LOADING

Type to search

پاکستان

اسلام آباد (اردو ٹائمز) سینئر صحافی رانا عمران لطیف کی کرپشن کے خلاف لڑنے والے افسر کو ہٹائے پرحکومت پر سخت تنقید

Share

۔اسلام آباد (اردو ٹائمز) نامور تحقیقاتی صحافی رانا عمران لطیف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کہا ہے کہ انتظامیہ اپنی ناک کے نیچے اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں میں ملوث مافیا کو تحفظ فراہم کر رہی ہے اور فرض شناس پبلک سرونٹس کو جان بوجھ کر سائیڈ لائن کیا جا رہا ہے۔ اپنے تصدیق شدہ ڈیجیٹل ہینڈلز پر جاری کردہ ایک بیان میں سینئر تجزیہ کار نے ملک سے کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومتی دعووں پر سنگین سوالات اٹھائے اور کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے احتساب سے متعلق نعرے اپنی تمام تر ساکھ کھو چکے ہیں۔رانا عمران لطیف نے اپنے بیان میں خاص طور پر گریڈ 20 کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر کا تذکرہ کیا جنہوں نے ملک میں اربوں روپے کے بڑے مالی گھپلوں کی تحقیقات کیں اور ٹھوس دستاویزی شواہد کے ساتھ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جو افسر دستاویزی کیسز اور کامیاب مقدمات کے ذریعے کرپٹ عناصر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کا باعث بنا، وہ میری نظر میں ایک حقیقی ہیرو ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کی طویل خدمات کا اعتراف کرنے اور اسے انعام سے نوازنے کے بجائے، اسے انتظامی عہدے سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔سینئر صحافی نے ملکی نظام پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایک ایماندار افسر کو سزا دے کر حکمران طبقے نے درحقیقت طاقتور معاشی مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ وہ افسر ہارا نہیں ہے، بلکہ یہاں کرپشن جیت گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اصل نقصان اس افسر کا نہیں بلکہ موجودہ حکمرانوں کا ہوا ہے، کیونکہ اس متعصبانہ کارروائی کے بعد ایک ”کرپشن سے پاک پاکستان“ کا ان کا وعدہ عوام کی نظر میں اپنی تمام تر اہمیت اور ساکھ مکمل طور پر کھو چکا ہے۔ رانا عمران لطیف کے اس بیانیے کے بعد صحافتی اور بیوروکریسی کے حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے احتسابی افسران کو ہٹانے کی وجوہات سامنے لائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

X