LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) وزیراعظم یوتھ پروگرام کا تاریخی بجٹ اور اقوام متحدہ پیووٹ پروگرام کا آغاز

Share

اسلام آباد (اردو ٹائمز) ہمارے نوجوان جب کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کامیاب ہوتا ہے۔وزیراعظم یوتھ پروگرام نے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کے اشتراک سے نیویارک میں منعقدہ “کنکشن ٹو کنٹری بیوشن: پاکستانی یوتھ ڈائسپورا کنیکٹ” کے عنوان سے منعقدہ تقریب میں پیووٹ (PIVOT) پروگرام کا آغاز کیا ہے اس پروگرام کا مقصد دنیا بھر میں مقیم پاکستانی نوجوانوں کو پاکستان کے نوجوانوں کے ساتھ رہنمائی، علم و تجربے کے تبادلے، پیشہ ورانہ روابط، جدت اور تعلیم، کاروباری مواقع اور ہنر مندی کے شعبوں میں باقاعدہ اشتراک کے ذریعے جوڑنے کیلئے ایک منظم پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
تقریب میں امریکہ بھر سے تعلق رکھنے والے پاکستانی نوجوان پیشہ ور افراد، کاروباری شخصیات، محققین، طلبہ اور کمیونٹی رہنمائوں نے شرکت کی اور پیووٹ پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کے نوجوانوں کی رہنمائی، تعاون اور علم کے تبادلے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ پیووٹ کا آغاز درحقیقت پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی نوجوانوں کے درمیان تعلق کے ایک نئے باب کا آغاز ہے، جن کی زندگیاں اگرچہ مختلف ممالک، تہذیبوں اور مواقع سے وابستہ ہیں، لیکن جن کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان اور عالمی سطح پر مقیم پاکستانی نوجوان علم، جدت، تجربے اور صلاحیتوں کا ایک بے مثال سرمایہ ہیں۔ ان کے درمیان مضبوط روابط نہ صرف رہنمائی، کاروباری مواقع اور سیکھنے کے نئے امکانات پیدا کریں گے، بلکہ قومی ترقی کو بھی نئی رفتار دیں گے۔ حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ملک کے نوجوانوں کی کامیابی کے لیے مجموعی طور پر 61.58 ارب روپے کی تاریخی رقم مختص کی ہے۔ اس کل بجٹ میں سے 40.58 ارب روپے براہ راست وزیراعظم یوتھ پروگرام (PMYP) کے تحت چلنے والے منصوبوں کے لیے رکھے گئے ہیں، جبکہ 21 ارب روپے دیگر وزارتوں کے ذریعے نوجوانوں کے مخصوص پروگرامز پر خرچ کیے جائیں گے
اس بات کو یاد رکھیں کہ وزیر اعظم یوتھ پروگرام 2013 میں پاکستانی حکومت نے کم ترقی یافتہ علاقوں کے طلبہ کے لیے شروع کیا گیا ایک خصوصی اقدام ہے۔ یوتھ پروگرام میں وزیر اعظم کی یوتھ بزنس لون ، وزیر اعظم یوتھ بزنس لون ، وزیر اعظم یوتھ ٹریننگ سکیم ، وزیر اعظم یوتھ ہنر ڈویلپمنٹ سکیم ، لیپ ٹاپ کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم اسکیم اور فیس کے بدلے وزیر اعظم کی اسکیم سمیت متعدد اسکیمیں شامل ہیں, اس پروگرام کی کل مالیت 20 ارب تھی جو پانچ سال کے عرصہ میں تقسیم کیا جانا تھا 14 مئی کو ، حکومت نے منظوری دی تھی کہ ملک بھر میں 10 لاکھ افراد کو 50،000 روپے تک کے سود سے پاک قرضوں کے لیے 3.5 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ فائدہ اٹھانے والوں میں سے نصف خواتین ہوں گی ، جبکہ قرضوں کی تقسیم اس سال جون کے تیسرے ہفتے میں شروع ہوگی۔ یہ قرضے پاکستان غربت خاتمہ فنڈ (پی پی اے ایف) کے ذریعے تقسیم کیے جائیں گے اور این ایف سی ایوارڈ کے مطابق ہر فیڈریشن یونٹ اپنا حصہ حاصل کرے گا ، جس کی بنیادی توجہ دیہی علاقوں پر ہوگی۔ مستحق افراد کی سہولت کے لیے ملک بھر میں مناسب قرض مراکز اور کاروباری معاون مراکز قائم کیے جائیں گے۔ باصلاحیت طلبہ کو لیپ ٹاپ کی فراہمی کے لیے وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم 23 مئی ، 2014 کو شروع کی گئی تھی۔ وزیر اعظم لیپ ٹاپ اسکیم اور دیگر اسکیموں کو پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2018 میں ختم کر دیا تھا,
