اسلام آباد (اردو ٹائمز) بحریہ ٹاؤن غیر قانونی زرِمبادلہ کیس – تین ملزمان کو سزا، ایک ایک سال قید اور پانچ پانچ لاکھ جرمانہ
Share
اسلام آباد (اردو ٹائمز):ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد کی بڑی عدالتی کامیابی
فیڈرل انوسٹیگیشن ایجنسی کمرشل بینکنگ سرکل اسلام آباد نے غیر قانونی زرِمبادلہ اور حوالہ ہنڈی کے کاروبار میں ملوث ملزمان کے خلاف ایف آئی آر نمبر 48/2025 دفعات 4، 5، 8، 9 اور 23 فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ 1947 (ترمیم شدہ 2020) کے تحت درج کی تھی۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمان نے بڑے پیمانے پر غیر دستاویزی مالی لین دین حوالہ ہنڈی چینلز کے ذریعے کیا جو فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مالی ریکارڈ کے تجزیے سے ملزمان کی دولت میں غیر معمولی اضافہ سامنے آیا جو ان کے معروف مالی پروفائل سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
آج 9 جولائی 2026 کو ایڈیشنل سیشن جج ویسٹ اسلام آباد نصرمن اللہ بلوچ نے مقدمے کی سماعت مکمل کرتے ہوئے تینوں ملزمان کرنل (ریٹائرڈ) خلیل الرحمان نائب چیف ایگزیکٹو بحریہ ٹاؤن، عمران کاکا حوالہ ایجنٹ اور مشتاق احمد پراپرٹی ڈیلر کو مجرم قرار دیتے ہوئے ہر ایک کو ایک ایک سال قید، پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ اور غیر قانونی مالی لین دین سے منسلک اثاثہ جات کی ضبطگی کی سزا سنائی۔
یہ کامیابی ایف آئی اے ٹیم کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی منی لانڈرنگ سرکل اسلام آباد رانا عابد حسین، تفتیشی افسر انسپکٹر زاہد بھٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل محمد افضال نے کلیدی کردار ادا کیا۔
یہ عدالتی فیصلہ غیر قانونی حوالہ ہنڈی نیٹ ورکس اور غیر دستاویزی مالی لین دین کے خلاف ایف آئی اے کے جاری کریک ڈاؤن میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

