ سعودی افواج کے ساتھ بڑے پیمانے پر مشترکہ فوجی مشقیں، جیسے کہ الکساح، الصمصام اور انڈس شیلڈ منعقد کرتی ہیں تاکہ دونوں افواج کی آپریشنل صلاحیتوں اور تال میل کو جدید ترین جنگی معیار پر برقرار رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہائیوں سے پاکستان کی مسلح افواج کے ماہرین اور افسران سعودی عرب کی شاہی افواج کو اعلیٰ معیار کی جنگی تربیت، تکنیکی مشاورت اور دفاعی اداروں کی تنظیمِ نو میں کلیدی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے دفاعی پیداوار اور جدید ملٹری ٹیکنالوجی کے تبادلے اور مشترکہ مینوفیکچرنگ کے منصوبوں پر تعاون کو تیزی سے وسعت دی ہے۔اگر تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو خلیجی جنگ کے دوران کویت پر ہونے والے حملوں اور بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال نے خطے کی سلامتی پر کئی تزویراتی سوالات کھڑے کیے تھے، جہاں پاکستان کی مخلصانہ سفارت کاری اور عسکری امداد نے اہم کردار ادا کیا۔ آج جب کویت نے پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی دفاعی فریم ورک کی باقاعدہ توثیق کر کے اسے اپنے سرکاری جریدے میں شائع کیا ہے، تو تزویراتی ماہرین کے مطابق پاک-سعودیہ اسٹرٹیجک دفاعی شراکت داری کے بعد خلیجی خطے میں یہ پاکستان کا دوسرا سب سے بڑا اور اہم ترین دفاعی معاہدہ ہے۔ یہ معرکہ اور پیش رفت اس سچائی کو ثابت کرتی ہے کہ سعودی عرب کے بعد اب خلیج کے دیگر اہم ممالک بھی اپنی طویل المدتی سلامتی، خود مختاری اور علاقائی پائیداری کے لیے پاکستان کے پائیدار دفاعی وژن اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت پر کامل بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ بڑھتا ہوا اشتراکِ عمل نہ صرف پاکستان کی کامیاب معاشی و دفاعی سفارت کاری کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ یہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھنے اور مسلم دنیا کے باہمی اتحاد کو مضبوط ترین بنانے کی جانب ایک انقلابی سنگِ میل بن چکا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X