حکومتِ پاکستان نے وفاقی بجٹ 2026-27 میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام (PMYP) کے لیے 40.50 ارب روپے (40,500 ملین روپے) کا تاریخی فنڈ مختص کیا ہے۔اس بجٹ کا مقصد ملک کے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، ہنر اور کاروبار کے جدید مواقع فراہم کرنا ہے۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں نوجوانوں کو آئی ٹی اور ڈیجیٹل اسکلز سکھانے کے لیے 5.29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت 120,000 نوجوانوں کو جدید ہنر سکھایا جائے گا۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ملک کے طویل مدتی ترقیاتی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور سرمایہ کاری آنے والی نسلوں کے لیے معاشی اور تعلیمی مواقع پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔
حکومتِ پاکستان نے ملکی تاریخ میں نوجوانوں کی ترقی کے لیے سب سے بڑا بجٹ مختص کیا ہے جس کے تحت وزیراعظم یوتھ پروگرام کے لیے براہ راست 40.58 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ مختلف وزارتوں کے نوجوانوں سے متعلق پروگراموں کے لیے مزید 21 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ تعلیم، روزگار، ہنر اور کھیلوں کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی تقسیم درج ذیل ہے:یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم: 22.4 ارب روپے سب سے بڑی تخصیص تاکہ نوجوان روزگار تلاش کرنے کے بجائے خود روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ معیاری تعلیم تک رسائی کے لیے 24.48 ارب روپے۔ مارکیٹ کی طلب کے مطابق تکنیکی اور ڈیجیٹل ہنر سکھانے کے لیے 9.9 ارب روپے,۔پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ:مستحق اور ہونہار طلبہ کے لیے 3 ارب روپے,۔آئی ٹی اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل: ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے 3 ارب روپے۔یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز: 700 ملین روپے۔ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ: 500 ملین روپے۔نیشنل رضاکار کور 400 ملین روپے۔ای اسپورٹس ایریناز اور ٹریننگ سینٹرز: 300 ملین روپے۔نیشنل انوویشن ایوارڈز: 250 ملین روپے۔گرین یوتھ موومنٹ: 50 ملین روپے۔ کاروبار اور زراعت کے لیے قرضے اس اسکیم کے تحت اب تک 365.5 ارب روپے سے زائد رقم 625,740 سے زائد قرض داروں میں تقسیم کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً 19.6 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں۔خواتین کی اقتصادی خودمختاری کے لیے اس اسکیم میں 25 فیصد کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے یوتھ افیئرز ونگ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ رقم پاکستان کے نوجوانوں پر مرکوز ترقیاتی اقدامات میں سے ایک کا حصہ ہے اور اس کا مقصد تعلیم اور معاشی بااختیار بنانے میں ہدفی سرمایہ کاری کے ذریعے ملک کے انسانی سرمائے کو مضبوط کرنا ہے۔ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کی مختص رقم کا سب سے بڑا حصہ، 22,400 ملین روپے، وزیر اعظم کی یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون سکیم کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ نوجوان کاروباریوں اور کسانوں کو سستی مالی اعانت فراہم کی جا سکے جو کاروبار قائم کرنے اور ملازمتیں پیدا کرنے کے خواہاں ہیں۔
افرادی قوت کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے، حکومت نے وزیراعظم کے یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 9,901 ملین روپے مختص کیے ہیں، جس کا مقصد نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کے لیے درکار مارکیٹ سے چلنے والی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔
بجٹ میں پاکستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (پی ای ای ایف) کے لیے 3,000 ملین روپے بھی شامل ہیں تاکہ مستحق طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کی جا سکے، جبکہ مزید 3,000 ملین روپے وزیر اعظم کے آئی ٹی اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل اقدام کے لیے مختص کیے گئے ہیں تاکہ جدت اور ٹیکنالوجی پر مبنی انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیا جا سکے۔
پرائم منسٹر یوتھ پروگرام کے تحت دیگر مختص کردہ رقم میں یوتھ ڈویلپمنٹ سینٹرز کے لیے 700 ملین روپے، ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ کے لیے 500 ملین روپے، نیشنل رضاکار کور کے لیے 400 ملین روپے، ای اسپورٹس کے لیے 300 ملین روپے، نیشنل انوویشن ایوارڈ کے لیے 250 ملین روپے اور گرین یو کے لیے 50 ملین روپے شامل ہیں۔
نوجوانوں پر توجہ دینے والے اقدامات کے ساتھ ساتھ، حکومت نے دانش سکولز کے نیٹ ورک کو وسعت دینے کے لیے 24,483 ملین روپے مختص کیے ہیں تاکہ پسماندہ اور دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
مختص میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں دانش سکول کے لیے 1,330 ملین روپے شامل ہیں، جبکہ گلگت بلتستان میں نئے سکولوں کے لیے 4,271 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سلطان آباد جوتل، شگر، گھانچے، استور اور اسکردو کے منصوبے شامل ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر نے ہری جھل باغ، بھمبر، شاردہ نیلم اور حویلی کہوٹہ کے سکولوں کے لیے 6,270 ملین روپے کا سب سے بڑا علاقائی مختص کیا ہے۔
بلوچستان میں سبی، موسیٰ خیل، ژوب، کان مہترزئی، بارکھان اور ڈیرہ بگٹی کے اسکولوں کے لیے 4149 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سندھ کے ٹنڈو محمد خان کو 1000 ملین روپے ملیں گے، جبکہ چترال، خیبر پختونخواہ میں دانش سکول کے لیے 859 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ پسماندہ علاقوں میں وسیع تر تعلیمی رسائی کو یقینی بنانے کے لیے کثیر الصوبائی کوریج کے لیے اضافی 6,604 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مختصات تعلیم، کاروباری، مہارت کی ترقی، جدت، کھیل اور نوجوانوں کی قیادت میں بیک وقت سرمایہ کاری کرکے پاکستان کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو فائدہ پہنچانے کی حکومت کی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ وفاقی حکومت نے مالی سال 27-2026 کے ترقیاتی بجٹ میں تعلیم، ہنر مندی اور نوجوانوں کی استعداد کار بڑھانے کو ترجیح دیتے ہوئے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ ملک کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور بہتر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ وزیر اعظم کے وژن کے تحت معاشرے کے محروم اور پسماندہ طبقات تک معیاری تعلیم کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے دانش سکولز کے نیٹ ورک کو مزید وسعت دی جا رہی ہے اور ترقیاتی پروگرام میں دانش اسکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں دانش سکولز ملک کے باصلاحیت مگر وسائل سے محروم بچوں کو اعلیٰ معیار کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں اور یہ منصوبہ تعلیمی مساوات کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہےنوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں ، انہیں جدید فنی اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ کرنا قومی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) کے تحت وزیر اعظم یوتھ سکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اس پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو جدید اور روایتی فنی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں میں دستیاب روزگار کے مواقع سے بھرپور استفادہ کر سکیں ہنر مند افرادی قوت نہ صرف ملکی معیشت کو مضبوط بنائے گی بلکہ برآمدات اور زرمبادلہ میں اضافے کا بھی ذریعہ بنے گی ,تعلیم اور ہنر مندی کے شعبوں میں سرمایہ کاری دراصل انسانی وسائل کی ترقی میں سرمایہ کاری ہےجو پائیدار اقتصادی نمو اور سماجی ترقی کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔ حکومت ایسے اقدامات کے ذریعے ہر بچے کو اس کی معاشی و سماجی حیثیت سے قطع نظر آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا چاہتی ہے۔ سکول اور کالج کی تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 26.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جن کے ذریعے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، سکولوں میں داخلوں کی شرح میں اضافہ، ابتدائی بچپن کی تعلیم کے فروغ اور ڈیجیٹل لرننگ کے نظام کو وسعت دینے کے منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام کی تشکیل حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تعلیمی اداروں میں جدید سہولیات اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ طلبہ مستقبل کی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکیںاس وقت پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ یہ کروڑوں نوجوان شہری ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں نتیجہ خیز مواقع درکار ہیں۔پاکستان میں ابتدائی تعلیم کی عمر کے 25 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ صرف تقریباﹰ 68 فیصد بچے ہی ابتدائی تعلیم مکمل کرتے ہیں، جب کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی شرح صرف 13 فیصد بنتی ہے، جسے عالمی تناظر میں انتہائی کم تصور کیا جاتا ہے,
بےروزگاری، غربت، اور ذہنی صحت کے مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعلیم نظام میں اصلاحات، فنی تربیت کے مواقع، معاشی استحکام، اور نوجوانوں کے لیے خاص طور پر ترتیب ناگزیر ہیں۔ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد بڑھتی جا رہی مگر ان کے لیے روزگار کے مواقع سکڑتے جا رہے ہیں۔ معاشی بےیقینی، تعلیمی نظام اور فنی مہارت کی کمی بےروزگاری کو سنگین مسئلہ بنا رہے ہیں، جس کا فوری حل ضروری ہے۔ چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام، رانا مشہود احمد خاں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیمی مواقع میں مساوات، نوجوانوں کی فنی تربیت اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گی , وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور قومی معیشت کی بحالی کے لیے درج ذیل کلیدی اہداف مقرر کیے گئے ہیں ,جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے، بجٹ میں یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 5.29 ارب روپے اور نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کے لیے 7.9 ارب روپے کی بھاری رقم رکھی گئی ہے۔ اس فنڈ کا بنیادی مقصد ملک بھر کے 120,000 سے زائد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا اینالسٹ اور اسمارٹ فون ٹیکنالوجی جیسے جدید ترین ڈیجیٹل کورسز کروانا ہے یہ ہنر نوجوانوں کو بین الاقوامی فری لانسنگ مارکیٹس میں اتار کر پاکستان کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ (ڈالرز) کمانے اور آن لائن معاشی خود مختاری حاصل کرنے کے قابل بنائے گا۔ نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا دوسرا بڑا ستون کاروباری اور زرعی قرضوں کی فراہمی ہے۔ اس اسکیم کے تحت نوجوان تاجروں اور کسانوں کو بلا سود اور انتہائی کم شرح سود پر آسان قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔دیہی ترقی: دیہی علاقوں کے نوجوانوں کو روایتی کھیتی باڑی سے نکال کر جدید زرعی ٹیکنالوجی، گرین ہاؤس فارمنگ، کارپوریٹ ڈیری فارمنگ اور لائیو اسٹاک کے کاروبار شروع کرنے کے لیے فنڈنگ دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد ملک میں فوڈ سیکیورٹی پیدا کرنا اور دیہاتوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کو روکنا ہے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ڈیجیٹل گیمنگ اور ای-سپورٹس کو ایک باقاعدہ معیشت تسلیم کرتے ہوئے اس کے جدید ترین ایریناز اور اسپیشل ٹریننگ سینٹرز کی تعمیر کے لیے 300 ملین (30 کروڑ) روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس انقلابی قدم کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کے غیر معمولی گیمنگ ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر مونیٹائز کرنا اور انٹرنیشنل چیمپئن شپ میں پاکستان کی فتح کو یقینی بنانا ہے ملک کے وہ ہنر مند نوجوان جو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ویزا فیس، بیوروکریٹک اخراجات اور سفری ٹکٹ کی سکت نہیں رکھتے، ان کے لیے حکومت نے 10 لاکھ روپے تک کے آسان قرضے مختص کیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کی بیرونِ ملک باوقار روزگار تک رسائی کو آسان بنانا ہے تاکہ وہ ترسیلاتِ زر کے ذریعے ملکی خزانے کو سہارا دے سکیں اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تحقیق اور ڈیجیٹل تفریق کو ختم کرنے کے لیے میرٹ پر پورا اترنے والے ہونہار طلبہ کے لیے مفت لیپ ٹاپس کی فراہمی کا دائرہ کار وسیع کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ملک کے پسماندہ اضلاع میں “ڈیجیٹل یوتھ ہب” قائم کیے جا رہے ہیں جہاں نوجوانوں کو مفت تیز رفتار انٹرنیٹ، کمپیوٹرز اور ریسرچ ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جا رہی ہے۔پاکستان کی معاشی بقا اور مستقبل کا دارومدار اس وقت کسی بھی روایتی شعبے سے زیادہ ہماری اس 60 فیصد سے زائد نوجوان آبادی پر ہے جسے اگر درست سمت فراہم کر دی جائے تو وہ ملک کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسی اہم ترین قومی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان اس وقت ملکی تاریخ کے سب سے بڑے اور انقلابی یوتھ پیکیج کی قیادت کر رہے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کے لیے 40.50 ارب روپے کا تاریخی فنڈ مختص کروانا اور اسے نوجوانوں کی حقیقی معاشی خود مختاری کے لیے استعمال کرنا رانا مشہود احمد خان کے تزویراتی وژن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔چیئرمین رانا مشہود احمد خان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ نوجوانوں کو روایتی اور محدود سرکاری ملازمتوں کے حصول کی طویل لائنوں میں کھڑا کرنے کے بجائے انہیں خود روزگار پیدا کرنے والے ، ڈیجیٹل مینوفیکچررز اور کامیاب کاروباری رہنما بنایا جائے۔ ان کی خصوصی ہدایت پر وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کو مکمل طور پر ڈیجیٹل، شفاف اور آسان بنایا گیا ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو 5 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک کے آسان قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں، جس میں 5 لاکھ روپے تک کا قرضہ مکمل طور پر بلا سود ہے۔ اس اسکیم کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ رانا مشہود کی پالیسی کے تحت کل قرضوں کا 25 فیصد کوٹہ صرف خواتین کے لیے مخصوص کیا گیا ہے تاکہ خواتین کو بھی معاشی دھارے میں برابر کا حصہ مل سکے۔
ڈیجیٹل انقلاب اور آئی ٹی سیکٹر کی اہمیت کو بھانپتے ہوئے، چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 5.29 ارب روپے اور نیوٹیک (NAVTTC) کے لیے 7.9 ارب روپے کے فنڈز کی خود نگرانی کی ہے، جس کا مقصد 120,000 سے زائد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت (AI)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور موبائل جرنلزم (MOJO) جیسے جدید ترین عالمی ہنر سکھانا ہے۔ ان کا یہ وژن نیشنل پریس کلب کے جاری اسمارٹ میڈیا کورسز کے مقاصد سے مکمل ہم آہنگ ہے، جہاں صحافی اور نوجوان روایتی انفراسٹرکچر کے بغیر صرف ایک اسمارٹ فون کی مدد سے عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ای-سپورٹس اور گیمنگ انڈسٹری کے لیے 30 کروڑ روپے کے فنڈز کا اجراء اور بین الاقوامی سطح پر ہنر مند افراد کو بھیجنے کے لیے اوورسیز امپلائمنٹ لونز کا تعارف رانا مشہود احمد خان کے دور اندیش وژن کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کی قیادت میں میرٹ لیپ ٹاپ اسکیم اور پسماندہ اضلاع میں “ڈیجیٹل یوتھ ہب” کا قیام ملک سے تعلیمی اور تکنیکی تفریق کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔حکومتِ پاکستان کی جانب سے نوجوانوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانے کے لیے شروع کی گئی وزیرِ اعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم کے تحت 5 لاکھ سے 75 لاکھ روپے تک کا قرضہ حاصل کرنے کا طریقہ کار مکمل طور پر ڈیجیٹل اور انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے۔ اس اسکیم کا بنیادی محور چھوٹے کسانوں، نئے تجارتی اسٹارٹ اپس اور پہلے سے موجود کاروبار کو وسعت دینے والے بڑے تاجروں کو ان کی مالی ضروریات کے مطابق براہِ راست فنڈنگ فراہم کرنا ہے۔
اگر وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام کی ان پالیسیوں کو اسی رفتار اور دیانتداری کے ساتھ نافذ کیا گیا، تو چیئرمین رانا مشہود احمد خان کی سرپرستی میں یہ بجٹ پاکستان کے نوجوانوں کو عالمی معیشت کا سرتاج بنانے اور ملکی معیشت کی پائیدار بحالی میں تاریخ کا سب سے مضبوط اور تعمیری سنگِ میل ثابت ہوگا، پاکستان کی معاشی بقا اب روایتی صنعتوں کے بجائے “انسانی وسائل کی ترقی”سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر ملک کے نوجوانوں کو درست سمت میں جدید ہنر، ٹیکنالوجی اور مالیاتی فنڈز فراہم کر دیے جائیں، تو وہ بھاری سرکاری نوکریوں پر بوجھ بننے کے بجائے خود ملکی معیشت کی بحالی کے سب سے بڑے ضامن بن سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بجٹ دستاویزات کے مطابق نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے فنڈز کی تقسیم درج ذیل ہے 22.4 ارب روپے سب سے بڑی تخصیص تاکہ نوجوان روزگار تلاش کرنے کے بجائے خود روزگار فراہم کرنے والے بنیں۔ معیاری تعلیم تک رسائی کے لیے 24.48 ارب روپے۔ مارکیٹ کی طلب کے مطابق تکنیکی اور ڈیجیٹل ہنر سکھانے کے لیے 9.9 ارب روپے,۔ مستحق اور ہونہار طلبہ کے لیے 3 ارب روپے,۔آئی ٹی اسٹارٹ اپس اور وینچر کیپیٹل: ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے 3 ارب روپے۔یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز: 700 ملین روپے۔ٹیلنٹ ہنٹ یوتھ اسپورٹس لیگ: 500 ملین روپے۔نیشنل رضاکار کور 400 ملین روپے۔ای اسپورٹس ایریناز اور ٹریننگ سینٹرز: 300 ملین روپے۔نیشنل انوویشن ایوارڈز: 250 ملین روپے۔گرین یوتھ موومنٹ: 50 ملین روپے۔ کاروبار اور زراعت کے لیے قرضے اس اسکیم کے تحت اب تک 365.5 ارب روپے سے زائد رقم 625,740 سے زائد قرض داروں میں تقسیم کی جا چکی ہے، جس سے تقریباً 19.6 لاکھ نوکریاں پیدا ہوئیں۔خواتین کی اقتصادی خودمختاری کے لیے اس اسکیم میں 25 فیصد کوٹہ مخصوص کیا گیا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X